سرفراز بگتی کا ’سب پہ بھاری‘ سے مک مکا

گزشتہ جمعہ کی سہ پہر اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں فارمیسی کی دکان سے آنکھوں میں ڈالنے والے قطرے خریدکر باہر نکلا تو بہت عرصے بعد ایک شفیق بزرگ سے ملاقات ہو گئی۔ جنرل مشرف کا اقتدار ختم ہونے تک وہ اہم ترین سرکاری عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

 1990 کی دہائی میں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی دونوں حکومت کا باریاں لینا انہوں نے متحرک سرکاری افسر کے طور پر بھگتا ہے۔ اصل خبر رکھنے والوں سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ ریٹائر ہونے کے بعد اگرچہ اب خود کو  لاعلم  بیان کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان سے ملاقات ہو جائے تو میں مصررہتا ہوں کہ ”چھٹتی نہیں ہے منہ سے۔“ اور بضد ہوجاتا ہوں کہ وہ مجھے مل ہی گئے ہیں تو کوئی ”خبر“ بھی دیں۔ جمعہ کے دن بھی ایسے ہی ہوا۔ اپنی لاعلمی یاددلانا ان کے کام نہ آیا تو بالآخر یہ کہتے ہوئے رخصت چاہی کہ حال ہی میں استعفیٰ دینے والے وزیر داخلہ سرفراز بگتی پر نگاہ رکھوں۔ میرے شفیق بزرگ کو  شبہ تھا کہ وہ پیپلز پا رٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

ان سے ملاقات کے بعد گھر لوٹا تو ان کے بتائے خدشے پر غور کیا۔ سچی بات یہ بھی ہے کہ کافی سوچ بچار کے بعد یہ طے کرنے کو مجبور ہوا کہ میرے دوست واقعتاً ریٹائر ہوچکے ہیں۔ اصل خبر  والوں سے ان کا رابطہ قائم نہیں رہا۔ اپنے ذہن میں آئی بات اور موصوف کی دی خبر کی وقعت جاننے کے لئے بالآخر میں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جواب ایکس کہلاتا ہے ایک سوال پوسٹ کر دیا۔ اس کے ذریعے لوگوں سے یہ جاننا چاہا کہ ان کی دانست میں نگران کابینہ سے مستعفی ہونے کے بعد سرفرازبگٹی کون سی سیاست جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

میرے سوال کو پیر کی سہر پہر تک 62 ہزار لوگوں نے دیکھ رکھا تھا۔ ان میں سے تقریباً 5 فی صد نے جواب دینے کی زحمت بھی اٹھائی۔ 40 فیصد سے زائد افراد کا خیال تھا کہ بگتی مسلم لیگ (نون) میں شامل ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں تقریباً 45 فی صد نے اس شبے کا اظہار کیا کہ بگتی صاحب نگران حکومت سے مستعفی ہو کر نگہبانوں کی تشکیل کردہ جماعت۔ باپ۔ یعنی بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہو کر اسے نئی توانائی فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک فی صد سے کم لوگوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ بگتی صاحب پیپلز پارٹی میں بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

میری جانب سے سوشل میڈیا پر بگٹی صاحب کے مستقبل کے حوالے سے اٹھائے سوال کے جوبرجستہ جوابات ملے انہوں نے سیاست کے دیرینہ طالب علم کے لئے دونکات اجاگر کیے ۔ پہلا یہ کہ ہمارے عوام کی اکثریت اب بھی یہ تصور کیے بیٹھی ہے کہ وطن عزیز کا سیاسی منظر نامہ مقتدرکہلاتی قوتیں ہی طے کرتی ہیں۔ ”باپ“ جیسی جماعتیں ان کی پسندیدہ ہیں۔ وہ اگر کام نہ آئیں تو مسلم لیگ (نون) کو ایک بار پھر لاڈلہ بنایا جاسکتا ہے۔

جو نکات میں نے اخذ کیے ہیں ان کا ٹھوس حقائق کی بنیاد پر درست ہونا قطعاً ضروری نہیں۔ میں حقائق کے بجائے عوام کے وسیع تر حلقوں میں پھیلے ”تاثر“ کا ذکر کر رہا ہوں۔ سرفراز بگتی نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بلکہ ایک بار پھر میرے اس دعویٰ کو اثبات فراہم کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے تشکیل دی دنیا  جسے متبادل یا خیالی دنیا بھی کہا جاسکتا ہے۔ برسرزمین موجود حقائق کی ٹھوس انداز میں ترجمانی نہیں کرتی۔ ہمیں بلکہ واہموں اور ہیولوں میں الجھاسکتی ہے۔

