کون انتخابات میں تعطل چاہتا ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 19 / دسمبر / 2023
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل نے حلقہ بندیوں اور انتخابی طریقہ کار میں عدم توازن پر سوال اٹھاتے ہوئے موجودہ الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں شفاف انتخابات کے انعقاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ دونوں تنظیموں کی طرف سے علیحدہ علیحدہ بیانات میں ایک ہی مؤقف اختیار دہرایاہے۔ وکلا تنظیموں کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے سیاسی بنیاد پر اضافی حلقے بنائے ہیں اور حلقہ بندیوں میں سنگین بے قاعدگیاں موجود ہیں۔
واضح رہے گزشتہ روز ہی سپریم کورٹ نے گزشتہ روز دو حلقہ بندیوں کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد حلقہ بندیوں پر اعتراضات نہیں کیے جاسکتے۔ جسٹس طارق مسعود کی سربراہی میں سہ رکنی بنچ نے کہا تھا کہ 8 فروری کو بہر صورت انتخابات ہوں گے اور اس حوالے سے کوئی ہتھکنڈا قابل قبول نہیں ہوگا۔ بنچ میں جسٹس منصوررعلی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل ہیں۔ جسٹس مسعود نے عدالتی کارروائی کے دوران حیرت کا اظہار کیا کہ ’یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ہر کوئی کیوں انتخابات ملتوی کروانا چاہتا ہے‘۔ اس سے پہلے 13 دسمبر کو سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے انتخابات کی نگرانی کرنے والے ریٹرننگ افسروں کی تعیناتی کے معاملے پر حکم امتناع منسوخ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو فوری طور سے انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔ واضح رہے کہ 12 دسمبر کو بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبے کی دو حلقہ بندیوں پر حکم امتناع جاری کیا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اس مقدمہ کی سماعت کے دوران واضح کیا کہ کسی ایک فرد کی شکایت پر پورے انتخابی عمل کو روکا نہیں جاسکتا۔ ہم نے اس حوالے سے ایک لائن کھینچ دی ہے اور حد مقرر کردی گئی ہے۔
13 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی یہی واضح کیا تھا کہ انتخابات میں التوا کا کوئی طریقہ سپریم کورٹ کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔ اب ملک کی دو بڑی وکلا تنظیموں نے حلقہ بندیوں پر اعتراضات کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر پر براہ راست تنقید کی ہے اور انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ شیڈول کے مطابق انتخابات کے انعقاد سے 6 ہفتے قبل سنگین الزامات کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کی ساکھ پر حملے کا بظاہر ایک ہی مقصد ہوسکتا ہے کہ کسی بھی طرح انتخابات ملتوی ہوجائیں۔ ان حالات میں جسٹس طارق مسعود کا سوال بروقت اور اہم ہے کہ ’آخر انتخابات میں روڑے اٹکانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے‘۔
آج سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 26 ویں اجلاس کے دوران واضح کیا گیا کہ ’انتخابات کا بروقت انعقاد جمہوریت کی بنیاد ہے۔ تاہم شکایات دور کیے بغیر انتخابی ٹائم لائن پر عمل سے (ملک میں) استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انتخابی نظام میں کمزوریوں کو دور نہ کرکے پورے انتخابی عمل کو مشتبہ بنایا گیا ہے اور اس کے نتائج کے بارے میں سنگین سوالات سامنے آئے ہیں۔ اس لیے ان معاملات پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ قومی انتخابات اور وسائل کے تحفظ کے لیے ان معاملات کو مؤثر طریقے سے حل کیا جائے۔ انتخابات آزادانہ ماحول میں شفاف طریقے سے منعقد ہونے چاہئیں اور سب اسٹیک ہولڈرز کو انتخاب میں حصہ لینے کا مساوی موقع ملنا چاہئے۔ تاہم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا خیال ہے کہ موجودہ الیکشن کمشنر کی نگرانی میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے اس لئے انہیں گھر جانا چاہئے‘۔
