نیا سال، نئی خوشیاں نئی امیدیں؟
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 31 / دسمبر / 2023
سال 2023اپنی تابناکیاں اور مایوسیاں دکھانے کے بعد رخصت ہونے کو ہے۔ 2024کی آمد آمد ہے لہذا ایسے موقع پرہر انسان یہ جائزہ لینا چاہے گا کہ اس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ نئے سال میں اسے اپنے اور ملک و قوم کیلئے کیا توقعات اور کیا خدشات ہیں؟
انسان کو کتنی ہی مشکلات درپیش ہوں پھر بھی یہ دنیا چونکہ امید پر قائم ہے، اس لیے وہ آنے والے ماہ و سال کو امید بھری نظروں سے دیکھتا ہے اور مستقبل کے حوالے سے خوشگوار توقعات وابستہ کرلیتا ہے۔ یہی امید اس میں نیا اعتماد، نیا ولولہ اور نئی امنگ پیدا کردیتی ہے۔ یہ وہ فطری اپروچ ہے جس کے زیر اثر پوری دنیا میں گزرے سال کے دکھوں کو بھلاتے ہوئے لوگ نئی تمناؤں کے ساتھ ہنستے گاتے اور سال ِ نو کی خوشیوں کا جشن مناتے ہیں۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان سے لے کر یورپ اور امریکا تک نئی امیدوں کی نئی روشنیاں بکھیری جاتی ہیں۔ لیکن ہمارے جیسے قدامت پرست پسماندہ فکر ملک میں روایتی مذہبیت والے تو رہے ایک طرف جو لال بجھکڑ بدقسمتی سے سیاست یا حکمرانی پر فائز ہوجاتے ہیں، وہ بھی اپنی ذات سے آگے نہ تو قوم کیلئے کچھ کرتے ہیں جس سے اس کے نونہالوں کو خوشی ملے اور نہ انہیں خوش دیکھ سکتے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ شعبدہ بازوں کو خوشی سے ایک نوع کی چڑ ہوتی ہے۔
حال ہی میں ایسے ایک مسخرے نے بیان داغا ہے بلکہ نشری خطاب فرمایا ہے کہ فلسطین اور حماس کی صورتحال کے باعث حکومت پاکستان کی طرف سے نئے سال کے موقع پر کسی بھی قسم کی تقریب کے انعقاد پر مکمل پابندی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ یہی شخص چند روز قبل یہ اعلان اور بیان جاری کرتا دکھائی دے رہا تھا کہ کشمیر ایشو پر پاکستان انڈیا کے ساتھ تین سو جنگیں لڑنے کو تیار ہے۔ کیا پاکستانی میڈیا کا یہ فرض نہیں بنتا کہ ایسے غیر ذمہ دار شخص کا محاکمہ کرتے ہوئے اس کی گوشمالی کرے کہ وہ کن آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے اس نوع کی بیان بازی کررہاہے؟
کیا پاکستان اس پوزیشن میں رہ گیا ہے کہ اب وہ انڈیا کے ساتھ ایک بھی جنگ لڑسکے۔ بقول طاقتور شخصیت ہمارے پاس تو ٹینکوں میں ڈالنے کیلئے تیل کے پیسے تک نہیں ہیں جبکہ یہ شخص اپنا خصوصی طیارہ بھگائے پھرتا ہے۔ امریکا سے یورپ تک، کس حیثیت میں؟ کئیر ٹیکر کا مطلب ہے تو الیکشن کروا اور گھر جا، تو امیر کویت کی تعزیت میں ایسے جارہا ہے جیسے تیرے بغیر اس کی نمازِ جنازہ ادا نہیں ہونی تھی۔ حالانکہ تیرے سے پہلے والا خوشامدی بھی اندر کی بات بتا چکا ہے کہ ہمارے دوست ممالک کے قائدین ہمیں دیکھتے ہی بولتے ہیں کہ یہ تو بھکاری آگیا ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ بھائیو! ہم بھکاری نہیں ہیں، بس یہ ہے کہ ذرا ہمارے حالات مندے ہوگئے ہیں اس لیے آپ مدد فرمائیں۔
