شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم

  • جمعرات 28 / دسمبر / 2023

سابق وزیر خارجہ اور سینیئر رہنما پاکستان تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کے خلاف جی ایچ کیو حملہ کیس میں جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کو گزشتہ روز دوبارہ گرفتار کیے جانے کے بعد آج سخت سیکیورٹی میں ڈیوٹی مجسٹریٹ راولپنڈی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس اہلکاروں نے انہیں ہتھکڑیاں لگا کر ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی کی عدالت میں پیش کیا۔ کمرہ عدالت میں شاہ محمود قریشی نے ڈیوٹی مجسٹریٹ سے استدعا کی کہ میں بیان ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سمیت 3 جسٹس صاحبان نے ضمانت دی۔ مچلکہ جمع کرا کر مجھے ضمانت کا حکم دیا گیا، میری رہائی کی روبکار جاری ہوتے ہی تھری ایم پی او جاری کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے استفسار کیا کہ میں کیسے عوام کے لیے خطرہ ہوں؟ میں کئی ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہوں۔ مجھے ایک رات آکر کہا گیا کہ تھری ایم پی او واپس لیتے ہیں۔ 26 تاریخ کو تھری ایم پی او کا آرڈر دیا گیا۔ پھر واپس لے لیا گیا، ہاتھ سے 26 تاریخ کاٹ کر 27 کر دیا گیا۔ مجھے غیرقانونی طور پر رکھا گیا۔ میں جیل کی حدود میں تھا وہاں پنجاب پولیس گرفتار کرنے پہنچی۔ میں 5 بار رکن پارلیمنٹ رہ چکا ہوں۔ ایس ایچ او جمال نے مجھے مکے لاتیں ماریں۔ ایس ایچ او اشفاق چیمہ نے مجھے گالیاں دیں، میری چھاتی میں درد ہورہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی دفعہ ایس پی کو کہا کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔ پوچھا گیا کہ آپ کو کس ہسپتال میں لے کر جائیں؟ مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر گئے۔ ایک ٹیم آئی کے 9 مئی کے لئے بیان ریکارڈ کرنا ہے، یہ لوگ مجھے 9مئی کے مقدمات میں ملوث کرنا چاہتے ہیں۔ میں 9 مئی کو کراچی میں تھا بیگم کی سرجری ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا میں موقع پر موجود نہیں تھا۔ مجھ سے بیان لینے پہنچ گئے، مجھے کل رات ایک ٹھنڈے کمرے میں رکھا گیا۔ مجھے رات بھر سونے نہیں دیا گیا۔ مجھے لائٹیں جلا کر بار بار جگایا گیا شور مچایا گیا۔ مجھے ذہنی اور جسمانی طور پر تنگ کیا گیا۔

اس دوران شاہ محمود قریشی کمرہ عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ جج کی ہدایت پر شاہ محمود قریشی کی ہتھکڑیاں کھول دی گئیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے پاکستان کا عالمی سطح پر مقدمہ لڑا۔ میں پاکستان اور اداروں کی عالمی دنیا میں صفائیاں دیتا رہا ہوں، کیا یہ انصاف ہے؟ رات بھر مجھے ٹھنڈے انتہائی ٹھنڈے کمرے میں رکھا گیا۔ میری لائٹس بند کرکے موم بتی جلا دی۔ ایف آئی آر میں نام کئی ماہ بعد کیس میں شامل کیا، قرآن پاک پر حلف دیتا میں 9 مئی کو راولپنڈی ہی نہیں پنجاب میں بھی نہیں تھا۔

دوران سماعت شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے مقدمہ ڈسچارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے دلائل دیے کہ مجھے قوانین کا مکمل طور پر ادراک ہے۔ میرے مؤکل کو آپ کے ہوتے ہوئے ہتھکڑی نہیں لگائی جا سکتی۔ میرے مؤکل کے خلاف پراسیکیوشن کے پاس صرف ایک ٹوئٹ ہے۔علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کی ٹوئٹ عدالت میں پڑھ کر سناتے ہوئے بتایا کہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ نکلیں یکجہتی کے لیے۔

انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو 24 گھنٹے تک غیر قانونی تحویل میں رکھا گیا۔ شاہ محمود قریشی کو مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے، جج کو ریمانڈ دینے کی وجوہات دینی ہوں گی۔ میرے مؤکل سے کچھ برآمد تو کرنا نہیں ہے، جو شاہ محمود قریشی نے ابھی بیان دیا۔ اس بیان کو عدالت لکھنے کی پابند ہے، جسمانی ریمانڈ کا مقصد ازیت دینا ہے۔

دریں اثنا پراسیکیوٹر اکرام امین منہاس نے شاہ محمود قریشی کے ریمانڈ کے لے دلائل دیتے ہوئے اُن کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود کا بیان 9 مئی کا تھا۔ ہمیں ستمبر میں پیمرا و دیگر اداروں سے ملا۔ یہ ٹرائل کورٹ نہیں، ڈسچارج کا معاملہ نہیں آسکتا۔ تفتیش کا مطلب برآمدگی نہیں۔ دہشت گردی کے مقدمہ میں 90 روز تک ریمانڈ ہوسکتا ہے۔ ہم نے ایف آئی اے، پیمرا اور ایف آئی سے رپورٹ لی۔ اس سب میں شاہ محمود کے خلاف شواہد ملے، سوشل میڈیا پر بھی شواہد سامنے آئے۔ تمام تر ثبوتوں کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

پراسیکیوٹر اکرام امین نے کہا کہ میں شواہد کو عدالت میں پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں۔ شاہ محمود قریشی کی تقریر کو دیکھنا ہوگا۔ حاصل شدہ شواہد پر شاہ محمود کو گرفتار کیا، شاہ محمود قریشی کی تقریر معمولی چیز نہیں تھی۔ یہ ہمارا کیس نہیں ہے کہ شاہ محمود قریشی جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں میں موجود تھے۔ ہمارا کیس یہ ہے کے شاہ محمود قریشی کی تقریر کے بعد جی ایچ کیو پر حملہ ہؤا۔

پراسیکیوٹر نے 2 جنوری تک شاہ محمود قریشی کے ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ریمانڈ میں ہم نے دیکھنا ہے کے تقریر کا کتنا اثر ہوا۔ ہمارے پاس شاہ محمود قریشی کے خلاف بہت ٹھوس شواہد ہیں۔

اس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میری تقریر کا حوالہ دیا مکمل بات نہیں کر رہے۔ میں نے کہا قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا، ویڈیو عدالت منگوا لے۔ پُرامن احتجاج عوام کا حق ہے۔ علیحدگی میں چاہیں گے تو بتا دوں گا، بہت ذمہ دار شخص نے کہا کہ میں 9 مئی میں صاف ہوں۔ کہیں گے تو میں آپ کو نام دے دوں گا۔ یہ سب کیس گھڑا جا رہا ہے، سائفر میں بیل ہوئی تو یہاں موجود ہوں۔

دریں اثنا عدالت نے شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بعدازاں ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر علی نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پراڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