مایوسیوں کے بادلوں میں چھپا نیا سال

2024 کا سورج ایک ایسے وقت  طلوع ہورہا ہے جب یورپ اور مشرق وسطی پر جنگ کے بادل چھائے ہیں۔ یوکرین جنگ نے معاشی لحاظ سے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اور مستحکم اور ٹھوس بنیادوں پر استوار یورپی معیشتوں  پر دباؤ میں اضافہ  ہؤاہے۔ غزہ میں اسرائیلی  جارحیت  و جنگ جوئی اور اس پر امریکہ کی خاموشی نے  نہ صرف مشرق وسطی  میں جنگ پھیلنے کے اندیشوں میں اضافہ کیا  ہے بلکہ  روزانہ کی بنیاد پر رونما ہونےوالے انسانی المیہ پر پوری دنیا سے انسان دوست آوازیں چیخ چیخ کر تھک رہی ہیں۔

اب جنگ پرانے زمانے کی  طرح کسی ایک علاقے یا دو ممالک کے درمیان  محدود  نہیں رہتی۔ تنازعہ  کسی بھی علاقے میں ہو، اس کے اثرات دنیا کا ہر باشندہ محسوس کرتا ہے۔  اسی لیے جنگ جوئی سے باز رہنے کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن پہلے روس نے یوکرین پر فروری 2022 میں حملہ کیا اور امریکہ کی قیادت میں نیٹو نے یوکرینی دفاع کی ’ذمہ داری‘ قبول کرکے اس جنگ کو توسیع  دینے  میں کردار ادا کیا۔ اب صورت حال اتنی بگڑ چکی ہے کہ یورپی ممالک میں اس جنگ کے خلاف رائے عامہ مسلسل تبدیل ہورہی ہے۔ روس کے ساتھ تنازعہ کی وجہ سے ایک طرف جنگی مصارف اور یوکرینی  پناہ گزینوں کو آباد کرنے کا  بوجھ بیشتر  یورپی ممالک کو برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ دوسری طرف روس پر پابندیوں کی وجہ سے وہاں سے حاصل ہونے والی گیس اور پیٹرول  میں کمی   سے    تمام یورپی ممالک  کے عوام کو غیر ضروری مصارف کا بوجھ  برداشت کرنا پڑا ہے۔  ایندھن، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور بڑھتی ہوئی شرح سود کی وجہ سے اب متعدد یورپی ممالک کے عوام اپنی حکومتوں پر پالیسی تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

 نئے سال  کے دوران   میں ہی روس   کے صدارتی انتخاب ہونے والے ہیں۔ صدر پوتن امید وار ہیں اور فی الوقت اس بات کا امکان نہیں ہے کہ کوئی بھی امیدوار انہیں شکست دے سکتا ہے۔ اگرچہ یورپی ممالک اور امریکہ کی خواہش ہے کہ پوتن  انتخاب میں حصہ نہ لیں یا ہار جائیں۔   مغربی میڈیا میں اس حوالے سے خوفناک منظر نامہ  پیش کرنے کا سلسلہ ابھی سے شروع کردیا گیا لیکن اس سے اپنے ہی لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے سوا کوئی مقصد حاصل ہونے کی امید نہیں ہے۔ روسی عوام صدر پوتن کی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود یوکرین کے ساتھ جنگ میں اپنی حکومت  کی پشت پر  ہیں اور وہاں عام طور سے  تاثر پایا جاتا ہے کہ  روس اپنے وقار و خود مختاری کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس لیے اگر یہ قیاس کر بھی  لیا جائے کہ پوتن ایک بار پھر روس کے صدر منتخب نہیں ہوتے تو بھی کوئی بھی نئی حکومت یوکرین پر  موجودہ پالیسی تبدیل نہیں کرے گی۔ اگرچہ اس صورت میں امریکہ و یورپ کو  ’فیس سیونگ‘ کا موقع مل جائے گا  اور وہ  جنگ بندی کے کسی معاہدے پر پہنچنے  کی کوشش کریں گے۔  

صدر پوتن کے دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں مغربی اتحادیوں کے لیے یوکرین میں کسی مفاہمت کا راستہ تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا۔     یوں تو  پوتن کی معمولی اکثریت سے کامیابی  بھی روس یوکرین جنگ کے  حوالے سے بری خبر ہوگی لیکن اگر  صدر پوتن بھاری اکثریت سے منتخب ہوتے ہیں تو وہ اس عوامی حمایت کو  اپنی پالیسیوں کے درست ہونے کی  دلیل کے طور پر استعمال کریں گے اور یوکرین پر جنگ بند کرنے کے لیے بعض اہم مراعات دینے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ 

