ساحر کی ساحری
- تحریر فہیم اختر
- منگل 02 / جنوری / 2024
جنوری 2023میں جب میں کلکتے گیا تھا تو وہاں میری ملاقات مغربی بنگال اکادمی کے وائس چئیر مین جناب ندیم الحق سے ہوئی۔ دراصل ملاقات کی ایک وجہ نامور صحافی وسیم الحق سے ملناتھا۔ کیونکہ میں وسیم الحق کی بڑی قدر کرتا ہوں اور ان کے ہی اخبار مشرق سے میں نے کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
ایک تقریب میں ندیم الحق اور میں اکھٹے ہی مدعو تھے اور پروگرام کے خاتمے پر جب میں نے وسیم الحق جو کہ ندیم الحق کے والد محترم بھی ہیں، کا حال چال پوچھا تو ندیم الحق صاحب نے فوراًگھر چلنے کی دعوت دے دی۔اسی دوران ندیم الحق صاحب نے مغربی بنگال اکادمی کے ماتحت ساحر لدھیانوی کی صد سالہ جشن منانے کا ذکر کیا اور مجھے اس پروگرام میں شرکت کی دعوت بھی دے ڈالی۔ خیر اس بات کو ہوئے چھ ماہ گزر گئے اور میں بھی کلکتے سے لندن واپس آکر زندگی کی دوڑ میں کھو گیا۔ تاہم اگست کے مہینے میں جناب ندیم الحق کا فون آیا اور انہوں نے ساحر کی ساحری کا جشن منانے کی اطلاع دی اور مجھے اس پروگرام میں شرکت کی دعوت بھی دے ڈالی۔پھر مغربی بنگال اکادمی نے تواتر کے ساتھ رابطہ بنائے رکھااورتما م تفصیل سے باخبر کیا۔جس کی روشنی میں میں نے اپنے پروگرام کی تیاری شروع کی۔
اکتوبر میں مجھے پروگرام کی تاریخ وغیرہ کی تفصیل بتائی گئی اور میں نے اسی تناظر میں اپنی تیاری شروع کر دی۔اس سہ روزہ پروگرام میں عالمی سیمنار، غزل، گیت سنگیت کے علاوہ ایک شاندار عالمی طرحی مشاعرہ بھی شامل تھا۔مجھ پر سیمنار میں مقالہ پڑھنے کے علاوہ ایک سیشن کی صدارت اور عالمی طرحی مشاعرہ میں بطور شاعر ذمہ داری سونپی گئی۔ 13دسمبر کو لندن سے کلکتہ کے لئے امارات ائیر لائین سے ٹکٹ بُک کرایا اور پروگرام میں شرکت کی غرض سے تیاری شروع کر دی۔ اتنی ساری ذمہ داری اور دفتر میں کام کے بوجھ سے ہمارا ذہن کافی الجھا رہا۔ لیکن مجھے بھی اللہ کی ذات پر یقین تھا تو ہم نے بھی کمر کس لی۔
لندن کے گیٹ وِک ائیر پورٹ سے امارات جہاز پر بیٹھ کر سات گھنٹے کے سفر کے بعد دبئی پہنچ گیا۔ دبئی ائیر پورٹ اپنی آب و تاب کے ساتھ دنیا بھر کے مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مسافر تیزی سے اپنی دوسری فلائٹ کو پکڑنے کے لئے تیز قدمی سے گیٹ کی طرف بھاگتے دکھائی دے رہے تھے۔ تو وہیں بہت سارے مسافر دبئی ائیر پورٹ کے معروف ڈیوٹی فری شاپ پر بھی خریداری کرتے ہوئے دکھائی دئیے۔ یوں بھی دبئی ائیر پورٹ کا ڈیوٹی فری شاپ مسافروں کی نگاہیں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ایک گھنٹے کے بعد ہی میرا جہاز کلکتہ جانے کے لئے ہمارا استقبال کر رہا تھا۔ہم بھی سیکورٹی، پاسپورٹ اور دیگر لوازمات کے بعد جہاز پر سوار ہوگئے۔لگ بھگ پانچ گھنٹے کی فلائٹ کے بعد ہم کلکتہ دوسرے دن صبح ساڑھے سات بجے پہنچ گئے۔ امیگریشن کے بعد باہر نکلا تو معروف عالم مفسر اور ادیب قاری ڈاکٹرصباح اسماعیل نے اپنے دوست بھائی شاہد کے ہمراہ ہمارا پر جوش استقبال کیا اور بغل گیر ہوئے۔ اس کے بعد ہم لوگوں نے سامنے کے اسٹال سے کافی پی اور پھر ہم سب گاڑی میں بیٹھ کر ہوٹل کی طرف روانہ ہوگئے۔
