اتقام نہیں احتساب مگر پہلے عوامی بیانیہ؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 23 / دسمبر / 2023
ان دنوں کئی احباب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ نواز شریف کے پاس جس طرح پہلے ”ووٹ کو عزت دو“ کا بیانیہ تھا جس کے تحت وہ کہتے تھے کہ زندگی میں اتنے زیادہ دھکے کھانے اور مشکلیں اٹھانے کے بعد اب وہ انقلابی بن چکے ہیں۔
آج وہ جس طرح کمپرو مائیز کرتے ہوئے واپس آئے ہیں اور ان کے بھائی نے ان کے نام پر سولہ ماہ کی عوام دشمنی اور مہنگائی لانے والی جو حکومت کی ہے، اس کے بعد نواز شریف کا بیانیہ ختم ہوچکا ہے۔ یعنی اب عوام کو بیچنے کیلئے ان کے کھیسے میں کوئی ایسا چورن نہیں ہے جسے لوگ امید بھری نظروں سے دیکھیں۔ وہ جن بیساکھیوں کے طعنے دوسروں کو دیتے تھے آج وہ خود انہیں حرز جاں بنائے ہوئے ہیں۔ دوسرے وہ ابھی تک خود کو 2017 سے نکال نہیں پارہے ہیں ہر جگہ ان کا ایک ہی دکھ ہوتا ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟ نواز شریف کی درد بھری کہانی یہی ہوتی ہے کہ میرے خلاف شرمناک کھیل کھیلا گیا، میں صبح وزیراعظم تھا، شام کو ہائی جیکر بنا دیا گیا۔ سمجھ نہیں آئی کہ مجھے جیل کیوں بھیجا گیا۔ اس وقت کے ججز کو ہمارے خلاف فیصلہ دینے کی کیا ضرورت تھی۔
کروڑوں کے نمائندہ وزیر اعظم کو پانچ بندوں نے اٹھا کر یوں پھینکا، ایسے جیسے کلہاڑا چلا دیا گیا ہو، ہمیشہ آئین اور قانون کی پاسداری کی جو نہیں کرتے، ان کی سزا بھی ہمیں بھگتنا پڑی۔ کسی لاڈلے کو لانے کیلئے مجھے ہٹانا اور سزائیں دلوانا اگر ضروری ہوگیا تھا تو اس میں عوام کا کیا قصور تھا؟ انہیں کس جرم میں مجھ سے بھی زیادہ سزائیں دی گئیں۔ ان کے چولہے کیوں بجھا دیے گئے۔ دشمنی مجھ سے تھی تو نقصان ملک کا کیوں کیا گیا؟ ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی سے اپنے تازہ خطاب میں نواز شریف کہہ رہے تھے کہ ہمارے یہاں عجب و تیرہ ہے آئین ٹوٹتا ہے تو ہمارے ججز آئین شکن کو ہار پہناتے ہیں۔ پارلیمنٹ ٹوٹتی ہے تو کہتے ہیں ٹھیک ہوا بلکہ ہم آپ کو آئین سے کھلواڑ کرنے کیلئے پورے تین برسوں کی مدت عنایت کررہے ہیں۔ اور پھر ان ججز کو مزید کہا جاتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کوجیل سے باہر نہیں آنے دینا ورنہ ہماری 2سال کی محنت ضائع ہوجائے گی۔ پتہ تو چلے کہ وہ 2سال کی محنت کیا تھی، قوم کو بھی تو پتہ چلے۔
باتیں نواز شریف کی ساری ٹھیک ہیں۔ ان کے خلاف نہ صرف یہ کہ سنگین نوعیت کے جھوٹے مقدمات بنائے گئے بلکہ میڈیا ٹرائل میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔ جس طرح ہٹلر اور اس کا مییڈیا ایڈوائزر گوئبلز کہتا تھا کہ جھوٹ اتنی تکرار سے بولو کہ وہ سچ لگنے لگے، انہی دنوں کی بات ہے دوریش نے ایک ٹی وی شو میں جب یہ کہا کہ پچھلے زمانے میں جو بھی مظلوم تھا آج کے زمانے میں سب سے بڑا مظلوم نواز شریف ہے۔ تو اس پر میڈیا کے دوست ہنس پڑے جیسے کہ کوئی نرالی بات کہی گئی ہو۔ اور آج نواز شریف کے خلاف بنائے گئے تمام کیسز جعلی و جھوٹے ثابت ہورہے ہیں۔ وہ ایون فیلڈ کیس کے بعد العزیز یہ کیس سے بھی بے گنا ہ ثابت ہوچکے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کہہ رہی ہے کہ جے آئی ٹی کا سربراہ واجد ضیا بھی یہ تسلیم کرچکا ہے کہ نواز شریف کے خلاف ثبوت تو کوئی نہیں تھا، سب کچھ مفروضوں پر مبنی تھا۔ اب مفروضوں پر تو کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی۔
اس صورتحال میں نواز شریف کا یہ استدلال قابل فہم ہونا چاہیے کہ طاقتوروں نے جو زیادتیاں کی سو کیں، ہماری جوڈیشری میں براجماں لوگوں نے بھی ظلم و بربریت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ن لیگ کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب میں نواز شریف نے مزید کہا کہ ججز کی
طرف سے ذاتی دشمنی پر اترتے ہوئے سیسلین مافیا اور گارڈفادرجیسے ریمارکس دیے گئے۔ کیا ججز کو ایسے ریمارکس زیب دیتے ہیں کہ کسی کو سیسلین مافیا کہیں؟ پانامہ میں کچھ نہیں ملا تو اقاما نکال لیا۔ وہ فیصلہ سنا یا گیا جو دنیا میں مذاق بن کر رہ گیا۔
نواز شریف یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ انتقام لینا نہیں چاہتے لیکن حساب لینا یا احتساب کرنا تو بنتا ہے کیونکہ اگر حساب نہ لیا گیا تو ملک کے ساتھ یہ کھلواڑکبھی بند نہیں ہوگا۔ میں نے تو کبھی جنرل باجوہ، جنرل فیض یا جنرل راحیل کے خلاف کوئی ساز ش نہیں کی۔ لیکن میرے خلاف جو سازشیں ہوئیں ان میں کون کون شامل تھا، اس کا سب کو پتا چلنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ 8فروری کو سب بڑی عوامی جے آئی ٹی اور عدالت لگے گی۔
شریف کے ان الفاظ اور بیانا ت سے کم از کم ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہییں جو ہمہ وقت اس نوع کی طعنہ زنی کرتے نہیں تھکتے ہیں کہ نواز شریف اپنا سارا جمہوری بیانیہ ترک کرتے ہوئے اب لاڈلے جیسے کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔ حالانکہ ایسی بات قطعی نہیں ہے۔ البتہ حکمت عملی یا کامیابی کیلئے بہتر سٹریٹجی کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ درویش کی نظروں میں نواز شریف کو اس حوالے سے اتنا آگے بڑھنے کی بجائے فی الحال احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہ 2013کی بات ہے جب وہ تیسری مرتبہ منتخب ہوکر وزیر اعظم بنے تو درویش نے جنگ کے انہی صفحات میں لکھا کہ ”قوم آئین شکن کو جیل میں دیکھنا چاہتی ہے“۔ بعد ازاں احساس ہوا کہ احتساب کا مطالبہ ضرور ہونا چاہیے مگر احتیاط کے ساتھ۔ یہ نہ ہوکہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔ سچ بھی اتنا ہی بولا جاسکتا ہے جتنا ہضم ہو سکے۔