محاورے والی دیگ  کا جو  دانہ  میں نے 15 دسمبر کی رات سرفراز بگٹی کی سیاسی ترجیح کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے چکھا اس کے حوالے سے وصول ہوئے جوابات کا جائزہ لیتے ہوئے تحریک انصاف کے جذباتی حامیوں کو بھی ورچوئل  کی  اوقات  کا اندازہ ہونا چاہیے۔ یہ کالم اگرچہ میں حقیقت اور تاثرکے مابین فرق بیان کرنے کی نذر کرنا نہیں چاہتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد میں نے بے تحاشا کالموں میں مابعداز حقائق دنیا بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ مختلف ممالک میں چلی چند تحاریک کا ذکر کرتے ہوئے سوشل میڈیا کی محدودات  بھی زیر بحث لاتا رہا ہوں۔

فی الحال توجہ اس حقیقت پر مرکوز رکھنا ہوگی کہ سرفراز بگٹی پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔ مذکورہ جماعت میں ان کی شمولیت سیاست پر نگاہ رکھنے والوں کے لئے حیران کن نہیں ہونا چاہیے تھی۔ سرفراز بگٹی کا تعلق بگتی قبیلے کی ایک ایسی شاخ سے ہے جو 1990 کی دہائی کے آغاز میں نواب اکبر بگٹی کے اجارہ کو چیلنج کرنا شروع ہو گیا تھا۔ ”سردار“ کو للکارنے کی وجہ سے سرفراز بگٹی کے بزرگوں کو ڈیرہ بگٹی چھوڑنا پڑا۔ وہ پنجاب اور اسلام آباد میں پناہ لینے کو مجبور ہوئے۔ جب وہ جلاوطن ہوئے تو وفاق میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت تھی۔ نصیر اللہ بابر ان کے طاقت ور وزیر داخلہ تھے اور وہ سرفراز بگٹی کے بزرگوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ غالباً ان ہی دنوں میں قائم ہوئے تعلق کی بنا پر سرفراز بگٹی نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو ترجیح دی ہے۔

معاملہ اگرچہ اتنا سادہ بھی نہیں۔ بگتی قبیلے سے شاہ زین بگتی بھی ہیں۔ وہ 2018 میں منتخب ہوئی قومی اسمبلی کے رکن تھے۔ عمران حکومت کے ا تحادی رہے۔ اپریل 2022 میں تاہم ان کی مخالف جماعتوں کے ساتھ مل کر وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کی گیم میں حصہ لیا۔ عمران حکومت کی رخصت کے بعد شہباز حکومت قائم ہوئی تو اس میں وزارت کے عہدے پر فائز بھی رہے۔ شہباز حکومت کے قیام کے چند ہی دن بعد سعودی عرب میں ہمارے مقدس ترین مقامات پر تحریک انصاف کے چند حامیوں نے ان دنوں کی وزیر اطلاعات محترمہ مریم اورنگزیب صاحبہ پر آوازیں کسیں تو شاہ زین بگٹی ان کے دفاع کے لئے آگے بڑھے۔ مسلم لیگ (نواز) ان کی جی داری کو فراموش نہیں کر سکتی اور سرفراز بگٹی، شاہ زین کے دیرینہ ”شریک“ ہیں۔ ان کی مسلم لیگ (نون) میں شمولیت شاہ زین کی دل شکنی کا سبب ہو سکتی تھی۔

قارئین کی اکثریت مگر میری بیان کردہ توجیہہ کو بچگانہ حد تک سادہ شمار کرے گی۔ قارئین سے کیا گلہ کرنا۔ سہ پہر سے اسلام آباد کے کئی باخبر حلقے بھی مجھ سے ٹیلی فون کے ذریعے رابطے کے بعد اطلاع  دے رہے ہیں کہ سرفراز بگتی کی پیپلز پارٹی میں شمولیت عندیہ دے رہی ہے کہ ۔ ’سب پہ بھاری ‘ کا ان  سے بالآخر  مک مکا  ہو گیا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ چسکے سے قطعاً محروم حقائق کے بجائے چوندی چوندی سازشی کہانیوں سے لطف اندوز ہوا جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ  نوائے وقت)