آٸین میں ہر سزا کی مدت ہے تو نااہلی تاحیات کیسے ہوسکتی ہے: سپریم کورٹ میں سوال

  • منگل 02 / جنوری / 2024

سپریم کورٹ میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے جس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ڈیکلریشن دینے کا کیا طریقہ کا ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ بغیر ایف آئی آر یا مقدمے کے بھی ارٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات کی جاتی ہے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف میں کہا لکھا ہوا ہے کہ نااہلی کی مدت کتنی ہے۔

جسٹس منصور نے سوال کیا کہ سوال یہ ہےکہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی؟ کیا آئین میں جو لکھا ہے اسے قانونی سازی سے بدلا جاسکتا ہے؟ قتل اور غداری جیسے سنگین جرم میں کچھ عرصے بعد الیکشن لڑ سکتے ہیں لیکن معمولی وجوہات کی بنیاد پر تاحیات نااہلی غیرمناسب نہیں لگتی؟

انھوں نے ریمارکس دیے کہ ایک شخص کو ایک بار سزا مل گئی تو بات ختم کیوں نہیں ہوجاتی؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ سزا کاٹ لینے کے بعد بھی کبھی انتخابات نہ لڑسکے؟ آٸین میں ہر سزا کی مدت ہے تو نااہلی تاحیات کیسے ہوسکتی ہے؟ سماعت کے دوران جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال مقرر کرنے کے حق میں ہوں۔

اس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بتائیں کہ آرٹیکل 62 میں یہ شقیں کب شامل کی گئیں؟ جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 62 آئین پاکستان 1973 میں سادہ تھا، آرٹیکل 62 میں اضافی شقیں صدارتی آرڈر 1985 سے شامل ہوئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی ضیا نے یہ کردار سے متعلق شقیں شامل کرائیں، کیا ضیاالحق کا اپنا کردار اچھا تھا؟ ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کر آنے والے خود آئین توڑ دیں اور پھر یہ ترامیم کریں۔ جس فوجی آمر نے 1985 میں آئین کو روندا ، اسی نے آرٹیکل 62 اور 63 کو آئین میں شامل کیا۔ ایک مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کیسے آئین میں اہلیت کا معیار مقرر کرسکتا ہے؟

اس موقع پر جسٹس منصور نہ کہا کہ سوال یہ بھی ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل 62 اور 63 پر مہر لگائی۔ جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ صرف صوبوں کے مابین تنازعات پر ڈکلریٹو فیصلہ دے سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا ہے نواز شریف تاحیات نااہلی فیصلے پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی سزا پانچ سال کرنے کی قانون سازی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ نواز شریف تاحیات نااہلی فیصلے پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟ جس پر درخواست گزار ثنا اللہ بلوچ، ایڈووکیٹ خرم رضا اور عثمان کریم نے تاحیات نااہلی کی حمایت کی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے

میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف درخواست گزار کے وکیل ثاقب جیلانی نے بھی تاحیات نااہلی کی مخالفت کر دی۔ وکیل ثاقب جیلانی نے کہا کہ میں نے میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف 2018 میں درخواست دائر کی جب 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا۔ اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل ہو چکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کر رہا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر ایڈوکیٹ جنرلز کا موقف بھی لے لیتے ہیں، آپ اٹارنی جنرل کے موقف کی حمایت کریں گے یا مخالفت؟ ایڈوکیٹ جنرلز نے بھی اٹارنی جنرل کی مؤقف کی تائید کی۔  اٹارنی جنرل نے رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے اہلیت اور نااہلی کی تمام آئینی شرائط پڑھ کر سنائیں، انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کے وقت سے باسٹھ اور تریسٹھ دونوں شرائط دیکھی جاتی ہیں۔ انٹری پوائنٹ پر دونوں ارٹیکل لاگو ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ شقیں تو حقائق سے متعلق ہیں وہ آسان ہیں، کچھ شقیں مشکل ہیں جیسے اچھے کردار والی شق۔ اسلامی تعلیمات کا اچھا علم رکھنا بھی ایک شق ہے۔ پتا نہیں کتنے لوگ یہ ٹیسٹ پاس کرسکیں گے۔ نااہلی کی مدت کا تعین آئین میں نہیں، اس خلا کو عدالتوں نے پر کیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت آئین سے زیادہ اہم تصور ہوگی؟ آرٹیکل 63 کی تشریح کا معاملہ ہے۔ سنگین غداری کرتے تو الیکشن لڑ سکتا ہے جب کہ سول کورٹ میں معمولی جرائم میں سزا یافتہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی یہ ترمیم چیلنج نہیں ہوئی، جب ایک ترمیم موجود ہے تو ہم پرانے فیصلے کو چھیڑے بغیر اس کو مان لیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاثر ایسا آسکتا ہے کہ ایک قانون سے سپریم کورٹ فیصلے کو اوور رائٹ کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تو کیا اب ہم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرٹیکل 62اور 63 میں فرق کیا ہے؟ آرٹیکل 62کی ذیلی شقیں مشکل پیداکرتی ہے جو کردار کی اہلیت سے متعلق ہے۔ کسی اور کے کردار کا تعین کیسے کیا جاسکتا ہے؟ کیا اٹارنی جنرل اچھے کردار کے مالک ہیں؟ جواب نا دیجییے گا صرف مثال کے لیے پوچھ رہا ہوں، سپورٹر کہیں گے آپ کا کردار اعلی ہے، مخالفین کہیں گے کہ بدترین کردار ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلامی معیار کے مطابق تو کوئی بھی اعلی کردار کا مالک ٹھہرایا نہیں جا سکتا۔ الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے، اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے۔ صادق اور امین کے الفاظ کوئی مسلمان اپنے لئے بولنے کا تصور نہیں کر سکتا۔ بڑے بڑے علمائے روز آخرت کے حساب سے ڈرتے رہے۔ اگر میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کراتا ہوں اور کوئی کہتا ہے کہ یہ اچھے کردار کا نہیں تو میں تو چیلنج نہیں کروں گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیونکہ جو کردار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسراف کرنے والا نہ ہو، ہم روز بجلی، پانی کا اسراف کرتے ہیں۔ اچھے کردار کے بارے میں وہ ججز فیصلہ کریں گے جو خود انسان ہیں؟ الیکشن لڑنے کے لیے جو اچھے کردار کی شرط رکھی گئی ہے کیا کوئی انسان حلفاً کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا حامل ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک مسلمان ’صادق‘ اور ’امین‘ کے لفظ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کے لیے استعمال کر ہی نہیں سکتا۔ ہم گنہگار ہیں تبھی کوئی مرتا ہے تو اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اگر یہ تمام شرائط پہلے ہوتی تو قائداعظم بھی نااہل ہو جاتے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتی فیصلے موجود ہیں تاحیات نااہلی کی ڈیکلریشن اپنی جگہ قائم ہے۔  جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ عدالت کسی شخص کے خلاف ڈیکلریشن کیسے دے سکتی ہے؟ کوٸی 20سال بعد سدھر کر عالم بن جائے تو کیا اس کا کردار اچھا ہوگا؟ اگر پہلے کسی نے ملک مخالف تقریر کردی تو وہ آج بھی انتخابات نہیں لڑ سکتا؟