لیول پلینگ فیلڈ کا شور کیوں؟

ان دنوں ہمارا قومی میڈیا لیول پلینگ فیلڈ کے حوالے سے سخت اضطراب میں ہلکان و پریشان ہے۔ ” لیول پلینگ فیلڈ“ کی تشریحات تو بہت ہوچکی ہیں سادہ الفاظ میں اس کا مطلب واضح ہے یہ کہ ”تمام کھلاڑیوں کو کھیل کے لیے ایک جیسا میدان ملنا چاہیے “۔

اب اصولی طور پر دیکھا جائے تو اس سلسلے میں کسی نوع کے اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہیں بات محض کھیل کے میدان کی نہیں، مسابقت کا کوئی بھی میدان ہو بالخصوص سیاست یا اس میں پیش آنے والا انتخابی معرکہ، کون کافر یہ کہے گا کہ اس میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جائے۔ امتیازی سلوک چاہے مثبت ہو یا منفی، دونوں ہی میرٹ پر استوار منصفانہ فطری اصولوں کے خلاف قرار پائیں گے۔
‎2024یوں لگ رہا ہے جاپان، بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت سے لے کر یورپی یونین اور امریکا تک انتخابی معرکوں کا سال ہے لیکن لیول پلینگ فیلڈ کے جو خدشات پاکستان میں پائے جارہے ہیں وہ شاید دنیا میں اور کہیں نہیں۔ اپنے 8 فروری 2024 کے معرکے پر آنے سے قبل ہم جائزہ لیتے ہیں کہ یہاں مطلوبہ یا آئیڈیل لیول پلینگ فیلڈ کب رہی ہے؟ اور اب اس کا شور کیوں اٹھا ہے ؟

‎70کے انتخابی معرکے کو نظرانداز کیے دیتے ہیں کہ وہ جتنے بھی شفاف تھے، جب ان کے نتائج ہی نہیں مانے گئے اور پھر ملک تڑوا لیا تو ان پر بحث بھی لاحاصل رہے گی۔ 77 کے انتخابات پر بھی کیا بات کی جائے جنہیں کسی نے بھی درست تسلیم نہیں کیا۔ وہاں کہاں لیول پلینگ فیلڈ تھی؟ جہاں وزیراعظم کے بالمقابل کاغذات نامزدگی داخل کروانے کیلیےجانے والے کو اغوا کرلیا گیا؟ 85 کے غیر جماعتی انتخابات کی کہانی بھی کچھ ایسی ہے کہ اپوزیشن نے ان کا بائیکاٹ کردیا لہٰذا وہ ریفرنڈم جیسے ہی قرار پائے۔

اس کے بعد 88، 90، 93، 97، 2002، 2008، 2013 اور 2018 کے تمام انتخابات کا اسی طرح جائزہ لیاجاسکتا ہے جن کا لب لباب یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ صدر یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ ہم نے مردہ نہلا دھلا کر کفن پہنا دیا ہے۔ اب آپ لوگ آجائیں اس تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے۔ ہماری اصلیت تو یہی رہی ہے۔ تھوڑا سا سیاسی فہم و شعور رکھنے والا بھی انتخابی معرکے سے قبل ہی یہ جان لیتا تھا اور جان لیتا ہے کہ کون آرہا ہے؟ یا کسے لایا جارہا ہے؟ اور ہمارے مسائل میں گھرےعوام بھی چڑھتے سورج کو دیکھ کر بالعموم ادھر ہی کو پلٹا کھا جاتے ہیں۔ صرف 88 کے متعلق یہ کہاجاسکتا ہے کہ آئی جے آئی بنانے یا ہلکا پھلکا روکنے کے باوجود بی بی آگئی مگر وہ بھی کیا آئی جیسے آئی، جن شرائط سے آئی اور پھر جس شتابی سے واپس بھیج دی گئی تو اس کو آنا نہیں نہ آنا ہی کہیے۔

ہماری یہ پوری سیاسی و انتخابی تاریخ ہے۔ دلہن وہی کہلائی جو پیا من بھائی، جنہوں نے چوں چرا کی پھر اپنا حشر نشر بھی دیکھ لیا۔ خود نہیں دیکھا تو دیکھنے والوں نے دیکھ لیا۔ مشرف کھلے بندوں کہتا تھا کہ بی بی میری مرضی کے خلاف آدھمکی ہے، اب میں اس کی سیکیورٹی کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ پھر اس کمزور سیکیورٹی یا سیکیورٹی لیپس نے اسے کہاں پہنچا دیا؟ اسی بی بی کے باپ کو بڑا گھمنڈ تھا کہ ڈگڈگی بجانے میں اور عوام کو پیچھے لگانے میں میرا کوئی ثانی نہں کیونکہ میں جناح ثانی ہوں میری کرسی بڑی مضبوط ہے مجھے کچھ ہوا تو دریا سرخ ہوجائیں گے مگر جب طاقت کا ڈنڈا اُٹھا تو کیا ہوا؟

