مولانا فضل الرحمان گمراہ کن بیان بازی سے گریز کریں
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 17 / دسمبر / 2023
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مردان کے علاقے میں ایک مدرسے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ ہماری آزادی داؤ پر لگی ہوئی ہے ۔ ہماری سیاست و معیشت دباؤ میں ہیں، پاکستان کے پاس ایٹم بم ہے مگر اس کا اختیار ہمارے پاس نہیں‘۔ ایک قومی سیاسی لیڈر کی طرف سے یہ طرز تکلم پریشان کن اور باعث غور و فکر ہے۔ مولانا جیسے جہاندیدہ لیڈر کو محض سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لیے خلاف واقعہ اور انتہاپسندانہ بیانات دینے سے گریز کرنا چاہئے۔
مولانا فضل الرحمان اپنی جماعت کے علاوہ سیاسی پارٹیوں کے اتحاد پاکستان جمہوری تحریک کے صدر بھی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں نواز شریف کے ساتھ انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر امید وار کھڑے کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ یہ حوالہ دینے کا مقصد یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کسی محلے کی مسجد کے پیش امام یا ایک مدرسے کے مہتمم نہیں ہیں کہ ان کی جذباتی اور بے بنیاد باتوں کو نظر انداز کردیا جائے ۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ باور کرلیا جائے کہ انہیں خود معلوم نہیں ہے کہ قومی خود مختاری پر کنٹرول کے بارے میں ان کا دعویٰ غلط اور کسی جواز کے بغیر ہے۔
یہ مانا جاسکتا ہے کہ اس وقت انتخابات کی مارا ماری ہے اور ہر سیاسی لیڈر مسائل پر بات کرنے کی بجائے قومی جذبات کو ہوا دے کر عوام کا ووٹ حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی سیاسی دکان سجائے رکھے۔ البتہ ساری زندگی سیاست میں گزارنے کے بعد مولانا کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ ذمہ دار سیاسی لیڈروں سے ٹھوس دلائل کی بنیاد پر بات کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ انہیں اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ قوم کو گمراہ کرنے کے کے لیے بے بنیاد نعرے ایجاد کریں اور پھر کندھے اچکا کر اپنے بیان کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیں۔ عام طور سے دیکھا گیا ہے کہ سیاسی لیڈر عوام کی توجہ کے لیے جذباتی بیان دیتے ہیں، پھر اسے ’غلط رپورٹنگ‘ قرار دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے سیاسی لیڈروں کے ایسے ہی غیر ذمہ دارانہ بیانات اور گروہی مفادات کے حصول کے لیے اختیار کئے گئے طرز عمل کی وجہ سے پاکستان اس وقت مسائل کا اکھاڑہ بنا ہؤا ہے۔
مولانا سمیت پی ڈی ایم میں شامل دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈر تسلسل سے تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف یہی مقدمہ قائم کرتے رہے ہیں کہ وہ بے بنیاد اور جھوٹے نعروں کے ذریعے ملک کے نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ اسی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت عمران خان کو سائفر کیس کا سامنا ہے کیوں کہ انہوں نے ایک سفارتی مراسلہ کو قومی سلامتی کے پس منظر میں دیکھنے اور اسی طرح پرکھنے کی بجائے ، اس سے سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ وہ یہ مقصد تو حاصل نہیں کرسکے لیکن حساس سرکاری معلومات عام کرنے اور سائفر جیسی خفیہ دستاویز کو غیر ذمہ داری سے ’گم کردینے‘ یا اس کے مندرجات عام کرنے کے الزام میں اب وہ ایک ایسی عدالتی کارروائی کا سامنا کررہے ہیں جسے عام لوگوں سے خفیہ رکھا جائے گا اوراس میں انہیں عمر قید یا موت کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح غیر ذمہ دارانہ سیاست ہی کا نتیجہ ہے کہ تحریک انصاف کی ساری قیادت سانحہ 9 مئی کی سزا بھگت رہی ہے ۔ دو سال پہلے ملک پر حکومت کرنے والے لوگ جیلوں میں بند ہیں اور پارٹی توڑ پھوڑ کا شکار ہے۔
