آرمی چیف کا مشورہ اور حقیقت احوال
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 26 / دسمبر / 2023
پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے مشور دیاہے کہ ہمیں بیان بازی اور منفی پروپیگنڈے سے بچنا چاہئے اور قومی معاملات میں حقائق کی بنیاد پر مؤقف اختیار کرنا چاہئے۔ کرسمس کے موقع پر جنرل عاصم منیر کا یہ پیغام نصابی طور سے تو درست ہے لیکن بدقسمتی سے ملک میں درست معلومات تک رسائی کے سب راستے بند کردیے گئے ہیں۔ ایسے میں عوام کیوں کر جھوٹے پروپیگنڈے اور حقائق میں تمیز کرسکتے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل عاصم منیر نے کرسمس کی تقریبات میں شرکت کے لیے کرائسٹ چرچ راولپنڈی کا دورہ کیا اور مسیحی برادری کے ساتھ کرسمس منائی۔ اس موقع پر انہوں نے مذہبی برادری کےلیے احترام کا اظہار کرتے ہوئے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ہمیں امن و دوستی کا سبق سکھاتا ہے۔ اسلام بین المذاہب ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ، یہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کے دشمن مذہبی، نسلی اور سیاسی کمزوریوں کو استعمال کرکے دراڑیں ڈالنے پر تلے ہیں اور ہمیں مضبوط و پرعزم قوم کے طور پر ابھرنےکے لیے متحد ہونا پڑےگا۔ ملک کو درپیش چیلنجز اور مسائل سے نمٹنے کے لیے پروپیگنڈے اور نعروں کا شکار ہونے کی بجائے درست معلومات کی بنیاد پر نقطہ نظر بنانے کی ضرورت ہے۔
جنرل عاصم منیر نے 11 اگست1947 کو دستور ساز اسمبلی سے قائد اعظم محمد علی جناح کے خطاب کا حوالہ بھی دیا اور بتایا کہ قائداعظم نےفرمایا تھا کہ ’آپ آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ اس ریاست پاکستان میں اپنی مساجد یاکسی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں‘۔ آرمی چیف نے محمد علی جناح کی ایک ایسی تقریر کا حوالہ دیا ہے جو شاید ملک کے باقاعدہ نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ اور تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جان سکتے ہیں کہ قائد اعظم کی اس تقریر کو عام کرنے سے روکنے میں کون سی درپردہ قوتیں متحرک رہی تھیں۔ یہی عناصر تھے جو بعد میں قائد کی اس ویژنری تقریر کا ’اثر‘ زائل کرنے کے لیے تمام اقلیتی ارکان کی مخالفت کے باوجود دستور ساز اسمبلی سے ’قرار داد مقاصد‘ منظور کروانے کا سبب بنے۔ یہ قرارداد 1973 کے آئین میں ابتدائیہ کے طور پر شامل ہے۔
12 مارچ1949 کو منظور ہونے والی اس قرار داد کے ملکی سیاست پرمرتب ہونے والے اثرات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت دستور اسمبلی کے اقلیتی ارکان نے جن شبہات و اندیشوں کا اظہار کیا تھا، وہ سو فیصد درست ثابت ہوئے۔ قرارداد مقاصد میں اگرچہ اقلیتوں کے حقوق کی بات کی گئی ہے لیکن عملی طور سے اس دستاویز نے پاکستان کو مسلمان شہریوں کی ’جاگیر‘ قرار دیتے ہوئے تمام دوسرے عقائد کے لوگوں کو اسلامی شعائر، قانون و ضوابط کا پابند بنایا تھا۔ یہ قرارداد قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر کو مسترد کرنے کے علاوہ اور نومولود ملک کو سب عقائد و مذاہب کے ماننے والوں کی بجائے صرف مسلمانوں کا وطن قرار دیتی ہے، جہاں انہیں اپنے عقیدہ و شریعت کے مطابق قانون سازی اور سماجی رویوں کی پرداخت کا حق حاصل ہے۔ قرار داد مقاصد نے عملی طور سے واضح کیا ہے کہ تمام غیر مسلموں کو پاکستان میں دوسرے درجے کا شہری بن کر رہنا ہوگا۔ جنرل عاصم منیر قائد اعظم کی تقریر کا حوالہ دے کر قرارداد مقاصد کی روح سے ’انکار ‘ کررہے ہیں۔ کیا ان کا یہ نقطہ نظر پاکستان کی سرکاری پالیسی کے طور پر نافذ ہوسکتا ہے؟ کیا وہ قومی سیاسی جماعتوں کو اس رائے پر آمادہ کرکے نئے انتخابات کے بعد منتخب ہونے والی قومی اسمبلی سے ایک ایسی ترمیم منظور کروانے کا اہتمام کرسکتے ہیں جس میں قرار داد مقاصد کی جگہ قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر کو آئین پاکستان کی تمہید کے طور پر شامل کرلیا جائے تاکہ ملکی عدالتیں بھی وہی مساوات عام کرنے کی پابند ہوجائیں جس کا خواب جناح نے اپنی تقریر میں دکھایا تھا۔
شاید جنرل منیر بھی جانتے ہوں گے کہ اقلیتوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جوش بیان میں ایسے حوالے دینا تو ممکن ہے لیکن عملی طور سے اہل پاکستان کو اس رائے پر آمادہ کرنے کا کام جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ سب سے زیادہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ریاست اور اس کے ذمہ دار اداروں نے جن میں پاک فوج بھی شامل رہی ہے، مذہب کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک تو ملک کو افغانستان کے داخلی مسائل میں فریق بنایا، ملک پر دو جنگیں مسلط کی گئیں اور دہشت گردی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہؤا کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ آج بھی پاک فوج کے جوان مذہبی جنونیت کا شکار عناصر کی دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں۔ نوجوان خود کش بمبار ایک گمراہ کن نعرے کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہریوں کو ہلاک کرنے میں دریغ نہیں کرتے۔ مذہبی شدت پسندی کا زہر سماجی رویوں میں اس حد تک سرایت کرچکا ہے کہ اپنے جسم پر بم باندھ کر دھماکے کرنے والے بچے بزعم خویش جنت کمانے اور حوروں کا وصال حاصل کرنے کے لیے قربان ہوتے ہیں۔ یہ مزاج عام کرنے کے لیے جن قومی اداروں نے گزشتہ چاردہائیاں صرف کی ہیں ، انہیں کیوں کر قائد اعظم کی 11 اگست 1947 تقریر کا مفہوم سمجھایا جائے گا۔
یہ درست ہے کہ ملک میں جھوٹ اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر سیاست کی جاتی ہے۔ لیکن ملک کی وہ تمام سیاسی پارٹیاں جو اس ہتھکنڈے کو استعمال کرتی ہیں اور وہ سارے گروہ جو مذہب کی حرمت کے نام پر خوں ریزی کو جائز قرار دیتے ہیں، کسی نہ کسی طور سے عسکری اداروں کی اعانت، سرپرستی و تائید سے ہی وجود میں آئے یا پروان چڑھے۔ وہ خواہ ملک میں خلافت اور شریعت محمدی نافذ کرنے کا خواب دکھانے والے میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) ہو یا پاکستان کو مدینہ ریاست بنانے کا اعلان کرنے والے عمران خان اور ان کی تحریک انصاف ہو، انہیں مذہب کو ہتھکنڈا بنانے کا راستہ عسکری اداروں کی تربیت گاہ میں ازبر کروایا گیا تھا۔ قومی مفادات کی حفاظت کے نام پر بعض دہشت گرد عناصر اور جماعتیں فوج ہی خواہش پر ’اثاثے‘ قرار پائے تھے۔ انہی’اثاثوں‘ کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ملک کا نام دیا گیا اور ایف اے ٹی ایف جیسے مالی ترسیلات کنٹرول کرنے والے ادارے نے پاکستان کو طویل عرصہ تک گرے لسٹ میں شامل رکھا تھا۔ ریاست اب ان اثاثوں سے دست کش ہوگئی ہے لیکن ان کی پیدا کی گئی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے کوئی عملی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ ملک میں ایسا ماحول پیدا کردیا گیا ہے کہ مذہبی نعرےمقدس بنا دیے گئے ہیں اور انہیں بلند کرتے ہوئے دارالحکومت پر حملہ آور ہونے والے گروہوں کو اپنے بچے قرار دے کر حکومت وقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے۔
