آگ کا دریا عبور کرنا ضروری ہے کیا؟
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 09 / دسمبر / 2023
شاعری کی حد تک سننا اور واہ واہ کرنا آسان لگتا ہے:
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے
اک اگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
شعر و شاعری اور روزمرہ کی زبان کی حد تک دل میں آگ لگ جانا ، حسد اور نظر کی آگ اور اس جیسے فقرے معمول ہیں لیکن خدا نہ کرے کسی کو اصل آگ کے شعلوں سے واسطہ پڑے۔ قدرتی آفات میں سے کوئی بھی آفت قہر و تباہی میں ایک دوسرے سے کم نہیں۔ حد سے زیادہ بارش سے بنا سیلاب ہو یا پھر قحط سالی، زلزلہ ہو یا آگ، زندگی کو پناہ ملنا مشکل اور کئی صورتوں میں نا ممکن ہو جاتا ہے ۔
اسی ہفتے کی بات ہے کہ کراچی میں دوسری بار شدید آتش زدگی کا واقعہ ہوا ۔ اس بار عائشہ منزل کے قریب عرشی شاپنگ مال کی دکانوں میں لگنے والی آگ نے خوفناک شکل اختیار کرلی۔ آتش زدگی کے باعث چار افراد جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ حکام کے بقول یہ تیسرے درجے کی آگ تھی یعنی شدید خطرناک ۔شہر بھر سے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو طلب کیا گیا ۔ آتش زدگی کے باعث دھوئیں کے بادل کئی کلومیٹر دور سے دکھائی دے رہے تھے۔ آگ نے گراؤنڈ اور میزنائن فلور کی دکانوں کو دیکھتے ہی دیکھتے اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ آگ سے نکلنے والے شعلے اوپر کی منزلوں کے تک پہنچ گئے جس کے نتیجے میں مکینوں میں خوف و ہراس اور بھگدڈ مچ گئی۔
اس پلازے میں گراؤنڈ فلور پر فوم، فرنیچر اور اس طرح کی اور بہت ساری دکانیں تھیں۔ آگ لگنے کے بعد فوم کی گدوں کی وجہ سے آگ مزید بے قابو ہو گئی۔ شعلے میزنائن فلور کے اوپر چار منزلوں پر بنے ہوئے فلیٹوں تک پہنچ گئے۔ فلیٹس کے مکینوں کو آگ سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا پڑا۔ واقعے کی حسب معمول مین سٹریم میڈیا پر خوب تشہیر ہوئی۔ بریکنگ نیوز چلی، لائیو رپورٹنگ ہوئی، ہونے والے نقصانات کا ذکر ہوا ،شہر بھر سے بلائے گئے فائر برگیڈ اور امن عامہ کے اداروں کی گواہیاں ہوئیں کہ انہوں نے رسپانس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ وزیراعلی اور جواں سال میئر کراچی بھی موقع پر پہنچے اور متاثرین کے زخموں پر ہمدردی کے بولوں کی صورت مرہم بننے کی کوشش کی۔ یوں ایک اور واقعہ اپنے وقوعے کے ںعد اپنی طبعی مدت کی نذر ہو گیا جس کا ذکر اب حوالے کے کام آئے گا۔
آتش زدگی کے اس واقعے پر حسب معمول میڈیا اور سوشل میڈیا پر غم و غصے کے تبصرے ہوئے کہ فائیر بریگیڈ اور آفات سے نمٹنے والے دیگر اداروں کی تیاری اور سامان کی حالت بجائے خود قابل رحم ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس امر کا ایک بار پھر رونا کہ پوری بلڈنگ میں آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں تھے۔ کثیر المنزلہ عمارت ہونے کے باوجود آگ لگنے کی صورت میں نکلنے کے محفوظ راستے موجود نہ تھے ۔ پوری بلڈنگ میں فائرنگ کے سامان کی تنصیب نہ تھی۔ آگ لگنے کی صورت میں باہر نکلنے تربیت اور انتظام کا کوئی بندوبست نہ تھا۔ ہمارے ہاں بے حسی کا عجیب سا چلن ہے ۔ ایک اندوہناک واقعہ ہوتا ہے چند دن اس پر شور و غوغا ہوتا ہے اور اس کے بعد کسی اور اندوہناک واقعے کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسے واقعات سے سیکھنے اور مستقبل میں ان سے بچنے کے اہتمام کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔ آتش زدگی کے پے در پے واقعات کراچی لاہور اسلام اباد جیسے شہروں میں گزشتہ کئی سالوں میں رونما ہوئے لیکن بدقسمتی سے حکومتی سطح پر ان آفات سے بچنے کا کوئی مربوط بندوبست سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب کاروباری اور شہریوں کی طرف سے بھی آتش زدگی جیسے حادثات سے بچنے کی ضرورت، اہمیت اور تربیت کے بارے میں حساسیت دیکھنے میں نہیں آئی۔
