سپریم کورٹ نے فوری طور سے انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا، لاہور ہائی کورٹ کا حکم امتناع منسوخ

  • جمعہ 15 / دسمبر / 2023

سپریم کورٹ نے بیوروکریسی کے تحت انتخابات کرانے کے معاملے پر آر اوز کی تعیناتی منسوخ کرنے کا لاہور ہائی کورٹ کا حکم معطل کردیا ہے۔ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست پر دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی درخواست پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ تین رکنی بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔

سماعت کے آغاز میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ الیکشن شیڈول کے اجرا میں وقت بہت کم ہے۔ کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ ہائی کورٹ میں آر اوز اور ڈی آراوز کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ  سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف الیکشن کون روکنا چاہتا ہے۔ درخواست گزار عمیر نیازی کون ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ درخواست گزار کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کی درخواست پر ہی سپریم کورٹ نے الیکشن کا فیصلہ دیا تھا اور عمیر نیازی کی پٹیشن سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ تو کیا اب توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ آر اوز ڈی آر اوز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس ہائی کورٹ سے مشاورت کی جائے۔ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 50 اور 51 چیلنج کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کا افسران تعینات کرنے کا حق کالعدم قرار دیا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 218 تھری میں کچھ ایسا ہے کہ انتخابات فیئر نہیں ہو سکتے؟

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 218 تھری کے تحت فئیر الیکشن کرائے جائیں۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ 8 فروری میں کتنے دن رہتے ہیں؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ آج سے 55 دن رہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابی پروگرام 54 دن کا ہونے کے لیے آج شیڈول جاری ہونا لازمی ہے۔

اس کے بعد سیکریٹری الیکشن کمیشن روسٹرم پر آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارے پلان کے مطابق ٹریننگ کے بعد ہم نے شیڈول جاری کرنا تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے الیکشن شیڈول تیار کر لیا ہے۔ آئین میں یہ کہاں لکھا ہے کہ آپ نے ٹریننگ کے بعد ہی الیکشن شیڈول جاری کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن سے انتخابات کا شیڈول مانگتے ہوئے کہا کہ استفسار کیا کہ شیڈول ہے کہاں، ہمیں شیڈول دکھائیں۔ جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ اگر آر اوز انتظامیہ سے لینے کا قانون کالعدم ہوجائے تو کبھی الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا۔

جسٹس سردار طارق مسعود نے دریافت کیا کہ کیا ریٹرننگ افسر جانبدار ہو تو الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جا سکتا ہے؟ جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد افسر اکیلے عمیر نیازی کے خلاف جانبدار کیسے ہوسکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ عمیر نیازی کو کوئی مسئلہ تھا تو سپریم کورٹ آتے، ہائی کورٹ نے پورے ملک کے ڈی آر اوز کیسے معطل کر دیے؟ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کہتے ہیں جوڈیشل افسران نہیں دے سکتے، کیا جج نے اپنے ہی چیف جسٹس کے خلاف رٹ جاری کی ہے؟

انہوں نے کہا کہ کیا توہین عدالت کے مرتکب شخص کو ریلیف دے سکتے ہیں؟ کیوں نہ عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟ کیا عمیر نیازی وکیل بھی ہے یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمیر نیازی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رہے ہیں۔

جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ہمارے فیصلے کو کون ڈی ریل کر رہا ہے۔ انتخابات کو ڈی ریل کرنے کے پیچھے کون ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ہائی کورٹ میں سماعت کا علم ہی نہیں تھا جس پر چیف جسٹس نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا اٹارنی جنرل سے سب کچھ مخفی رکھا گیا۔ عدلیہ سے ایسے احکامات آنا حیران کن ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن پروگرام کب جاری ہونا تھا؟ جس پر وکیل جیل سواتی نے جواب دیا کہ الیکشن شیڈول آج جاری ہونا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عمیر نیازی کی ایک درخواست پر پورے ملک میں انتخابات روک دیں؟ عمیر نیازی کی درخواست تو سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ درخواست آئی لگ بھی گئی، حکم امتناع دینے والا جج ہی لارجر بینچ کا سربراہ بن گیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا تھا کوئی بھی جمہوری عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ درخواست گزار کا موقف ہے کہ ڈپٹی کمشنرز نظربندی کے احکامات جاری کرتے ہیں۔ درخواست گزار کا موقف ہے انہیں انتظامی افسران پر اعتماد نہیں ہے۔ سات دن کی ٹریننگ تھی ایک دن کی ہوئی پھر نوٹیفکیشن معطل کر دیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے نوٹیفکیشن معطل کیا تھا اس لیے جاری نہیں کر سکے جس پر سردار طارق مسعود نے کہا کہ الیکشن کرانے سے متعلق ہمارا فیصلہ بہت واضح ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے تو کوئی کل کو آ کر کہے کہ کہ عدلیہ پر اعتماد نہیں تو پھر کیا کریں گے۔

اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے لاہور ہائی کورٹ کا آرڈر پڑھ کر سنایا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک جج جب معاملہ لارجر بینچ کے لیے بھیج رہا ہے تو پھر ساتھ آرڈر کیسے جاری کر سکتا ہے؟ کیا لاہور ہائی کورٹ میں لارجر بینچ بن گیا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی لارجر بینچ بن گیا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں بینچ کا سربراہ کون ہے؟ جس پر وکیل سجیل نے جواب دیا کہ وہی جج سربراہ ہیں جنہوں نے پہلے سماعت کی جس پر چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے مزید دریافت کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے ریٹرننگ افسران لیے تھے؟

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ ملک بھر میں کتنے ڈی آر اوز اور آر اوز تھے؟ جو ریٹرننگ افسران الیکشن کمیشن کے ہیں وہ تو چیلنج ہی نہیں تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے افسران اور ڈپٹی کمشنرز بھی انتخابات نہ کرائیں تو کون کرائے گا؟ تمام ڈی آر اوز متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنرز ہیں، اس سے تو بادی النظر میں انتخابات ملتوی کرانا ہی مقصد نظر آتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ نگران حکومت کے آتے ہی تمام افسران تبدیل کیے گئے تھے۔ ‏اسلام آباد ہائی کورٹ نے جوڈیشل آفیسر فراہم کرنے کے خط کا جواب ہی نہیں دیا۔ ‏لاہور ہائیکورٹ کو دو خطوط لکھے گئے تو انہوں نے جوڈیشل آفیسر فراہم کرنے سے معذرت کی۔ الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینا ہی تھا۔

بعد ازاں سماعت کی تکمیل پر چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوانا شروع کردیا۔ حکمنامے میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے 13 دسمبرکے حکم کے خلاف اپیل دائر کی گئی اور وکیل کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی وجہ سے الیکشن شیڈول جاری کرنا ممکن نہیں۔

وکیل الیکشن کمیشن کے مطابق عدالت نے پابند کیا تھا کہ کوئی انتخابات میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ تمام فریقین 8 فروری کی تاریخ پر متفق تھے۔ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عدالتی ہدایات پر 8 فروری کی تاریخ مقرر کی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ہائی کورٹ آرڈر کے بعد انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں کیونکہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تعینات ڈی آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن معطل کیا گیا۔

سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کرنے والوں کو ہائی کورٹ میں فریق بنایا گیا۔ درخواست میں الیکشن ایکٹ کے سیکشن 50 اور 51 غیر آئینی قرار دینے کی استدعا تھی۔ سپریم کورٹ نے عمیر نیازی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر عمیر نیازی نے جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالی، کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے؟

عدالت نے کہا کہ عمیر نیازی کہتے ہیں وہ بیرسٹر ہیں تو انہیں سپریم کورٹ کے احکامات کا علم ہونا چاہیے تھا۔ عمیر نیازی اسی پارٹی سے ہیں جس نے انتخابات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ حکمنامے میں کہا گیا کہ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کسی ریٹرننگ افسر کے خلاف درخواست آئی تھی؟ جس پر الیکشن کمیشن نے بتایا کسی نے کوئی درخواست نہیں دی۔ اس حوالے سے مزید کہا گہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے مطابق ہائی کورٹ کے حکم میں تضاد پایا جاتا ہے۔ وکیل کے مطابق کیس لارجر بینچ کو بھیجتے ہوئے نوٹیفکیشن معطل کیا گیا۔

حکمانے میں مزید کہا گیا کہ سنگل جج کے فیصلے سے الیکشن کمیشن کا پورے ملک میں کام رک گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے آر اوز اور ڈی آراوز کو کام کرنے سے روکا اور لاہور ہائی کورٹ کے جج نے اپنے اختیار سماعت کی حدود سے تجاوز کیا۔ وکیل کے مطابق الیکشن شیڈول کے لیے مخصوص وقت درکارہے۔ حکم برقرار رکھا تو8 فروری کو الیکشن نہیں ہوسکے گا۔ عدالت نے پہلے ہی کہا تھا کہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

سپریم کورٹ نے لاہورہائی کورٹ کو معاملے پر مزید کارروائی روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جج نے غیرضروری عجلت میں فیصلہ کیا۔ عدالت عظمیٰ نے حکمنامے میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ مزید کارروائی نہ کرے۔ ہائی کورٹ کو آر اوز اور ڈی آر اوز سے متعلق درخواست پر کارروائی سے روک دیا گیا۔

سپریم کورٹ نے انتخابی شیڈول کے اجرا کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا بھی مسترد کرتے ہوئے شیڈول آج ہی جاری کرنے کا حکم دیا۔  سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست بظاہر قابل سماعت نہیں تھی۔ درخواست گزار صرف سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتا تھا۔ درخواست گزار اور جج دونوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظرانداز کیا۔ چیف جسٹس نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سپریم کورٹ ‏جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو آج ہی انتخابات کے شیڈول کے اجرا اور آئینی ذمے داریاں ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات 8فروری کو ہی ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے آج ہی شیڈول جاری کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جو عدالت کا حکم ہو گا اس پر عمل کیا جائے گا۔

قبل ازیں الیکشن کمیشن کی جانب سے سیکریٹری الیکشن کمیشن نے انتظامیہ سے آر او اور ڈسٹرکٹ آر او کی تعیناتی کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست میں الیکشن کمیشن نے استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ 8 فروری کو الیکشن کے فیصلے پر عمل کا حکم دے۔