کیا انتخابات سے ملک میں استحکام آئے گا؟

ہراساں کرنے  کے الزامات، پولیس کی زیادتیوں اور منصفانہ ماحول فراہم کرنے کے وعدوں کے جلو میں آج عام انتخابات میں  حصہ لینے کے لیے  امیدواروں نے  کاغذات نامزدگی جمع کروادیے۔ انتخابی موسم میں سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے  مختلف پارٹیوں اور گروہوں کی طرف سے اعتراضات تو سامنے آتے رہیں گے لیکن کیا  8 فروری 2024 کوملک میں ایسے شفاف  اور منصفانہ انتخابات منعقد ہوسکیں  گے جن پر   فریقین متفق ہوجائیں اور ملک آگے بڑھ سکے؟

دیگر رہنماؤں  کے  علاوہ مسلم لیگ (ن) کے  قائد نواز شریف کے کاغذات نامزدگی بھی جمع کروائے گئے ہیں البتہ تحریک انصاف کے بانی  چئیرمین عمران خان کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آسکیں کہ  کسی حلقے سے ان کے  کاغذات بھی  جمع  ہوئے ہیں یا نہیں۔    توشہ خانہ کیس میں انہیں تین سال قید کی سزا ہوئی تھی جس کی بنیادپر الیکشن کمیشن نے  آئین کی شق 63 کے تحت انہیں پانچ سال کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔ البتہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سزا پر عمل درآمد معطل کردیا تھا۔ لیکن گزشتہ دنوں  ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے  کے بارے میں درخواست  مسترد کردی گئی تھی۔ اسی بنیاد پر عمران خان کو  انتخاب میں حصہ لینے سے روکا جارہا ہے۔  عمران خان نے اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن گزشتہ روز  رجسٹرار سپریم کورٹ نے اعتراضات کے ساتھ ان کی درخواست  واپس کردی تھی۔

گو کہ نواز شریف  پر تاحیات نااہلی کا معاملہ بھی ابھی طے نہیں ہؤا۔ ترمیمی الیکشن ایکٹ کے تحت کسی شخص کی نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت 5 سال مقرر کی گئی ہے  البتہ سپریم کورٹ نے اس معاملہ  پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی ہے تاکہ الیکشن ایکٹ اور سپریم کورٹ کے حکم  کے درمیان موجود  فرق کے بارے میں   عدالت رائے دے سکے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس موقع پر کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم یا الیکشن ایکٹ  کی  ترمیم میں سے ایک ہی حکم قابل عمل ہوسکتا ہے۔  تاہم ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔  اس لیے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جب تک سپریم کورٹ کوئی واضح حکم جاری نہیں کرتی تاحیات نااہلی کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی نافذالعمل ہوگا۔ اس لیے اگر مروجہ قانونی طریقہ کے مطابق صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو نوازشریف بھی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی جمع  کروائے ہیں ۔ ان کے  قابل قبول ہونے کا فیصلہ چند روز میں ہوگا  تب ہی صورت حال واضح ہوسکے گی۔

ملکی سیاسی  صورت حال میں اس وقت نواز شریف کو  اسٹبلشمنٹ کا پسندیدہ امید وار قرار دے کر  نئے ’لاڈلے‘ کا نام دیا گیا ہے۔ میڈیا میں لاڈلا کا خطاب پانے والے نواز شریف کو اگر کسی عدالت نے  سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تو قانونی طور سے یہ درست بات ہوگی۔ یہ معلوم نہیں کہ مسلم لیگ (ن) اس الجھن سے کیسے نمٹنے کا ارادہ باندھ رہی ہے۔ یا یہ قیاس کرلیا گیا ہے کہ عدالتیں موجودہ حالات میں نواز شریف کا راستہ نہیں روک سکیں گی۔  البتہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) پاناما لیکس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں بھی عدالتوں کے  بارے میں ایسے ہی اندازے قائم کررہے تھے لیکن سپریم کورٹ نے نہ صرف انہیں تاحیات نااہل قرار دیا بلکہ ان کے خلاف العزیزیہ جیسے پرانے ریفرنس کو بھی دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔    عدالتوں نے اگر نواز شریف کو اب بھی رعایت نہ دی تو مسلم لیگ (ن) کے سیاسی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کیوں کہ پارٹی نواز شریف کو  وزارت عظمی کا امید وار سمجھتی ہے اور وہ خود چوتھی بار ملک کا وزیر اعظم بن کر  سیاسی  کم بیک کا نیا  ریکارڈ قائم کرنے کے خواہشمند ہیں۔

