عمران خان کے سر پر سزائےموت کا سایہ

عمران خان اور شاہ محمود قریشی  کے  خلاف سائفر کیس میں ان کیمرا سماعت کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے خفیہ سماعت میں صرف ملزمان کے اہل خانہ کو  شریک ہونے کی اجازت دی ہے لیکن یہ ہدایت بھی جاری کی گئی ہے کہ عدالتی کارروائی کے بارے میں کسی قسم کی کوئی بات عام نہیں کی جاسکے گی۔ خلاف ورزی کرنے والے کے  خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی۔

گو کہ سائفر معاملہ میں ان کیمرا عدالتی کارروائی کا فیصلہ غیر متوقعہ نہیں ہے لیکن اب اس کا  اعلان ہونے کے بعد اس معاملہ کی سنگینی زیادہ بھیانک انداز میں سامنے آئی ہے۔ یہ کیس  ایک خفیہ دستاویز عام  اور ضائع کرنے کے حوالے سے ہے۔ اس میں  قومی سلامتی اور بیرونی طاقتوں سے پاکستان  کے سفارتی تعلقات  کے  بارے میں  متعدد پہلو زیر غور ہوں گے۔ اہم سرکاری افسروں نے اس  معاملہ میں گواہیاں دی ہیں اور  ریاست پاکستان کی طرف سے اس کیس کی سنگینی  کے حوالے سے   رویہ واضح کیا جاچکا ہے۔ ایک سابق وزیر اعظم  پر قومی مفادات اور خاص طور سے قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کا الزام انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔  اس لیے اس معاملہ کو محض سیاسی بنیاد پر بنائے گئے مقدمہ کا نام دے کر نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ نہ ہی عمران خان اور تحریک انصاف کو ایسی غلطی کرنی چاہئے۔

یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ تحریک انصاف اس وقت ریاستی عتاب کا شکار ہے۔ لیکن اس عتاب  کو خود تحریک انصاف نے اپنی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے آواز دی  ہے۔ 9 مئی کو ہونے والے واقعات  دنیا کے کسی بھی ملک میں رونما ہوتے تو ریاست متعلقہ عناصر کے خلاف اسی شدت  سے ردعمل کا مظاہرہ کرتی۔ کوئی ملک بھی اپنی  فوج کے خلاف شہریوں کی توڑ پھوڑ اور فوج کے اندر بے چینی پیدا کرنے یا بعض عناصر کو بغاوت پر اکسانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عمران خان کے مشیر انہیں یہ بتانے سے قاصر رہے ہیں کہ نہ صرف سانحہ 9 مئی سے پہلے ان کی حکمت عملی غلط تھی بلکہ اس  دن رونما ہونے والے واقعات کے بعد بھی عمران خان یا تحریک انصاف ’ڈیمیج کنٹرول‘ کا کوئی مناسب اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار نہیں کرسکی۔

 آج تک یہی واضح نہیں ہوسکا کہ عمران خان اس روز ہونے والے واقعات کی سنگینی کو سمجھ کر ان کی مذمت کرتے ہیں یا وہ   بدستور یہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر  کوئی  سیاسی لیڈر  سوچ لے کہ ملکی فوجی قیادت اس کے خلاف  سرگرم ہے تو کسی مشکل یا گرفتاری کی صورت میں ان کے حامی اور پارٹی کارکن عسکری تنصیبات کو ہی نشانہ بنا سکتے ہیں۔  اس  ابہام  نے عمران خان کی سیاست کو تو   نقصان پہنچایا ہی ہے لیکن  اب ان کی  زندگی بھی داؤ پر لگی ہے۔ سائفر کیس بدعنوانی کا کوئی معمولی کیس نہیں ہے جس میں سیاسی عنصر تلاش کرکے اسے انتقامی کارروائی قرار دے کر جان چھڑا لی جائے گی۔ یہ معاملہ  قومی مفادات اور  ملکی عسکری قیادت کی اتھارٹی کے  بارے میں ہے۔  تحریک انصاف کے لیڈر اب بھی امریکہ کو سازش کا محرک  قرار دیتے ہوئےسابق آرمی چیف کو امریکی ہدایت پر عمران خان کی حکومت کے خلاف سازش   کاباعث بننے کا الزام دیتے ہیں۔ ان الزامات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں ہے۔  البتہ شکوک و شبہات کی فضا پیدا کرکے عمران خان اپنی سیاست بچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس ہیجان میں یہ غور کرنے کی زحمت نہیں کی گئی کہ کسی ایک سرکاری یا فوجی عہدیدار کے  خلاف  الزام تراشی  فوج جیسے ریاستی ادارے کو مورد الزام ٹھہرانے  سے مختلف طریقہ ہے۔ تحریک انصاف  یہ باریک فرق ملحوظ خاطر رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی لیے اس کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہؤا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی  کی عہدے سے برطرفی کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن پر غور کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے یہ نکتہ واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا  ہے کہ کسی بھی ادارے میں افراد سے غلطی سرزد ہوسکتی ہے اور ان کی نشاندہی بھی ہونی چاہئے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ طریقہ بنا لیا گیا ہے کہ افراد کی غلطیوں کی طرف اشارہ کرنے کی بجائے  پورے ادارے کو مطعون کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس طریقہ کو غلط قرار دیا اور کہا کہ ایک جج کی غلطی پر پوری سپریم کورٹ کو غلط نہیں کہا جاسکتا۔ یہی اصول فوج پر بھی لاگو ہونا چاہئے۔ یہ   عدالتی آبزرویشن   موجودہ سیاسی صورت حال میں  کارآمد ہوسکتی ہے۔ لیکن اس مقصد کے لیے غیر جذباتی انداز میں اصولی بنیادوں پر   مؤقف سامنے لانے کی ضرورت ہے۔  اس کے برعکس اگر یہ مان لیا  جائے گا کہ ایک خاص آرمی چیف کی وجہ سے فوج کا پورا ادارہ ایک پارٹی اور ایک لیڈر کو ختم کرنے کے درپے ہے ، تو اس  سے  ملک میں بے یقینی اور فاصلے بھی پیدا ہوں گے اور متعلقہ سیاسی پارٹی اس سے مطلوبہ سیاسی فائدہ بھی حاصل نہیں کرسکتی۔

