بلوچ مظاہرین کے خلاف قابل مذمت ریاستی جبر

احتجاج  اور اپنے مطالبات  کے لیے دھرنا دینے  اسلام آباد آنے والے بلوچ   مرد و خواتین کے خلاف اسلام آباد پولیس کا تشدد ایک شرمناک اور ناقابل معافی جرم ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب  ملک میں انتخابات کی تیاری ہے اور عوام کو جمہوری رائے کے احترام کی امید دلائی جارہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ  افسوسناک  امر یہ  ہے کہ  تحریک انصاف کے علاوہ ملک کی کسی بڑی پارٹی کو خواتین کی سرکردگی میں احتجاج کے لیے آنے والے لوگوں   کے خلاف پولیس تشدد  کی مذمت کرنے کی توفیق  نہیں ہوئی۔

پاکستان 4 صوبوں پر مشتمل ایک وفاق ہے۔ ہر صوبے کے عوام کو مساوی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔  مختلف صوبوں میں امتیازی سلوک کے بارے میں اٹھنے والی آوازوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینے اور ان شکایات کو دور کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے چھوٹے صوبوں میں شدید احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ ملک  میں  نگران ہی سہی لیکن ایک بلوچ  وزیر اعظم کی  سربراہی میں  حکومت کام کررہی ہے۔  وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ   موجودہ عہدے پر فائز ہونے سے پہلے سکیورٹی  امور میں ماہر کے طور پر جانے جاتے تھے۔  حیرت ہے کہ ان کے صوبے سے ایک جائز  مقصد  اور دیرینہ مطالبہ کی تکمیل کے لیے چند سو افراد اسلام  آباد پہنچے لیکن انہیں مناسب سہولت دینے اور احترام سے ان کی بات سننے کی بجائے، ریاستی ہتھکنڈوں سے انہیں ہراساں کرنے اور جیلوں میں بند کرکے احتجاج دبانے کی  قابل مذمت حرکت کی گئی۔

اس احتجاج اور لانگ مارچ کا آغاز تربت سے 6 دسمبر  کو ہؤا تھا۔   لانگ مارچ میں شامل لوگ  انسداد دہشت گردی پولیس کے ہاتھوں ایک نوجون کی ہلاکت   کے خلاف کارروائی چاہتے تھے اور انصاف کا تقاضہ کررہے ہیں۔ وہ لاپتہ افراد کو  سامنے لانے اور ان کے بارے میں حقیقی صورت حال بتانے کا  مطالبہ بھی کررہے ہیں۔ ان  لوگوں کی قیادت بلوچ یک جہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ کررہی تھیں۔ اسلام آباد  میں  پولیس کے ناروا سلوک پر ان کا کہنا تھا کہ ’تربت سے اسلام آباد تک کا سفر ہم نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ ہم پر تشدد ہو۔ ہم اس بات کا انتظار کرتے رہے کہ آپ راستے کھولیں گے لیکن آپ نے  ہمیں راستہ نے دے کر ثابت کیا کہ آپ فاشسٹ ہیں‘۔ اس کے بعد انہیں بھی درجنوں دوسرے افراد کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا۔

نگران حکومت نے بلوچ مظاہرین کے خلاف پولیس تشدد استعمال کرنے کے خلاف انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کی طرف سے شدید احتجاج کے بعد خواتین اور بچوں کو فوری طور سے رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر نجکاری  فواد حسن فواد اور وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے  اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران  میں کہا کہ ’وزیر اعظم کی ہدایت پر تمام بچوں اور خواتین کو رہا کردیا گیا ہے‘۔  حکومت کا یہ اعلان انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے پولیس کارروائی اور حکومتی طرز عمل  کی شدید مذمت کے بعد سامنے آیا  ۔ سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ اس سانحہ میں بچوں اور بوڑھے لوگوں  کو بھی غیر معمولی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔  یہ رویہ ان بلوچ شہریوں کے ساتھ روا رکھا گیا جو احتجاج  کا آئینی حق استعمال کررہے تھے۔  اس طرز عممل سے واضح ہوتا ہے کہ ریاست مسائل کو سمجھنے،  انسانی زندگی کی حفاظت اور آزادی رائے کا احترام کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے‘۔ کمیشن نے تمام گرفتار ہونے والے لوگوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے  کہا کہ حکومت کا ایک وفد فوری طور سے مظاہرین کے ساتھ بات چیت کرے اور ان کے جائز مطالبے ماننے کے لیے اقدام کیا جائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے بھی مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس تشدد کی مذمت کی گئی۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار  لوگوں کے خلاف ہر قسم کے الزامات واپس لیے جائیں۔ حکومت ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ افراد کے معاملات  پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے  اور متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے۔    بی این پی ایم کے سربراہ سردار اختر مینگل نے  گزشتہ رات ہونے والے واقعات پر غور کے لئے ایمرجنسی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ ایکس پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ’ اسلام آباد میں بلوچ مظاہرین کے خلاف تشدد اور بہیمانہ سلوک سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حکام بلوچستان کا حساس مسئلہ کیسے حل کرنا چاہتے ہیں‘۔  پاکستان تحریک انصاف نے بھی پولیس تشدد اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ بلوچ شہریوں کے مسائل خوش اسلوبی سے حل کرنے کا راستہ اختیار کیا جائے۔

