یہ لیول پلیئنگ فیلڈ ہے کیا ؟

ہمارے ملک میں ہر سال کوئی نیا بیانیہ، نئے مذاحیہ جملے یا مخصوص الفاظ کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ جو زیادہ تر انگریزی زبان میں ہوتے ہیں۔ مجھ ایسے کم علم بہت مشکل سے یہ بولنا یا لکھنا سیکھتے ہیں تو پھر کچھ نیا آ جاتا ہے۔‘

اب جس دن سے ہماری سیاست میں ’لیول پلیئنگ فیلڈ " کی کوک یا ہوک سنائی دینا شروع ہوئی ہے۔ اس خاکسار نے تب سے ان الفاظ کو درست بولنے اور لکھنے کی مشق شروع کر دی تھی اور اب جا کر کہیں لکھ پایا ہوں۔ مگر ابھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں کی پہلے دوسرے نمبر یا تھرڈ کلاس قیادت کی ہر گفتگو سے پہلا جملہ یہی نکلتا ہے کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دو۔ لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ان کا مخاطب کون ہے۔ یعنی کس کو کہہ رہے ہیں کہ ہمیں یہ دو؟

میں نے کئی پروفیسر صاحبان کی خدمات حاصل کرکے لیول کا مطلب پوچھا تو پتا چلا کہ یہ برابری کو کہتے ہیں۔ (چونکہ میں کرکٹ کے کھیل میں رہنے کی وجہ سے پلیئنگ فیلڈ کا مطلب سمجھتا تھا بس لیول کے معانی سے ناواقف تھا) لیکن مجھے اس کی بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ برابری کا مطالبہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ کیونکہ ہم تو پاکستان میں رہ رہے ہیں جو بنا ہی اس لیے تھا کہ یہاں کوئی برابر نہ ہو۔ کیا کبھی گنگو تیلی بھی کسی ٹوانہ صاحب یا رانا صاحب کے برابر ہو سکتا ہے؟ یا شیدا نائی کسی شیدا ٹلی کی برابری کر سکتا ہے؟

کیا یہ سیاستدان پاگل تو نہیں ہو گئے؟ یہ سب تو خود جاگیردار، سرمایہ دار، سردار، خان، سجادہ نشین اور مذہبی خانوادے ہیں۔ ان سے بہتر کون جانتا ہے کہ یہاں کسی کو اپنے برابر کیسے بٹھایا جا سکتا ہے؟ کسی جاگیردار کے سامنے اس کے مزارعے کی حثیت ایک کتے سے بھی کم ہوتی ہے۔ کسی مرید کی یہ اوقات کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ کسی پیر کے برابر بیٹھنے کی بھی جرات کر سکے چہ جائیکہ وہ برابر کی فیلڈ پر کھیلے؟ کسی مسجد میں نماز یا سپارہ پڑھانے والے مولوی کو کبھی کسی بڑے مولانا، مفتی، یا خطیب کے برابر میں بیٹھے دیکھا آپ نے؟ کیا کوئی فیکٹری ملازم کسی سیٹھ کے برابر بیٹھنے کی ہمت کر سکتا ہے؟ لیکن پھر بھی یہ سیاستدان صبح سے شام اور پھر پینے کے وقت یعنی رات ڈھلے تک یہ ورد کیوں کر رہے ہیں؟ اور یہ بھی نہیں بتا رہے کہ یہ کام کرنا کس نے ہے؟

کھیل میں تو ایمپائر ہوتے ہیں یا پھر فیصلہ تیسرے (تھرڈ کلاس) ایمپائر سے لیا جاتا ہے۔ ویسے ہماری سیاست کے میدان میں ایمپائر تو راولپنڈی میں ہوتے ہیں اور اگر فیصلہ ہر حال میں تھرڈ کلاس ایمپائر تک لے جانا پڑے تو پھر عدالت عالیہ یا عظمی کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ لیکن 2014 میں تو ایمپائر کی بات ہوتی تھی مگر اب تو کوئی ایمپائر کا بھی نام نہیں لے رہا۔ صرف فیلڈ مانگ رہے ہیں یا پھر شاید جن کو فیلڈ سیٹ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، وہ فیلڈر مانگ رہ ے ہوں گے۔ جبکہ سارے فیلڈرز کا منہ ایمپائروں کی طرف ہے جیسے کہ پوچھ رہے ہوں کہ اس بار ہم نے کس کے لیے فیلڈنگ کرنی ہے؟

کچھ ریلو کٹوں کا فیصلہ تو ہو بھی چکا ہے اور وہ اپنی نئی ڈیوٹیاں سنبھال کر اپنے پرانے کپتانوں کے خلاف زہر بھی اگل رہے ہیں۔ بہرحال جو بھی ہے ہمیں اس سے کیا لینا دینا ہے۔ کیونکہ ہماری جماعت تو ابھی اس لیول پر پہنچی ہی نہیں جہاں وہ ایمپائر کے اشاروں کو سمجھ سکے۔ لیکن ہم اپنے ملک کی سیاسی قیادت اور ان کے ایمپائروں سے صرف اتنی گزارش کرتے ہیں کہ برائے مہربانی ہمارے وقت کے ضیاع کو بچائیں اور جو بھی بات کرنی ہو وہ ہماری قومی زبان اردو میں کیجیے۔۔ تاکہ ہمیں سمجھنے میں آسانی ہو اور کئی پروفیسروں کی چوکھٹ پر حاضری سے بچا جا سکے۔ کیونکہ اب تو عام نجی تعلیمی ادارے کی فیس ادا کرنا مشکل ہو گیا ہے تو اب پروفیسر صاحبان کی فیس ہم کیسے ادا کریں؟