نگران وزیر اعظم کی باتیں اور انتخابات کے بارے میں شبہات
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 01 / جنوری / 2024
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے لاہور میں ایک جذباتی پریس کانفرنس میں پہلی بار اسلام آباد میں بلوچ مظاہرین کے احتجاج اور ان پر پولیس تشدد پر بات چیت کرتے ہوئے، ہر قسم کی نکتہ چینی کو مسترد کیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ 98 فیصد بلوچ پاکستان کے حامی ہیں۔ ملک میں ایک ’نیا بنگلہ دیش‘ بننے کی باتیں کرنے والوں کو خبر ہونی چاہئے کہ ’نہ یہ 1971 ہے نہ ہی کوئی بنگلہ دیش بننے جا رہا ہے‘۔
انوار الحق کاکڑکو اس بات پر غصہ تھا کہ لاپتہ بلوچ شہریوں کے اہل خاندان کا احتجاج تو قبول ہوسکتا ہے لیکن ان کی حمایت کرنے والے لوگوں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ لوگ حقائق سمجھے بغیر بلوچ مظاہرین کی حمایت کررہے ہیں حالانکہ بلوچستان میں تو علیحدگی پسندوں سے سوال کرنے والوں کو گولی مار دی جاتی ہے۔ نگران وزیر اعظم نے مشورہ دیا کہ جو لوگ بلوچ مظاہرین کی حمایت کرتے ہیں ، انہیں چاہئے کہ وہ بلوچ علیحدگی پسندوں کا کیمپ کو جائن کرلیں تاکہ ہمیں پتہ ہو کہ ہم کس کے ساتھ معاملہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ علیحدگی پسند بھارتی ایجنسی را سے پیسے لے کر لوگوں کو مارتے ہیں۔
وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کا فوکس اگرچہ بلوچ خواتین کا احتجاجی کیمپ تھا مگر انہوں نے براہ راست مظاہرین پر تنقید کرنے کی بجائے یہ کہتے ہوئے بات ٹالنے کی کوشش کی کہ’ ایسے احتجاج تو ہوتے رہے ہیں، اب بھی ہورہا ہے اور آئیندہ بھی ہوتا رہے گا۔ لیکن ہمارا مسئلہ ان کی بے بنیاد حمایت کرنے والوں کے ساتھ ہے جو ریاست اور دہشت گردوں کی لڑائی میں ریاست کے خلاف کھڑے دکھائی دیتے ہیں‘۔ وزیر اعظم درحقیقت اس بات کا غصہ نکالنے کی کوشش کررہے تھے کہ انہوں نے بلوچ ہوتے ہوئے بھی بلوچ مظاہرین کے ساتھ اظہار یک جہتی کی ضرورت محسوس نہیں کی اور ان کے اسلام آباد میں موجودگی کے باوجود مظاہرین پر پولیس نے تشدد کیا۔
پریس کانفرنس میں انوار الحق کاکڑ کا بیان کسی بھی کٹھ پتلی حکمران جیسا کمزور مؤقف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی باتوں میں دلیل سے زیادہ غصہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ قانون کی عمل داری اور لاپتہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کا براہ راست جواب دینے کی بجائے بلوچ علیحدگی پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ایک جائز مطالبے کے حامیوں کو ملک دشمن ثابت کرنے کی ناروا کوشش کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔
نگران وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کے تین پہلو اہم ہیں۔ ان تینوں کے بارے میں نکتہ وار بات کرنے کی ضرورت ہے۔ پریس کانفرنس کی رپورٹنگ سے اگر انوار الحق کاکڑ کا مقؤقف جاننے کی کوشش کی جائے تو یہ نکات سامنے آتے ہیں:
1:احتجاج کرنے والے بلوچ مظاہرین سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں لیکن اگر ان کے اہل خاندان دہشتگردی میں ملوث ہوں گے تو انہیں معاف نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اس بنیادی نکتے کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ لاپتہ ہونے والے ہزاروں لوگوں کے بارے میں ریاست یا حکومت کیوں معلومات سامنے لانے سے گریز کرتی ہے اور کیوں اس حوالے سے مبہم اور ناقابل قبول جواب دے کر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ریاست لاپتہ افراد کا معاملہ تسلیم کرچکی ہے اور اس معاملے کی تہ تک پہنچنے کے لیے ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدلیہ متعدد بار اس بارے میں حکومت کو جوابدہ ٹھہرا چکی ہے لیکن حکومت /ریاست نے نہ پالیسی تبدیل کی اور نہ ہی ایک غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقے کو ختم کرنے کا اقدام کیا۔
ایسے ماورائے قانون معاملات پر دہشت گردی اور دشمن ایجنسیوں کے تال میل کی مبہم اور غیر مصدقہ بات کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب یہ معاملہ ایک بر پھر سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ بہتر ہوگا کہ انوار الحق کاکڑ نے جو دلائل لاہور کی پریس کانفرنس میں دینے کی کوشش کی ہے، اٹارنی جنرل کے ذریعے انہیں سپریم کورٹ کے بنچ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوسکے۔ لیکن نگران وزیر اعظم بھی جانتے ہیں کہ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اسی لیے پرجوش طریقے سے جذباتی انداز میں حقوق کی بات کرنے والے افراد یا گروہوں کو ریاست دشمنی کا طعنہ نما دھمکی دے کر معاملہ بھولنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔
2: وزیر اعظم کا دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ملک کا عدالتی نظام بلوچ دہشت گردی سے نمٹنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 90 ہزار کے لگ بھگ لوگ قتل کیے جاچکے ہیں لیکن عدالتیں 9 افراد کو بھی سزا نہیں دے سکیں۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ دہشت گرد ’را‘ سے پیسے لے کر اسی نوے لوگوں کو مار دیتے ہیں۔ وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کا یہ حصہ اس قدر مضحکہ خیز ہے کہ سمجھنا مشکل ہے کہ پاکستان جیسے بڑے ملک کی وزارت عظمی پر عبوری مدت کے لیے ہی سہی ، ایک ایسا شخص مسلط ہے جس کی باتوں میں ربط ہے اور نہ جسے دلیل دینے کا ڈھنگ آتا ہے۔ اسی بیان میں دیکھ لیا جائے کہ کاکڑ نے کہا کہ پیسے لے کر اسی نوے لوگ مار دیے جاتے ہیں۔ یہ طرز تکلم ظاہر کرتا ہے جیسے آئے دن یہ وقوعہ ہوتا ہے۔ کرایے کے قاتل انتظار میں رہتے ہیں۔ جب بھی ’را’ پیسے پہنچاتی ہے، یہ اسی نوے لوگوں کو مار دیتے ہیں۔ وزیر اعظم کو نہ ثبوت دینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی واقعہ کا حوالہ دے کر بات سمجھانا اہم سمجھا گیا۔
اس کے علاوہ اس دعوے کی کیا بنیاد ہے کہ 90 ہزار لوگ قتل کیے جاچکے ہیں لیکن عدالتیں 9 افراد کو بھی سزا نہیں دے سکیں۔ یہاں وہ جان بوجھ کر نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے نقصان کا حوالہ دے رہے تھے حالانکہ زیر بحث معاملہ بلوچستان کے لوگوں کا احتجاج اور وہاں موجود ناراضی کے بارے میں تھا۔ جان بوجھ کر مغالطہ پیدا کرنے کی یہ کوشش ناجائز ہے اور کسی ذمہ دار شخص کو زیب نہیں دیتی۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم اس غلط بیانی کا سہارا لے کر ایک صوبے کے عوام کی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کو غلط ثابت کرنے کی غیر منصفانہ کوشش کررہا ہے۔
