جناح ثالث یا شیخ مجیب الرحمن ثانی؟

اردومحاورہ ہے مرے کو مارے شاہ مدار، ارادہ تھا کہ جب ہمارا پسندیدہ کھلاڑی مکافات ِ عمل کی مطابقت میں زنداں کے اس مقام بلند تک پہنچ چکا ہے جو اس کے نزدیک عبادت ہے تو ہمیں بھی تب تک کیلیے قلم روک دینا چاہئے۔

کیونکہ یہ خوش آئند بات ہے کہ اسی راستے شاید بڑھاپے کی ان لغزشوں کا کچھ کفارہ ہوجائے جو باذوق و شوقین لوگ جوانی میں کرتے ہیں۔ ویسے ہمارے ممدوح کھلاڑی کی جوانی بھی ایسی مستانی تھی کہ دیگر حوالہ جات کے علاوہ اس درویش سے گفتگو کرتے ہوئے آپ حضور نے صاف لفظوں میں فرمادیا کہ چھوڑیں ان سوالات کو آپ جانتے ہیں کہ میری پلے بوائے کی لائف رہی ہے۔ اس نا چیز لبرل سیکولر کو بھلا کسی کی شہد جیسی میٹھی خوشیوں میں سرکہ ڈالنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس پر نا ک بھوں وہ چڑھائیں جو ”ریاست مدینہ“ جیسا آئیڈیل ماحول و سماج دیکھنے دکھانے کے لیے آج بھی تڑپ رہے ہیں۔ اور جو تبدیلی کا ایسا نعرہ لے کر اٹھے ہیں کہ وہ آج کی اکیسویں صد ی میں بھی یہاں ”ریاست مدینہ“ قائم کرکے دکھائیں گے۔

سو خلیفہ صاحب جانیں یا شاہ زیب خانزادہ کو انٹرو یو دینے یا عدالت جانے والے سابق شوہر نامدار خاور مانیکا۔ درویش کی تو بس یہ تمنا تھی کہ اب جب ایک شخص اپنے کرتبوں یا مکافات عمل کے کارن آئیڈیل منزل مقصود تک پہنچ چکا ہے جسے وہ خود اپنے لیے عباد ت و ریاضت کی جگہ قرار دیتے ہوئے یہ سوچتا ہے کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاق، کے مصداق فرمان ہے کہ بعض بیماریاں انسان کو گناہوں سے اس طرح پاک کردیتی ہیں جیسے آگ زنگ آلود لوہے کو۔ اس میں ضرور قدرت کی کوئی بہتری ہی ہوگی جو اپنے لاڈلے بندے کو مقام بلند پر فائز کرنے کیلئے ایسا پاکیزہ اہتمام کرچکی ہے اور جیل کو تو مہذب ممالک میں تادیبی کی بجائے اصلاحی و تربیتی عمل کا حصہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی لیے تو وائس چیئرمین فرمارہے ہیں کہ پہلے تو میں محض نام و نسب کا قریشی تھا جبکہ جیل یاترا کے بعد تو آزادی کے عظیم ہیرو مہاتما گاندھی کے مقام پر پہنچ چکا ہوں۔ جس طرح گاندھی جی کو کسی دنیاوی و حکومتی عہدے کی محتاجی و ضرورت نہ تھی، مجھے بھی اب کسی عہدے کی ضرورت و لالچ نہیں رہی ہے۔ میں کھلاڑی کے دل میں سما چکا ہوں میرے لیے بس یہی کافی ہے۔

