لطیف کھوسہ تحریک انصاف میں شامل ہوگئے

  • اتوار 17 / دسمبر / 2023

سابق گورنر پنجاب، پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے سابق رکن سردار لطیف خان کھوسہ نے پاکستان تحریک انصاف میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔

لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاریخ میں دیکھیں تو اوپر سے نیچے تک عوام ہی ریاست ہیں۔ پرامید ہوں نفرتوں کی سیاست ختم ہوگی، نفرتوں کو دفن کرکے نئے سفرکی دعوت دیتا ہوں۔ وکالت اور سیاست عبادت سمجھ کر کی ہے۔ آئین کے اندر ہر چیز کا حل موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی پاسداری کرنے والا امر ہوجاتا ہے۔ 25 کروڑ عوام عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، یہ ادارے ہمارے ہیں۔ یہ فوج ہماری ہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل سردار لطیف کھوسہ نے ڈان نیوز کے پروگرام ’خبر سے خبر وِد نادیہ مرزا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ وہ جلد ہی تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کرنے والے ہیں، جس کا اعلان وہ چند روز میں باضابطہ طور پر کریں گے۔

سردار لطیف کھوسہ سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے؟ جس پر انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے مجھ سے پارٹی میں شمولیت کی استدعا کافی  عرصے سے کر رکھی ہے، میں نے اپنی فیملی اور دوستوں سے اسی حوالے سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بس یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر وہ خود  الیکشن  لڑیں گے یا پھر ان کے صاحبزادے انتخابات میں حصہ لیں گے۔

سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ آج مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انتخابات کے حوالے سے تمام ابہام ختم ہوگیا ہے۔ انتخابات 8 فروری کو ہی ہوں گے، جیسا کہ سپریم کورٹ نے بھی قرار دیا تھا کہ 8 فروری کو الیکشن پتھر پر لکیر ہے۔ اب قطعاً کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ یہ جائے گا یا وہ ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ نے بے یقینی کی صورتحال ختم کردی ہے۔

انتخابات میں ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی سے متعلق سوال پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ نگران حکومت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا تسلسل ہے، یہ نیوٹرل نہیں ہیں۔ قانونی تقاضا ہے کہ نیوٹرل سیٹ اپ بنایا جائے، کیونکہ انتخابی عملہ حکومت کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔

تحریک انصاف جوڈیشل افسران کا مطالبہ کر رہی ہے جو کہ حکومت کے تابع نہیں ہوتے ہیں۔ عمیر نیازی کی درخواست غلط نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ عدالت کا عبوری حکم آیا ہے، ابھی فریقین کو نوٹسز جاری ہوئے ہیں اور باقاعدہ سماعت ہوگی۔

سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی وکیل عمیر نیازی کی جانب سے درخواست واپس بھی لی جا سکتی ہے۔