مختلف حلقہ بندیوں پر اعتراض کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے چئیرمین حسن رضا پاشا اور وائس چئیرمین ہارون الرشید نے بھی ایک بیان میں اسی قسم کی تشویش کا اظہار کیاہے۔ اور واضح کیا ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں شفاف انتخابات نہیں ہوسکتے۔ موجودہ حالات میں بار کونسل آنکھیں بند نہیں کرسکتی۔ بار کونسل کا کہنا ہے کہ ’سپریم کورٹ کو ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت کے طور پر ان بے قاعدگیوں کا نوٹس لینا چاہئے‘۔ بار کونسل نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر موجودہ حالات میں مناسب اقدام کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس دوران الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں وکلا تنظیموں کی طرف سے حلقہ بندیوں کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل ملک کے و کلا کی کی معتبر اور نمائیندہ تنظیمیں ہیں۔ ملکی وکیلوں نے انتخابی عمل اور انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے طویل جد و جہد بھی کی ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ ملک کے متعدد ممتاز وکیل پارٹی سیاست میں ملوث ہوتے ہیں اور ان کے خیالات خالص قانونی یا متوازن نہیں ہوتے۔ بعض اوقات وکلا تنظیموں میں سیاسی اثر و نفوذ کی بنیاد پر بھی ایک خاص سیاسی نقطہ نظر کو سامنے لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انتخابات منعقد ہونے سے چند ہفتے پہلے دو اہم وکلا تنظیموں کی طرف سے جو مطالبات سامنے آئے ہیں، ان کی روشنی میں صورت حال کا جائزہ لیا جائے اور قیاس کیاجائے کہ یہ مطالبات پورے ہونے چاہئیں تو یہ امر یقینی ہوگا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عام انتخابات 8 فروری کو منعقد نہیں ہوسکتے۔ کیا ملک کی نمائیندہ وکلا تنظیمیں واقعی یہ افسوسناک مقصد حاصل کرنا چاہتی ہیں ؟ یا انہیں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور حلقہ بندیوں میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے اوقات کار کی اہمیت اور ان کے متوقع اثرات کا اندازہ نہیں ہے؟
یوں بھی وکلا تنظیمیں انسانی حقوق، آزادی رائے، سیاسی سرگرمیوں کی آزادی اور جمہوریت کے لیے تو آواز بلند کرتی رہی ہیں اور ایسا کرنے سے ملکی جمہوریت کو فائدہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن وکلا تنظیمیں بہر حال کوئی سیاسی جماعت نہیں ہیں۔ اس لیے پاکستان بار کونسل کی طرف چیف الیکشن کمشنر پر ذاتی حملے کرتے ہوئے حلقہ بندیوں پر اعتراضات کا کوئی جواز قابل فہم نہیں ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کا یہ مؤقف بھی اصولی نہیں ہے کہ شفاف انتخابات کے لیے چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوجائیں کیوں کہ ان کی نگرانی میں منصفانہ انتخابات منعقد نہیں ہوسکتے۔ ایک فرد کے خلاف الزام تراشی ، کسی سیاسی پارٹی کا وتیرہ تو ہوسکتا ہے لیکن وکلا تنظیموں کو ایسے طریقے اختیار کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہئے تاکہ ان کی غیر جانبداری پر سوال نہ اٹھائے جاسکیں۔