نرم ترین الفاظ میں بھی  نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی اس حکمت عملی کو ناقص اور  غیر ضروری طور  سے  پرامید طریقہ سمجھنا چاہئے۔  اصولی طور سے نواز شریف کو واضح عدالتی فیصلہ سامنے آنے سے پہلے انتخابی ارادوں کا عزم نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن اب جبکہ وہ یہ قدم اٹھا چکے ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ ملک  میں اسٹبلشمنٹ کے تبدیل شدہ رویہ  کی وجہ سے کیا ان کی خواہش پوری ہوپاتی ہے یا نہیں۔  سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت قبول کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جو ریمارکس دیے ہیں ، ان کی روشنی میں تو یہی سمجھا جانا چاہئے کہ عدالت عظمی اس وقت  عسکری قیادت کے ساتھ کسی مشترکہ منصوبے کا حصہ نہیں ہے بلکہ خود مختاری سے فیصلے کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ اس رویہ کے ساتھ نواز شریف کی  خوش خیالی کو دھچکا لگنے کا امکان بھی ہے۔

انہوں نے  اسی خوش گمانی  کی بنیاد پر  نہ صرف یہ کہ انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے  بلکہ وہ وزارت عظمی کے امید وار بھی ہیں۔ اس لیے اگر انہیں انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا یا انتخابات کے بعد ان کے انتخابات کو کالعدم سمجھا گیا تو یہ نواز شریف ہی نہیں بلکہ پوری پارٹی کے لیے شدید  ہزیمت کا باعث ہوگا۔  مسلم لیگ (ن)    نواز شریف کے لیے ’لاڈلے‘ کی اصطلاح کو غلط کہنے کی کوشش ضرور کرتی ہے لیکن اس  حوالے   کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔  پارٹی  کا خیال ہے کہ ووٹوں کی بڑی تعداد اسی پارٹی یا لیڈر کو ووٹ دیتی ہے جس کے بارے میں یہ یقین ہو کہ اسے اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔  ا لبتہ اگر نواز شریف کا انتخابی سفر راستے میں ہی روک دیا گیا تو  اس ’مثبت تاثر‘ کو شدید زک پہنچے گی۔ حیرت ہے کہ نواز شریف طویل سیاسی تجربہ کے باوجود اس صورت حال کو سمجھنے پر آمادہ نہیں ہیں یا پھر انہیں یقین دلا دیا گیا ہے کہ ان کا رواستہ نہیں روکا جائے گا۔

دوسری طرف اگر عمران خان  کو  واقعی انتخابی دوڑ سے باہر کیا جارہا ہے اور سپریم کورٹ کی مداخلت سے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ملتی تو ’لیول پلئینگ فیلڈ‘ نہ ملنے کی بحث  شدید ہوجائےگی اور پوری انتخابی مہم کے دوران یہ گونج سنائی دے گی کہ  تحریک انصاف کا راستہ روکنے کی سازش کی گئی ہے۔ یہ صورت حال  انتخابی نتائج سے پہلے ہی ملک میں  بدمزگی اور اشتعال انگیز تصادم کی  فضا پیدا کردے گی۔  اول تو  جب تک عمران خان کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا اور  ان کے خلاف حتمی سزا کا فیصلہ نہیں ہوتا، انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا ناانصافی  ہے اور انتخابات کو غیر ضروری طور سے  متنازعہ بنانے  کے مترادف ہے۔ تاہم ملک میں ایک نئے ہائیبرڈ نظام  کو مسلط کرنے کے لیے اس قسم کی حساسیات کو نظرانداز کرنے کا طریقہ دیکھاجاسکتا ہے جس کے ملک کے سیاسی منظر نامہ کے علاوہ  قومی استحکام کی صورت حال پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔  ممکن ہے کہ انتخابات کے بعد  دھاندلی یا ناانصافی کے نام پر احتجاج کو طاقت سے  روکنے کی    منصوبہ بندی کی جائے اور ریاست کسی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوجائے لیکن  اس سے استحکام کا مقصد بہر حال حاصل نہیں ہوگا۔ عوام کی ایک بہت بڑی تعداد اگر انتخابات سے مطمئن نہیں ہوگی تو اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت بے اختیار اور کمزور ہوگی اور  اسٹبلشمنٹ پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرے گی۔ یہ  حالات  سماجی اطمینان، سیاسی ہم آہنگی اور  باہمی تعاون  کے لیے مناسب نہیں ہوں گے۔