ہمارے ایک معروف صحافی جو انتخابی معرکوں پر گہری نگاہ رکھتے ہیں ایک مرتبہ درویش سے ہمکلام ہوتے ہوئے فرمارہے تھے کہ عوامی ہیرو یا قائدِ عوام بننا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ دلوں پر وہی راج کرتے ہیں جو پھندے پر جھول جاتے ہیں۔ اس کے بالمقابل جو تن آسان اور مصلحت اندیش مشکل پڑنے پر ہمت دکھانے کی بجائے محفوظ پناہ گاہ کی طرف بھاگ جاتے ہیں، وہ عوامی لیڈر تو نہیں ہوسکتے۔ عرض کی جانے دیں سرکار، کیا لیڈری اور کون سے عوام یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ جمہوری وابستگی کے حوالے سے ہمارے عوام یورپ امریکا یا مستحکم جمہوریتوں جیسے کہاں ہیں؟ یہاں تو محض نعرے بازی چلتی ہے۔ قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ جو سمجھدار منہ طرف کعبے شریف کرتے ہوئے جدہ شریف پہنچ جاتا ہے اور آندھی تھمنے پر لوٹ آتا ہے۔ سمجھدار یا اصل لیڈر وہی ہوتا ہے۔ جبکہ وقت کے تیور نہ پہچاننے والا وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں قذافی اور صدام جیسے نام نہاد سورما پہنچتے ہیں۔

بہرحال ”لیول پلینگ فیلڈ“ کا شور مچانے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے سب کے سب اپنا اپنا ایجنڈا اٹھائے سیاسی فضاؤں میں غوطہ زن ہیں۔ پتہ سب کو ہے کہ ہونا وہی ہے جو وڈی سرکار نے کرنا ہے۔ ہمارے 47 کے روز ازل سے اس ملک بدنصیب کی تقدیر میں یہی فیصلہ لکھا جاچکا ہے۔ ہمارا بابا جتنا جمہوری تھا ہم اس سے آگے تو نہیں جاسکتے ہیں نا۔ جی، اب کانپیں ٹانگنے والے ایک نوجوان کے پیٹ میں بے وجہ مروڑ کیوں اُٹھ رہے ہیں؟ یہی نیا نویلا نا تجربہ کار یا نیا اناڑی اپنے یا اپنے ابا کے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہے کہ اگر یہ خود گیارھویں والے پیر یا حافظ صاحب کا لاڈلا ٹھہرتا تو کیا پھر بھی اس کو سیاست کا یہ میدان یوں ناہموار دکھتا؟

