کھوٹے سکے!

نواز شریف نے تحریک ِ انصاف سے اُسی دن ہار مان لی تھی جس دن گوجرانوالہ کے جلسے میں انہوں نے جنرل باجوا سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپ نے ہی سیاست میں یہ گند ڈالا ہے، اسے آپ ہی سمیٹیں گے۔ یہ ہمارے بس کا روگ نہیں ہے۔

دوسرے لفظوں میں وہ تب تک اکرام اللہ نیازی کے سپوت کی عوامی طاقت سے لرزیدہ تھے اور سمجھ چکے تھے کہ بوتل سے نکلے جن کو واپس بوتل میں ڈال کر بند کرنا ان کی پہنچ سے باہر ہے۔ ملک کے تین بار وزیراعظم رہ چکے ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد کا عوامی سطح پر یہ اعتراف شکست سیاسی بصیرت کے حامل افراد کے نزدیک بہت بڑا دھچکا تھا۔ کیونکہ نواز شریف کے بارے میں یہ تصور راسخ کیا گیا تھا کہ وہ مشکل سے مشکل حالات کا دلجمعی سے مقابلہ کرنے والے شخص ہیں، طاقتور حریف کے مدمقابل ڈٹ جانے والے ہیں۔

ہمیں تو اس بارے میں کبھی خوش فہمی نہیں رہی کیونکہ ہمارا تو یہی فارمولہ ہے کہ جو شخص اقتدار میں آنے کیلئے طاقت کے مراکز کی پشت پناہی حاصل کرنے میں لگ کرسب بھول جائے، وہ سونے کا بن کر بھی آجائے کبھی اچھا سیاست دان نہیں ہو سکتا۔ ضیاالحق کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جونیجو سے علیحدہ ہو کر موصوف نے ہمارے خیال کی تائید کی۔ پھر جنرل حمید گل کی تشکیل کردہ آئی جے آئی کی سیاست سے اقتدار حاصل کرنے کے لیے سرکاری فنڈز بھی لیے۔ اصغر خان کیس میں ساری تفصیلات دستاویزی شہادت کے طور پر موجود ہیں۔ اس حوالے سے مزید کچھ کہنا وقت کا زیاں ہے۔

آج کل کی مصروف ترین زندگی میں اتنا وقت کس کے پاس ہے کہ وہ خوامخواہ میں گڑے مردے اکھاڑنے میں ضائع کردے۔ اور مردے بھی وہ جنہیں آثارِ قدیمہ والے بھی اہمیت نہ دیں البتہ کباڑیوں کی بات اور ہے۔ انہیں تو کباڑ میں کوڑیوں کے مول کچھ بھی مل جائے، وہ خرید لیتے ہیں۔ کاروبارِ سیاست میں تو انتخابات کے موقع پر کاٹھ کباڑ بھی سونے کے باٹوں سے تُلتا ہے بشرطیکہ اس ڈیل کے فریقین کو اس کاروبار میں مہارت ہو اور وہ ردی کاغذ پر قائد اعظم کی تصویر کے نقوش ابھارنے کا جادو دکھا کر جاہل عوام کو باور کرا سکیں کہ یہ بوسیدہ کاغذ نہیں بلکہ کرنسی نوٹ ہی ہے جس سے بازار سے ضروریات زندگی خریدی جا سکتی ہیں۔ یہ الگ بات کہ یہ خستہ کرنسی نوٹ لے جانے والوں کو بازار میں جاکر اصحاب کہف کی طرح پتہ چلے کہ اس سکے کو متروک ہوئے تو صدیاں گزر چکی ہیں۔ مگر یہ پاکستان ہے جہاں کھوٹے سکے ہی سکہ رائج الوقت ہیں۔ کھرے سکے تو مزارات پر رکھے چندہ بکسوں میں ڈال کر منتیں مانی جاتی ہیں کہ کھوٹے سکے نوادرات کا بھاؤ پا کر ایوانِ اقتدار میں رکھے خزانوں تک رسائی پا لیں۔

