نئے سال کا استقبال

ایک زمانہ تھا کہ لندن میں دسمبر اور خاص طور پر کرسمس کے موقع پر برف باری ضرور ہوا کرتی تھی۔ وائٹ کرسمس کو اس تہوار کی اضافی خوبی سمجھا جاتا تھا لیکن پھر ماحولیاتی تبدیلی کے باعث شدید سردی کا موسم جنوری اور فروری تک مؤخر ہو گیا اور اب گزشتہ کئی سال سے کرسمس پر لندن کا درجہ حرارت 10 سے 12 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔

برطانوی دارالحکومت میں اس تہوار کا ایک خوشگوار موسم قرار دیا جاتا ہے۔ وگرنہ برف باری کے باعث لوگوں کا گھروں سے نکلنا اور فٹ پاتھ پر چلنا دشوار ہو جاتا تھا۔ اس سال بھی کرسمس پر برف باری نہ ہونے کے باعث لندن میں خوب گہما گہمی رہی۔ کرسمس سے چند روز پہلے پورے لندن اور بالخصوص وسطی لندن میں رنگین قمقموں اور شاندار ڈیکوریشن کی وجہ سے شہر بھر کا حسن دوبالا ہو گیا۔ آکسفورڈ سٹریٹ کی کرسمس لائٹس دیکھنے کے لیے لندن کے ہر حصے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد رات گئے سینٹرل لندن کی رونق میں اضافہ کرتی ہوئی دکھائی دی۔ کرسمس اور باکسنگ ڈے (کرسمس سے اگلے روز) بڑے بڑے سٹورز پر خصوصی سیل کی وجہ سے خریداری کرنے والوں کی خوب گہما گہمی رہی۔

برطانیہ میں بہت سے لوگ اس موقع پر لگنے والی خصوصی سیل کا سال بھر انتظار کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس تہوار کو بھی کاروباری اداروں نے اپنے کمرشل مفاد سے مربوط کر رکھا ہے۔ اسی لیے کرسمس پر ہونے والی خصوصی سیل میں ہر بڑے سٹور پر خریداری یعنی شاپنگ کے پرانے ریکارڈ ٹوٹ جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں جتنے بھی مذہبی تہوار منائے جاتے ہیں ان سے تجارتی اداروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔ کرسمس کے بعد پورے برطانیہ اور یورپ میں نئے سال کے استقبال کے لیے خصوصی اہتمام کیے جاتے ہیں۔ لندن کی نیو ایئر پارٹیز پوری دنیا میں مقبول ہیں۔ 31 دسمبر کی رات کو بارہ بجنے سے پہلے لندن اور اس کے گرد و نواح سے ہزاروں لوگ شہر کے مرکز یعنی ٹریفالگر سکوائر میں جمع ہوتے ہیں اور جیسے ہی بگ بین کا گھڑیال نئے سال کی آمد کا اعلان کرتا ہے تو ہلہ گلہ شروع ہو جاتا ہے۔ پرجوش جوڑے سال نو کا خیر مقدم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بغلگیر ہو جاتے ہیں۔ بوس و کنار سے جذباتی مسرت کا اظہار کیا جانے لگتا ہے، شیمپین کے کوک کھلنے اور جھاگ اڑنے سے لوگوں کے جسم شرابور ہو جاتے ہیں۔

اگر ٹریفالگر سکوائر کے رنگین فوارے چل رہے ہوں اور اس کا تالاب یخ بستہ پانی سے بھرا ہو تو بہت سے جوڑے سرشاری اور مدہوشی کے عالم میں اس تالاب میں کود جاتے ہیں۔ ایشیائی تارکین وطن اور خاص طور پر لندن کے نئے رہائشی یہ مناظر دیکھنے کے لیے ٹریفالگر سکوئر کا رخ ضرور کرتے ہیں تاکہ انہیں اندازہ ہو سکے کہ برطانوی دارالحکومت میں لوگ نئے سال کا استقبال کیسے کرتے ہیں۔ گزشتہ کئی برس سے ویسٹ منسٹر بارو کی انتظامیہ کی طرف سے نئے سال کی آمد کے موق ع پر دریائے تھیمز کے کنارے لندن آئی یعنی (MILLENNIUM WHEEL) کے قریب شاندار آتش بازی (فائر ورکس) کا اہتمام کرتی ہے جسے دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ دریا کے کنارے اور پلوں پر جمع ہوتے ہیں۔ رات کے بارہ بجتے ہی آتش بازی کا ایسا مظاہرہ شروع ہوتا ہے کہ آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ آسمان کی بلندیوں کو چھونے والی رنگین آتش بازی دیکھنے والوں پر حیرانی اور مسرت کی ایک ملی جلی کیفیت طاری کر دیتی ہے۔ اس آتش بازی کے ساتھ بجنے والی موسیقی بھی ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیتی ہے۔ یہ آتش بازی اگرچہ صرف 10 منٹ کے لیے ہوتی ہے لیکن جو شخص بھی اس آتش بازی کے دل موہ لینے والے مناظر کو ایک بار براہ راست دیکھ لے وہ زندگی بھر اسے فراموش نہیں کر سکتا۔