گزشتہ رات  تربت سے اسلام آباد میں احتجاج کرنے اور دھرنا دینے کے لیے آنے والے بلوچ لوگوں کے خلاف پولیس نے لاٹھی  چارج کے علاوہ آنسو  گیس  کا بے دریغ استعمال کیا۔ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی بوچھاڑ پھینکی گئی اور پولیس اہلکار خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت مظاہرین کو ڈنڈے مارتے  ہوئے گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں لے گئے۔  پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین   مقررہ جگہ پر  احتجاج کرنے پر راضی نہیں تھے بلکہ نیشنل پریس کلب کے باہر   احتجاجی کیمپ لگانا چاہتے تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین  نے  پہلے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا جبکہ ایک دوسرے بیان میں  کہا گیا ہے کہ بعض مظاہرین نے ماسک پہنے ہوئے تھے اور وہ تشدد میں مصروف تھے۔ جبکہ اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل نے  یہ ‘معصومانہ‘ وضاحت کی ہے کہ ’پولیس نے  پانی ہی  تو پھینکا تھا۔ پانی پھینکنے  کوئی مر تھوڑی ہی جاتا ہے‘۔

جمعرات کی شام اسلام آباد میں  وزیر اطلاعات کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر برائے نجکاری  فواد حسن فواد نے  بتایا  کہ حکومت کے پاس معتبر ثبوت موجود ہیں کہ اسلام آباد کی کسی مرکزی شاہراہ پر زیادہ لوگوں کے جمع  کرکے حالات خراب کیے  جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات بلوچستان سے آئے ہوئے احتجاج کرنے والوں کے خلاف ایکشن اسی مجبوری کے تحت اٹھایا گیا۔’ ہمیں یہ اطلاع کسی سپیشل برانچ کے اہلکار نے بنا کر نہیں دی بلکہ یہ بالکل معتبر اطلاع تھی اور ہمارے لیے ضروری تھا کہ ایسا کوئی واقع ہونے سے روکا جائے‘۔ اس دوران  میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بلوچ یک جہتی کونسل کے مظاہرین کے خلاف اسلام آباد پولیس کے آپریشن اور درجنوں افراد کی گرفتاریوں  پر کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ عدالت عالیہ نے  ڈپٹی کمشنر سے جواب طلب کر رکھا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے اس واقعہ سے  حکومت کی بے حسی کے علاہ انتظامی نااہلی بھی ثابت ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ نگران وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان نہ تو کسی قانون کو مانتے ہیں اور نہ ہی  کسی  ضابطہ اور طریقہ  کے مطابق چلنا چاہتے ہیں۔ تربت سے آنے والے مظاہرین دو ہفتے پہلے ماورائے عدالت قتل اور  ریاستی جبر کے خلاف احتجاج کے لیے لانگ مارچ کی صورت میں روانہ ہوئے تھے۔ یہ چند سو لوگ تھے جنہیں کسی معمولی سوجھ بوجھ سے   اپنا احتجاج رجسٹر کروانے پر راضی کیا جاسکتا تھا۔ اس سے پہلے بھی بلوچ مظاہرین سنگین ریاستی جرائم کے خلاف  غصہ کا اظہارکرنے کے باوجود پر امن احتجاج کرتے رہے ہیں اور حکومتوں کی طفل تسلیوں اور  اطمینان دلانے پر منتشر ہوتے رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ نگران وزیر اعظم خود بلوچستان سے تعلق رکھنے  کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ ان مظاہرین  کو کیسے  پر امن طریقے سے اپنی بات کہنے کا موقع دینا ضروری ہے۔ حکومت کا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں ہے کہ اسلام آباد میں ہجوم کو انتشار پیدا کرنے کے لیے استعمال  کرنے کا اندیشہ موجود تھا اور اس بارے  میں قابل اعتبار معلومات حاصل ہوئی تھیں۔ وفاقی وزرا نے پریس کانفرنس کے دوران اس بارے میں کوئی ثبوت فراہم کرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ یوں بھی اگر وفاقی دارالحکومت کی پولیس چند سو مظاہرین کو پرامن طریقے سے منتشر کرنے یا باحفاظت نیشنل پریس کلب کے باہر پہنچانے کی قابل نہیں تھی تو ا س کی صلاحیت اور کارکردگی پر سنگین سوال اٹھانے چاہئیں۔ حالات و واقعات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت  نے جان بوجھ پر تشدد کا راستہ  اختیار کیا اور  غیر قانونی قتل اور لاپتہ کرنے کی کارروائیوں کے خلاف ایک پرامن احتجاج کو دباکر ریاستی ’طاقت‘ کا مظاہرہ کرنا ضروری سمجھا گیا۔