پھر بھی یہ ہاکی کا میدان ہموار یا برابر کرنے کے مطالبات کرتا یا کرکٹ کی پچ، یوں دھوم دھڑکے سے متوازن بنواتا دکھتا؟ رہ گیا جناح تھرڈ ہمارا پیارا کھلاڑی یا اس کا فینز کلب، یہ تو جمع خاطر رکھیں 2018 میں ان کی پسندیدہ جو ”لیول پلینگ فیلڈ“ استوار ہوئی تھی جس کی شانِ نزول میں نعتیں پڑھتے ان لوگوں کے گلے خشک نہیں ہوتے، وہ 2024 میں بھی جوں کی توں بلکہ اس سے کہیں متوازن قائم و دائم رہے گی۔ تب شام کے وقت سسٹم کا جوبھٹہ بیٹھ گیا تھا اب کے اس کی نوبت یقیناً نہیں آئے گی۔ اس لیے کہ تب ایک کمزور، ڈمی، کٹھ پتلی یا اناڑی کو جتوانے کی مجبوری تھی، اس لیے بہت زیادہ غیر مرئی ہاتھ چلانے پڑے۔ مگر اب کے میدانِ سیاست کا آزمودہ وہ شہسوار موجود ہے جس کے خوف سے طاقتوروں کو ایک سو ایک پاپڑ بیلنے پڑتے رہے ہیں۔ البتہ اس سب کے باوجود انتخابی ضابطہ سب پر لاگو ہونا چاہیے۔ یہ کہ آپ لوگ ریڈ لائن کو جتنا مرضی ٹچ کریں، اس میں تھوڑا بہت اسلامی ٹچ بھی ڈال لیں۔ لیکن اگر کسی نے ریڈ لائن کو کراس یا عبور کی ہے تو پھر وہ اس انتخابی ٹورنامنٹ میں شمولیت کا اہل نہیں گردانا جائے گا۔
دنیا کی ہر جمہوریت میں ایک آخری نوعیت کا انتخابی اخلاقی ضابطہ ہوتا ہے جس کے مطابق کوئی ٹھگ، کوئی ڈکیت کوئی ٹیررسٹ انسانی حقوق اور جمہوریت کا کوئی دشمن انتخابات لڑنے سے نااہل ہوتا ہے۔ کیا امریکی جمہوری سسٹم اپنے کسی شہری کو جوٹیررسٹ ہو یہ سہولت دیتاہے کہ وہ انتخابی دنگل میں گھس کر گند ڈالے یا دھینگا مستی کرے؟ آج اگر بے گناہ فلسطینی عوام بے چارے مررہے ہیں تو بھلا کیوں؟ پی ایل او کی انتخابی حماقت سے! کیا انہیں عقل نہیں تھی کہ کوئی بھی ٹیررسٹ تنظیم جو جمہوریت یا جمہوری اقدار پر ایمان ہی نہیں رکھتی تو اس کی انتخابات میں شرکت چہ معنی دارد؟

ہماری پی ٹی آئی نے بحیثیت پارٹی کوئی ایسا گھناؤنا فعل نہیں کیا جس کی پاداش میں اسے کالعدم کیا جائے یا انتخابی عمل سے نااہل قرار دے دیا جائے۔ لیکن سانحۂ 9 مئی جیسی دہشت گردی یا تباہ کاری کا ماسٹر مائنڈ اس کا چیئرمین تھا یا اس کے کچھ قریبی ساتھی، یہ لوگ اپنے کیے کا پھل ضرور چھکیں۔ انہیں ہرگز انتخابی دھینگا مستی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان چند کو چھوڑ کر پی ٹی آئی کے لیے لیول پلینگ فیلڈ پوری طرح دستیاب ہے اور ہونی چاہیے۔ وہ وزارتِ خارجہ کی نوجوانی کے ساتھ الائنس بنانا چاہیں تو ضرور بنالیں اور بے شک اس میں گیٹ نمبر 4والے کو بھی بمع لال حویلی شامل کرلیں۔
رہ گیا یہ ایشو یا خوف کہ اگر آئیڈیل لیول پلینگ فیلڈ نہ ملی تو انتخابی معرکے کے بعد ایک نئی دھینگا مشتی یا ایجی ٹیشن شروع ہوجائے گی، یہ درویش صاف عرض کیے دیتا ہے کہ اگر بڑی سرکار کو مطلوب و منظور نہ ہو تو کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ وہ سسٹم کو مفلوج کرسکے۔ اگر وہ استحکام چاہتے ہیں تو بیٹھنے والوں کی دو تہائی اکثریت پر بھی کٹ نہیں لگنے دیں گے اور نہ ہی بعدازاں کس کی مجال ہوگی کہ وہ کوئی ایسا ویسا کھلواڑ کرے۔ ایشو یہ ہے کہ کیا ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب مستحکم جمہوریت کو چلنے دینا ہے؟

رہ گیا یہ معافیوں تلافیوں کا شور یا مطالبہ، یہ بظاہر تو بہت نرم و ملائم ہے لیکن حقیقت میں کتنا خطرناک ہے اس کا ادراک شاید مطالبہ اٹھانے والوں کو بھی پوری طرح نہیں ہے۔ ورنہ وہ اس نوع کی کھچڑی کیلیے پریشان نہ ہوتے۔ ہمارے یہاں جس نوع کی سیاسی چالیں یا گیمیں چلتی ہیں، معافی ناموں یا لیول پلینگ فیلڈ جیسے رولے بھی ویسی ہی گیم ہے۔ گواس امر میں کوئی اشتباہ نہیں کہ 8 فروری کے معرکے کو منصفانہ ہونا ہی نہیں چاہیے، نظر بھی آنا چاہیے لیکن یہاں مسئلہ نظر کی مخصوص عینکوں کا ہے جن کے نمبر بدلتے رہتے ہیں۔