اس صورت حال کا حوالہ دینے کے دو مقاصد ہیں۔ ایک تو یہ کہ دوسرے سیاسی لیڈروں کو بھی اسی راستے پر چلنے سے گریز کرنا چاہئے جس پر جانے سے وہ تحریک انصاف اور عمران خان کو روکتے رہے ہیں۔ کیوں کہ اس سے ملکی مفادات کمپرومائز ہوتے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر غیر ذمہ دارانہ سیاست کی وجہ سے عمران خان کو سنگین مقدمات کا سامنا کرنا پڑاہے تو کوئی دوسرا بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ تاہم اس صورت حال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان ماضی قریب میں کھوکھلے اور جھوٹے نعروں کی بنیاد پر کی گئی سیاست کے سنگین نتائج کا سامنا کررہا ہے۔ پی ڈی ایم اور تحریک انصاف مخالف دیگر جماعتیں پی ٹی آئی اور عمران خان کو اس کا قصور وار سمجھتی ہیں۔ اس مؤقف کی روشنی میں انہیں خود تحمل ، بردباری اور دلیل کی بنیاد پر بات کرنی چاہئے۔ بلکہ وقت آگیا ہے کہ اگلے سال کے شروع میں ہونے والے انتخابات میں سیاسی پارٹیاں الزام تراشی اور نعروں کی سیاست کرنے کی بجائے سیاسی پروگرام پر بات کریں۔ عوام کو یہ نہ بتایا جائے کہ ماضی میں کس نے کیا غلط کیا اور ملک کیسے عالمی طاقتوں کا ’غلام‘ بنادیا گیا ہے بلکہ یہ بتایا جائے کہ متعلقہ سیاسی پارٹی اقتدار میں شامل ہوکر کون سے اصولی فیصلے کروانے کی کوشش کرے گی تاکہ پاکستان کو معاشی و سفارتی بحران سے باہر نکالا جاسکے۔
مولانا فضل الرحمان نے زیر بحث تقریر مردان کے ایک مدرسے کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کی ہے حالانکہ وہاں وہ کسی سیاسی لیڈر کے طور پر نہیں بلکہ ایک عالم دین کی حیثیت میں گئے تھے۔ وہ جس دین حق کی تبلیغ کرتےہیں، اس کا سبق تو یہی ہے کہ قیاس و گمان کی بنیاد پر الزام تراشی نہ کی جائے اور گفتگو کے علاوہ ہر مسلمان کے طرزعمل میں ملاحت و توازن ہونا چاہئے۔ مولانا کی تازہ تقریر اس معیار پر بھی پوری نہیں اترتی۔ یہ طریقہ دینی و سیاسی اخلاقیات کے خلاف ہے کہ کسی مدرسے کو سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اگرچہ مولانا مدرسوں کے طلبہ ہی کو اپنی سیاسی طاقت سمجھتے ہیں اور اس کا مظاہرہ بھی کرتے رہتے ہیں لیکن ان کا مؤقف بہر حال یہی ہوتا ہے کہ ان کے سیاسی جلسوں میں طلبہ نہیں بلکہ ان کی جماعت کے کارکن آتے ہیں۔ تاہم مدرسوں کے پلیٹ فارم کو سیاسی پیغام کے لیے استعمال کرکے مولانا خود اپنے ہی مؤقف کی تردید کا سبب بنے ہیں۔
مولانا نے کہا ہے کہ ’عالمی اداروں اور معاہدوں کے ذریعے ہمیں غلام بنایا ہوا ہے۔ ہماری سیاست پر اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کا قبضہ ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ہمارے فیصلے کرتی ہیں، جس سے ہمارا اپنے آئین و قانون غیرمؤثر ہوجاتا ہے۔ معیشت کو ورلڈ بینک کنٹرول کررہا ہے۔ ہمارے دفاع کو عالمی معاہدات کے تحت کنٹرول کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے پاس ایٹم بم ہے مگر اس کا اختیار ہمارے پاس نہیں‘۔ اگر ان تمام الزامات کو درست مان لیا جائے کیوں کہ یہ بیان ایک اہم سیاسی لیڈر اور جید عالم کی طرف سے سامنے آیا ہے تو بھی مولانا کو اس بات کا جواب تو دینا چاہئے کہ ملک کو اس صورت حال کی طرف دھکیلنے کا ذمہ دار کون ہے؟ مولانا خود اور ان کی پارٹی گزشتہ تیس پینتیس سال میں قائم ہونے والی تقریباً ہر حکومت میں اپنا سیاسی حصہ وصول کرتے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور کو استثنی ضرور حاصل ہے لیکن اس کا بدلہ لینے کے لیے مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو یقینی بنایا اور پھر شہباز شریف کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت میں ان کی پارٹی نے اپنے جثے سے بڑھ کر حصہ وصول کیا۔ اس وقت اگر ملک غلط اور عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے عالمی اداروں اور ورلڈ بنک کے کنٹرول میں آچکاہے تو مولانا کو بھی گزشتہ چند دہائیوں کے دوران اقتدار میں اپنی شراکت کے حساب سے اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔
ملکی معیشت کو ضرور مشکلات کا سامنا ہے ۔ جب قومی مصارف پورے کرنے کے لیے عالمی اداروں یا بیرونی ممالک سے امداد وصول کی جائے گی تو ان کی بعض شراط بھی ماننا پڑیں گی۔ قوموں کے درمیان اس قسم کے معاہدوں کو خود مختاری پر سودے بازی نہیں کہا جاسکتا البتہ یہ درست ہے کہ اگر کوئی قوم مشکل معاشی مرحلے پر اپنا راستہ درست نہ کرے تو اسے بعض ایسے فیصلے کرنا پڑتے ہیں جو اس کے قومی مفاد کے عین مطابق نہیں ہوتے۔ البتہ اس صورت حال کو قومی یک جہتی اور یکسوئی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر سیاست دان الزام تراشی کرتے ہوئے پہلے ہی سے ملکی غلامی کا پرچار کرنے لگیں گے تو عام لوگوں کا رہا سہا حوصلہ بھی جواب دے جائے گا۔ ایسے بیانات کسی ایک لیڈر کو تو شاید کوئی وقتی فائدہ پہنچادیں لیکن ان سے طویل المدت قومی منصوبے کو ضرور نقصان پہنچتا ہے۔ خاص طور اس صورت حال کو ملک کی ایٹمی صلاحیت کے ساتھ ملاکر یہ دعویٰ کرنا کہ ہمارے ایٹم بم پر ہمارا اختیار نہیں ہے، انتہائی اشتعال انگیز اور قومی مفاد کے برعکس دعویٰ ہے۔ اس قسم کے دعوے سے صرف ملک کے دشمن ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہیں لہذا یا تو اس پر پابندیاں لگائی جائیں یا ایٹمی اثاثے حقیقتاً عالمی نگرانی میں دیے جائیں۔ مولانا نہ جانے اس عامیانہ بیان سے کون سا بڑا سیاسی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
اسی جذباتی رو میں مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’ مدرسے کا استاد اگر شاگرد کو مارے تو انسانی حقوق کے علم بردار آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں مگر فلسطین میں ظلم پر سب خاموش ہیں۔ دنیا فلسطین کی نسل کشی کا تماشہ دیکھ رہی ہے‘۔ گویا مولانا فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم کا سہارا لے کر مدرسوں کے اساتذہ کو کم سن طلبہ کے خلاف تشدد استعمال کرنے کا لائسنس دلوانا چاہتے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی ظلم کے خلاف پاکستان سمیت دنیا کے ہر خطے میں آواز بلند کی جارہی ہے لیکن کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ ایک استحصال کا حوالہ دے کر طلبہ کے خلاف تشدد کو جائز قرار دینے کی دلیل دے اور اسے کمتر گناہ کہا جائے۔ یا کوئی ایسا فعل سمجھا جائے جسے عام کرنے سے دین کا احیا ہوگا۔ مولانا کا یہ طرز استدلال افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔
کسی بھی معاشرے میں کسی بھی قسم کے تشدد کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر مدرسوں اور اسکولوں میں بچوں کو سزا کے خوف سے تعلیم کی طرف راغب کیا جائے گا تو نہ تو کوئی باوقار قوم پروان چڑھے گی اور نہ ہی ہماری نئی نسلیں نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل ہوسکیں گی۔