تحریک انصاف کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں عمران خان چونکہ مزاحمت  کی علامت بن چکے ہیں اور ملک کے ووٹروں کی کافی بڑی تعداد نوجوان لوگوں پر مشتمل ہے جن کے بارے میں قیاس کرلیا  گیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں تحریک انصاف ہی کو ووٹ دیں گے۔  بادی النظر میں  تحریک انصاف کی حکمت عملی یہی ہے کہ کسی بھی طرح انتخابات پر زور دیا جائے ، انتخابات میں بہت بڑی اکثریت  سے کامیابی کے بعد  کوئی بھی طاقت عمران خان  کو دوبارہ وزیر اعظم بننے سے نہیں روک سکے گی۔ پارٹی اور اس کے قائدین اسی دن کے انتظار میں  ہر قسم  ے چیلنج کو سرسری اورعبوری سمجھ کر نظر اندازکررہے ہیں۔  اور اسی افراتفری میں     عمیر نیازی جیسے پارٹی لیڈر ہائی کورٹ سے انتخابات کے حوالے سے ایسا حکم امتناعی حاصل کرلیتے ہیں، عملی طور سے جس کا  مقصد ملک میں  انتخابات ملتوی کروانے  کا بہانہ فراہم کرنا ہی ہوسکتا ہے۔ اسی لیے سپریم کورٹ نے آج اس صورت حال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا حکم منسوخ  کیا اور الیکشن  کمیشن کو فوری طور سے انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے اور بہر صورت 8 فروری 2024 کو انتخابات منعقد کرانے  کا حکم دیا ہے۔

تحریک انصاف کی اس حکمت عملی سے واضح ہوتا ہے کہ پارٹی   تنظیمی اور فکری لحاظ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اسے اپنے اقدمات کے بارے میں خود ہی  اندازہ نہیں ہے کہ ان سے اس کی اپنی ہی کاز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے آج انتخابات کے حوالے سے سپریم  کورٹ میں سماعت کے دوران واضح کیا گیا کہ تحریک انصاف ہی90 دن میں انتخابات کرانے کا معاملہ سپریم کورٹ لے گئی تھی  اور آج کا مقدمہ بھی تحریک انصاف کی طرف سے انتخابی عمل  رکوانے کا سبب بننے والی ایک کوشش کے بارے میں ہی تھا۔ اس تضاد سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ اس غیر  متوازن حکمت عملی کا اظہار شیر افضل مروت جیسے شخص کو پارٹی کا اہم عہدہ دینے سے بھی  ہوتا ہے۔ پھر ان کے اشتعال انگیز رویوں کو پارٹی کی مقبولیت سمجھ لینے کی غلطی کی جاتی ہے۔ حالانکہ اس سے پارٹی کی ساکھ اور  سیاسی ماحول میں اپنی جگہ بنانے کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایسے ماحول میں پارٹی کے نو منتخب چئیرمین بیرسٹر گوہر علی جیسے لیڈر مناسب  کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن نہ جانے پارٹی کی قیادت پر فائز ہونے کے  باوجود نئے چیرمین کے طور پر بیرسٹر گوہر علی نے کسی قسم کی مستعدی نہیں دکھائی اور نہ سیاسی طور سے متحرک ہوئے ہیں۔

