اسرائیلی فورسز نے غزہ میں اپنے ہی تین یرغمالیوں کو ہلاک کردیا

  • ہفتہ 16 / دسمبر / 2023

اسرائیلی فوج نے جمعے کو کہا کہ اس نے غزہ کی پٹی میں ایک زمینی کارروائی کے دوران غلطی سے تین اسرائیلی یرغمالوں کو ہلاک کر دیا ۔

فوج کے اعلیٰ ترجمان رئیر ایڈمرل ڈینیل ہگاری نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال ملے مگر انہوں نے غلطی سے انہیں ایک خطرہ سمجھا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وہ اپنے اغوا کاروں سے فرار ہوئے تھے یا انہیں وہاں چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ ہلاکتیں غزہ شہر کے علاقے شجاعیہ میں ہوئیں ،جہاں فوجی حالیہ دنوں میں حماس عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہے تھے ۔ فوج نے اس واقعہ پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے اور وہ اس کی چھان بین کررہی ہے۔

ان اموات کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک امریکی سفیر نے کہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل حماس کے خلاف جنگ میں شدید جنگی کارروائیاں سمیٹنے کے کسی ٹائم ٹیبل پر گفتگو کر رہے ہیں۔ اگرچہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ لڑائی مہینوں جاری رہے گی۔ جیک سلیون نے محصور غزہ کے جنگ کے بعد کے مستقبل پر گفتگو کے لیے فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی ۔

ایک سینیئر امریکی عہدےدار کے مطابق اس گفتگو میں فلسطینی سیکیورٹی فورسز کی واپسی شامل ہو سکتی ہے جنہیں حماس نے 2007 میں غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ان کی ملازمتوں سے نکال دیا تھا۔ فلسطینی سیکیورٹی فورسز کی ممکنہ واپسی کا خیال پیش کی گئی متعدد دوسری تجاویز میں شامل تھا۔ یہ بظاہر پہلا موقع تھا کہ واشنگٹن نے محصور علاقے میں سیکیورٹی کے بارے مین اپنی رائے کی تفصیلات پیش کیں۔

امریکی اور اسرائیلی عہدے داروں نےکھلے بندوں اس بارے میں واضح بات نہیں کی ہے کہ اگر اسرائیل حماس کے کنٹرول کو ختم کرنے کا اپنا مقصد حاصل کر لیتا ہے تو غزہ کا انتظام کس طریقے سے چلایا جائے گا۔

غزہ میں فلسطینی سیکورٹی فورسز کے کسی کردار کی اسرائیل سخت مخالفت کرتا ہے۔ اور اس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے بعد محمود عبا س کی زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی کو قدم جمانے کی اجازت نہیں دے گا۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اسرائیل کی جانب سے عام شہریوں کی ہلاکتیں کم کرنے میں ناکامی اور غزہ کے مستقبل کے بارے میں اس کے منصوبوں پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن وائٹ ہاؤس اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل اور سفارتی طور پر اس کی بھر پور حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