جنرل صاحب ! زرعی انقلاب لانے کی بجائے ، شفاف انتخابات یقینی بنائیے

چھوٹا منہ بڑی بات لیکن آرمی چیف سے پوچھنا تھا کہ کیا انہیں یہ عہدہ جلیلہ ملک میں زرعی انقلاب برپا کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ ہر کسی کو ملکی بہبود کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت ہے لیکن  انتخابات کے بارے میں چیف جسٹس کے الفاظ سے استفادہ کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ : جنرل عاصم منیر سمیت ہر کوئی قومی معاملات   کے بارے میں   پریشانیوں پر اپنے گھر میں  بات کرلے لیکن پبلک ڈومین میں  اسی معاملہ  پر منہ کھولا جائے جس  کے لیے غریب قوم اپنا پیٹ کاٹ کر اسے تنخواہ  اور سہولتیں فراہم کرتی ہے۔

صاف لفظوں میں  اس کا یہ مطلب ہے کہ آرمی چیف ملک میں گرین انقلاب برپا کرنے کی بجائے،  دفاع پر توجہ دیں۔ قومی سلامتی کو یقینی بنائیں  اور عوام کے علاوہ خواص میں احساس تحفظ  پیداکریں۔ ملک اس وقت دہشت گردوں کے نشانے پر  ہے۔ خاص طور سی سکیورٹی فورسز کو  ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔  ملک میں انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔ متعدد سیاسی پارٹیاں  ملک کے دو صوبوں  میں امن و امان کی خراب صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی پریشانی کا اندازہ تو ان کے اس بیان سے کیا جاسکتا ہے   جس میں انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ اگر انتخابی مہم کے دوران ان کی پارٹی کا کوئی کارکن ہلاک  ہوگیا تو چیف الیکشن کمشنر اورچیف جسٹس اس کے براہ راست ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے شاید جنرل عاصم منیر کا لحاظ کرتے ہوئے ان کا نام نہیں لیا ورنہ   دہشت گردوں سے حفاظت کی ذمہ داری تو  عسکری  اداروں ہی پر عائد ہوتی ہے۔  کسی کوتاہی کی ذمہ داری بھی  انہیں  ہی قبول کرنا پڑتی  ہے۔

گزشتہ روز ہی کور کمانڈر کانفرنس میں انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو تمام ضروری سہولت اور فوجی جوان فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔  لیکن اگر یہ انتظامات سیاسی لیڈروں کے خوف میں کمی نہیں کرپاتے بلکہ ان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے تو اس کی جوابدہی بھی انہی اداروں سے ہونی چاہئے  جنہیں قوم نے  حفاظت کے لیے متعین کیا ہے۔  اس کی بجائے وزارت داخلہ نے مولانا فضل الرحمان سمیت  بعض سیاسی لیڈروں کی زندگی کو لاحق خطرات کا ’نوٹس‘ جاری کردیا ہے۔ وزارت داخلہ کے اس اعلامیہ  سے کیا نتیجہ اخذ کیاجائے؟  کہ   حکومت اور اس کے ادارے یہ بتاکر بری الذمہ ہوگئے کہ فلاں فلاں لیڈر کی جان  کو خطرہ ہے۔ اب ملک میں انتخاب ہو یا قیامت آئے، وہ یا تو منہ چھپا کر گھر بیٹھے رہیں یا پھر حکومت ان  پر ہونے والے حملے ک ذمہ دار  نہیں ہوگی۔ کیا  ریاست کا  یہ رویہ قبول کیا جاسکتا ہے؟

دریں  حالات  سب سے مناسب تو یہی ہے کہ  فوجی قیادت اور خاص طور سے آرمی چیف معاشی اصلاح اور زرعی ترقی  جیسے معاملات پر اپنی صلاحیت اور وقت صرف کرنے کی بجائے  پوری توجہ سکیورٹی کے معاملات پر مرکوز کریں۔  فوج کی طرف سے الیکشن کمیشن کو تمام ضروری سہولت فرا ہم کرنے کا اولین مقصد تو یہی ہے کہ   ملک میں  سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی جلسوں  و  ملاقاتوں کی حفاظت کا مکمل اہتمام کیاجائے ۔ اور  پولنگ والے دن فوج  اس بات کو یقینی بنائے گی کہ  امن و امان کا  کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ بلکہ ہر کسی کو اپنی پسندیدہ پارٹی کوووٹ دینے کی آزادی ہو۔