بچے کسی کے بھی مریں افسوس ہوتا ہے۔ یہ رویہ نا قابل قبول ہے کہ فلسطینی بچوں کا تو ہمیں دکھ ہے اور یہودیوں کے بچے مارے جائیں گے تو ہم خوشی کے ساتھ جشن منائیں۔ اور بالفعل کیا یہاں ایسے طبقات موجود نہیں ہیں جو یہود کے بچے مرنے پر ایک دوسرے کو مبارکیں دیتے پائے گئے۔ نائن الیون اور ممبئی حملوں پر مٹھائیاں بانٹتے رہے۔ حضور یمن میں جو بچے مرے ہیں، کیا وہ بچےنہیں۔ یوکرائن میں جو بچے مرے ہیں، چائنہ میں نوجوانوں اور نونہالوں پر بدترین مظالم کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں، انہیں جس طرح اذیتوں کے ساتھ مار تے ہوۓ غائب کر دیا جاتا ہے، اسے تو ہمارا میڈیا بتانے اور دکھانے سے بھی قاصر ہے۔ کیا وہ بچے انسان نہیں ہیں؟ افغان بچے جو ہماری اس سرزمین پر پیدا ہوئے انہیں جس جبر کے ساتھ جانوروں کی طرح ٹرکوں میں پھینک کر یہاں سے نکالا جارہا ہے، ان کی چیخیں کیا کسی کو سنائی دے رہی ہیں۔ بلوچستان کے جو بچے اپنے بڑوں کی تصاویر اٹھائے آپ کے اسی شہر اسلام آباد میں اس سردی کے باوجود احتجاجی کیمپوں میں رو رہے ہیں، ان کے مسنگ یا لاپتہ والدین اور بھائیوں کا درد آپ کو کتنا محسوس ہوتا ہے؟
چھوڑ دیں یہ شعبدہ بازیاں۔ یہاں تو پہلے ہی ایسی مسلح تنظیمیں کم نہیں ہیں جو ہر سال ہمارے معصوموں کی خوشیوں پر دھاوا بول دیتی ہیں، جن کا ماننا ہے کہ اچھے مسلمان کو قہقہہ لگا کر ہنسنا ممنوع ہے۔ ناچنا گانا تو دور کی بات ہے۔ کلیپنگ کرنا بھی حرام ہے۔ ابھی چند روز قبل پوری دنیا میں ایک اولوالعزم نبی ؑ کی پیدائش کا دن کرسمس منایا گیا مگر یہاں بتلایا گیا کہ یہاں کرسمس منانا یا کسی کو کرسمس کی مبارکباد دینا بھی حرام ہے۔ خدا کے بندواپنے نونہالوں کی فطری و جائز خوشیوں کو بھی تم لوگوں نے آخر کیوں حرام بنا رکھا ہے۔ آپ لوگ کیوں ہمہ وقت انہیں سوگ اور مایوسیوں میں رکھنا چاہتے ہو۔ کچھ ان کی غربت، بے روزگار ی اور محرومیوں کا ہی خیال کرلو۔
سال 2023کیسا رہا ہے؟ ہمیں کون کون سی کامیابیاں نہیں مل سکیں جن کی توقعات ہمیں 2024کیلئے ہیں۔ بلاشبہ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ تباہ حال معشیت ہے جس کیلئے ہم آئی ایم ایف کے دست نگر ہیں۔ بلکہ معاشی تجزیہ کار ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2024میں بھی ہماری شرح ترقی یا نمو نہیں بڑھ پائے گی۔ دنیا کی یہ ترقی اگر 2.6سے 2.9تک رہے گی تو پاکستان کی شرح نمو کا جو تخمینہ آئی ایم ایف نے لگایا ہے وہ 2.5 ہے جبکہ ایشیائی ترقیاتی بنک نے یہ تخمینہ 1.9 لگایا ہے۔ اس کے بالمقابل بھارت جس سے ہم تین سو جنگیں لڑنا چاہتے ہیں، اسی رپورٹ کے مطابق اس کی شرع ترقی 6.4 فیصد رہے گی جو پوری دنیا میں سر فہرست ہے۔ ہمسایوں یا اقوام سے مسابقت کرنی ہے تو معاشی میدان میں کریں، تعلیمی و تحقیقی شعبہ جات میں کریں۔
