بھٹو اور نواز شریف
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 28 / دسمبر / 2023
ہمارے ملک کے ممتاز صحافی جو حلقوں کی سیاست پر خاص نظر رکھتے ہیں، اپنی بات دھڑلے سے اور ڈنکے کی چوٹ کہتے ہیں بارہا اس ناچیز کو ان کے ساتھ حیران کن حد تک نظری و فکری اتفاق رائے محسوس ہوتا ہے۔ لیکن بعض اوقات بحث میں ایسے ایشوز بھی آجاتے ہیں جن میں ترجیحات کا تفاوت ابھر آتا ہے۔
مثال کے طور پر بھٹو اور نواز شریف کا تقابل کرتے ہوئے وہ ہمیشہ بھٹو کو آئیڈیلائیز کرتے ہوئے بڑی قومی شخصیت قرار دیتے ہیں۔ اُن کا استدلال ہوتا ہے کہ بھٹو صحیح معنوں میں عوامی لیڈر تھا جو عوامی کاز کیلئے پھانسی پر جھول گیا، اصولوں پر ڈٹ گیا۔ لہذا عوام اسی کو یاد رکھتے ہیں جو قربانی دیتا ہے۔ اس کے بالمقابل وہ لیڈر جو ذرا سی مشکل آنے پر گھبرا جائے یا جیل جانے اور قربانی دینے کی بجائے جدہ کے محلات یا لندن کے ایون فیلڈ میں موج سے رہے اور ماحول سازگار ہونے پر لوٹ آئے، تو لوگ ایسے لیڈر کو بزدلی دکھانے والا یا موقع پرست خیال کرتے ہوئے عوامی قائد کا رتبہ نہیں دیتے۔ اور نہ تاریخ میں ایسے لوگ بڑے مقام کے حقدار قرار پاتے ہیں۔
ان دنوں ہماری سپریم جوڈیشری نے جس طرح نصف صدی بعد بھٹو کا کیس ”جوڈیشل مرڈر“ کہتے ہوئے اٹھایا ہے اس پر بھی ہمارے ممدوح ذی شان کا استدلال ہے کہ ضیائی سیاہ تاریخ کی درستی ہونی چاہیے اس لیے کہ تاریخ کی سب سے بڑی ناانصائیاں انصاف کے ایوانوں میں ہوئی ہیں اور پھر جن لوگوں نے یہ ظلم ڈھایا تھا۔ مولوی مشتاق سے لے کر انوارالحق اور ضیاالحق تک ان سب کے ساتھ اس دنیا میں ہی قدرت کے انتقام نے بہت برا سلوک کیا۔ مولوی مشتاق کے جنازے پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کردیا، اہل جنازہ بیچاری میت کو تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے۔ انوار الحق بھی آخری عمر میں تنہائی کا شکار ہوکر رخصت ہوئے۔ عالمی عدالت انصاف میں بھی بری طرح ہارے۔
یہ درویش پورے تقدس و احترام کے ساتھ عرض گزار ہے کہ کسی بھی تاریخی شخصیت کا جائزہ لیتے ہوئے ہم محض اس کے انجام یا زندگی کے اختتام کو پیش نظر نہیں رکھتے اور نہ ہی رکھنا چاہیے۔ دنیا میں ایسی بڑی بڑی جلیل القدر ہستیاں ہو گزری ہیں جنہوں نے زندگی بھر کمال کی جدوجہد کی۔ لیکن دنیاوی طور پر اختتام کوئی اچھا نہیں گردانا جاسکتا۔ باوقار طریقے سے جنازہ بھی نصیب نہ ہوا۔ لاشوں کی بھی اس برے طریقے سے بے حرمتی کی گئی کہ ان کا مثلہ بنا ڈالا گیا۔ سر کہیں اور دھڑ کہیں دفن کیا گیا۔ اولوالعزم شخصیات کی لاشیں سولی پر لٹکائے رکھی گئیں تاوقتیکہ وہ سڑ گئیں اور قانون فطرت کے تحت ان سے بو آنے لگی۔ ان کے برعکس کئی ایسی پاپی شخصیات بھی ہو گزری ہیں جنہوں نے زندگی بھر دوسروں کا جینا حرام کیے رکھا، خلق خدا ان سے دکھی رہی لیکن وقت آخر نہ صرف یہ کہ وہ سکون کے ساتھ مریں بلکہ عطر اور خوشبووں کی مہک میں پورے قومی وقار تزک و احترام اور تقدس کے ساتھ بھرپور اور تاحد نگاہ جنازوں کے ہمراہ لحد میں اتارتے ہوئے سپرد خاک کی گئیں۔
اس حوالے سے درویش کے سامنے ہر دو اطراف کے بڑے بڑے اسمائے گرامی موجود ہیں لیکن کسی کی دل آزادی نہ ہوجائے، اس لیے ان کا اندراج کرنے سے احتراز کررہا ہے۔ یہ زندگی انسان کیلئے قدرت کا خوبصورت ترین عطیہ ہے۔ ہم سب کو حتی المقدور اس سے پیار کرتے ہوئے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ زندہ رہیں گے تو کچھ کریں گے ورنہ مرنا کون سا مشکل ہے۔ اس کیلئے کسی نائن الیون یا 9مئی کی بھی ضرورت نہیں۔ موت تو سڑک پر بے یارو مددگار کسی ایکسیڈنٹ میں بھی آسکتی ہے۔ کسی جنونی کی نفرت بھی اسے اپنی بھینٹ چڑھا سکتی ہے۔ لیکن حکم دیا گیا ہے کہ ’خود کو ہلاکت میں مت ڈالو‘۔