البتہ اس مایہ ناز عظیم کھلاڑی سے متعلق درویش کو ایک ہلکی سی شکایت ضرور ہے۔ آپ جیل خانہ کو تمام تر سہولیات کے ساتھ اپنے لیے عبادت خانہ خیال کرتے ہیں تو یہ ایک قابل ستائش سوچ ہے کیونکہ اسی اپروج سے بعض اوقات انسانوں کی زندگیاں بدل جاتی ہیں۔ کوئی انسان تنہائی میں بیٹھ کر جب اپنے رنگین ماضی کی غلطیوں اور لغزشوں پر غور کرتا ہے تو ایک نوع کے پچھتاوے کا احساس اسے بہتر بدلاؤ کی طرف لے آتا ہے۔ اور وہ اپنے برے ماضی سے منہ موڑ کر نیکی اور عاجزی کے محبت بھرے مستقبل کو من میں بسا لینا چاہتا ہے۔ اورنگزیب نے اقتدار پر جھپٹا مارتے ہوئے جب اپنے باپ شاہجہان کو گرفتار کرلیا اور آگرہ کے قلعے میں ٹھونس دیا تب اس نے اپنے بیٹے سے یہ فرمائش کی کہ میرے پوتے پوتیوں کو میرے پاس بھیج دو، میں انہیں پڑھاؤں لکھاؤں گا یوں میرا جیل یاترا یا قید کا آخری وقت بھی اچھا کٹ جائے گا۔ جواباً اورنگزیب نے اپنے والد کو لکھا کہ قلعہ کی چار دیواری و گرفتاری میں بھی آپ کی ہوسِ حکمرانی ختم نہیں ہوئی کیا؟ اب آپ یہ چاہتے ہوکہ میرے بچوں پر حکمرانی کرو؟ سو ہمارا ریاست مدینہ جیسی کا یا پلٹ کا دعویدار سابق خلیفہ یا کھلاڑی جیل کے اندربیٹھے بھی حکمرانی کی خواہش سے فارغ نہیں ہوا۔ اس کا ارادہ مضبوط اور عزم زندہ ہے اور سہانے مستقبل کے خواب وہ ہنوز ایسے ہی دیکھ رہا ہے جیسے ٹرمپ سے ملتے ہوئے دیکھے تھے۔

آپ فرماتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمن کے خلاف ان لوگوں نے کیا کچھ نہیں کیا۔ اس سب کے باوجود وہ 162سیٹیں لیتے ہوئے انتخابی معرکہ بھاری اکثریت سے جیت گئے تھے۔ میں آج آپ کو واضح کررہا ہوں کہ اگلا الیکشن میری پارٹی جیتے گی۔ یہ کہتے ہوئے ہمارے ممدوح یہ بھول گئے کہ شیخ صاحب پر نہ تو ایسے گھناؤنے الزامات تھے، نہ اخلاقی، نہ سفارتی، نہ مالی ، نہ عائلی اور نہ ہی انہوں نے 9مئی کی واردات ڈالی تھی جس کا آج آپ ایک سو اسی زاویے پر انکار کر رہے ہیں۔ اور یہ فرمارہے ہیں کہ وہ تو لندن پلان کا حصہ تھا۔ نواز شریف کو لانے اور ہمیں جیلوں میں ڈالنے کیلئے۔ اس کی بیٹی پھر سچ ہی کہہ رہی ہے کہ 9مئی کو بلوائی فوجی املاک پر دھاوا بولتے ہوئے کیا نواز شریف سے ہدایات لے رہے تھے؟ جبکہ آج کے ترقی یافتہ میڈیا میں کیا آپ کی ویڈیوز سب کے سامنے نہیں ہیں؟ جن میں آپ فرمارہے ہیں کہ جب مجھے طاقتوروں نے گرفتار کیا تو پھر میرے چاہنے والوں نے حملے بھی تو انہی پر کرنے تھے۔ ماقبل آپ کے یہ سب عقیدت مند آپ کی رہنمائی میں یہ فیصلہ سن چکے تھے کہ ہمارا مایہ ناز کھلاڑی ہماری ریڈ لائن ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ شیخ مجیب بننے کے لیے بڑی بڑی زیادتیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ سادہ زندگی اپنانی پڑتی ہے اور اصولوں پر سٹینڈ لینا پڑتا ہے۔ اپنی جنتا کا ہیرو بننا پڑتا ہے۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ جس شخصیت کے خلاف نفرت پھیلانے کا آپ کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے ہیں اسی کے طرز عمل کو آپ نے سیاسی طور پر اپنا رول ماڈل بنا رکھا ہے۔ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد اگر اس شخص نے نام لے کر طاقتوروں کو برا بھلا کہا تو آپ اسی سوچ کی پیروی میں حد سے آگے نکل گئے۔ پھر اُس نے اپنی عقابی سوچ کے علی الرغم اپنے چھوٹے بھائی کو چاپلوسی کے لیے فاختہ کی حیثیت سے طاقتوروں کے حضور پیش کردیا۔ کیا آج آپ بھی پی پی کا بھگوڑا ویسا ہی چھوٹا نہیں نکال لائے ہیں جو دعویٰ کر رہا کہ میں فاختہ بننے میں چیری بلاسم کو مات دے دوں گا۔ اگرچہ اکبر ایس بابر انٹرا پارٹی الیکشن کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے اس تماشے یا ڈرامے کو چیلنج کرنے جارہے ہیں۔ یہ تو آپ کا گوہر جانے یا اکبر۔