ماضی میں  فوج پر سیاسی  معاملات میں مداخلت اور انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کے سنگین الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ اس وقت خاص طور سے تحریک انصاف کی طرف سے مسلسل یہ شورمچایا جارہا ہے کہ  انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے ریاستی  ادارے  متحرک ہیں اور نگران حکومتیں  تحریک انصاف کو   لیول پلئینگ فیلڈ دینے میں ناکام ہیں۔ حتی کہ اعلیٰ عدلیہ  کے قابل احترام جج حضرات کے ریمارکس میں بھی ان شکایات کو جگہ ملنے لگی ہے۔ میڈیا رپورٹس دیکھی جائیں تو یہ تاثر قوی ہوتا ہے ۔ تمام تر سنسر شپ کے باوجود ان خبروں کو چھپانا ممکن  نہیں کہ  تحریک انصاف کے اہم لیڈروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جارہے ہیں، اس کے امیدوار یا ان کے اعزہ کو ہراساں کیا جارہا ہے، لوگ گرفتار ہورہے ہیں اور ایسی مشتبہ اور پریشان کن صورت حال پیدا کردی گئی ہے کہ ایک پارٹی ابھی سے  انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھا رہی ہے۔ اگر یہ اندیشے درست ثابت ہوگئے تو  ممکنہ احتجاج اور ملکی سیاست  پر اس کے اثرات  کو کیسے کنٹرول کیا جاسکے گا؟

الیکشن کمیشن پر منصفانہ انتخابات کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی  ہے۔   اس مقصد کے لیے نگران حکومتیں  الیکشن کمیشن  سے مکمل تعاون کرنے اور اس کی ہدایات کے مطابق جانبدار افسروں کو انتخابی انتظامات سے دور رکھنے کی  ذمہ دار ہوتی ہیں۔ حکومت کے زیر نگین ادارے کے طور پر تمام سکیورٹی فورسز  حسب ضرورت حفاظتی انتظامات کرنے  اور نقص امن کی عمومی شکایات دور کرنے میں  ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے پابند ہوتی ہیں۔  فوج  نے  اسی  اصول کے تحت انتخابات کے دوران مستعدی سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا اہتمام کیا ہے۔  اس وقت حقائق کے بارے میں جو دھند پھیلا دی گئی ہے، اس میں سچ دھندلایا ہؤا ہے۔ ا س کی وجہ سے کسی کے لیے بھی یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ  کس پارٹی  کو عوام میں  کتنی مقبولیت  حاصل ہے۔