اصل چیز انجام یا اختتام نہیں۔ کتاب حیات کے وہ تمام ابواب ہیں جن میں ہماری کارکردگی کا اندراج ہوتا ہے۔ انسانی کاوش یہ ہونی چاہیے کہ اس میں انسانیت سے محبت و خدمت کے کتنے ابواب ہیں؟ زندگی بھر آپ کی سچی لگن اور جدوجہد کیا رہی ہے؟ درویش ہمیشہ اپنے مسیحی
دوستوں سے کہتا ہے کہ تم لوگوں نے سارا زور یا سارا دین صلیب پر استوار کر رکھا ہے حالانکہ صلیب پر اختتام ہولی جیسس کی ہرگز چائیس نہ تھی۔ یہ اذیت تو ظالم سماج نے ان پر مسلط کر دی تھی جس سے بچنے کیلئے آپ جناب نے اچھی خاصی تگ و دوبھی کی۔ لہذا اصل چیز انجام یا اختتام نہیں سچی لگن تعلیمات اور زندگی کی بھرپور جہدوجہد ہوتی ہے۔ آپ لوگ اس پر فوکس کرو۔ ناچیز اکثر اپنے شیعہ بھائیوں کی خدمت میں عرض گزار ہوتا ہے کہ حسنین ؑشریفین دونوں ہی ہمارے مقدس امام ہیں لیکن یہ اپنی اپنی ترجیح ہے کہ آپ ہر دو مقدسات میں سے کس کو زیادہ ترجیح دیتے یا اپنے لیے آئیڈیل بناتے ہیں۔ اس درویش کو تب یا ان دنوں سیدنا حسن ؑ جیسا مدبر ذہین اور دانا شاید کوئی اور نہیں دکھائی دیا۔ گو انجام میں بھائی سے ایک نوع کا اشتراک ہے۔ حادثاتی طور پر کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن یقیناً و ہ ہیومن پرائیریٹی نہیں ہوتی حالات و واقعات کا جبر ہوتا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ ”خود کو آزمائیش میں مت ڈالو“۔ اس سے بچنے کی ہر ممکن کاوش کرو۔ لیکن کیا کریں بارہا گلے پڑا ڈھول بجانا پڑتا ہے۔ جو بھی ہے دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہم سب نے اپنی نئی نسلوں کیلئے کون سا رویہ یا اسوۃ حسنہ چھوڑ کر جانا ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کیلئے پھولوں کا چناؤ کرنا ہے یا کانٹوں کا؟ مسلط کیے گئے یا تھوپے گئے دی اینڈ کے بالمقابل پسند کیے گئے انجام و اختتام میں فر ق جان کر جیو۔
دوریش بنیادی طور پر مولوی ہے، اس لیے بات کہیں اور چلی گئی۔ عرض ِ مدعا یہ ہے کہ ہم بھٹو اور نواز شریف کے طرز عمل کا تقابل ضرور کریں لیکن ہمیشہ یہ پیش نظر رہے کہ ہماری نئی نسلوں کو امن، ترقی، سلامتی اور محبت بھری زندگی ملے۔ یہ تو خوش قسمتی تھی کہ اس شخص کو محترمہ بے نظیر جیسی باصلاحیت بیٹی میسر آگئی، جس نے مردہ بھٹو کو زندہ کردیا۔ ورنہ اگر وہ نہ ہوتی اور بات نورینہ اولاد پر آتی تو ایسے کئی شہید آئے اور گئے، کوئی بات بھی نہ ہوتی۔ ہم میں سے شاید اندر سے کوئی ایک شخص بھی نہیں چاہے گا کہ اسے اس نوع کی زندگی ملے جس میں انا پرستی، غرور و تکبر کی رعونت اس حد تک بھری ہو جس نے زندگی بھر اپنے سیاسی مخالفین کا جینا حرام کیے رکھا ہو۔ وہ وہ القابات جاری فرمائے ہوں کہ الامان و الحفیظ اور پھر جس طرح وہ شخص بر سر اقتدار آیا اور جس طرح ہٹایا گیا ایک عوامی جمہوری ذہن اسے آئیڈیل قرار دینا تو دور کی بات قبول بھی کیسے کرسکتا ہے؟
مانا کہ ٹرائل میں مسلمہ قانونی ضوابط نہیں اپنائے گئے، اس لیے سزا عمر قید میں تبدیل ہوسکتی تھی لیکن نواب محمد احمد خاں کا قتل جس طرح ہوا ہے اس کے پیچھے کون تھا؟ قانونی موشگافیوں سے ہٹ کر جائزہ لیں تو اصلیت تک پہنچنے میں کوئی اشتبا ہ نہیں۔ لہذا گڑھے مردے اکھیڑنے کی بجائے کیا یہ بہتر نہیں کہ جو لوگ زندہ ہیں اور ان کے ساتھ بے انصافیاں ہوئی ہیں یا اگر کہیں ہورہی ہیں ہم اس کے مداوے یا تلافی کیلئے کچھ کریں۔ کیونکہ اگر نصف صدی قدیمی مقدمہ اٹھے گا تو پھر اس نوع کے ایک سو ایک مزید مقدمات پر بھی اسی نوع کے تقاضے ناقابل عمل و فہم نہیں گردانے جاسکیں گے۔ پھر درویش یہ چاہے گا کہ تمام آمروں کے کیسز بھی ری اوپن فرمائیں۔