سولہ دسمبر کی تلخ یادیں
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 15 / دسمبر / 2023
ہر سال 16 دسمبر کا دن آرمی پبلک سکول پشاور سے وابستہ ہمارے گہرے زخموں کو کریدنے آجاتا ہے۔ یہ دن ہمارے پھولوں اور کلیوں جیسے نو نہالوں کی درد ناک اموات کا المیہ بھیگی آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے درویش کا رنج و غم سو گنا بڑھ جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ہم لوگوں نے اتنے اندوہناک سانحہ کے باوجود بحثیت قوم اس سے کچھ نہیں سیکھا ہے۔
کیا سیکھنا تھا؟ سیکھنا یہ تھا کہ ہم من حیثیت القوم یہ عہد کرلیتے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے ہم اس قومی و انسانی بربادی کے مرتکبیں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، نہ ہی اس کے مائنڈ سیٹ کو کبھی یہاں پنپنے دیں گے۔ تاکہ آئندہ کوئی دہشتگرد ہمارے ملک میں گھسنے کی جرآت نہ کرسکے اور نہ ایسی سوچ کے حاملین دوبارہ ادھر کا رخ کرسکیں۔ ایسی بربادی کے بعد زندہ اقوام بنیان مرصوص بن کر یوں ایستادہ ہوجاتی ہیں بلکہ برے کے گھر تک اس کا یوں پیچھا کرتی
ہیں کہ دہشت گر د ذہنیت کو چھپنے کیلئے کوئی جائے امان نہ مل پائے۔
امریکا میں نائن الیون کی تباہی مسلط کرنے والوں نے جو کچھ بھی سوچ کر حملہ کیا تھا لیکن امریکیوں نے ایسے درندوں اور ان کے ماسٹر مائنڈز کا قلع قمع کرنے کیلئے افغانستان کے مخصوص حصوں کا تورا بورا بنا ڈالا۔ حماس نے 7اکتوبر کو اسرائیل کے اندر گھس کر نائن الیون بپا کرتے ہوئے 1200اسرائیلوں کا قتل اور ڈھائی سو کو اغوا کیا تو جوابا~ یہودیوں نے غزہ کا جو حشر کیا ہے، وہ آج پوری دنیا کے سامنے ہے۔ ہمارے لوگوں نے اگر 26نومبر کو ممبئی میں گھس کر نائن الیون کیا تو بھارتیوں نے بغیر حملہ کیے ہماری معیشت کا بھرکس نکال کر رکھ دیا اور پوری دنیا میں ہمارے پہچان بھکاری کی بنوادی۔ تعلقات میں وہ بگاڑ لائے کہ آج
بالفعل کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنا لیا۔
زندہ افراد ہوں یا اقوام اپنے اوپر حملہ آور ہونے والے بدمعاشوں، دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہیں۔ ان کا احتساب کرتے ہیں اور انہیں اس قابل نہیں رہنے دیتے کہ وہ دوبارہ ایسی زیادتی یا جارحیت کرسکیں۔ قانون اور دنیا اسے سیلف ڈیفنس یا حفاظت خود اختیاری کا نام دیتے ہیں۔ آج کی مہذب جمہوری دنیا اسی وجہ سے دہشت گردی کو لعنت قرار دیتی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 16دسمبر 2014کو پشاور کے آرمی سکول میں ہمارے معصوم بچوں پر جو قیامت ڈھائی گئی، ہم نے ان دہشت گردوں یا ان کے مائنڈ سیٹ کی جو نرسریاں قائم ہیں جن میں اقوام و مذاہب دیگر کے خلاف جو منافرتیں پڑھائی و سکھلائی جاتی ہیں، ہم نے انہیں توڑنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل ”نیشنل ایکشن پلان“ کے عنوان سے تشکیل دیا تھا، کیا یہ درویش اپنی عسکری و جمہوری قیادت سے یہ سوال پوچھنے کی جسارت کرسکتا ہے کہ اس “نیشنل ایکشن پلان” پر اتنے برس گزرنے کے بعد بھی کتنے فیصد عمل ہوا ہے؟
یہاں ایسا کونسا مغالطہ ہے؟ کسے معلوم نہیں ہے کہ ہمارے اس نائن الیون کے مرتکبیں کوئی اور نہیں ہمارے یہی اپنے طالبان تھے جن کے چہرے کسی سے اوجھل نہیں۔ یہ خالد خراسانی طالبان ہی کا ایک لیڈر تھا جس نے ارشاد فرمایا تھا کہ ہم نے سب کچھ احادیث و سنت کی مطابقت میں کیا ہے۔ اور پشاور کے معصوم بچوں کی تشبیہ بنو قریظہ کے معصوم بچوں سے دی تھی۔ جس طرح ان کے زیر ناف بال دیکھتے ہوئے انہیں ذبح کردیا گیا تھا، اس نے پوری ڈھٹائی سے یہ کہا کہ ہم نے بھی اسی طرح کیا ہے۔ اس بربادی کی سب سے بڑھ کر وکالت کرنے والا احسان اللہ احسان جب پکڑا گیا تو اسے کیا سزا دی گئی؟ اور پھر ہمارے لوگوں کی تحویل سے وہ دہشت گرد کس کی اشیر باد سے بھگا دیا گیا؟
آج وہی طالبان جس طرح ہماری سرزمین پر حملے کررہے ہیں اور بے دردی سے ہمارے جوانوں کو مار رہے ہیں۔ کیا ہمارے لیے یہ شرم کی بات نہیں ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے جسد قومی پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف کاروائی میں جو کوتاہی دکھائی ہے یہ سب اسی غفلت مجرمانہ کا کیا دھرا ہے۔ کبھی اس پر بھی سروے کروالیں کہ خود ملک کے اندر اس مائنڈ سیٹ کے حمایتی کس ریشو میں ہیں؟ درویش کو افسوس ہے کہ ہمارے اس ملک کے اندر
درویش کو افسوس ہے کہ ہمارے اس ملک کے اندر کتنے لوگ ہیں جنہیں ان تمام دہشت گردوں کے خلاف کوئی غم و غصہ نہیں۔ البتہ اسی تاریخ 16دسمبر کو سقوطِ ڈھاکہ یا مشرقی پاکستان توڑنے والوں کے خلاف غم و غصہ نصف صدری گزرنے کے باوجود ٹھنڈا نہیں ہورہا۔ حالانکہ ان پھپھیکٹنیوں جیسے ڈرامے بازوں کو اتنا شعور بھی نہیں کہ بالفرض اگر وہ سانحہ تھا بھی تو اس کے اصل کلپرٹ کون تھے؟ انہیں تو آج بھی تم لوگوں نے قائد عوام کہتے ہوئے سر آنکھوں پر بٹھا رکھا ہے۔ بوچر آف بنگال کو احترام و توقیر کے ساتھ تم لوگ کن کن معزز عہدوں پر فائز کرتے رہے۔ گورنر اور ایک بڑی سیاسی پارٹی کا سیکر ٹری جنرل بنائے رکھا۔ شاید آج بھی اس کے خلاف دو حروف لکھنے کی اجازت نہیں۔ البتہ اب ایک مثبت تبدیلی ضرور آئی ہے کہ اس وقت کے سب سے مظلوم لیڈر شیخ مجیب الرحمن کے خلاف پھیلائی گئی شدید منافرت اب بڑیحد تک تھم چکی ہے۔
اب جو بھی جمہوریت کا نام لے کر اٹھتا ہے اور آمریت کا جبر اس کے سامنے ہتھیار بند کھڑے ہوتا ہے تو اسے شیخ صاحب یاد آنے لگتے ہیں جیسے کہ ابھی ہمارا ایک سابق کھلاڑی یہ کہہ رہا تھا کہ میں شیخ مجیب الرحمن کی طرح ظلم و جبر سہہ رہا ہوں۔ آپ لوگوں نے شیخ مجیب الرحمن کے خلاف جو بھی زیادتیاں کیں ان سب کے باوجود وہ عوام کی عدالت میں سرخرو ہوگیا۔ وہ 162سیٹوں کی بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گیا۔ جب آپ لوگوں نے تمامتر ستم کے ہوتے ہوئے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کیا تو نتیجتاً ملک ٹوٹ گیا۔ لہذا اس کے مجرم وہ ہیں جنہوں نے عوامی فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کردیا۔
