تحریک انصاف کا ورچوئل جلسہ اور پابندی کی شکایت

  • سوموار 18 / دسمبر / 2023

پی ٹی آئی نے عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ’ورچوئل اجتماع‘ کا اہتمام کیا۔ 17 دسمبر کی شب انتخابی مہم کے سلسلے میں تحریک انصاف کے پہلے ورچوئل یا آن لائن جلسے کا اہتمام کیا گیا۔

یہ اقدام عام انتخابات 2024 سے قریب ڈیرھ ماہ قبل دیکھنے میں آیا جب کہ سابق وزیر اعظم عمران خان سمیت تحریک انصاف کے کئی رہنما جیل میں ہیں۔  جماعت کو جلسے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس جلسے میں پوری دنیا سے پی ٹی آئی کارکنان نے حصہ لیا۔ جماعت کے اہم رہنماؤں کے ساتھ ساتھ روپوش شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے عمران خان کی آواز میں ان کا جیل سے پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقی آزادی کی خاطر جیل میں رہنا عبادت کے مترادف ہے۔‘

عمران خان کی ایک روبوٹ نما آواز میں انہیں بڑے وثوق سے یہ کہتے بھی سنا جاسکتا ہے کہ ’ریاستی اداروں کی جانب سے ایک بھگوڑے کے لیے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے لیکن اس لاڈلے کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ 8 فروری کو الیکشن ہار جائے گا۔‘

اس ورچوئل اجتماع کی شام، ان سب تقاریر کے دوران پاکستان کے کئی شہروں میں سوشل میڈیا تک رسائی متاثر ہونے کی شکایات بھی موصول ہوئیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں اب انٹرنیٹ تک رسائی معمول کے مطابق ہے تاہم سوشل میڈیا کی رفتار کم کرنے کی شکایات کے حوالے سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔

تحریک انصاف کے کارکن اس ورچوئل جلسے کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے سرگرم تھے۔ کسی آن لائن جلسے میں شامل ہونے کے لیے آپ کو کسی سواری کا بندوبست نہیں کرنا پڑتا اور نہ ہی جلسۂ گاہ میں افراتفری کا ڈر ہوتا ہے۔ آپ باآسانی ایک کلک سے کسی آن لائن جلسے میں شامل ہو سکتے ہیں مگر شاید اسی طرح ایک ہی کلک سے آپ کی اس جلسے تک رسائی روکی جاسکتی ہے۔

گزشتہ شب قریب نو بجے انٹرنیٹ تک رسائی کی نگرانی کرانے والی تنظیم نیٹ بلاکس کا کہنا تھا کہ لائیو میٹرکس ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان بھر میں ایکس، فیس بُک، انسٹاگرام اور یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ملکی سطح پر بندش کا سامنا تھا۔’یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب اپوزیشن لیڈر عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی نے ایک بڑے ورچوئل اجتماع کا اہتمام کر رکھا  تھا۔‘

اسی طرح پاکستان میں انٹرنیٹ کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے بائٹس فار آل کا کہنا تھا کہ 17 دسمبر کی شب متعدد صارفین نے ملکی سطح پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بشمول یوٹیوب اور ٹوئٹر کی بندش کی اطلاع دی۔ اس کے ردعمل میں پی ٹی اے نے بی بی سی کو دیے ایک بیان میں بتایا کہ ’ملک کے کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے کی شکایات پر تحقیقات کی جا رہی ہے۔‘

پی ٹی اے نے کہا کہ ’ملک بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی کی مجموعی صورتحال بظاہر معمول کے مطابق ہے اور میڈیا سے گزارش کی جا رہی ہے کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے کسی بھی غیر مصدقہ خبر کو پھیلانے سے گریز کریں۔‘

تاہم تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ ’فاشسٹ حکومت نے پی ٹی آئی کے تاریخی ورچوئل جلسے سے قبل انٹرنیٹ کی رفتار کم کی اور پاکستان بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بند کر دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ عمران خان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔‘