سیاسی جماعتوں میں موروثیت مضبوط کیوں؟

اصولی طور پر جمہوری نظام حکومت میں موروثیت کو اچھی قدر قرارنہیں دیا جا سکتا تاہم پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اندر موروثیت پر تنقید کرتے ہوئے یہ حقیقت نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ ہمارے ہاں صیح معنوں میں جمہوریت ابھی آ ہی نہیں سکی۔

 پاکستان جمہوری ملکوں کی فہرست میں 110ویں نمبر پر ہے۔ورلڈ ڈیموکریسی انڈیکس میں پاکستان کا شمار مکمل جمہوریت (full democracy)  والے ملکوں میں تو درکنار، ناقص جمہوریت (flawed democracy)  والے ملکوں میں بھی نہیں ہوتا۔ورلڈ ڈیموکریسی انڈیکس کے مطابق پاکستان  میں ہائبرڈ ڈیموکریسی یا دوغلا نظام رائج ہے۔ہائبرڈ ریاستوں سے مراد ایسی ریاستیں ہیں جن کا نظام حکومت آٹوکریسی اور ڈیموکریسی کا ملغوبہ ہوتا ہے۔سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مملکت خداداد پاکستان میں نہ تو پوری جمہوریت ہے اور ہی مکمل آمریت۔

سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی کل سیاسی تاریخ کے تقریبا نصف حصے میں اقتدار براہ راست فوجی آمروں کے قبضے میں رہا۔ باقی ماندہ نصف مدت میں اگرچہ اقتدار عوام کے نمائندوں کے پاس رہا لیکن گنتی کے ان چند ادوار میں بھی یہاں مکمل جمہوریت قائم نہیں ہونے دی گئی۔ہمارے یہاں جمہوریت کو کبھی "کنٹرولڈ"رکھا گیا تو کبھی "ہائبرڈ"۔ظاہری طور پر دیکھا جائے تو ملک میں گزشتہ پندرہ سالوں سے منتخب جمہوری حکومتوں کا تسلسل قائم ہے اور اسی عرصے میں دو سیاسی حکومتیں (پیپلز پارٹی اور ن لیگ) اپنی مدت پوری کرنے میں بھی کامیاب رہیں لیکن عملی طور پر ملک کاسیاسی وانتخابی نظام نادیدہ طاقتوں کے ہی کنٹرول میں ہی ہے۔

جہاں تک جمہوری ممالک میں موروثی سیاست کے حصے کی بات ہے تو بلاشبہ پاکستان اس حوالے سے سب سے نمایاں ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس میں نوے کی دہائی کے آخر تک موروثی سیاست کاتناسب 6فیصد جب کہ برطانیہ میں 7فیصد تھا۔ بھارت کی لوک سبھا میں 2010تک موروثی سیاست کا حصہ 28فیصد، بنگلہ دیش 36فیصد جب کہ پاکستان میں میں موروثی سیاست کاتناسب 53فیصد کے لگ بھگ تھا۔ان اعدادوشمار کوسامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں برصغیر میں سیاسی جماعتوں کے اندر موروثیت کا مسئلہ شروع سے ہے۔بھارت میں چونکہ جمہوریت کے راستے میں شروع سے ہی رکاوٹیں نہیں آئیں، اس کے علاوہ وہاں جمہوریت کے دیگر لوازمات بھی بتدریج پورے ہوتے گئے تو وہاں وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی موروثیت کم ہوتی جا رہی ہے۔

