نیا سال مبارک

اس خاکسار نے 2023 میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جس پر مجھے شرمندگی ہو یا کسی سے معذرت کی ضرورت ہو۔ البتہ اپنے ضمیر کے سامنے حاضری دینا ضروری ہے۔ اور کمی کوتاہی کو درست کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔

جو دوست معافیوں تلافیوں کا لکھ رہے ہیں ان سے بھی یہی گزارش ہے کہ وہ اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور ضمیر سے پوچھیں۔ اگر کسی کا حق مارا ہے تو اس کی تلافی اسی کے ساتھ کریں اور اگر کسی سے زیادتی کی یا دکھ دیا ہے تو وہ بنفس نفیس متعلقہ بندے کے روبرو ہو کر معافی طلب کر لیں۔ لیکن یاد رہے کہ معافی کا اصل مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس غلطی کو دہرایا نہ جائے۔ باقی رہی نئے سال کی مبارکباد تو وہ میں میاں نواز شریف اور ان کے سارے خاندان کو دیتا ہوں کیونکہ یہ سال انہی کے لیے مبارک ہے۔ ورنہ آج سال کے پہلے ہی دن صبح واک پر جاتے ہوئے ایک بچے کو ننگے پاؤں سڑک کے کنارے بیٹھے دیکھا اور قریب میں ایک بچی کو ننگے پاؤں چلتے دیکھا تو سوچا کہ ان بیچاروں کو کیا معلوم کے سال بدل گیا ہے۔ کیونکہ ان کے نصیب تو بدلنے والے نہیں ہیں۔

ویسے قوم کو بھی مبارک ہے کہ اب آپ کی فوج نہ صرف آپ کی حفاظت کرے گی بلکہ آپ کو فصلیں بھی اگا کر دے گی، آپ کو تعلیم بھی دے گی اور آپ کے زیادہ تر اداروں اور محکموں کی سربراہی کے فرائض بھی ادا کرے گی۔ (یہاں فوج سے مراد افسران لی جائے) باقی سورج کے نیچے کسی بڑی تبدیلی کے کوئی آثار نہیں ہیں جس کی مبارک دی جائے۔ البتہ جو لوگ 2023 گزار کر زندہ اور صحت مند 2024 میں داخل ہو چکے ہیں، ان کو اسی بات کی مبارک ہے کہ مہنگائی اور نفسا نفسی کے اس دور میں آپ سانس لے رہے ہیں۔ نئے سال کو حقیقی مبارک بنانے کے لیے اس خاکسار کی چند تجاویز پر غور کرلیں تو مہربانی ہوگی۔ دیکھیں ہم سب برابر کے انسان ہیں یہ بات ہمیں مستقل طور پر ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہم سب انسان برابر ہیں۔ اور جس کا جتنا اچھا کردار ہوگا وہ اتنا ہی بہتر انسان ہوگا۔ کردار سازی معاشرہ کرتا ہے۔ تعلیمی ادارے، مذہبی ادارے، حکومتوں کی کارگزاری اور عام معاشرے کے طور طریقے فرد کی کردار سازی میں اہم ہوتے ہیں۔

میری پہلی گزارش یہ ہے کہ اپنے معاشرے میں اعتماد سازی کے لیے کام کیا جائے اور اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم ہر طرح کے لالچ اور خوف کو بالائے طاق رکھ کر سچ بولیں، وعدے کا پاس رکھیں، جو بات کریں اس پر عمل بھی کریں، ایک دوسرے کے ساتھ لین دین کرتے وقت سچ بول کر اور وعدے کے مطابق کام کر کے اعتماد پیدا کریں۔ دوسروں پر اعتماد کریں، اگر کوئی آپ سے دھوکہ بھی کرتا ہے تو بھی اعتماد کریں۔ ہمارے معاشرے میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں۔ لیکن ہمارا اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ریاست کی طرف سے بولے جانے والے جھوٹ اور عام آدمی کی درست معلومات تک رسائی کا نہ ہونا ہے۔

دوسری بات یہ کہ ہم سڑک پر چلتے ہوئے دوسروں کا احترام کریں اور جا بجا گند پھینکنے سے اجتناب کریں، اس طرح ہم ایک سلجھی قوم بن سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو درست کرنا چاہتے ہیں تو ابتدا خود سے کیجیے، کسی سے دھوکہ نہ کریں، دوسروں کی سوچ، ان کے خیالات آپ کو اچھے لگیں یا برے ان کا احترام بہرحال آپ پر لازم ہے۔ ہمارے ملک میں مذہبی اور سیاسی رواداری کا شدید فقدان ہے۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھیں۔

اور آخری بات یہ کہ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے وقت انصاف کیا کریں تاکہ آپ کو درست اور ایماندار قیادت نصیب ہو سکے۔ کیونکہ جب تک ایماندار اور اہل قیادت نہیں ہوگی ملک کا نظام درست نہیں ہوگا۔ نظام ٹھیک نہیں ہوگا تو طبقاتی تقسیم بڑھتی رہے گی یہ درویش بھمبر شہر میں رہ کر کئی لوگوں سے لین دین اور میل ملاقات کرتا ہے۔ کوئی ایک بندہ یہ ثابت کر دے کہ کسی سے کوئی غلط بیانی کی ہو، کسی سے کوئی دھوکہ کیا ہو، کسی کے امانت میں خیانت کی ہو یا کسی کے اعتبار کو توڑا ہو؟ ڈیڑھ سال میں بہت زیادہ لوگوں سے واسطہ پڑا کئی ایک نے غلط بیانی یا دھوکے بازی بھی کی لیکن میں نے کسی کا حساب نہیں رکھا، کسی کو شرمندہ نہیں کیا اور نہ کسی کے دین میں کوئی کتاہی کی ہے۔ اگر کسی کے علم میں کچھ ہو تو بتا سکتا ہے۔