سید مجاہد علی کی فکرِ رسا
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 14 / دسمبر / 2023
سید مجاہد علی بڑی دلآویز شخصیت کے مالک ہیں او ران کی نگارشات اسی دلآویزی سے پھوٹی ہوئی کرنیں ہیں۔ آپ سید بھی ہیں، مجاہد بھی اور پھر ؑشیر خدا کا نام نامی اسم ِ گرامی بھی جناب کے نام کا حصہ ہے۔
اگرچہ یہ لازم نہیں کہ جیسا نام ہو شخصیت بھی ویسی ہی ہو لیکن بارہااسم بامسمہ کی طرح اس کی کچھ نہ کچھ جھلکیاں نمودار ہوہی جاتی ہیں۔ درویش نام نہیں کام کی وجہ سے، ان کی سچی لگن، تپسیا اور جدوجہد کے کارن انہیں مرد مجاہد نہ بھی کہے پھر بھی یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ سید مجاہد علی میں قدرت نے اسلام اور پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر نہ سہی، فراوانی سے بھری ہے۔
یہ دوچار برس کی بات نہیں نصف صدی کا قصہ ہے جب 1975 میں وہ تعلیم اور روزگار کے حوالے سے مغربی جنت ناروے میں جا آباد ہوئے۔ جوانی میں ہی کتنے سمجھدار اور ذہین تھے کہ آنے والی الجھنوں کو حفظ ماتقدم کے طور پر بھانپ گئے۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اس آباد کاری کے باوجود وہ اپنی روٹس، اپنی جنم بھومی کو لمحہ بھر کیلئے بھی نہیں بھولے۔ وہ جتنا اپنی پیدائش کی اس دھرتی کیلئے سوچتے، بولتے اور لکھتے ہیں، اسے دیکھ کر پورے یقین کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی آتما (اگر اس کا کوئی وجود ہے) یا سادہ الفاظ میں ان کی فکرِرسا یا شعوری بلندی جتنی یورپ میں بستی ہے، اس سے بھی شاید کچھ زیادہ پاکستان میں بسیرا کرتی ہے۔ اور یہاں کے حالات پر اتنا کڑھتی ہے کہ یورپ کی چاشنیاں بھی اس کرب کو کم نہیں کر پاتیں۔
سید مجاہد علی کی نگارشات پر آنے سے پہلے دوریش ان کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے اپنے احباب کو مطلع کرنا چاہتا ہے کہ زیرک انسان جہاں بھی ہو اور جیسے حالات میں بھی ہو، سوچوں کے نئے دریچے کھولنے کیلئے محنت اور لگن سے نئے راستے تلاش کرلیتا ہے۔ یا پھر تراش لیتا ہے، پنجاب یونیورسٹی سے ادب و سیاسیات میں ڈبل ماسٹر کرنے کے بعد اگرچہ اُن کی صحافتی زندگی کا آغاز مختلف قومی اخبارات میں ادھر ہی ہوگیا تھا اور پھر ناروے پہنچ کر اس میں مزید نکھار آتا چلا گیا۔ انہوں نے نارویجین اخبار آربائیدر بلاد جو اب ”داگس اویسن“ کہلاتا ہے میں لکھنا شروع کردیا۔ نارویجین براڈ کاسٹنگ سروس کے اردو سیکشن میں بھی کام کرنے لگے اور اس کے ساتھ تعلیمی اداروں میں استاد کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔
ادبی ذوق کے ساتھ شاعری کی امنگ سینے میں تھی، اس لیے ملٹی کلچرل سنٹر کے زیر اہتمام ناروے کی تاریخ کے پہلے مشاعرے کا اہتمام 1985 میں کیا اور یہ سلسلہ پھر پیہم چلتا رہا۔ دیار مغرب میں بسنے والی اپنی اردو کمیونٹی کیلئے سید مجاہد علی نے ناروے پہنچنے کے محض پانچ برسوں بعد اپنے ہم خیا ل ساتھیوں سے مل کر اردو میگزین ”کارواں“ کا آغاز کیا جواب یکم جنوی 2012 سے انٹرنیٹ پر باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے اور مختلف النوع موضوعات پر علمی، ادبی اور سیاسی تحریروں سے مزین ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل ایشوز پر بھی یہ میگزین مغرب میں اردو پڑھنے والوں کی آگہی کا باعث ہے۔ سید مجاہد علی انٹرنیٹ پر ڈیلی انگلش بلاگ لکھنے کے علاوہ اردو میگزین “کارواں” کا روزانہ کی بنیاد پر حالات حاضرہ کی مناسبت سے تجزیاتی اداریہ رقم فرماتے ہیں جو وجاہت صاحب کے “ہم سب” کی زینت بھی بنتا ہے اور رضی صاحب کے جریدے ”گردوپیش“ میں بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ درویش کی سید صاحب سے واقفیت و آگہی ان کے اپنے اداریوں کی وجہ سے ہوئی تھی جو ابتداً محض ٹیلیفونک گفتگو تک محدود رہی مگر ستمبر 2018کی ایک شام جب یہ درویش فیملی کے ہمراہ سکاٹ لینڈ گیا ہوا تھا تو سید مجاہد علی کی کال موصول ہوئی کہ مجھے فیس بک کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ آپ ان دنوں انگلینڈ آئے ہوئے ہیں، ناروے یہاں سے خاصا قریب ہے آپ ایک ٹور ادھر کا بھی لگاتے جائیں۔ ان کی اس آفر پر خوشی ہوئی مگر شکریہ کے ساتھ کہا کہ سر میں یہاں ایک بڑے ڈیلیگیشن کے ساتھ آیا ہواہوں۔ ناروے تو دنیا کے خوبصورت ترین خطوں میں سے ایک ہے جب بھی تنہا آیا تو کتنی خوشی کی بات ہوگی کہ آپ کی وساطت سے ناروے وزٹ کروں۔ یہ تو ہنوزممکن نہیں ہو پایا مگر اس کی برکت سے اب سید صاحب جب بھی لاہو ر تشریف لاتے ہیں تو ان کی مہربانی سے شرف ملاقات کی فیض یابی ہو جاتی ہے۔
سید صاحب کے اداریوں پر محیط کتاب “گفتگو”حال ہی میں شائع ہوئی ہے جس کے متذکرہ بالا اداریے پاکستان کی سماجی، معاشی اور بالخصوص سیاسی صورتحال کے بے لاگ تجزیے ہیں۔ اور ان کا کمال یہ ہے کہ ان میں پارٹی بازی کی کہیں کوئی رمق تک نہیں سوائے اہل وطن سے محبت اور دردمندی کے، جسے دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے بھی وہ اپنے ملک کی معاشی، سماجی اور سیاسی صورتحال سے اس قدر باخبر ہیں کہ گویا اندر کی باتیں بھی ان تک پہنچ جاتی ہیں۔ ایک جگہ وہ اس بات پر غور فرما رہے تھے کہ 8 فروری کو جونہی جمہوری سیٹ اپ تشکیل پائے گا کیا طاقتور اسے اتنا مضبوط بننے دیں گے کہ قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے وہ کوئی بولڈ فیصلے لینے کے قابل ہو، کہیں ایسے تو نہیں ہوگا کہ 2024 کا الیکشن منعقد ہونے کے بعد ایک سیاسی گروہ کمزور حکومت کے ساتھ ایوان اقتدار میں پہنچے اور دوسرا غیبی اشاروں کے ساتھ سڑکوں پر روایتی مارچ کرتا پایا جائے۔ پاکستان اس وقت جس تباہی کے کنارے کھڑ اہے ایسی صورتحال میں بہتری کا خواب کیسے دیکھا جاسکے گا؟
سید صاحب اپنی مفاہما نہ اپروچ کے تحت کبھی یہ سوچتے پائے جاتے ہیں کہ مدمقابل کے بغیر سیاسی میدان مارنے کی خواہش کہیں ہمیں کسی نئے خلفشار کی طرف تو نہیں لے جائے گی؟ کبھی یہ تجویز پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ شفاف انتخابات کیلئے خوف و ہراس کا ماحول ختم کیا جائے۔ کبھی یہ سوچتے ہیں کہ نواز شریف کی وطن واپسی سے ملکی سیاست میں کیا تبدیلی واقع ہوگی؟ تو کبھی نفرت کاشت کرنے سے گریز کے مشورے دیتے پائے جاتے ہیں اور طاقتوروں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ تمام ادارے و عناصر آئین و جمہوری نظام کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اور یہ بھی کہ پاکستان کے مسائل شفاف جمہوریت سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔ ان کے سینے میں اگر کوئی درد ہے تو وطن اور اہل وطن کا، کسی سیاسی لیڈر کیلئے کسی اندھی محبت کا تعصب ہے نہ ہی کسی کیلئے بے وجہ نفرت محسوس کرتے ہیں۔ جس کھلاڑی کیلئے وہ پیہم مخالفانہ لکھتے رہے ہیں، آج وہ مشکل میں ہے تو سید صاحب بلاجھجک یہ تحریر فرما رہے ہیں کہ عمران خان کو شفاف انصاف ملنا چاہیے۔
اس کے ساتھ وہ ملک میں مضبوط جمہوری سیٹ اپ کی تمنا کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ سیاسی مفاہمت کیلئے نوا ز شریف اور زرداری مل کر آگے بڑھیں۔ امید ہے کہ موجود ہ حالات کی الجھنوں میں ان کی یہ کتاب اہل وطن کیلئے کماحقہ رہنمائی فرمائے گی۔