2017 میں فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہنوز عمل نہیں ہوسکا اور نہ ہی یہ تعین کیا جاسکا ہے کہ کون سے عناصر اس لاقانونیت اور مذہب کو سیاسی معاملات پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کررہے تھے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہی بطور جج یہ فیصلہ تحریر کیا تھا اور اب انہوں نے پانچ سال بعد اس فیصلہ کی نظر ثانی کی اپیلوں پر کارروائی شروع کی ہے۔ کیا عسکری قیادت سپریم کورٹ کے ساتھ تعاون کرکے اپنی ہی صفوں میں شامل رہنے والے ایسے عناصر کو سامنے لانے کا حوصلہ کرسکتی ہے؟ پاک فوج میں باہمی یک جہتی کا تصور بہت گہرا ہے۔ اس کا سربراہ خواہ ملکی آئین توڑنے میں سزا یافتہ ہی کیوں ہو لیکن فوج پوری طاقت سے اس کی حفاظت کرنے اور اس کے ’عزت و وقار‘ کو بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ پھر دیار غیر میں انتقال کے بعد اسے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اگر یہی طرز عمل عام رہے گا تو ملک کا آئین کیسے نافذالعمل ہوسکے گا اور عدالتیں کیسے آزادی سے کام کرسکیں گی یا پارلیمنٹ عوامی خواہشات کے مطابق قانون سازی کرکے ملک میں امن بحال کرنے کا کام کرسکے گی۔
جنرل عاصم منیر نے قومی معاملات میں بیان بازی اور جھوٹے دعوؤں سے بچنے کا مفید مشور دیا ہے۔ لیکن جب ریاست خود ہی ’حقائق اور سچائیوں‘ کو چھپائے گی اور ناانصافی کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کے خلاف محاذ آرا ہوگی تو عام لوگ جھوٹ کو سچ ماننے کے سوا کیا کرسکتے ہیں؟ اس کی ایک مثال تو گزشتہ ہفتے کے دوران اسلام آباد میں بلوچ مظاہرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ جب قوم کے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو اپنے جوانوں کی ہلاکت پر سوال اٹھانے، احتجاج کے لیے جمع ہونے اور لاپتہ افراد کا اتہ پتہ پوچھنے کا حق دینے سے انکار کیا جائے گا تو کون سچ کی تلاش میں باہر نکلے گا۔ کیوں کہ ریاست تو یہی پیغام عام کررہی ہے کہ سچ جاننے والے پولیس تشدد اور ریاستی ظلم کے مستحق ہیں۔ مساوات پر مبنی ، تعصب سے پاک معاشرہ کی تشکیل اور باہمی قبولیت و احترام کا سبق عام کرنے کے لیے بہتر نہ ہوتا کہ ملک کے بلوچ وزیر اعظم، سینیٹ کے بلوچ چئیرمین یا عام سیاسی لیڈروں کو مظلوم بلوچ مظاہرین کی بات سننے یا ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کی ’اجازت‘ ہوتی؟ کون سا خوف وزیر اعظم کو بعد از وقت بیان دینے اور سیاسی لیڈروں کو مہر بلب رہنے پر مجبورکرتا ہے۔
جناب آرمی چیف صاحب! اگر خوف کا یہ ماحول ختم نہیں ہوگا۔ اگر ملک میں اپنا مدعا، نقطہ نظر یا اپنے حصے کا سچ بیان کرنے کا حق نہیں دیا جائے گا تو لوگ تو اسی کو سچ مانیں گے جس کے لیے قرارداد مقاصد منظور ہونے کے بعد سے ان کی پرداخت کی گئی ہے۔ اب اگر یہ جذبات جھوٹ پر مبنی ہیں اور حقائق سے ماورا ہیں تو کوئی تو اس کا ذمہ دار ہوگا؟ اس ذمہ دار کو تلاش کیجئے۔ ملک میں سچ بھی عام ہوجائے گا اور لوگ ایک بار پھر ایک دوسرے سے محبت و احترام سے پیش آنے لگیں گے۔