 دنیا بھر کے ٹی وی چینلز اس آتش بازی کے منظروں کی لائیو کوریج کرتے ہیں لیکن جو لطف اسے دریا کے کنارے یا پل پر کھڑے ہو کر دیکھنے میں ہے وہ ٹیلی ویژن پر دیکھنے میں نہیں۔ لندن میں مقیم جن لوگوں نے دریائے تھیمز کے کنارے نئے سال کی اس آتش بازی کو اپنی آنکھوں سے براہ راست نہیں دیکھا وہ دنیا کا ایک خوشگوار اور شاندار منظر دیکھنے سے محروم رہا۔ ویسے تو کہتے ہیں کہ ہر کام کے لیے ایک وقت اور ہر وقت کے لیے ایک کام ضرور ہونا چاہیے لیکن بہت سے لوگ نئے سال کی آمد کو اپنے نئے منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے ایک بہتر سنگ میل یا اچھا موقع تصور کرتے ہیں۔ ان   ریزوں کی ایک بڑی تعداد انفرادی اور اجتماعی طور پر نئے سال کے لیے کچھ اہداف ضرور مقرر کرتی ہے اور اس حقیقت کا بھی جائزہ لیتی ہے کہ پچھلے برس جن کاموں کی تکمیل کی منصوبہ بندی کی گئی تھی ان میں سے کتنے کام مکمل ہوئے اور کتنے ادھورے رہ گئے۔

گوروں کی اکثریت نئے سال کی آمد پر اپنے لیے جو اہداف بناتی ہے جنہیں نیو ایئر ریزولوشنز کہا جاتا ہے ان میں سر فہرست اپنی بری عادتوں سے چھٹکارہ اور اپنی صحت کی بہتری کے لیے منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ سگریٹ نوشی اور شراب نوشی کی عادتوں سے نجات کے لیے نئے سال کی آمد کو ایک بہترین موقع سمجھتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو 31 دسمبر کو آخری بار سگریٹ یا شراب پیتے ہیں اور پھر زندگی بھر ان عادتوں سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ یکم جنوری سے اپنی صحت کو بہتر بنانے یا وزن کم کرنے کے لیے ورزش کا آغاز کرتے یا کسی جم کی ممبرشپ لے کر ایکسرسائز پلان بناتے ہیں اور اگلے سال کی آمد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں لوگوں کو اس صداقت کا بڑی شدت سے احساس ہونے لگا ہے کہ سب سے بڑی نعمت اور دولت صرف اور صرف صحت ہے۔ اسی لیے کروڑوں لوگ نئے سال کی آمد پر تہیہ، عہد اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی صحت کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دیں گے یا اسے اپنی پہلی ترجیح بنائیں گے۔ بہت س    لوگ نئے سال کی آمد پر ارادہ کرتے ہیں کہ وہ آنے والے وقت میں بری صحبت سے بچیں گے اور اپنی فیملی کو زیادہ وقت دیں گے، اپنی اولاد کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں گے۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد سال نو کی آمد پر منصوبہ بندی کرتی ہے کہ وہ کوئی نیا ہنر سیکھیں گے، کسی کار آمد مہارت کا کوئی کورس کریں گے یا کسی چیرٹی اور خیراتی ادارے کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کریں گے۔ بہت سی خواتین نئے سال میں اپنی وارڈ روب کو پرانے کپڑوں سے خالی کر کے انہیں چیرٹی میں دینے کا پروگرام بناتی ہیں یا نئے کھانے بنانے کی تراکیب سیکھنے کا قصد کرتی ہیں۔ بہت سے لوگ نئے سال میں نئی کتابوں کے مطالعے کے لیے وقت نکالنے یا اپنی پسند کا میوزک سننے کے لیے حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں۔ کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نیا سال آنے پر کوشش کرتے ہیں کہ ناراض دوستوں کو منایا جائے یا ان لوگوں سے اپنے تعلقات بحال اور خوشگوار کیے جائیں جن سے گزشتہ برس کسی بدگمانی کے نتیجے میں رابطہ کٹ گیا تھا۔ مالی مشکلات میں مبتلا لوگوں کی اکثریت نئے سال کی شروعات میں اپنی فنانشل پلاننگ کو بہتر بنانے کے لیے نئے عزم اور حوصلے سے کام لینے کا تہیہ کرتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو موبائل فون کے بے جا استعمال اور وقت ضائع کرنے سے گریز کا عہد کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی ملازمت یا کاروباری مصروفیت کی وجہ سے کئی برسوں سے چھٹیوں  پر کہیں نہ جا سکے ہوں وہ بھی نئے سال کی آمد پر اپنی ہالیڈیز پلاننگ کرتے ہیں۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنی روزمرہ کی زندگی میں مصروفیت کی وجہ سے اپنے پسندیدہ مشغلوں اور شوق کو فراموش کر دیتی ہے۔ ایسے لوگوں میں سے کئی لوگ نئے سال کی آمد پر اپنے ان مشغلوں کی طرف راغب ہونے کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی نیو ایئر ریزولوشن میں گھر کے ادھورے پڑے رہ جانے والے کام کاج (چھوٹی موٹی مرمت) کی تکمیل کو اپنی پہلی ترجیح بناتے ہیں۔

نیا سال آ چکا ہے، میں اپنے قارئین سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ نے بھی اپنے لیے نئے سال کا کوئی ہدف مقرر کیا ہے؟ کوئی نیو ایئر ریزولوشن ترتیب دیا ہے؟ اگر آپ مجھ سے یہ استفسار کریں تو میں کہوں گا جی ہاں نئے سال میں میری پہلی ترجیح یہ ہوگی کہ خالق کائنات نے اچھی صحت کی جو نعمت اور دولت عطا کی ہے اس کا شکر ادا کیا جائے اور شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنی صحت کی اس دولت کی حفاظت کی جائے، اس کا خیال رکھا جائے، سادہ زندگی گزاری جائے، سادہ غذا کھائی جائے اور ہر اس بری عادت سے چھٹکارا اور نجات پانے کی کوشش کی جائے جس کے آپ کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہوں۔