ہمیں تو یہ فکر دامن گیر ہے کہ انسان کوئی دعویٰ بھی کچھ سوچ سمجھ کر ہی کرے آخر غلط بیانیوں یا کہہ مکرنیوں کی کچھ حدود و قیود تو ہوتی ہی ہوں گی۔ اگر کوئی شخص اتنی لمبی چھوڑے جس کی مطابقت میں کوئی ایک ریفرنس یا ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہوتو سوائے اپنا رہا سہا بھرم کھونے کے حاصل حصول کیا ہوگا؟ آپ نے پورے میڈیا کے سامنے کتنے تیقن کے ساتھ یہ فرمادیا کہ میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ قسم کھانے کو تیار ہوں کہ میں نے بشریٰ بی بی کو نکاح کے دن دیکھا حالانکہ آپ کو اتنا بڑا دعویٰ کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس لیے کہ نکاح کے لیے کسی کو پہلے دیکھنے کا شرعی حکم تو عین تقاضائے شریعت ہے۔ اس حوالے سے واضح روایات موجود ہیں لیکن دیکھنے دکھانے میں شاید فرق ہوتا ہے جس طرح آپ نے دیکھا ہے وہ شاید نکاح والے دن یا رات ہی بنتا ہے، جبکہ محترمہ بیگم صاحبہ کے سابق شوہر سول عدالت میں باضابطہ طور پر جو بیان دے چکے ہیں، اس پر ہم اور آپ جتنا چاہیں واویلا کر لیں مگر اب وہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ جس میں انہوں نے آپ پر شادی سے قبل اپنی بیگم سے ناجائز تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے جو الفاظ بولے ہیں ہمیں یہاں وہ درج کرنے کی ہمت ہے نہ ضرورت۔

وہ سب عوام کے سامنے پوری طرح آچکے ہیں اور اب تو انہوں نے چو تھے گواہ کو بھی عدالت کے حضور پیش کردیا ہے۔ پتہ نہیں اس کا کیا نام ہے لطیف ہے یا کچھ اورلیکن وہ بھی حلف اٹھاتے ہوئے عدالت کے روبرو سب کچھ بک گیا ہے۔ اس نے تو کوئی بات چھوڑی ہی نہیں ہے۔ اس کا بیان حلفی ہے کہ خاور مانیکا کے گھر آپ کا آنا جانا 2015سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ زیادہ تر رات کے وقت اور وہ بھی خاور مانیکا کی غیر موجودگی میں فونز بند کرکے کمرے کے اندر بارہا دونوں کو قابل اعتراض حالت میں پایا۔ پہلی مرتبہ اس حالت میں دیکھ کر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ چار مرتبہ اس طرح دیکھا۔ کئی بار ڈرائنگ روم میں بھی نازیبا حرکات کرتے دیکھا۔ درجنوں مرتبہ وہ ہمارے گھر آئے۔ یوں 2017میں مانیکا نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ہمارے تیس مار خاں کے یار غار عون چوہدری تو کھلاڑی کے بیان کو صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دے چکے ہیں۔ اور یہ بھی کہ اس نے اگر پول کھول دیے تو اسے چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ بس سابقہ تعلق کا لحاظ ہے۔ عون چوہدری جو گھر کے بھیدی اور نکاح وغیرہ کے تمام معاملات میں باقاعدہ شریک رہا ہے، یہ بیان دے رہا ہے کہ یہ شخص دو چار بار نہیں درجنوں مرتبہ ان کے گھر گیا کئی مواقع پر میں اس کے ساتھ تھا۔ ویسے ہمارے سیکولر اذہان کو اگرچہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ نکاح شرعی تھا یا غیر شرعی لیکن ہمارے ملکی قانون کے مطابق طلاق چونکہ 90روز کے بعد موثر قرار پاتی ہے۔ اس دورا ن صلح صفائی کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔ اس لیے اس دوران اگر کوئی عورت کسی اور مرد سے نکاح کرتی ہے تو ہمارا پاکستانی قانون بھی اسے نکاح کے اوپر نکا ح گردانتا ہے اور یہ قابل ِ تعزیر جرم ہے۔