اس سب کے باوجود درویش کی نظروں میں اہل وطن کیلئے سال2024کی خوشخبری یہ ہے کہ انڈیااور بنگلادیش سے لے کر امریکا تک کی طرح پاکستان میں بھی قومی انتخابات ہونے جارہے ہیں، جن سے یہ توقع باندھی جاسکتی ہے کہ ان صاف شفاف اور منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں یہاں عوام کی نمائندہ ایک مستحکم جمہوری حکومت قائم ہوجائے گی۔ جس طرح جائزے پیش کیے جارہے ہیں کہ ایک تجربہ کار منجھی ہوئی قیادت قوم کو ملنے جارہی ہے، ہماری آرزو ہے کہ اب پاکستان کو دوتہائی اکثریت والی ایسی جمہوری حکومت میسر آئے جو اتنی مستحکم ہو کہ نہ صرف اپنی ٹرم پوری کرے بلکہ جمہوریت و ترقی کا ویساہی تسلسل یہاں بھی قائم ہوجائے۔ جو اس وقت ہمسائیگی میں بھارت کو میسر ہے
اس کے بالمقابل یہاں دانشوری کے نام پر ایسے لوگ بھی پائے جارہے ہیں جو ہمارے سب سے بڑے میڈیا میں بیٹھ کر اتنی بھاری وغیر ذمہ دارانہ جسارت کرتے پائے جاتے ہیں کہ ’میں 8فروری کے الیکشن کو الیکشن نہیں سمجھتا‘۔ آزادی اظہار سب کا حق ہے لیکن اس کا دوہرا معیار افسوسناک ہے۔ ایک طرف یہ درویش رورہا ہے کہ مجھے ضمیر کے مطابق بولنے اور لکھنے کی اجازت نہیں، دوسری طرف ایسی بے لگامی کہ جو مرضی ہانکے جاؤ۔ یہ تو مابعد اٹھنے والی تباہی کی احتجاجی تحریک پر پہلے سے پیٹرول کا بندوبست و اہتمام کرنے والی شرارت ہے۔
حالانکہ دوسری طرف کھلے بندوں یہ کہا جارہا ہے کہ ’ایسے لگ رہا ہے موجودہ عدلیہ ماضی کی عدلیہ سے اپنا کردار الگ رکھنا چاہتی ہے‘۔ دوسرے لفظوں رائندہ درگاہ لوگوں کو عدالتی سہولت کاری فراہم کی جارہی ہے۔ جس پر ایک سیاستدان بلبلا اٹھا ہے کہ آخر ایک ہائیکورٹ کس
طرح پورے ملک سے متعلق فیصلہ کرسکتی ہے؟ انصاف کا تقاضا تھا کہ رشتے داری پر جج بنچ سے الگ ہوجاتا۔ ثابت ہوا کہ یہ عدلیہ کا کردار نہیں ”کھلاڑی پال سکیم“ کا بندیالی تسلسل ہے۔ پوری قوم اور میڈیا کا پیہم یہ مطالبہ رہا ہے کہ انڈیا کی طرح ہمارے ملک میں بھی الیکشن کمیشن کو اتنا طاقتور ہونا چاہیے کہ وہ کسی کی دھونس یا دباؤ میں نہ آئے۔ اس پس منظر میں د و اکائیوں کی کورٹس جو کچھ کر رہی ہیں، یہ قومی تقاضا تو نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن اگر پورے ملک کے لیے ہے تو اس کے خلاف اپیل کا حق بھی اسی عدالت کو ہونا چاہیے جو پورے ملک کیلیے ہے۔ اور جن لوگوں نے ریڈ لائن کراس کر رکھی ہے انہیں دوبارہ بربادی کے کھیل کا سر خیل کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
لہذا منافرت و تنازعات ابھارنے سے گریز کرتے ہوئے قومی مفاد کا خیال رکھا جائے۔ یہی سالِ نو کا پیغام ہے