روس یوکرین جنگ درحقیقت روس   کے لیے اب زندگی اور موت کی کشمکش بن چکی ہے۔ اگرچہ کہا جاسکتا ہے کہ صدر پوتن نے تنازعہ کا آغاز کرتے ہوئے  اپنی قوت اور نیٹو کے رد عمل کے بارے میں مناسب   تجزیہ نہیں کیا تھا۔ انہیں یہ امید نہیں تھی کہ نیٹو کو  جنگ میں براہ راست ملوث  کیے بغیر یورپی ممالک و امریکہ  یوکرین کو اتنی سرعت سے اس قدر کثیر معاشی و جنگی امداد فراہم کریں گے کہ اس کی کمزور فوج یک بیک روس کے مقابلے میں  اپنا دفاع کرنے کے قابل ہوجائے گی۔ یوکرین کی حکومت اب اس جنگ کو جیتنا چاہتی ہے جس کے لیے بنیادی شرط یہی ہے کہ روس   نے 2014 سے لے کر اب تک جن یوکرینی علاقوں پر قبضہ کیا ہے، انہیں واپس کیاجائے اور روس مکمل طور سے  اپنی فوجیں واپس بلا لے۔ روس کے لیے  یہ شرط  قومی وقار کے علاوہ سکیورٹی کے  حوالے سے  شدید اندیشہ کا سبب بنے گی۔  ایسے کسی فیصلہ کو مکمل شکست قبول کرنے کے مترادف قرار دیا جائے گا۔

جنگ کے آغاز سے ہی یہ امکان موجود رہا ہے کہ   ایسی شرائط پر جنگ بندی کا اہتمام کرلیا جائے جن میں کوئی بھی فریق شکست خوردہ قرار نہ پائے اور  بعد  میں باوقار طریقے سے  بات چیت کے ذریعے سرحدی معاملات طے  کرلیے جائیں۔ روس نے جن یوکرینی علاقوں پر قبضہ کیا ہے ، وہاں بہر صورت روسی النسل آبادی ہے اور کسی بھی غیر جانبدارانہ ریفرنڈم کی صورت میں یہ علاقے بہر طور روس کے ساتھ الحاق کو ہی ترجیح دیں گے۔ لیکن  امریکہ کا بنیادی مقصد روس کو فوجی و معاشی لحاظ سے مکمل طور سے تباہ کرنا رہا ہے، اس لیے جنگ بندی کے لیے کوئی متوازن راستہ  چننے کی ہر  کوشش کو مسترد کیا گیا ۔ اس دوران میں غزہ میں شروع ہونے والی جنگ نے پوری دنیا کو ایک نئے تصادم کی طرف دھکیل دیا ہے۔

اسرائیلی جارحیت کے بارے میں دو رائے نہیں ہوسکتیں۔ اسرائیل کی واحد دلیل یہ ہے کہ  7 اکتوبر کو حماس نے دہشت گرد حملہ کیا تھا اور  1200 اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ اڑھائی سو کے لگ بھگ لوگوں کو  اغوا کرکے ساتھ لے گئے تھے۔ اسرائیل نے تمام یرغمالیوں کی بازیابی اور حماس کے ایک ایک   جنگجو کی ہلاکت سے پہلے جنگ بند نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ نیتن یاہو اور اس کے انتہاپسند وزرا بیان بازی کی حد تک اس چھوٹے سے علاقے میں رہنے والے  چوبیس پچیس لاکھ فلسطینیوں کو  علاقہ چھوڑنے یا ہلاک  کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ غزہ کے شہریوں  نے   اپنے عزم اور قوت برداشت  کے ذریعے ایک طرف اسرائیل کے جارحانہ عزائم، انسان دشمن چہرے کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کیا ہے تو دوسری طرف اسرائیل کو بھی باور کروایا ہے کہ فلسطینی عوام   اسرائیلی بربریت  یا ظلم    کے باوجود اپنے حق آزادی و خود مختاری سے دست بردار نہیں ہوں گے۔

اسرائیل بے پناہ عسکری  طاقت اور ٹیکنالوجی پر دسترس  رکھنے کے علاوہ امریکہ کی غیر مشروط حمایت کے بل بوتے  پر غزہ کو کھنڈر بنا  رہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر  درجنوں فلسطینی شہری جاں بحق بھی ہورہے ہیں۔ لیکن  اپنی تمام تر قوت کے باوجود  اسرائیلی فوج  تین ماہ کی جنگ  جوئی کے  دوران میں حماس کے قبضے  سے ایک بھی اسرائیلی کو رہا کروانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔  یہی حقیقت اسرائیلی فوجی  ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حماس  نے گزشتہ ماہ کے آخر میں عارضی جنگ بندی اور   اپنے  قیدیوں کی رہائی کے بدلے ایک سو کے لگ بھگ اسرائیلی باشندے رہا کیے تھے لیکن اس کے بعد سے غزہ کے وسیع علاقے پر قابض ہونے اور گلی گلی جنگ پھیلانے کے باوجود اسرائیلی فوج ایک بھی اسرائیلی کو رہا نہیں کروا سکی۔ 

