اسرائیل فوج کی طرف سے فلسطینیوں کو خان یونس چھوڑنے کا حکم

  • جمعرات 21 / دسمبر / 2023

اسرائیل نے جنوبی غزہ کے اہم شہر خان یونس کے مکینوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے جس کے بعد حماس اور اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بدھ کو خان یونس کے ایک بڑے علاقے کو خالی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جہاں ایک لاکھ 40 ہزار متاثرین مختلف پناہ گاہوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ حماس کے زیرِ کنٹرول غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فورسز نے خان یونس کے مشرقی علاقے میں بدھ کو دو گھروں پر فضائی حملے کیے جن میں کم از کم 30 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔

اسرائیلی فورسز نے ایسے وقت میں فلسطینیوں کو خان یونس کا علاقہ چھوڑنے اور وہاں اپنی کارروائیاں تیز کی ہے جب جنگ بندی کے لیے عالمی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ مذاکرات کے لیے مصر کے شہر قاہرہ میں موجود ہیں۔

اسماعیل ہنیہ نے مصر کے انٹیلی جینس چیف عباس کامل کے سمیت ایران کے وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ تاہم ان ملاقاتوں کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ حماس کے حکام نے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ کسی بھی قسم کے سنجیدہ مذاکرات مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی فورسز کی غزہ کی پٹی سے واپسی سے مشروط ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس کے خاتمے سے پہلے جنگ بندی نہیں ہو سکتی۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا جنگ بندی معاہدے سے متعلق کہنا ہے کہ اس وقت کسی بھی قسم کی توقع نہیں کی جا سکتی لیکن ہم اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنی نے رواں ہفتے ہی امریکی سی آئی اے کے سربراہ بل برنز اور قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی سے ملاقات کی تھی۔

دوسری طرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ کے لیے اشد ضروری امداد اور جنگ کو روکنے سے متعلق ایک نئی قرارداد پر ووٹنگ کو ایک بار پھر مؤخر کر دیا ہے اور اب ووٹنگ جمعرات کو متوقع ہے۔ اسرائیل نے قرارداد میں لفظ 'جنگ بندی' کو مسترد کر دیا ہے جب کہ بائیڈن انتظامیہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں کلیدی الفاظ کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