جمہوری عمل میں تعطل آنے کے حوالے سے شروع میں بنگلہ دیش کی حالت بھی ہمارے جیسی ہی تھی لیکن سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کی روک تھام کو یقینی بنانے کے بعد بنگلہ دیش میں بھی موروثی سیاست سمیت دیگر معاملات میں بہتری آ رہی ہے۔ ان دونوں ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں جمہوریت آج تک ہموار راستے پر گامزن نہیں ہو سکی۔ایک بڑے عرصے تک ملک کے سیاسی و انتخابی نظام پر اسٹبلشمنٹ کی گرفت مضبوط رہنے کی وجہ سے سیاسی جماعتیں اپنی قیادت ایک خاندان کے اندر رکھنے پر مجبور ہو گئیں۔اس کے علاوہ ایک سے زائدمنتخب وزرائے اعظم کے ساتھ پیش آنے والے المناک واقعات بھی ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے اندر موروثی سیاست کو مضبوط کرنے کا باعث بنے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں موروثیت کا تناسب زیادہ ہونے کی ایک اہم وجہ سیاسی جماعتوں کی بقا کا مسئلہ بھی رہا ہے۔عام مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں مارشل لا حکومتوں کے دوران عدالتی و صحافتی محاز پر کوئی مزاحمت اور مخالفت دیکھنے میں نہیں آتی لیکن سیاسی حکومتوں کے دور میں عدالت سیاسی و انتظامی معاملات میں ضرورت سے کہیں زیادہ مداخلت کرنے لگتی ہے جب کہ میڈیا ایک ایک دن کا حساب مانگنے لگ جاتا ہے۔اس کے علاوہ سیاسی حکومتوں کے خلاف محلاتی سازشیں برپا کی جاتی ہیں جس سے ان کی توجہ معاملات حکومت سے کہیں زیادہ اپنی بقاء پر مرکوز رہتی ہے۔ہماری سیاسی حکومتوں کا ایک بڑا وقت مقتدرہ کے ساتھ چپقلشوں میں گذرجاتا ہے۔داخلہ و خارجہ معاملات میں انہیں "طے شدہ پالیسیوں " پر چلنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔جو اپنی مرضی کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کا عدالتی و میڈیا ٹرائل شروع کر دیا جاتا ہے۔ متعدد بار لگنے والے مارشل لاز کی وجہ سے جہاں ایک طرف جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکی، وہیں بار بار کی محلاتی سازشیں سیاسی جماعتوں کو مظلوم بنانے کا باعث بنی ہیں۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہمارے ہاں جن دو بڑی جماعتوں (پیپلز پارٹی اور ن لیگ)میں سیاسی موروثیت سب سے زیادہ ہے۔  وہ اور ان کی قیادت ماضی بعیداور ماضی قریب میں مقتدرہ کے ہاتھوں زیر عتاب رہی ہیں۔حال ہی میں ملک کی سب سے بڑی جماعت(پی ٹی آئی)میں اکھاڑ پچھاڑ کا عمل جاری ہے۔سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو زیر عتاب رکھنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام ان جماعتوں کی قیادت کے ساتھ جذباتی طور پر وابستگی اختیار کر لیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں یا ان کی قییادت  کو جتنا زیادہ دبایا جاتا ہے، عوام کی جذباتی و نظریاتی وابستگی اتنی زیادہ بڑھتی جاتی ہے۔

پاکستان میں موروثی سیاست کا تناسب حد سے زیادہ ہوناتشویش ناک ضرور ہے لیکن جب تک ہم اس کے اسباب و عوامل کو گہرائی میں جا کر سمجھنے پر تیار نہیں ہوتے، موروثی سیاست کے حوالے سے صورت حال میں کسی قابل ذکر بہتری کی توقع نہیں رکھی جا نی چاہیے۔ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ موروثی سیاست ایسے ممالک اور معاشروں میں زیادہ مضبوط ہوتی ہے جن میں جمہوری روایات ٹھیک طرح سے پھلی پھولی نہیں ہوتی ہیں اورغیر جمہوری قوتیں ملک کے سیاسی و انتخابی نظام میں بلاواسطہ یا بلواسطہ مداخلت کرتی رہتی ہیں۔نوم چومسکی کے مطابق"جمہوریت کو کمزور کرنے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ فیصلہ کن طاقت ایسے اداروں کو سونپ دی جائے جو احتساب سے بالاتر ہوں۔" امریکی صحافی اور مصنفہ روزا بروکس اپنی کتاب A Dynasty is not Democracy   میں لکھتی ہیں کہ موروثی سیاست یا قیادت کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک غیر جانب دار عدالتی نظام حکومتوں کی کارکردگی کی نگرانی کرے جب کہ ایک طاقت ور الیکشن کمیشن انتخابی نظام کی سختی سے نگرانی کرے۔

المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں عدلیہ کبھی بھی مکمل طور پر آزاد و غیر جانب دار نہیں رہی۔اسی طرح الیکشن کمیشن پر بھی مقتدرہ کی گرفت رہی ہے۔سیاسی جماعتوں میں موروثیت کے خاتمے کے لئے ملک میں جمہوری عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھنے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ غیر جمہوری قوتوں کا فیصلہ کن کردار ختم کرنا ناگزیر ہے۔ موروثی سیاست کے حوالے سے عوام کا مزاج تبدیل کرنا ہے توسب سے پہلے ملک کے سیاسی و انتخابی نظام میں ہر قسم کی مداخلت بند کرتے ہوئے سیاسی و انتخابی معاملات کو عوام کی رائے پر چھوڑنا ہوگا۔جب جمہوری عمل آزادانہ طور پر آگے بڑھنے لگے گاتو سیاسی جماعتیں نہ صرف ملکی و عوامی سطح پر ڈلیور کرنے لگیں گی بل کہ سیاسی بقاء کا مسئلہ ختم ہونے سے سیاسی جماعتوں میں موروثیت بھی ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