دہشت گردوں کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ بن کر پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے لیکن کیا کسی حکومت نے آج تک اس پالیسی کو غلط قرار دیا ہے؟ یا اس پر باقاعدہ تحقیقات کرواکے اس جنگ کے نفع نقصان کا حساب لگانے کی کوشش کی گئی ہے؟ البتہ نعرے بازی کی حد تک بیس سال کی مدت میں جاں بحق ہونے والوں کے اعداد وشمار کا حوالہ دے کر لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش ضرور کی جاتی ہے۔ اسی لیے کبھی اس جنگ میں ہلاک شدگان کی تعداد اسی ہزار بتائی جاتی ہے کبھی وہ نوے ہزار ہوجاتی ہے۔ یعنی ابھی تک سرکاری طور پر اس دوران میں ہونے والے جانی نقصان کا کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرکے اصل ہلاکتوں کا تعین نہیں کیا گیا۔ اس دہشت گردی کو بلوچ علیحدگی پسندوں کے مظالم کے ساتھ ملانا ، اور اسے بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے دلیل کے طور پر پیش کرنا غیر مناسب اور ناروا اشتعال انگیزی ہے جس سے ملکی یک جہتی کا مقصد حاصل نہیں ہوگا۔
اس دلیل سے نگران وزیر اعظم نے ملکی عدالتی نظام کو ناکارہ و غیر فعال ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ’الزام‘ کا جواب تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خود وزیر اعظم یا حکومت پاکستان سے طلب کرسکتے ہیں۔ تاہم ملک کا کوئی بھی عام شہری اس دلیل پر وزیر اعظم سے یہ استفسار ضرور کرسکتا ہے کہ اگر ملکی عدالتی نظام دہشت گردوں کو سزا دینے میں ناکام ہورہا ہے تو کیا اس کی سزا لوگوں کو کسی قانونی کارروائی کے بغیر لاپتہ کرکے یا ہلاک کرکے دی جائے گی؟ یعنی وزیر اعظم عدالتوں سے قانون کے نفاذ کا جو مطالبہ کررہے ہیں، ان کی حکومت میں ریاست خود ہی اس پر عمل کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ بلکہ ماورائے قانون قتل وغارتگری کو صرف اس دلیل کی بنیاد پر جائز کہا جارہا ہےکہ عدالتیں ناکام ہیں۔ گویا حکومت کی مرضی کے مطابق قانون پر عمل نہ کروانے والی عدالتیں ناکام لیکن قانون توڑنے والی حکومت جائز اور درست ہے۔ یہ منطق انوار الحق کاکڑ کے سوا شاید ہی کسی کو سمجھ میں آسکے۔
3: وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کا تیسرا نکتہ ملک میں 8 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات کے حوالے سے تھا ۔ اگرچہ انہوں نے کہا ہے کہ ’ میں 8 فروری کو ووٹ ڈالنے جاؤں گا۔ الیکشن ہوں گے اور اس کو پر امن بنایا جائے گا‘۔ لیکن اسی سانس میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ سکیورٹی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے۔ دہشت گردی کی نئی لہر پر قابو پا کر الیکشن کرانا چاہتے ہیں۔ ملکی سکیورٹی اہم ایشو ہے۔ کل مولانا فضل الرحمن پر حملہ ہوا ۔ شکر ہے وہ وہاں نہیں تھے‘۔ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کے اس بیان کےساتھ ہی مولانا فضل الرحمان کا یہ مطالبہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے کہ دو صوبوں میں مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے اور سکیورٹی کی صورت حال کی وجہ سے انتخابات ملتوی کیے جائیں۔ اس سے پہلے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر انتخابی مہم کے دوران ان کے کسی کارکن کو نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پر عائد ہوگی۔
وزیر اعظم انتخابات کی بات کرتے ہوئے جب سکیورٹی کو اہم معاملہ قرار دیتے ہیں اور بلوچستان جیسے نازک اور سنگین معاملہ پر غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہوئے جذباتی طریقے سے حقوق کی بحث کو مسترد کرتے ہیں تو یہ لب و لہجہ کسی ایسے وزیر اعظم کا محسوس نہیں ہوتا جو چند ہفتوں میں زمام اقتدار کسی منتخب حکومت کے حوالے کرنے کی تیاری کررہا ہو۔