بہرحال اس زبوں حالی میں بھی کسی نہ کسی طرف سے سونے جیسے کھرے سکے کی مترنم جھنکار کانوں میں رس گھول جاتی ہے۔ باور کراتی ہے کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں، جنہیں بازارِ سیاست اور بازارِ حصص کی تفریق کرنا آتی ہے۔ جواں سالہ سیاست دان بلاول بھٹو زرداری ایک ایسے کھنکتے ہوئے کھرے سکے کی دلکش اور دلآویز جھنکار ہے جسے بچپن میں ہی ادراک ہوگیا تھا کہ وہ جس راہ پر گامزن ہونے جارہا ہے۔ اسی راہ میں اس کے نانا اور ماما نے شہادتیں پائی ہیں۔ اس کے والد کو بھی یہی فکر لاحق رہی کہ کہیں ان کا اکلوتا فرزند ان کے کم ظرف دشمنوں کی گھناؤنی سازش کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ اس لئے وہ بیٹے کی ڈھال بن کر آگے بڑھنے میں مزاحم تھے مگر جواں ہمت اور حوصلہ مند بلاول کی سیاسی فراست اور دانش مندی دیکھ کر وہ بھی پوری قوم کی طرح اسے قوم کے دکھوں کا مداوا کرنے والا مسیحا سمجھتے ہوئے، اس کے لئے دعا گو ہیں۔ تاہم مجھے ان پیش گوئی کرنے والوں کی باتوں سے ڈر لگ رہا ہے جو یہ تو کہتے ہیں کہ بلاول کی سیاست زیادہ دیر نہیں چلے گی بلکہ اس کی جگہ آصفہ زرداری بھر پور کردار ادا کرے گی۔

کیوں اور کیسے بلاول سیاست میں نہیں رہے گا اس کی وجوہات بتانے سے سب گریزاں ہیں۔ اس سوال کا جواب آصف علی زرداری کا وہی خدشہ ہے جو انہیں بلاول کو سیاست میں پھونک پھونک کر پیش قدمی کی جانب متوجہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ خدا کرے کہ اس بار بلاول کے سر پر سہرا دیکھنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو۔

دو نظمیں پڑھ لیجیے :

آج کا کرب!

چائے بناتے ہوئے گیس کم ہوگئی

چولہا جلانے کی کوشش میں

آخری ماچس کی چار تیلیاں بھی جل بجھیں

چولہے پہ دھرے برتن میں سادہ پانی

چائے بننے کے انتظار میں

آنچ بھر حرارت کو ترستا ہے

اور میں

کڑوے کسیلے قہوے کے دو گھونٹ کو

سٹیل کا برتن اور مٹی کا جسم

ایک ہی کیفیت میں ہیں

ہماری امیدوں کے دیئے بجھانے والے

گھروں کے چولہے جلانے

اور پہیہ گھمانے کو درکار ایندھن کا

دھن بنا کے ڈکار چکے

دسمبر کے یخ بستہ موسم کی برفانی ہوائیں

ہڈیوں کا گودا قلفی کر رہی ہیں

آئس کریم پارلر میں تل دھرنے کو جگہ نہیں

باہر فٹ پاتھ پر بیٹھے بوڑھے بھکاری کی آنکھیں سرخ انگارہ بنی شعلے اگل رہی ہیں راہ چلتے لوگ معاف کر بابا کی گردان کرتے آتشیں ، خشمناک دیدوں کی حدت پہ ہاتھ تاپ رہے ہیں!

مکافات!

غزہ کی فضاؤں میں چکر لگاتی

آہنی چیلیں لوہے کے گرم انڈے پھینکتی

ان محلوں کو سلامی دیتی ہیں

جہاں عرب ملکوں کی اتحادی فوج کے جرنیل

انجانی زبانوں میں باتیں کرتے

کوئلوں پر پکے پہاڑی بکرے کے گوشت کے پارچے سرخ فرنچ شراب میں بھگوتے شاہوں اور شہزادوں کو حیوانی شہوتوں کی داد دیتے بھول رہے ہیں کہ ان کے بستروں پر تڑپتی لہو ہوتی عورتیں انہی کے گھروں سے لائی گئی ہیں!