ان دونوں وکلا تنظیموں کے اعتراضات سپریم کورٹ کی رائے اور حکم سے براہ راست متصادم ہیں۔ اگر ان تنظیموں کے دباؤ میں چیف الیکشن کمشنر استعفی دے دیتے ہیں تو الیکشن کمیشن کیسے کام کرے گا اور نیا چیف الیکشن کمشنر کون اور کیسے مقرر کرے گا؟ کیا انتخابات سے چند ہفتے پہلے ایسا انتہاپسندانہ مطالبہ کسی خاص سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے سامنے لایا گیا ہے؟ یہ دونوں تنظیمیں الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے ہونے والے سیاسی مباحث کا مشاہدہ کرتی رہی ہیں لیکن اس سے پہلے ان کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد اب ایسے اعتراضات انتخابات کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے مقاصد اور نیک نیتی کے بارے میں بھی سوالات اٹھائیں گے۔ موجودہ الیکشن کمیشن پر بہت سے اعتراضات کیے جاسکتے ہیں لیکن سب اس بات سے متفق ہیں کہ موجودہ مشکل سے نکلنے کے لیے انتخابات کا انعقاد سب سے اہم ہے۔ اس لیے سب اداروں اور تنظیموں کو اس میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے سہولت کاری کرنی چاہئے۔
پاکستان میں ہر انتخاب پر اعتراض ہؤا ہے۔ قیاس غالب ہے کہ فروری 2024 میں ہونے والے انتخابات بھی اس سے مستثنی نہیں ہوں گے۔ متعدد سیاسی پارٹیاں ابھی سے دھاندلی کا شور مچانے کی تیاری کررہی ہیں۔ لیکن خاص طور سے تحریک انصاف کی طرف سے انتخابات کے التوا کی کوششوں کا حصہ بننا ناقابل فہم ہے۔ اور اب ملکی وکلا تنظیمیں بھی تحریک انصاف کی اس نئی حکمت عملی کی حمایت پر کمربستہ دکھائی دیتی ہیں۔ کیا یہ قیاس کرلیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر سپریم کورٹ کو دباؤ میں لاکر انتخابات ملتوی کروالیے جائیں گے؟ پاکستان بار کونسل نے اپنا مطالبہ منوانے کے لئے طریقہ کار کے بارے میں مشاورت کا اعلان بھی کیا ہے۔ یعنی یہ دونوں وکلا تنظیمیں سپریم کورٹ سے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے اور حلقہ بندیوں کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کریں گی۔ سپریم کورٹ اگر ایسا کوئی اقدام کرتی ہے تو انتخابات غیر معینہ مدت تک بے یقینی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس صورت حال میں ملکی جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
امید کی جانی چاہئے کہ ملک کی اہم وکلا تنظیمیں کسی صورت انتخابات کے لیے خطرہ بننے کے کسی سیاسی منصوبے کا حصہ نہیں بنیں گی۔ انہیں انتخابات کی شفافیت کے لئے ضرور واچ ڈاگ کا کردار ادا کرنا چاہئے لیکن کسی صورت انتخابات کے التوا کا سبب نہیں بننا چاہئے۔ تاہم دونوں تنظیموں کے مطالبات کی روشنی میں اس کے سوا کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ یا تو انتخابات ملتوی کرکے ان کے مطالبات مانے جائیں یا انتخابات کو دھاندلی زدہ اور ناقابل قبول قرار دیا جائے گا۔ انتخابات کے انعقاد سے پہلے ہی ایسے دباؤ کا ماحول ملک میں جمہوی نظام کے تسلسل کے لیے خوش آئیند نہیں ہوسکتا۔
یہ جان لینا چاہئے کہ پاکستان میں مکمل جمہوریت لانے کے لیے تسلسل سے انتخابات کروانا ضروری ہے۔ انتخابات میں غیر ضروری رکاوٹ ملک میں جمہوری استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ملک میں یہ طریقہ موجود رہا ہے کہ انتخابات میں ایک گروہ جیت جاتا ہے اور ہارنے والی پارٹیاں دھاندلی کا نعرہ لگاتے ہوئے احتجاج اور بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کی سیاسی تاریخ شاہد ہے کہ اس حکمت عملی سے اہم قومی مفادات ہی داؤ پر لگائے گئے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ کسی سیاسی وابستگی یا رائے سے بالا ہوکر انتخابات کی حمایت کی جائے۔ انتخابی عمل کی کمزوری کو مل جل کر دور کیا جائے۔ اور محض کسی گروہ کی شکست کی وجہ سے پورے جمہوری عمل کو جعل سازی نہ کہا جائے۔