یہ ہتھکنڈے چھوٹے صوبوں  کی بے چینی میں اضافہ کریں گے اور ان میں احساس  محرومی  قوی تر ہوجائے گا۔ وہ سمجھیں گے کہ اسلام آباد کے حکمران ان کی داد رسی کرنے اور ان کے نوجوانوں کی حفاظت پر آمادہ نہیں ہیں اور طاقت کے زور پر عوام کی آواز دبائی جاتی ہے۔ حیرت ہے کہ پولیس الٹا  ایسے مظاہرین پر تشدد اور منہ چھپا کر پولیس پر پتھراؤ کرنے کا الزام عائد کررہی ہے  جن میں بچے، خواتین اور معمر لوگ شامل تھے۔ بلکہ اس احتجاج کی قیادت بھی خواتین کررہی تھیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ اسلام آباد  پولیس حکام اور حکومتی اہلکار وں نے خواتین اور بچوں کے خلاف  طاقت کا  ناروا استعمال   ضروری سمجھا۔ حکومت اور طاقت ور حلقوں کو معلوم ہونا  چاہئے کہ شہریوں کے خلاف سرزد جرائم پر نہ تو پردہ ڈالا جاسکتا ہے اور نہ ہی   مزید تشدد کے ذریعے  احساس محرومی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ مسائل سیاسی زیرکی اور ریاستی تحمل  سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔ جو بھی حکومت اس راستے  کی بجائے طاقت پر انحصار کرتی ہے، وہ قومی مفاد اور عوامی خواہشوں کو سمجھنے  میں ٹھوکر کھاتی ہے۔

اسلام آباد میں بلوچ مظاہرین کے خلاف پولیس تشدد پر  بڑی سیاسی پارٹیوں کی خاموشی معنی خیز اور تکلیف دہ ہے۔  ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ   سفاکی کے خلاف نہ صرف تمام سیاسی پارٹیاں شدید احتجاج کرتیں بلکہ اہم لیڈر فوری طور سے اسلام  آباد پہنچ کر احتجاج کرنےوالوں اور  ریاستی ظلم کا  شکار ہونے والوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے۔ تاکہ حکام کو واضح پیغام دیا جاتا کہ مین اسٹریم سیاست دان ملک کے گوشے گوشے میں انسانوں کے حقوق کے بارے میں چوکنا ہیں۔ اس کے ساتھ ہی  بلوچستان اور دیگر چھوٹے صوبوں کو یہ پیغام پہنچتا کہ   انسانی حقوق، لاپتہ افراد اور ماورائے  عدالت قتل جیسے جرائم کے خلاف پوری قوم ان کے ہم آواز ہے۔ افسوس ہے کہ   تحریک انصاف کے  علاوہ  کوئی نام نہاد  قومی جماعت اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکی۔ تحریک انصاف چونکہ خود اس  وقت ریاستی جبر کا سامنا کررہی ہے، اس لیے اس کا مؤقف درحقیقت   مجبوری سمجھا جائے گا۔  ملکی سیاسی لیڈروں کو سمجھنا چاہئے کہ  ظلم  کے خلاف ان کی پراسرار خاموشی  چھوٹے صوبوں میں ریاست کے خلاف ناراضی اور مایوسی میں اضافہ کا سبب بنے گی۔