تحریک انصاف سیاسی افراتفری سے گریز کرے!

  • ہفتہ 23 / دسمبر / 2023

پاکستان تحریک انصاف  کے رہنما بیرسٹر گوہر خان نے کہا  ہےکہ اگر ملک میں شفاف انتخابات نہ ہوئے تو افراتفری پھیلے گی۔  اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے   مزید وضاحت تو نہیں کی لیکن موجودہ سیاسی صورت حال اور تحریک انصاف کودرپیش چیلنجز  کی روشنی میں تحریک انصاف کے قائدین کو مبہم اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرنا چاہئے۔

الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات مسترد کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کو نیا چئیرمین ماننے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن نے تحریک انصاف کو ’بلا‘ انتخابی نشان کے طور پر دینے سے انکار کیا تھا۔ پارٹی اس فیصلہ پر سراپا احتجاج ہے اور الیکشن کمیشن کے  فیصلہ کو سازش یا نام نہاد لندن پلان کا حصہ کہا جارہا ہے۔ حالانکہ  اسی طرح کی بے بنیاد اور بلاجواز الزام تراشی، سیاسی مخالفین کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھنے اور  ملکی نظام  کے ساتھ چلنے سے انکار کی وجہ سے ہی  عمران خان اور تحریک انصاف   موجودہ  مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ حالات کا تقاضہ تو یہی تھا کہ پارٹی قیادت  ایسے موقع پر غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کرتی کہ اسے ملک اور نظام کے لیے خطرہ یا اندیشہ نہ سمجھا جاتا۔ تاہم   بظاہر پارٹی قیادت جارحانہ رویہ اختیار کرنے ہی کو  اپنی سب سے مؤثر طاقت سمجھ رہی ہے۔

اس طریقہ کار سے پارٹی کے نوجوان حامیوں کےجوش و ولولہ میں  تو اضافہ ہوسکتا ہے  اور یہ تاثر مستحکم کرنے کی کوشش بھی  کی جاسکتی ہے کہ ان کا لیڈر  ’ڈٹا‘ ہؤا ہے۔ لیکن  قائدین کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ  عمران خان کس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں؟ یا  پارٹی  اپنی شکایات کی بنیاد پر   پورے ملکی نظام کو اسکینڈل میں تبدیل کرکے آخر کون سا مقصد حاصل کرسکتی ہے؟  اس طرز عمل کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ پارٹی قیادت  کو یقین ہے کہ انتخابات میں خواہ کیسی ہی دھاندلی کرلی جائے لیکن تحریک انصاف کو بہت واضح اکثریت حاصل کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔  شاید عمران خان بھی اس  بات پر یقین کرتے ہیں۔ لیکن عمران خان ہمیشہ سے زمینی حقائق سے نابلد رہے ہیں۔ اس وقت تو وہ جیل میں بند ہیں۔ اگرچہ سائفر کیس میں سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت قبول کرلی ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ انہیں رہاکردیاجائے گا یا  اس کیس پر کارروائی رک  جائے گی۔

عمران خان کے اندازے، ان چند وکیلوں کی معلومات اور مؤقف کی بنیاد پر استوار دکھائی دیتے ہیں جو مسلسل ان سے ملتے ہیں۔ عمران خان کی  حراست اور  پارٹی لیڈروں کے خلاف وسیع بنیاد پر ہونے والی کارروائیوں کی وجہ سے بیشتر لیڈر یا  تو پارٹی چھوڑ چکے  ہیں  اور اگر حراست میں نہیں تو روپوش ہیں۔ ان حالات میں  تحریک انصاف عملی طور سے غیر فعال  ہے۔  ان حالات میں  عمران خان سمیت پارٹی قیادت  کی اولین ترجیح تو یہ ہونی چاہئے کہ  وہ پارٹی منظم کرنے کی کوشش کریں ۔  متبادل قیادت روز مرہ امور کی نگرانی کرنا شروع کرے۔ اور انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کو ایک مؤثر اور فعال سیاسی قوت کے طور پر سامنے لائے۔ اگر پارٹی لیڈر یہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو  کوئی ادارہ یا ملکی نظام کسی بھی ناانصافی  کے باوجود پارٹی کی سیاسی اہمیت کو کم نہیں کرسکتا  تھا۔  انتخابات  خواہ سو فیصد شفاف نہ بھی ہوں پھر بھی ایک منظم سیاسی قوت کو میدان سے باہر رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ 2018 میں مسلم لیگ (ن) کی انتخابی کارکردگی کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔

تحریک انصاف اس وقت درحقیقت ان ہی حالات کا سامنا کررہی ہے جو 2018 میں مسلم لیگ (ن) کو درپیش تھے۔ لیکن پارٹی نے  اپنی سرکردہ قیادت کی حراست اور ریاستی جبر کے باوجود، سیاسی میدان خالی نہیں کیا تھا۔ پارٹی کا ڈھانچہ استوار رہا اور الیکٹ ایبلز  اپنی تمام تر مفاد پرستی کے باوجود پارٹی کے ساتھ منسلک رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ سال بعد مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر  نمایاں سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس کے برعکس تحریک انصاف پارٹی کی تنظیم  کرنے اور  اہم  لیڈروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے، محض قیاس آرائیوں، اندازوں اور دعوؤں کے سہارے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلا کر خود کو  مقبول ترین سیاسی جماعت  ثابت کرنا چاہتی ہے۔  اگرچہ  میڈیا میں  عام طور سے کہا جاتا ہے کہ  عمران خان ملک کے سب سے مقبول لیڈر ہیں۔ لیکن کیا ایسے  دعوؤں سے کوئی پارٹی کامیاب ہوسکتی ہے یا کوئی لیڈر بڑا لیڈر بن جاتا ہے؟ مناسب ہوتا کہ تحریک انصاف کے بانی چئیرمین ٹھنڈے دل و دماغ سے اس معاملہ پر غور کرکے،  خوشامدی  عناصر کی باتوں میں آنے کی بجائے  خود اپنی سوجھ بوجھ اور ملکی حالات کے تناظر میں کوئی ٹھوس اور قابل عمل حکمت عملی بنانے کی کوشش کرتے۔

اس کے برعکس پارٹی کے ترجمان ہی نہیں عمران خان  بھی اسی گمان میں مبتلا ہیں کہ وہ اس وقت مقبول ترین لیڈر ہیں اور ملک کا نوجوان ووٹر ان کے ساتھ  ہے اور 8 فروری کو جوق در جوق باہر نکل کر تحریک انصاف کو  دبانے  کی ہر کوشش  ناکام بنا دے گا۔ یہ خوش گمانی تو ہوسکتی ہے  لیکن کسی خوشنما تصور کو ہزار بار ، ہزار مختلف طریقوں سے کہنے کے باوجود اسے حقیقت حال  نہیں کہا جاسکتا۔ اس کا فیصلہ تو بہر صورت انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ہوگا۔  البتہ تحریک انصاف انتخابات کا انتظار کیے بغیر اپنی واضح اور بے مثال کامیابی کا اعلان کرنا چاہتی ہے حالانکہ جس امتحان میں کامیابی کے دعوے کیے جارہے ہیں اس   میں بیٹھنے کی تیاری نہیں کی جارہی۔ اس نعرے  کا انتخابی سیاست سے کوئی تعلق نہیں  ہے کہ ’عمران خان اگر کسی   کھمبے کو بھی امیدوار بنادیں گے تو لوگ اسے ہی کامیاب کروائیں گے اور باقی سب لیڈر منہ تاکتے رہ جائیں گے‘۔ اگر یہی کامیابی کا واحد راستہ ہے اور تحریک انصاف کو اس  پر ویسا ہی یقین ہے جیسا کہ اس کے پروپیگنڈا گرو قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بتایا جائے کہ تحریک انصاف  الیکشن کمیشن   کی طرف سے ’بلے‘ کا نشان نہ ملنے پر کیوں جزبز ہے؟

بیرسٹر گوہر علی خان   الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعد بتا چکے ہیں کہ ’اگر  کسی پارٹی سے اس کا انتخابی نشان واپس لے لیا جائے تو وہ دو سو سے زائد مخصوص نشستوں  میں حصہ حاصل نہیں کرسکے گی اور اس طرح اس پارٹی کے لیے سینیٹ میں اپنے  امید وار منتخب کروانے کی امید دم توڑ جائے گی‘۔  یہ ایک حقیقت پسندانہ اور ملکی جمہوری نظام کے حقائق  سے مطابقت رکھنے والا مؤقف ہے۔  دیگر  پہلوؤں سے بھی تحریک انصاف کے لیڈروں کو ایسا ہی ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے تھا۔  الیکشن کمیشن یا کسی عدالت کی طرف سے اپنے خلاف ہر فیصلے کو  سازش یا  ریاستی جبر قرار دینے سے  کوئی پارٹی عملی رکاوٹیں  کیوں کر دور کرسکے گی۔