اس دوران میں البتہ  حماس کی قید   میں تین اسرائیلیوں کو  اسرائیلی فوجیوں نے ہی ہلاک کرد یاتھا۔ اس وقوعہ کے بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں  کیوں کہ یہ  واقعہ اسرائیلی فوج کے لیے شدید بدحواسی و ہزیمت کا سبب بنا  ہے۔ یہ تینوں سفید جھنڈیاں اٹھائے اسرائیلی فوجیوں کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن انہیں گولیاں  مار کر ہلاک کردیا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حماس نے اسرائیلی فوج کا رخ موڑنے یا زمینی کارروائی میں کوئی کامیابی حاصل کرنے کے لیے جان بوجھ کر ان تینوں کو باہر بھیجا ہو لیکن اسرائیلی فوجیوں نے انہیں خود ہی مار دیا۔  اسرائیل اس بارے میں کبھی پورا سچ بیان نہیں کرے گا۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کو نیست و نابود کردے گا۔ فی الوقت تو اسرائیلی فوج شہریوں کو ہلاک کرکے پوری دنیا کے سامنے  اپنی بربریت عیاں کررہی ہے لیکن اگر وہ واقعی اس مقصد میں کامیاب ہوبھی گئی تو بھی  حماس کو ختم کرنا شاید دیونے کا خواب ہی ثابت ہو۔ جن نوعمر بچوں کے گھرانے ان کی آنکھوں کے سامنے  اسرائیلی بموں کا نشانہ بن رہے ہیں، چند سال بعد  ہی یہ بچے حماس ہی طاقت بنیں گے۔   مذاکرات اور فلسطینی خود مختاری کو تسلیم کیے بغیر اس  مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے۔ موجودہ جنگ جوئی سے اسرائیل مضبوط نہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہوگا۔ اس دوران میں یہ خطرہ موجود رہے گا کہ اگر اسرائیل  نے  جلد ہی اس بحران سے نکلنے کا کوئی آبرومندانہ راستہ تلاش نہ کیا تو یہ جنگ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لے جہاں ایران کے حمایت یافتہ جنگجو گروہ اسرائیل کے علاوہ امریکہ کو بھی  للکار سکتے ہیں۔ ایسی کسی جنگ سے مشرق وسطی ہی غیر محفوظ نہیں ہوگا بلکہ دنیا بھر کی سلامتی کو اندیشے لاحق ہوں گے اور دنیا پر امریکہ کا غیر مشروط تسلط کمزور پڑے گا۔ مشرق وسطی کی جنگ میں ملوث ہونے سے امریکہ کو چین کے مقابلے میں معاشی  اور عسکری ہزیمت کا سامنا  کرنا پڑےگا۔ وہ کسی بھی وقت تائیوان پر قبضہ کرکے امریکہ کے سپر پاور کے غبارے سے  ہوا نکال سکتا ہے یا شمالی کوریا کی جانب سے اشتعال انگیزی امریکہ کی مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہے۔ اس  بارے میں شمالی کورین لیڈر کم جونگ ان کے تازہ  بیان کو محض دھمکی  نہیں سمجھا جاسکتا۔

دوسری طرف 2024 روس ہی میں انتخابات کا سال نہیں ہے۔  8 فروری کو پاکستان میں عام انتخابات منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ اپریل  اور مئی کے دوران بھارت میں بھی لوک سبھا کے انتخابات ہوں گے۔  انڈیا میں نریندر مودی زیادہ طاقت سے تیسری بار وزیر اعظم  منتخب ہوسکتے ہیں جس سے انہیں اپنے ہندو انتہاپسندانہ ایجنڈے کو مزید پھیلانے کا موقع ملے گا ۔اس کا براہ راست اثر پاکستانی مفادات پر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان میں انتخابات بے یقینی کی فضا میں  ہوں  گے۔ ابھی سے دھاندلی اور ’ریاستی اداروں کی دہشت گردی‘ جیسے الزامات سامنے آرہے ہیں۔  انتخابات کے بعد اگر کوئی مضبوط حکومت قائم نہ ہوسکی یا  سیاسی بحران جاری رہا تو پاکستان کے لیے  2024 گزشتہ سالوں کے مقابلے میں ابتر سال ثابت ہوسکتا ہے۔

تھوڑی دیر پہلے مولانا فضل الرحمان کے قافلے پر  ڈیرہ اسماعیل خان میں  فائرنگ   ہوئی ہے جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہؤا۔ البتہ اس سے دہشت گرد اور سماج دشمن عناصر کی بڑھتی ہوئی طاقت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا کوئی حملہ اگر جان لیوا ثابت  ہوتا ہے تو اس کی زد میں صرف عام انتخابات ہی نہیں آئیں گے بلکہ ملک کا مستقبل بھی  بے یقینی اور اندیشوں کا شکار ہوگا۔