الیکشن، ملکی استحکام کے لئے ناگزیر ہے !
- تحریر علی اصغر عباس
- اتوار 17 / دسمبر / 2023
حریف شخصیات یا سیاسی جماعتوں کو نیچا دکھانے اور عوام کو ان سے بدظن کرکے اپنی یا اپنی جماعت کی طرف راغب کرنا انتخابی سیاست کا بنیادی حصہ ہے۔ جو فریق رائے عامہ کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اس کے لئے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
جنہیں یقینی کامیابی میں بدلنے کے لئے ووٹر کو پولنگ بوتھ تک لانا اہم ترین بات ہے۔ یاد رکھیں کہ جلسے جلوسوں میں لاکھوں افراد کی شرکت کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کو انتخابات میں کامیابی نہیں دلا سکتی۔ جیتتا وہی ہے جو زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے ووٹرز کو پولنگ بوتھ تک لانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یہ ایک آئیڈیل صورت حال میں ہوتا ہے جس میں امیدوار جماعتیں اور افراد انتخاب کی اہمیت اور حساسیت کا ادراک رکھتے ہوں۔ ان کا کوئی سیاسی منشور ہو جس پر عوام کو قائل کیا جاسکے۔ لوگ جس پارٹی کے منشور کو پسند کریں اسے پارلیمنٹ میں بھیج کر حقِ حکمرانی تفویض کرتے ہیں۔ اس کے بعد حکمران جماعت کا امتحان شروع ہوتاہے۔
جو سیاسی جماعتیں چار پانچ یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے میدان عمل میں ہوتی ہیں، وہ انتخابی مہم چلانے کا تجربہ بروئے کار لا کر منزل پانے کیلئے جہدِ مسلسل کے ثمرات سمیٹنے کی پوزیشن میں آ جاتی ہیں۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے انہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں۔ تھڑا سیاست سے اٹھ کر ٹی وی کے ٹاک شوز میں بیٹھ کر بقراطیت جھاڑنے والوں کو کیا خبرِ کہ انتخابی عمل کتنے جوکھم کا کام ہے۔ اور اس کے کیا تقاضے ہوتے ہیں۔
پاکستان کی انتخابی سیاست کا باوا آدم ہی نرالا ہے، یہاں کی اکثر سیاسی جماعتیں عوام پر انحصار کرنے کے بجائے مقتدر قوتوں کی طرف دیکھتی ہیں جس کے نتیجے میں عرصہ دراز سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی بندر بانٹ کا سلسلہ مشاہدے میں آیا۔ عوام کو انتخابی عمل سے باہر کرکے کٹھ پتلیوں کو اقتدار میں لانے والے خود کی نسلیں تو سنوار چکے مگر عوام بدترین بدحالی کا شکار ہے ہو کر رہ گئے۔ اس صورت حال نے لوگوں کی اکثریت کو ملک سے برگشتہ کردیا ہے۔ لوگ اپنے بچوں سمیت بیرون ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جن کے پاس پیسہ ہے وہ تو عازمِ پردیس ہو بھی چکے۔ کم پیسے والے انسانی سمگلرز کے ہتھے چڑھ کر مال اور جان دونوں گنوا لیتے ہیں۔
سیاسی بے یقینی میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے ملک میں عام انتخابات یقینی بنانے کا عزم حوصلہ افزا ہے مگر یہ ملک کو حالتِ اضطرار میں رکھنے والوں کے لئے موت کا سندیس ہے، اس لئے وہ نچلے بیٹھنے والے نہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے باوجود وہ عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے افواہیں پھیلانے کی مذموم کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جانی چاہیے۔ عوام کی اکثریت بے یقینی سے نکل کر ملک کو استحکام دینا چاہتی ہے۔ عام انتخابات کا انعقاد اس کا واحد حل ہے۔ عدالت عظمیٰ اور الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کے لئے پرعزم ہیں۔ عوام کو بھی اپنے حقوق کیلئے قومی اداروں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونا چاہیے کہ جمہوریت مضبوط کرنے کیلئے ووٹ کی پرچی کی طاقت کا استعمال ناگزیر ہے۔ جو بھی اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے عوام اور سرکار کو مل کر اسے نشانِ عبرت بنا دینا چاہیے۔ آئیے ایک شعری فن پارہ پڑھ لیں:
دھوپ آزاد ہے!
پھر یوں ہوا
کہ طاقت وروں نے
دھوپ قبضے میں کرنے کی ٹھانی
اور سورج کی کرنوں پہ جھگڑا کیا
وہ، جن کے گھروں میں اندھیرا تھا
یہاں تک کہ دن بھی
تیرگی میں بسر ہو رہے تھے
وہ جُز بُز ہوئے
کہ ان کے چراغوں میں جلنے کو نہ تیل تھا
نہ اُن کی رگوں میں لہو
جسے تیل کر لیں
انہیں تیرہ غاروں میں دن کی خبر بھی
پرندوں سے ملتی تو باہر نکلتے
ڈھلانوں پہ اُن کے قدم ڈگمگاتے
تو وہ پتھروں پہ وہیں بیٹھ جاتے
کہ سورج کی کرنوں کو آنکھوں میں بھر لیں
تاریک غاروں میں
آنکھیں ہی سورج ہیں
تارا ہیں اور چاند ہیں
اُنہیں کیا خبر تھی
کہ طاقتوروں نے
غلاموں کی دنیا کے سورج, ستارے
اور چاند بھی
قبضے میں لے کر اجارہ کیا ہے
وہ طاقت کے نشے میں یہ بھول بیٹھے
کہ جن تیرہ بختوں کی آنکھیں چھنی ہیں
وہی جانتے ہیں
کہ سورج کبھی قید ہوتا نہیں
دھوپ آزاد ہے
اسے گھپ اندھیرے کی پہچان ہوتی نہیں!