الیکشن کمیشن کا فیصلہ اس حد تک تو  ناجائز کہا جاسکتا ہے کہ کمیشن نے باقی  پارٹیوں کے  انٹرا پارٹی انتخابات کی سکروٹنی اسی انداز میں نہیں کی۔  البتہ  دوسروں کے ساتھ موازنہ  کسی عدالت میں  دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔   تحریک انصاف   ’بلا‘ کا انتخابی نشان واپس لینے کے لیے  جب کسی بھی عدالت میں جائے گی تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن  کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ پارٹی نے انٹرا پارٹی انتخابات میں اپنے ہی پارٹی  آئین  کا احترام نہیں کیا۔

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو ریلیف دیاہے اور  سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت  منظور کرنے کے علاوہ الیکشن کمیشن  کو  تحریک انصاف کو ’لیول پلئینگ فیلڈ‘ فراہم کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ اس کے جواب میں الیکشن کمیشن نے  ملک بھر کے انتظامی حکام کو ہدایت کی ہے کہ تحریک انصاف کے امیدواروں  کو ہراساں کرنا بند کیا جائے۔  عدالتی فیصلے اور اداروں کی طرف سے ’انصاف‘  یوں ہی فراہم ہوتا ہے۔ یہی ہمارے ملک کا نظام ہے۔ تحریک انصاف کو اس حقیقت کو تسلیم کرکے اپنی انتخابی  حکمت عملی  بنانا ہوگی۔ اگر پارٹی اکا دکا واقعات کو سوشل میڈیا یا خبروں کے ذریعے کوئی قیامت خیز ناانصافی  بنا کر پیش کرے گی تو عدالتوں  کا صبر بھی جواب دے جائے گا۔

عمران خان خود ملکی   نظام کی سرپرستی سے ہی سیاست دان بنے تھے اور گزشتہ انتخابات  میں ان کے جیتنے کا اہتمام بھی اسی طریقے سے ہؤا تھا جس طریقے سے اب انہیں  ہرانے  کی  کوشش ہورہی ہے۔ اس طریقے کو ناکام بنانے کے لیے سب سے پہلے تو ماضی کی غلطیوں کو مان لینا ضروری ہوگا اور مستقبل میں ویسی ہی  غلطیوں سے تائب ہونے کا وعدہ کرنا ہوگا۔ لیکن احتجاج اور اداروں  کو دھمکانے کے بین السطور تحریک انصاف  کے لیڈروں کی بات چیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو وہ درحقیقت  انہی اداروں کی سرپرستی کا ’مطالبہ‘ کررہے ہیں جن سے ٹکر لینے کے بعد اب تحریک انصاف کی حالت دیوار سے سر ٹکرانے جیسی ہوگئی ہے۔ سیاسی کامیابی کے لئے جذباتی نعروں  کی بجائے ملکی پارلیمانی نظام کے  حقیقتوں کو مان لینے سے ہی عمران خان اپنی سیاست بچا سکتے ہیں۔ لیکن جیل میں ان سے ملنے والے شاید انہیں یہ بتانے کاحوصلہ نہیں کرتے۔ کم از کم اپنی جگہ چئیر مین کے عہدے  کے لیے نامزد کردہ بیرسٹر گوہر  خان کے آج کے بیان سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے۔

گوہر خان نے شفاف انتخاب نہ ہونے کی صورت میں افراتفری  کا انتباہ دیا ہے۔ اس سے یہی مراد لی جائے گی کہ تحریک انصاف  کو اگر اس کی خواہش کے مطابق ’انتخابی کامیابی‘ نہ ملی تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔ حالانکہ اسے کہنا چاہئے کہ وہ انتخابات کے بعد ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کرے گی۔ اس وقت ملک جن حالات کا سامنا کررہا ہے، ان کی روشنی میں یہ کہنا تو مشکل ہے کہ کون سی پارٹی کتنی سیاسی کامیابی حاصل کرے گی ۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اگر ملک کو موجودہ معاشی بحران سے باہر نکالنا  ہے تو انتخابات  کے بعد قائم ہونے والی حکومت کو اطمینان سے کام کرنے کا  موقع دینا ہوگا۔  آثار یہی بتا رہے ہیں کہ انتخابات کے بعد عسکری   یا عدالتی  قیادت احتجاج کے نام پر ملک میں افراتفری پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

 ملک 2024 میں داخل ہورہا ہے۔ اب 2014 یا2019 کا طریقہ دہرانا ممکن نہیں ہوگا۔  ملک کی سب سیاسی قوتوں کو بھی حالات  کی اس  نزاکت کو سمجھتے ہوئے  طرزعمل اختیار کرنا چاہئے۔