سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں عمران خان، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت منظورکرلی

  • جمعہ 22 / دسمبر / 2023

سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں سابق و زیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ شامل تھے۔ سپریم کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

دورانِ سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جس انداز میں ٹرائل ہو رہا ہے، پراسیکیوشن خود رولز کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ جیل میں قید شخص ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس وقت معاملہ بانی پی ٹی آئی کا نہیں، عوام کے حقوق کا ہے۔

بانی پی ٹی آئی پر جرم ثابت نہیں ہوا، وہ معصوم ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینا ہی ضمانت کے لیے اچھی بنیاد ہے۔ قبل ازیں سماعت کے آغاز پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر نوٹس نہیں ہوا۔ قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ابھی نوٹس کر دیتے ہیں، آپ کو کیا جلدی ہے۔

وکیل سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جلد بازی میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں، جس پر قائم قام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ اسپیڈی ٹرائل ہر ملزم کا حق ہوتا ہے۔ آپ کیوں چاہتے ہیں ٹرائل جلدی مکمل نہ ہو؟ وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ان کیمرا ٹرائل کے خلاف آج ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہے جب کہ وکیل حامد خان نے بتایا کہ دوسری درخواست فرد جرم کے خلاف ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو فرد جرم چیلنج کی تھی، وہ ہائی کورٹ ختم کرچکی ہے۔ نئی فرد جرم پر پرانی کارروائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ ٹرائل اب بھی اسی چارج شیٹ پر ہو رہا ہے جو پہلے تھی۔ قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ پرانی چارج شیٹ کے خلاف درخواست غیر موثر ہوچکی ہے۔ نئی فرد جرم پر اعتراض ہے تو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں۔

وکیل حامد خان نے استدعا کی کہ مناسب ہوگا آج ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایسا نہ ہو آئندہ سماعت تک ٹرائل مکمل ہوجائے۔ شام چھ بجے تک ٹرائل چلتا ہے۔ عدالتی اوقات کار کے بعد بھی ٹرائل چل رہا ہوتا ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ہمارے کیس چلتے نہیں، آپ کا چل رہا ہے تو آپ کو اعتراض ہے۔ فرد جرم والی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دیتے ہیں۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ آج کی ہائی کورٹ کارروائی کا انتظار کیا جائے۔ قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ ہائی کورٹ بری کر دے تو بھی اس درخواست پر کچھ نہیں ہوسکتا۔ فرد جرم کے خلاف درخواست غیر موثر ہوچکی ہے۔ سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کر دی گئی۔

عدالت عظمیٰ نے وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر کارروائی شروع کی۔ عدالت نے شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سرکاری وکیل کو آج ہی دلائل دینے کی ہدایت کردی۔

دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سائفر کوڈز کی صورت میں آتا ہے، وزارت خارجہ کبھی بھی کوڈز پر مبنی سائفر وزیراعظم کو نہیں دیتا۔ وزارت خارجہ وزیراعظم کو سائفر کا ترجمہ یا اس پر بریفنگ دیتی ہے۔ وکیل سابق وزیراعظم سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کوڈز ہر ماہ تبدیل ہوتے ہیں۔ سائفر کا انگریزی ترجمہ متعلقہ لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ پراسیکویشن کا کیا کہنا ہے کہ سائفر کس کے ساتھ شیئر کیا گیا؟ سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کسی کے ساتھ کبھی شیئر نہیں کیا گیا۔

سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کو ڈی کلاسیفائی کرنے کے بعد ہی سپریم کورٹ کو بھیجا گیا تھا۔ سائفر کے خفیہ کوڈز کبھی سابق وزیراعظم کے پاس تھے ہی نہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وزارت خارجہ سائفر سے متعلق حکومت کو آگاہ کرتی ہے تاکہ خارجہ پالیسی میں مدد مل سکے۔ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا مقصد ہی یہی ہے کہ حساس معلومات باہر کسی کو نہ جا سکیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈپلومیٹک معلومات بھی حساس ہوتی ہیں لیکن ان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید نے سائفر حساس ترین دستاویز کے طور پر بھیجا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس بات پر تو آپ متفق ہیں کہ حساس معلومات شیئر نہیں ہوسکتیں۔ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دیکھنا یہی ہے کہ حساس معلومات شیئر ہوئی بھی ہیں یا نہیں۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیراعظم کےخلاف سزائے موت یا عمر قید کی دفعات عائد ہی نہیں ہوتیں۔ قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ سائفر کسی سے شیئر نہیں کیا لیکن اسے آن ایئر تو کیا ہی گیا ہے۔ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ وزارت خارجہ سے سائفر اعظم خان کو بطور پرنسپل سیکرٹری موصول ہوا تھا۔ جس میٹنگ میں سائفر کا الزام ہے وہ 28 کو ہوئی، چالان کے مطابق جس جلسے میں سائفر لہرانے کا الزام ہے وہ 27 تاریخ کو ہوا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اصل سائفر تو وزارت خارجہ میں ہے۔ اگر وہ باہر گیا ہے تو یہ دفتر خارجہ کا جرم ہے۔ سائفر کو عوام میں زیربحث نہیں لایا جا سکتا۔ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے تقریر میں کہا وزیراعظم کو سازش کا بتا دیا ہے، حلف کا پابند ہوں۔ اس بیان کے بعد شاہ محمود قریشی 125 دن سے جیل میں ہیں۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے جلسے میں کہا تھا میرے پاس یہ خط سازش کا ثبوت ہے۔ جلسے میں کہیں نہیں کہا کہ سائفر میں کیا ہے اور کہاں سے آیا ہے۔ ایک طرف کہتے ہیں سائفر پبلک کیا ساتھ ہی کہتے ہیں، ان کیمرا ٹرائل ہونا چاہیے۔ جسٹس اطہر من اللہ استفسار کیا کہ سابق وزیراعظم کو جیل میں رکھنے سے معاشرے کو کیا خطرہ ہوگا؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دفعہ 164 کا بیان ملزم کا اعترافی بیان ہوتا ہے۔ اعظم خان کے اہلخانہ نے ان کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا، اعظم خان دو ماہ لاپتا رہے۔ یہ اغوا برائے بیان کا واقعہ ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ اغوا برائے تاوان تو سنا تھا اغوا برائے بیان کیا ہوتا ہے۔ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرے لیے سب سے آسان الفاظ اغوا برائے بیان کے ہی تھے۔ قائم قام چیف جسٹس نے کہا کہ اغوا برائے بیان ابھی اصطلاح ہے۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے بیان دیا کہ سابق وزیراعظم سے سائفر مانگا تو انہوں نے کہا گم گیا ہے۔ سابق وزیراعظم نے ملٹری سیکرٹری کو بھی سائفر تلاش کرنے کا کہا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اعظم خان کے بیان میں واضح ہے کہ وزیراعظم کے پاس موجود دستاویز سائفر نہیں تھی۔ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے کہا ان کی موجودگی میں ہی بنی گالہ میں وزارت خارجہ نے بریفننگ دی۔

قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق نے استفسار کیا کہ کیا سیکرٹری خارجہ ملزم ہیں یا گواہ؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس وقت کے سیکریٹری خارجہ گواہ ہیں۔ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ وزارت خارجہ نے سترہ ماہ تک سائفر کی کاپی وزیراعظم سے نہیں مانگی۔ اعظم خان کے مطابق عمران خان عسکری قیادت پر دباؤ ڈالنا چاہتے تھے۔ اعظم خان نے کہا بنی گالہ میٹنگ کے بعد سائفر کو پبلک میں لہرانے کا فیصلہ ہوا۔

سلمان صفدر نے سابق وزیراعظم اور وزیرخارجہ کا جلسے میں خطاب کا متن پڑھ دیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بہتر ہوگا آپ دلائل ضمانت تک محدود رکھیں۔ پوری دنیا میں سفیر اپنے ممالک کو سائفر بھیجتے ہیں، انہیں کبھی پبلک میں زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ جسٹس سردار طارق مسعود نے شاہ محمود قریشی کی تقریر کا متن سن کر ریمارکس دیے کہ سائفر کس نے لکھا، کیا کہا گیا یہ جلسے میں نہیں بتایا گیا۔ وزیرخارجہ سیانا تھا، اس نے وزیراعظم کو آگے کر دیا۔ وزیرخارجہ نے وزیراعظم کو کہہ دیا تم جانو تمہارا کام جانے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الیکشن آنے والے ہیں اور بانی پی ٹی آئی ایک سیاسی لیڈر ہیں، یہ بتائیں کیا ان کے باہر آنے سے سوسائٹی کو کوئی خطرہ ہے؟ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ دفتر خارجہ سائفر کسی کو بھیج ہی نہیں سکتا، اگر ایسا ہوا ہے تو غلطی دفتر خارجہ سے ہوئی ہے۔ ‏سابق وزیراعظم کو جیل میں رکھنے سے معاشرے کو کیا خطرہ ہوگا؟ ‏کیا تفتیشی افسر نے اعظم خان کی گمشدگی پر تحقیقات کیں؟

سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کا بیان دباؤ کا نتیجہ ہے تفتیشی افسر نے کوئی تحقیقات نہیں کیں۔ اعظم خان نے واپس آتے ہی سابق وزیراعظم کے خلاف بیان دے دیا۔ ‏

سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان نے پبلک سے کچھ شئیر نہیں کیا تھا نہ ایسا کوئی جرم کیا کہ سزائے موت یا عمر قید کی دفعات عائد کی جائیں۔ اگر کچھ غلط نہیں ہوا تھا تو امریکی سفیر کو بلا کر احتجاج کیوں کیا گیا؟ ‏سائفر کے خفیہ کوڈز کبھی سابق وزیراعظم کے پاس تھے ہی نہیں۔ سابق وزیراعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رانا ثنااللہ نے بطور وزیر داخلہ ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا کہا۔

عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر عمران خان کو ضمانت دے۔