ہم مانیں نہ مانیں بہر حال ہم یہاں ایک ہائبرڈ سسٹم میں رہ رہے ہیں، یہاں طاقتوروں کی حیثیت بالفعل ایرانی ولایت فقیہ جیسی ہے۔ بلاشبہ یہ چیز پاپولر عوامی جمہوریت سے ٹکراتی ہے، آئین و جمہوریت پر کامل ایمان رکھنے والے ہر باشعور انسان کا من اس پر رنجیدہ و دکھی ہوجاتا ہے۔ مگر کیا کریں یہی حالات کا جبر ہے کہ صورتحال دیکھ کر آگے بڑھا جائے۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ جو لوگ بزعم خود تیس مار خان بنتے ہیں، تمامتر کھوکھلی بڑھکوں کے باوجود ان کی پستی یہ ہے کہ کسی طرح طاقتوروں کی نظروں میں اپنا سابقہ کھویا ہوا کٹھ پتلی کا رول دوبارہ حاصل کرنے کے قابل ہوجائیں۔ بلاشبہ ان سے 9مئی کی خوفناک و بھیانک ریڈ لائن کراس کرنے جیسی حماقت ہوگئی لیکن مدعا ان کا کبھی بھی آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی یا عوامی جمہوریت کی عظمت منوانا نہیں رہا، ان کا تو روز اول یا قیام سے محض ایک ہی تقاضا ہے کہ مہاراج ہمیں اپنے چرنوں میں لے لو۔
ایسی فضا میں پاکستان کے آئین و جمہوریت پر ایمان رکھنے والوں کیلئے نواز شریف کا وجود رحمت ایزدی یا آخری امید کی طرح ہے جو ببانگ دہل ان مشکل ترین حالت میں بھی یہ اعلان کر رہا ہے کہ مین برسر اقتدار آگیا تو بشمول بھارت اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات استوار کروں گا۔ ایسے میں یہ خوش کن امر ہے کہ جس طرح انہوں نے وطن واپسی پر یہ کہا کہ وہ اپنے اندر انتقام کا شائبہ بھی نہیں رکھتے لیکن جن لوگوں نے جمہوریت سے ننگا کھلواڑ کیا ہے اور ملک و قوم کی قسمت سے کھیلے ہیں، اچھے بھلے گرو کرتے ملک کو بھکاری کی بدترین حالت میں پہنچا دیا ہے، وقت آنے پر ان کا احتساب تو بہر حال ہوگا۔
مگر درویش عرض گزار ہے کہ احتساب ضرور ہو مگر سنگین حالات میں گنجائش کے مطابق فی الوقت تو اس کا یو ں پیہم واویلا بھی مناسب نہیں۔ نواز شریف کا سارا بیانیہ اور دھیان قومی تعمیر و ترقی کے منصوبوں کی طرف ہونا چاہیے اور اس کا منشور یا ایجنڈا عوامی دکھوں بالخصوص مہنگائی کا خاتمہ ٹاپ پرئیریٹی ہونی چاہیے۔ اپنی پوری انتخابی مہم میں نواز شریف اور ن لیگ کا سارا زور عوامی دکھوں کے خاتمے کا پروگرام سنائی و دکھائی دے۔ مایوسی کے اس اندھیرے میں انہیں قوم کے سامنے امید کی ایک نئی جوت جگانی ہو گی۔ نیز ثبوت کے طور پر نواز شریف کی تمام سابقہ کامرانیاں بمع انفراسٹرکچر پیش کرنا ہوں گی۔ اسی کا نام تعمیر و ترقی کا بیانیہ رکھا جائے۔
البتہ جومعززین معافیوں تلافیوں کے نام پر لاڈلے تیس مار خاں کیلئے گنجائش نکلانے کی فرمائش کر رہے ہیں، انہیں ناراض ہوئے یا الجھے بغیر اپنا قومی تعمیر و ترقی کا یہی ایجنڈا پیش فرمائیں۔ اپنا سارا زور اس ایک پوائنٹ پر لگائیں کہ 8فروری کے بعد اہل وطن کو مخلوط کی بجائے مضبوط جمہوریت مل سکے۔ دو تہائی کی کاوش میں کوتاہی کیے بغیر سادہ اکثریت سے نیچے نہ آئیں۔