گروہی خواہشات کی اسیر سیاست
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 29 / دسمبر / 2023
پاکستان میں انتخابات کا غلغلہ ہے۔ ایک طرف معمول کی انتخابی سرگرمیاں دکھائی نہیں دیتیں تو دوسری طرف جوڑ توڑ، سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور سیاسی گٹھ جوڑ کے لیے رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت ملک میں انتخابات دو حوالوں سے اہم سمجھے جارہے ہیں۔ ایک تو یہ پاکستانی عوام کا بنیادی آئینی حق ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرے ملکی معاشی صورت حال میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ کوئی مضبوط اور نمائیندہ حکومت قائم ہو تاکہ معاشی مسائل کا کوئی دیرپا اور حتمی حل تلاش کیا جاسکے۔
سپریم کورٹ کی طرف سے 8 فروری کو عام انتخابات منعقد کروانے کا حکم سامنے آنے سے پہلے تو یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آنے لگی تھیں کہ کسی نہ کسی عذر پر انتخابات ملتوی کروادیے جائیں تاکہ موجودہ نگران حکومت ہی معاشی امور کے حوالے سے غیر مقبول اور ٹھوس فیصلے کرسکے ۔ خیال تھا کہ اس طرح معیشت کی بنیاد تیار کی جاسکے گی ، اس کے بعد انتخابات اور منتخب حکومت کے چونچلے بھی ہوتے رہیں گے۔ البتہ سپریم کورٹ راستے کی رکاوٹ بن گئی ۔ لیکن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ فیصلہ کرنے والی طاقتیں ایسی رکاوٹوں کو خاطر میں نہیں لاتیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ اشارے بھی محسوس کیے گئے ہیں کہ معاشی بحالی کے لئے جن منصوبوں پر کام کرنا مطلوب ہے، اس کے لیے دوست ممالک اور عالمی مالی اداروں کا تعاون درکار ہے۔ ملک کو قرض دینے والے یا سرمایہ کاری پر راضی ہونے والے ادارے و ممالک اس وقت تک کسی ٹھوس پیش قدمی سے گریز کررہے ہیں جب تک پاکستان میں کوئی قابل اعتبار اور پائدار حکومت موجود نہ ہو۔
گو کہ عالمی مالی ادارے اور سرمایہ کاری میں دلچسپی لینے والے عرب ممالک مختلف وجوہ کی بنیاد پر پاکستان میں منتخب حکومت کی خواہش رکھتے ہیں۔ عالمی اداروں پر امریکہ اور اس کے حامی ممالک کا اثر و رسوخ ہے لہذا خواہ برائے نام ہی سہی لیکن یہ ادارے کسی ملک کو مالی تعاون فراہم کرنے کے لیے ایسی حکومت کا تقاضہ کرتے ہیں جو عوامی خواہشات کے مطابق کام کررہی ہو۔ پاکستان میں چونکہ آئینی جمہوری نظام کو تسلیم کیا جاتا ہے، اس لیے آئی ایم ایف یا ورلڈ بنک یا دوسرے مالی ادارے کسی حتمی اور ٹھوس معاہدے کے لیے جمہوری حکومت کی توقع کرتے ہیں۔ نگران حکومت کا موجودہ طریقہ ملکی آئین کے مطابق بھی عارضی اور عبوری ہے لیکن پاکستان کی مالی ضرورتیں زیادہ اور طویل المدت ہیں۔ اس لیے ان اداروں کی خواہش ہے کہ وہ کسی ایسی حکومت کے ساتھ معاملات کریں جس کی بنیاد قانونی ہو اور وہ ایک مقررہ مدت کے لیے کسی متفقہ طریقہ کار کے مطابق قائم کی جائے۔ پاکستان میں ایسی حکومت انتخابات کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں قائد ایوان چن کر ہی قائم ہوسکتی ہے۔
عرب ممالک نے پاکستانی حکام کو سرمایہ کاری کی امید دلائی ہوئی ہے۔ موجودہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے علاوہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی عرب ممالک سے ایک سو ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کے اشارے دے چکے ہیں۔ تاہم پاکستان میں چونکہ مسلسل سیاسی انتشار کی کیفیت ہے اور سیاسی پارٹیاں کسی بھی قسم کے اتفاق رائے کا مظاہرہ نہیں کرسکیں ، بلکہ انتخابات کی گرما گرمی میں وہ جماعتیں بھی ایک دوسرے کے لتے لے رہی ہیں جو چند ماہ پہلے شیر و شکر ہوکر مخلوط حکومت چلارہی تھیں۔ اس کے علاوہ سابق حکمران جماعت تحریک انصاف کا معاملہ بھی بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے مسلسل پریشانی یا ہچکچاہٹ کا باعث بنا ہؤا ہے۔ یہ پارٹی مسلسل ریاستی عتاب کا شکار ہے۔ نہ تحریک انصاف کی قیادت نے کوئی مفاہمانہ طرز عمل اختیار کیا ہے اور نہ ہی ریاست کی جانب سے رعایت دینے کا اشارہ دیا جارہا ہے۔ اب بھی سانحہ 9 مئی کا حوالہ دے کر پارٹی کو معتوب کیا جاتاہے اور اس کے بیشتر لیڈروں پر مقدمات قائم ہیں۔ دو روز پہلے اڈیالہ جیل سے بھونڈے اور پرتشدد انداز میں شاہ محمود قریشی کی گرفتاری ریاستی ناراضی کا محض ایک نمونہ ہے۔
اس دوران میں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے تحریک انصاف کو کچھ ریلیف دیا ہے۔ جیسے آج ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے یک رکنی بنچ نے تحریک انصاف کی طرف سے عمران خان سے پارٹی قیادت کی ملاقات کے حوالے سے پٹیشن پر سماعت کے دوران نگران حکومت کے رویہ پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ۔ جسٹس میاں گل اورنگ زیب نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’ نگران حکومت کے تحت خوفناک نظام چل رہا ہے۔ ایک سیاسی پارٹی کو انتخابی مشاورت کی اجازت بھی نہیں دی جارہی۔ کیا نگران حکومت انتخابات ڈی ریل کرنا چاہتی ہے؟‘ اس سے پہلے پشاور ہائی کورٹ کا ایک رکنی بنچ الیکشن کمیشن کی طرف سے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات مسترد کرنے اور بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلہ کو معطل کر چکا ہے۔ اس طرح انتخابی عمل کے بارے میں عدالتوں کی طرف سے مسلسل رکاوٹ ڈالنے کے علاوہ بے یقینی میں اضافہ ہورہا ہے۔
سرمایہ کاری کرنے والے عرب ممالک کے نقطہ نظر سے یہ سیاسی کشیدگی اور بے یقینی ملک کے مستقبل کے بارے میں متعدد سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اس لیے وہ بھی اس وقت تک سرمایہ کاری کے وعدوں کو کسی باقاعدہ معاہدے میں تبدیل کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے جب تک ملک کا سیاسی ماحول صاف نہیں ہوتا اور یہ طے نہیں ہوجاتا کہ کون سی پارٹی حکومت بنائے گی اور کیا اسے امن و سکون سے کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ البتہ اب انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے اور تحریک انصاف کی طرف سے ہراسانی کے الزامات نے بے یقینی کم کرنے کی بجائے ، اس میں اضافہ کیا ہے۔
اس وقت کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ اگر تحریک انصاف کو اپنی خواہش کے مطابق کامیابی نہیں ملتی تو وہ کیا رویہ اختیار کرے گی اور اگر وہ کامیاب ہوکر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی تو کیا ریاست اہم پارٹی لیڈروں کے خلاف 9 مئی کو ملکی سالمیت کے لیے خطرہ بننے کے الزامات واپس لے لے گی اور عسکری ادارے خوش اسلوبی سے اس کے ساتھ ایک بار پھر تعاون پر آمادہ ہوجائیں گے؟ اور جیسا کہ قیاس کیا جارہا ہے کہ اگر کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی اور ایک کمزور مخلوط حکومت قائم ہوئی تو وہ کیسے عالمی اداروں اور دوست ممالک کا اعتبار جیت سکے گی۔ اور انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دینے والی سیاسی جماعت کے احتجاج سے کیسے نمٹا جائے گا۔ یہ سارے معاملات ملک میں جمہوریت سے بھی زیادہ ملکی معیشت کے احیا اور ایک باوقار ملک کے طور پر پاکستان کے وجود کے لیے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
ملکی حالات کا سیاسی جماعتوں کے نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ ہر پارٹی ایک مخصوص آئیڈیل صورت حال کا تصور کیے ہوئے ہے۔ ان میں سے جسے اختیار حاصل ہؤا تو وہ ملکی منظر نامہ کو بعینہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ معاملات کی سنگینی کا اندازہ کرنے کے لیے چند اہم سیاسی پارٹیوں کے نقطہ نظر سے پیدا ہونے والے حالات کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کریں تو درج زیل تصویر بنتی ہے:
تحریک انصاف: دوتہائی اکثریت ملنے کے بعد ملکی نظام کو مکمل طور سے تبدیل کردیا جائے گا۔ اس میں اولین اقدام ان تمام سیاسی لیڈروں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے جنہیں بانی تحریک انصاف بدعنوان، قومی خزانہ لوٹنے والے اور ملک دشمن سمجھتے ہیں۔ مخالفانہ فیصلے کرنے والی عدالتوں کو کنٹرول کرنے کا اہتمام کیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ عسکری قیادت کسی چوں و چرا کے بغیر پی ٹی آئی حکومت کے تابع فرمان ہو۔ ناپسندیدہ جرنیلوں کو عمران خان کے حکم پر فارغ کیا جائے اور کسی پسندیدہ جنرل کو فوج کی کمان سونپ کر ملک میں سیاسی استحکام پیدا کیا جائے۔ ہمارے خیال میں اکثر سیاسی جماعتوں ملکی مفاد کے خلاف کام کرتی رہی ہیں، اس لیے انہیں پابند کیا جائے۔ آئینی تبدیلی کے ذریعے ملک میں ایسا ایک پارٹی نظام یا شخصی حکومت قائم کردی جائے، جس میں صوبے کمزور اور مرکز مضبوط ہو۔
مسلم لیگ (ن): امید تو دو تہائی کی کرنی چاہئے لیکن اگر پنجاب اور مرکز میں اکثریت ہی مل گئی تو تحریک انصاف کے سیاسی راستے مسدود کیے جائیں۔ عمران خان کو سائفر کیس میں ملک سے غداری، القادر کیس میں قومی خزانہ لوٹنے اور توشہ خانہ کیس میں خیانت کے الزامات میں طویل سزائیں دلوائی جائیں۔ فوجی قیادت کو خوش رکھا جائے اور سول ملٹری ہم آہنگی کے لیے پسندیدہ جنرلوں کو توسیع دی جائے جبکہ ان کے ذریعے ناپسندیدہ عناصر کو فارغ کیا جائے۔ اسی طرح اعلیٰ عدلیہ کی تطہیر کی جائے۔ پسندیدہ ججوں کو ہائی کورٹس سے سپریم کورٹ میں پہنچایا جائے اور سپریم کورٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہو تو قانون سازی کیا جائے۔ دو تہائی اکثریت مل گئی تو متعدد آئینی تبدیلیوں کے ذریعے ایسا انتظام کیا جائے کہ آئیندہ ایک دہائی تک مسلم لیگ (ن) کو کوئی سیاسی قوت چیلنج نہ کرسکے۔
پاکستان پیپلز پارٹی: کسی بھی طرح سندھ میں سیاسی غلبہ برقرار رکھا جائے۔ کوشش ہو کہ کراچی اور شہری علاقوں میں تحریک انصاف کے بعد خالی ہونے والی جگہ کو پیپلز پارٹی پر کرے۔ جنوبی پنجاب ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں کامیابی حاصل کرکے قومی اسمبلی کی اتنی نشستیں حاصل کرلی جائیں کہ بلاول بھٹو زرداری ملک کا وزیر اعظم بن سکیں۔ اس مقصد کے لیے کسی بھی سیاسی الائینس یا فوجی قیادت کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت سے گریز نہ کیا جائے۔ اقتدار ملنے کے بعد سیاسی انتقام نہ لینے کا اعلان کیا جائے لیکن تحریک انصاف کی دوسرے درجے کی قیادت کو باور کروا دیا جائے کہ پیپلز پارٹی کے سوا کوئی انہیں سیاسی میدان میں واپس لانے میں مدد نہیں کرسکتا۔ البتہ عسکری قیادت کی ناراضی کو سامنے رکھتے ہوئے سانحہ 9 مئی میں ملوث لوگوں کو سزا دینے سے تعرض نہ کیا جائے اور فوج کے لیے جو سیاسی لیڈر قابل قبول نہیں ہیں، انہیں نظرانداز کیا جائے ۔ وہ جانیں اور فوجی قیادت۔
ان تین بڑی پارٹیوں کے علاوہ دیگر چھوٹی پارٹیوں کی آئیڈیل صورت حال بھی سیاسی خواہشات ہی کے گرد گھومتی ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ انتخابات قریب آنے کے باوجود کسی پارٹی کے پاس معاشی احیا، سیاسی استحکام، سفارتی مصالحت اور بین الملکی تعلقات کی بہتری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ سیاسی لیڈروں کی اولین ترجیح اقتدار کا حصول اور سیاسی مخالفین کو سبق سکھانا ہے۔ ملکی مفادات کسی لیڈر کی ترجیح دکھائی نہیں دیتے۔ اسی لیے اس بارے میں سیاسی منشور بھی نظر نہیں آتے۔