مجیب الرحمن پر روا رکھی گئی جیسی زیادتی کا یہ ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔ اور تو اور وہ جماعت جس نے مکتی باہنی کا توڑ کرنے کیلئے ایجنسیوں کے ساتھ مل کر الشمس اور البدر جیسی جنگجو مسلح تنظمیں قائم کرتے ہوئے ذرا نہیں سوچا تھا کہ اس بھیانک سوچ کے نتائج کیا برآمد ہوں گے یا یہ کہ عوامی مینڈیٹ یا فیصلے کا احترام ہونا چاہیے۔ مگر جب خود پر افتاد پڑی اس جماعت کی قیادت بلبلا اٹھی کہ ہمار ے ساتھ توکراچی کے بلدیاتی الیکشن میں جوڑ توڑ پر وہی ظلم ڈھایا جارہا ہے جو 71 میں شیخ مجیب الرحمن پر روا رکھا گیا تھا۔ آج نصف صدی گزرنے کے بعد جعلی پروپیگینڈے کی گرد یا سموگ بڑی حد تک بیٹھ چکی ہے۔ الحمداللہ تاریخ کا مطلع بڑی حد تک صاف ہوچکا ہے تو ہمیں جذبہ خود احتسابی کے تحت یہ مان لینا چاہیے کہ عظیم بنگالی قوم کے ساتھ ہمارے لوگوں نے جو زیادتیاں کی تھیں، ان پر ٹسوے بہانے کی بجائے ہم لوگ بنگالی قوم اور اس کی قیادت محترمہ شیخ حسینہ صاحبہ سے معافی کے خواستگار ہوں۔ سقوط ڈھاکہ کی روایتی ”پھوڑی“ بھی اٹھا دی جانی چاہیے۔ ایک چیز کی تشکیل ہی اگر غلط ہوئی تھی یا کوئی کجی اس کی بنیادوں میں تھی تو اس کا ڈھے جانا قابل فہم ہونا چاہیے۔ البتہ قیاد ت جو زیادتیاں کرتی ہے یا دوسرے انسانوں پر جو ظلم و ستم ڈھاتی ہے، اہل دانش کا یہ فرض بنتا ہے کہ ان کا منصفانہ تجزیہ کرتے ہوئے ڈنڈی نہ ماریں۔
وقت نے ثابت کردیا ہے کہ مذہب کے مقدس نام پر چیر پھاڑ یا توڑ پھوڑ ہی غلط اپروچ ہے۔ آج شاید پورا جنوبی ایشیا ہند اسی کی پھیلائی ہوئی یا پیدا کردہ منافرت میں جل رہا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں ہم لوگوں کو مذہبی لسانی یا نسلی تعصبات اور منافروں سے اوپر اٹھ جانا چاہیے۔ ان زہریلے نظریات سے کبھی محبتوں کے زمزمے نہیں پھوٹ سکتے۔ پہلے یہاں ہندو مسلم منافرت کا زہر گھولا گیا۔ پھر سنی شیعہ تفرقہ بھڑکایا گیا۔ شکر ہے یہاں شیعہ میجارٹی کا کوئی خطہ نہیں تھا ورنہ نتیجہ اس کا بھی وہی نکلنا تھا جو اردو ہندی تنازع اور مابعد اردو بنگالی تنازعہ کا برآمد ہوا۔
16دسمبر کے روز ہم لوگ یہ سوچیں کہ آخر یہاں ہمارے معروف شاعر محمد اقبال کو جو مقام دیا گیا، ان سے کہیں قد آور نوبل انعام یافتہ بنگالی شاعررابندر ناتھ ٹیگور کو وہ مقام کیوں نہ دیا۔ جاسکا؟ ہم لوگوں نے ہمیشہ بنگالیوں کی حق تلفی کیوں روا رکھی؟
ہوس نے کردیا ہےٹکڑے ٹکڑے نوع انسان کو
اخو ت کا بیاں ہوجا محبت کی زباں ہوجا