عمران خان کے  خلاف سائفر کیس کا آغاز ہوچکا ہے لیکن وہ سانحہ 9 مئی کے واقعات میں بھی نامزد ہیں۔ ضرورت پڑنے پر اس حوالے سے بھی  ان کے خلاف سنگین دفعات  استعمال کی جاسکتی ہیں۔ سائفر کیس میں جن دفعات  کے تحت مقدمہ کی کارروائی ہوگی، ان میں سزائے موت کا آپشن بھی موجود ہے۔   مقدمہ کی خفیہ کارروائی اور پھر  جج کے پاس موت کی سزا دینے کا اختیار،  ایک ہولناک منظر سامنے لاتا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کو اس صورت حال کو آسان نہیں  لینا چاہئے ۔ اور مقبولیت کے زعم میں یہ باور نہیں کرلینا چاہئے کہ کوئی عدالت عمران خان جیسے مقبول لیڈر کو سزائے موت نہیں دے سکتی۔  ذوالفقار  علی بھٹو کو جب  موت کی سزاسنائی گئی تھی تو وہ بھی عوام کے مقبول لیڈر تھے لیکن انہیں پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ حالانکہ ان کے خلاف قتل کی معاونت کا مقدمہ تھا جس میں  موت کی سزا کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ  جب حکومت اور ریاست کوئی کام کرنے کا تہیہ کرلے تو عدالتی نظام بھی اس کا راستہ روکنے  میں کامیاب نہیں ہوتا بلکہ معاونت پر تیار ہوجاتا ہے۔

سائفر کیس میں عمران خان پر براہ راست ملکی  سلامتی و مفاد کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ اگرچہ شاہ محمود قریشی بھی انہی الزامات کا سامناکررہے ہیں لیکن قیاس کیا جاسکتا ہے کہ عدالت عمران خان کو سخت ترین سزا دینے کے لیے شاہ محمود قریشی کو بری کردے گی۔ تاکہ عدالت کی منصفی کا چرچا بھی کیا جاسکے اور اصل ’حریف‘ کو راستے سے ہٹا یا  بھی دیا جائے۔ یہ ایک بھیانک  تصور ہے لیکن محض آنکھیں موند لینے سے اسے    فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ضروری ہے کہ  حقیقی صورت حال کی سنگینی کو سمجھا جائے اور اس مشکل سے نکلنے کا کوئی مناسب راستہ تلاش کیا جائے۔

اس مقصد کے لیے سب سے پہلے تحریک انصاف کو اپنی سیاسی حکمت عملی واضح کرنا ہوگی۔  اسے  بتانا چاہئے کہ وہ  کوئی  ایسی جماعت نہیں ہے  جسے قومی اصلاح کے لیے چن لیا گیا ہے۔ بلکہ ملک کی دیگر سیاسی قوتوں کی طرح وہ بھی سیاسی جد و جہد کے ذریعے عوام کی بہتری کے  لیے کام کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

پارٹی قیادت کو سب سے پہلے اشتعال انگیزی پھیلانے اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے ذریعے نفرت عام کرنے کی

بجائے مفاہمت اور بقائے باہمی کا پیغام عام کرنا چاہئے۔ اسی طرح دیگر سیاسی  پارٹیوں کے ساتھ  مواصلت و مصالحت کا راستہ ہموار ہوگا اور یہ پارٹیاں بھی اخلاقی طور سے تحریک انصاف کو  قومی دھارے میں  قبول کرنے پر آمادہ ہوں گی اور اس  کے قائدین  لی سہولت کے لیے  تعاون پر آمادہ ہوں گی۔ اس کے برعکس فی الوقت تحریک انصاف کی پالیسی انتخاب جیت کر اپنے  مقاصد حاصل کرنا ہے۔ حالانکہ اگر اس طریقے سے ان کے لیڈر کو حقیقی خطرہ  لاحق ہوسکتا ہے۔ عمران خان  کے بارے میں یہ تاثر عام کرنے سے  ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا کہ وہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔  تحریک انصاف کو مان لینا چاہئے کہ ان کا بانی چیئر مین اس وقت جیل میں بند ہے اور اس پر  ریاست کے خلاف سنگین جرائم کے الزامات عائد ہیں۔

اس صورت حال کو تبدیل کرنے میں سپریم کورٹ بھی  حتمی اور مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔   ناقص  عدالتی نظام کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ نواز شریف کو کئی سال تک عدالتوں سے سزائیں  ملتی رہیں اور اب یکے بعد دیگرے انہیں مختصر عدالتی کارروائی کے بعد  بری کیا جارہا ہے۔ عمران خان کے بارے میں ایسی  ہی کسی شرمندگی سے بچنے کے لیے  سپریم کورٹ کی  کمیٹی  سوموٹو اختیار کے تحت عمران خان کے خلاف سارے مقدمے عدالت عظمی کے  سامنے  پیش کرنے اور  ان پر فعال طریقے سے عدالتی کارروائی کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے بھی عمران خان اور تحریک انصاف کو ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا کہ سپریم کورٹ تک یہ پیغام پہنچ سکے کہ پارٹی  ملک کی اعلی عدلیہ پر اعتبار کرتی ہے۔

اس طریقہ  سے  ملکی تاریخ میں ایک بار پھر ایک  سابق وزیر اعظم اور سیاسی لیڈر کو کردہ و ناکردہ گناہوں کی بھینٹ نہ چڑھانے سے روکا جاسکتا ہے۔  ہر کسی کو اپنی غلطیوں کی سزا ملنی چاہئے لیکن یہ سزا جرم کی نوعیت اور  انتقام کے کسی شائبے کے بغیر دی جائے۔