دوسری  طرف ایک ٹی وی انٹرویو میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے  شفاف انتخابات کا وعدہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تحریک انصاف کو انتخابات میں حصہ لینے کا پورا موقع ملنا چاہئے۔  لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا  یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے جو عناصر سانحہ 9 مئی میں ملوث ہیں، ان کے خیال میں انہیں انتخابات میں حصہ لے کر عوام کے منتخب نمائیندے کے طور پر کام کرنے کا  حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے 9 مئی کے رد عمل کو ملکی سالمیت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک گرفتاری پر ایسے تشدد اور توڑ پھوڑ کی ضرورت نہیں تھی۔ عدالتوں سے ریلیف حاصل کیا جاسکتا تھا‘۔  نگران وزیر اعظم کا یہ بیان موجودہ  حالات میں شفاف انتخابات کی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔ اس سے درحقیقت ریاستی اداروں کا یہ پیغام تحریک انصاف تک پہنچایا گیا ہے کہ ملکی  سیاست میں  حصہ دار بننے کے لیے سانحہ 9 مئی سے مکمل دست برداری کا اعلان کرنا ہوگا۔ پارٹی کو خود ان عناصر سے لاتعلقی اختیار کرنا پڑے گی جو کسی بھی طرح اس روز کی جانے والی توڑ پھوڑ میں شریک تھے۔ اس کے بعد ہی ریاست محتاط طریقے سے  تحریک انصاف  کو سیاسی سرگرمیوں  کا حق دینے پر آمادہ ہوگی۔

تاہم تحریک انصاف کی قیادت اس گمان میں مبتلا ہے کہ ایک بار  پولنگ شروع  ہوجائے تو اس کے پرجوش حامی بیلٹ بکس عمران خان کے نام پر بھر دیں گے۔  اسی گمان کا شکار  ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف ابھی تک  9 مئی کے حوالے سے ریاستی ناراضی کو سنجیدگی سے  لینے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ انتخابات سے پہلے بھی ایسا کوئی ڈرامائی اعلان سامنے آنے کی امید نہیں ہے۔ ایسے میں اہم ترین سوال یہ  ہے کہ انتخابات کے بعد کیا ہوگا۔ کیا ملک استحکام کی طرف بڑھ سکے گا؟ اگر تحریک انصاف کی امید کے مطابق اسے واقعی  اسمبلیوں میں واضح اکثریت حاصل ہوگئی تو اسے اسی اسٹبلشمنٹ کو راضی کرنے کے لیے شدید جد و جہد کرنا پڑے گی جسے للکارتے ہوئے وہ اس وقت اپنے ووٹر کو متحرک کررہی ہے۔ تاہم اگر وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوئی تو کیا اوسط  نمائیندگی کی بنیاد پر  عمران خان اور تحریک انصاف از سر نو اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنے پر آمادہ ہوں گے؟

اس صورت میں کیا انوار الحق کاکڑ کے اس مشورہ کو مان  لیا جائے گا کہ 9 مئی یوم سیاہ تھا اور اس دن قومی سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والے عناصر ملک دشمن تھے۔  انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی سے ہی یہ طے ہوسکے گا کہ ملک میں استحکام کی نوعیت کیا ہوگی اور نئی حکومت کس حد تک مؤثر نظم استوار کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