انتخابی تکنیک کے طور پر ہر پارٹی یہی تاثر دینے کی  کوشش کررہی ہے کہ وہی انتخابات سویپ کرے گی اور تین چوتھائی نہیں تو دو تہائی اکثریت حاصل کرلے گی۔ ہر ہوشمند جانتا ہے کہ کسی طرف سے بھی ایسے دعوے حقائق  کے مطابق نہیں ہیں۔ تاہم  انتخابی عمل میں اور خاص طور سے کاغذات نامزدگی داخل کروانے اور ان کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آنے والی صورت حال  سے  ایک پارٹی کو ہیرا پھیری کے دعوؤں کا شور مچانے کا غیر ضروری موقع فراہم کیا گیا ہے۔   دیکھا جائے تو یہ معاملہ زرعی ترقی  کے مقابلے میں قومی سلامتی سے براہ راست منسلک ہے۔ پاک فوج کے سربراہ کو  زعی انقلاب  کا پرچار کرنے کی بجائے انتخابات کے دوران پر امن حالات فراہم کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اپنی نیک  نامی اور  شہرت کے لیے بھی انتخابی عمل میں فوج کو غیر جانبداری کا ماحول پیدا کرنا چاہئے۔  ماضی قریب میں سیاست میں فوجی قیادت کی دلچسپی اور اثر و رسوخ کی وجہ سے اس وقت ملک میں عام طور سے یہ ماحول بن چکا ہے کہ کسی بھی خرابی کی ذمہ داری براہ راست فوجی اداروں پر عائد کردی جائے۔ اس بارے  میں کسی ثبوت یا شواہد کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔  گویا     خواہ تاثر مبنی بر  حقیقت نہ ہی ہو کہ فوج  8 فروری 2024 کو ہونے والے انتخابات مائیکرو منیج کرنے کی کوشش کررہی  ہے لیکن یہ   بات اب نقارہ خدا بن چکی ہے اور  ’باخبر اور بے خبر‘ یکساں طور سے یہ ڈھنڈورا پیٹ  رہے ہیں کہ فوج کسی صورت تحریک انصاف کو انتخاب جیتنے نہیں دے گی۔   ہو سکتا ہے کہ فوج میں بھی یہ سوچ کسی حد تک موجود ہو کہ تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی سے ملک کا فائدہ نہیں ہوگا لیکن   اس بات کی  تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ فوجی ادارے  انتخابات  میں مرضی کے نتائج سامنے لانے کے لیے متحرک ہیں۔ اس  لیے انتخابی نظام میں کام کرنے والے سول حکام جب ایک خاص پارٹی  کے کارکنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں یا ان کے  کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی خبریں شہ سرخیوں میں جگہ پارہی ہیں تو اس کا بوجھ بہر حال فوج پر ہی پڑے گا۔  انتخابات کے بارے میں شفافیت کا ماحول پیدا کرنا فوج کے وقار اور عوام  میں  عزت ا حترام کے لیے بے حد اہم ہوچکا ہے۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ان حالات میں  کسانوں کے کنونشن  سے خطاب کرتے ہوئے  کہا ہے کہ ’ پاکستان سے متعلق افواہیں اور سوشل میڈیا پر مایوسی پھیلا کر تاثر دیا جاتا ہے کہ ریاست وجود کھو چکی لیکن ہم قوم کے ساتھ مل کر ہر مافیا کی سرکوبی کریں گے‘۔  ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ زراعت اور گلہ بانی تقریباً ہر نبی کا پیشہ رہا ہے کیونکہ اس پیشے میں ڈسپلن، تکلیف، نمو اور صبر شامل ہیں جن کے نتیجے میں بے تحاشا انعامات ملتے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں افواہیں اور منفی باتیں بتائی جا رہی ہیں لیکن آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ کلمہ کے نام پر دو ہی ریاستیں قائم ہوئیں۔ ریاست طیبہ اور ریاست پاکستان، یہ محض اتفاق نہیں ہے۔پاکستان وسائل سے مالا مال ہے۔گرین پاکستان انیشیٹیو کا مقصد سب سے پہلے زراعت پر کام کرنا ہے۔ گرین پاکستان انیشیٹیو کی آمدن کا بڑا حصہ صوبوں کو جائے گا جبکہ باقی حصہ کسانوں اور زرعی ریسرچ کے لئے رکھا جائے گا۔  اس میں فوج کا  کردار صرف عوام اور کسانوں کی خدمت  ہے‘۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا فوج ملکی معیشت و سیاست کے حوالے سے  اپنے کردار کا تعین خود کرسکتی ہے اور اہداف مقرر کرکے ان پر عمل درآمد  کو اپنا فرض منصبی قرار دے سکتی ہے یا ملکی آئین کے مطابق منتخب پارلیمنٹ اور حکومت کو اس کا حق حاصل ہے۔ اب فوج نے کمرشل فارمنگ کے نام پر ہر صوبے میں زمینیں حاصل کرکے زرعی انقلاب  برپا کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس منصوبہ کی منظوری نہ تو پارلیمنٹ نے دی ہے اور نہ ہی کسی   کابینہ نے  اس بارے میں باقاعدہ  فیصلہ کیا ۔ بلکہ  کوئی حکومت زراعت یا دیگر معاشی معاملات میں  اگر فوج کو ملوث کرنا  بھی چاہتی ہے تو اسے خود ہی ان امور میں حصہ داری سے انکار کردینا چاہئے۔ کیوں کہ معیشت میں فوج کے روز افزوں مفادات کی وجہ سے پہلے ہی متعدد سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ملک معاشی و سیاسی لحاظ سے جس صورت حال کا سامنا کررہا ہے، ان میں  قومی زندگی میں فوج ، افسران اور اس سے وابستہ اداروں کی مداخلت اور اثر و رسوخ  کم کرنے کی ضرورت ہے۔ جنرل عاصم منیر  اسی صورت میں منفی پروپیگنڈا کرنے والے ’مافیا‘ کے خلاف قوم کا اعتماد حاصل کرسکیں گے جب  عوام کو یہ یقین دلایا جائے گا کہ فوج کا  ہدف صرف قومی  سلامتی کو یقینی بنانا ہے ۔ وہ معاشی و سیاسی معاملات  میں حصہ دار نہیں ہے۔

فوجی جوانوں اور افسروں کی تربیت جنگی  حکمت عملی بنانے، ہتھیاروں کے استعمال اور تصادم کی صورت میں دشمن کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کے لیے  کی جاتی ہے۔ انہیں معاشی اقدامات ، زرعی اصلاحات نافذ کرنے یا انصاف فراہم کرنے  کی تربیت نہیں دی جاتی۔ اسی لیے فوج کو وہی کام کرنے چاہئیں جو وہ کرسکتی ہے اور باقی شعبوں کو ان لوگوں کے لیے چھوڑ دینا چاہئے جو  یہ کام کرنے کی بہتر  استعداد رکھتے ہیں۔

ملک اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ نگران حکومتیں آئین کی مقررہ  مدت سے کہیں زیادہ وقت سے   کام کررہی ہیں۔ اب عام انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے۔ ان  انتخابات کا قابل اعتبار انعقاد اور  ایک مضبوط اور فعال حکومت کا قیام ہی اس وقت ملکی مسائل کا واحد حل ہے۔ فوج  کی پوری توجہ بھی اسی طرف مبذول ہونی چاہئے۔ اگر  انتخابی دھاندلی اور  پہلے سے ’چنے ہوئے‘ لوگوں پر مشتمل حکومت  قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو  معاشی احیا یا قومی وقار کی بحالی کا منصوبہ ادھورا رہنے کا شدید اندیشہ ہے۔