دنیا بھر میں آتش زدگی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مختلف سطح پر اداروں کا ایک مکمل نظام ہوتا ہے۔ قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کی موجودگی میں موثر ادارے قائم ہیں۔ ان کو مناسب سامان، ایکوئپمنٹ اور تربیت کی مسلسل فراہمی کے لیے مناسب بجٹ اور نگرانی نظام کا لازمی حصہ ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے ان ممالک میں کثیر المنزلہ عمارات اور انڈسٹری کے پھیلاؤ کے باوجود آتش زندگی کے واقعات بہت کم رونما ہوتے ہیں۔ کہنے کی حد تک پاکستان میں ترقی یافتہ ممالک جیسے قوانین بھی موجود ہیں ۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک بھی موجود ہیں۔ نظام اور دکھاوے کی حد تک وہ تمام ادارے بھی موجود ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور معاشرے میں آتش زدگی جیسے سنجیدہ مسئلے پر سنجیدگی کم ہی دیکھنے میں آئی ہے۔
آتش زدگی کے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح طور پر ایک ذمہ داری حکومت کی ہے ۔ اس ذمہ داری کے مزید دو پہلو ہیں ۔ کچھ اقدامات وہ ہیں جو حفاظی نوعیت کے ہیں یعنی جب کبھی کہیں بھی بلڈنگ یا مارکیٹ کی تعمیر کی جائے تو ان کے نقشے اور ڈیزائن کی منظوری میں قانون اور ریگولیٹری ہدایات کی تمام ترجیحات کو سختی سے نافذ کیا جائے۔ تاکہ جب یہ بلڈنگز مکمل ہو جائیں، شہری ان میں بسنے لگیں تو آتش زدگی کے واقعات کی صورت میں بنیادی سہولتیں موجود ہوں۔ حکومتی سطح پر دوسرے اقدامات وہ ہیں جو رسپانس کے ضمن میں اتے ہیں۔ خدانخواستہ آگ لگنے کی صورت میں فائر بریگیڈ اور دیگر اداروں کے مستقل قیام، ان کو مناسب سامان ,سہولیات اور ہیومن ریسورس کی فراہمی شامل ہیں۔ ان اداروں کے بجٹ اور ان اداروں کی موثر نگرانی لازم یے۔ تاہم بدقسمتی سے دیکھا یہ گیا ہے کہ حفاظتی نوعیت کے اقدامات میں کرپشن اور بے حسی کے سارے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یوں وقتی منفعت کے لئیے بلڈرز یا شہری آسانی سے ان آفات کے لیے راستہ چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے اپنے حصے کا منافع جیب میں ڈال کر چلتے بنتے ہیں۔
مقامی حکومتیں کافی عرصے سے غیر موثر ہیں ۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو وسائل پر کھلے تسلط کے اجارہ داری کی پڑی رہتی ہے۔ لہذا دیکھا یہ گیا ہے کہ حکومتی سطح پر وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر آتش زدگی اور دیگر آفات سے نمٹنے کے اداروں اور ان کے موثر نگرانی کا کما حقہ کبھی اہتمام ہوا اور نہ یہ ترجیحات میں شامل رہے۔ جہاں تک معاشرے کا تعلق ہے، بدقسمتی سے معاشرے کی بے حسی یہاں بھی اپنے عروج پر ہے۔ بڑی بڑی بلڈنگز بناتے ہوئے، ہاؤسنگ اسکیمیں بناتے اور بیچتے وقت خوبصورت اشتہارات چلائے جاتے ہیں۔ ملک میں صنعتی ترقی تو حالت معکوس میں ہے لیکن پچھلے 30/ 40 سال سے رئیل اسٹیٹ میں انویسٹمنٹ اور ترقی ہی ایک واحد ترقی یافتہ سیکٹر ہے۔ اس سیکٹر میں منافع کا لالچ اپنی حدوں کو چھو رہا ہے۔ بلڈرز اور شہری صرف اور صرف اپنے منافع کو دیکھتے ہیں۔ بلڈنگ بناتے ہوئے اور استعمال کرتے ہوئے فائر فائٹنگ سامان کی تنصیب اور اہتمام کو وسائل کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر واقعہ ہو جانے کے بعد لکیر پیٹنے کو سب اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن جب وقت ہوتا ہے اس واقعے کی پیش بندی کی کوئی بھی ذمہ داری نبھانے کو تیار نہیں۔
یوں حکومتی اور عوامی سطح پر آتش زدگی جیسے ہولناک واقعات کے بارے میں مکمل غیر سنجیدگی اور بے حسی کی وجہ سے پے در پے ہونے والے واقعات سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ مجموعی طور پر بے حسی کا عالم ہے۔ اس ساری صورتحال کو انور مسعود نے اپنے ایک شعر میں خوبصورتی سے باندھا ہے:
اس وقت وہاں کون دھواں دیکھنے جائے
اخبار میں پڑھ لیں گے کہاں آگ لگی تھی