ہوٹل پہنچ کر کچھ آرام کیا اور اس کے بعد مہمانوں سے ملنے ملانے کا سلسلہ شروع ہوا۔گرچہ ہم پہ سفر کی تھکاوٹ غالب تھی لیکن ساحر کی ساحری کا فسو ں میری تمام تھکان اڑا گیا اور ایک نیا جوش میرے اندر بھر گیا۔ سفر کے اثرات چہرے سے نمایاں تھے اور جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پروگرام میں آئے ہوئے زیادہ تر لوگ میری صحت کو لے کریشان نظر آئے۔ان کے رویے سے تھوڑی تشویش تو ہوئی لیکن تقریبات کی تیاری نے مزید غورکرنے کا موقع نہیں دیا۔جمعہ 15دسمبر کی دوپہر کلکتہ کے معروف دھونو دھانیہ کے عالیشان ہال میں افتتاحی پروگرام کا آغاز ہوا جس میں جناب ندیم الحق نے اپنی پر مغز تقریر سے سامعین کا دل جیت لیا۔ اس پروگرام میں مغربی بنگال کے وزیر تعلیم نے بھی اپنی تقریر میں ساحر کے حوالے سے کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی۔افتتاحی پروگرام کے بعدمعروف ڈرامہ نگار ڈاکٹر سعید نے ساحر پر ایک ڈرامہ پیش کیا جسے لوگوں نے کافی پسند کیا۔اس کے بعد ساحر لدھیانوی کے گیت کو مختلف فنکاروں کے ذریعہ پیش کیا گیا جو ساھر لدھیانوی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین نمونہ تھا۔
سنیچر16دسمبر کی صبح سے سیمنار کے مختلف سیشن کا آغاز ہوا۔ جس میں ہم نے صدر شعبہ اردو لکھنؤ یونیورسٹی،پروفیسر عباس رضا نیر کے ساتھ سیمنار کے ایک سیشن کی صدارت کی۔ اس سیشن میں کویت سے تشریف لائے صحافی سلطان کلندری نے بھی ساحر پر اپنا پیپر پڑھا جو قابلِ ستائش تھی۔اس سیشن میں کلکتہ یونیورسٹی کے پروفیسر امتیاز وحیدکی نظامت بھی خوب رہی۔ سیشن کے خاتمے کے بعد ہم پروفیسر عباس رضا نیر کے ہمراہ ہوٹل واپس چلے آئے اور کپڑے تبدیل کرکے مشاعرے میں شرکت کے لئے نکل پڑے۔شام ہوتے ہی ہال لوگوں سے کھچاکھچ بھرنے لگااور ہم کلکتہ کی ٹریفک میں بری طرح پھنس گئے۔ منتظمین کا بار بار فون آرہا تھا اور کلکتہ کی ٹریفک کی وجہ سے ڈرائیور بیچارہ لاچار تھا۔ خیر کچھ تاخیر کے بعد ہم بھی ہال پہنچ گئے اور اسٹیج پر براجمان ہوگئے۔
ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں مغربی بنگال اردو اکادمی کا عالیشان طرحی مشاعرہ اپنی آن و شان سے شروع ہوا۔جس میں بنگال کے تمام شعرا نے مصرعہ طرح کا حق ادا کیا اور پھر بنگال سے نکل کر دیگر ریاست کے معروف شعرا سامنے آئے تو مشاعرہ اپنے شباب پر پہنچ گیا۔ اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ بیرون ملک سے ڈاکٹر ولا جمال العسیلی نے مصر سے شرکت کی جبکہ لندن سے ہم نے شرکت کی جس سے اس مشاعرے کی عالم گیریت مسلم ہوگئی۔اس کے علاوہ مشاعرے کی صدارت معروف بزرگ شاعر وسیم بریلوی نے کی اور دیگر نامور شعرا میں پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر اخلاق آہن، حسن کاظمی، ابرا کاشف، شبینہ ادیب وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری سے مشاعرے کو نقط عروج پر پہنچا دیا۔
مصر کی پہلی عربی نژاد شاعرہ ڈاکٹر ولا جمال العسیلی نے اپنے خوبصورت کلام سے حاضرین کو کافی محظوظ کیا اور اپنی منفرد پیشکش سے سامعین کا دل جیت لیا۔ تاہم کئی شعرا نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی جب کئی شعرا نے مصرعہ طرح کے آداب کا خیال نہ رکھتے ہوئے اپنے من پسند اشعار سنائے۔ ان کا یہ عمل طرحی مشاعرے کی روایت کے خلاف تھا۔
اتوار 17دسمبر کو سیمنار کے ایک سیشن میں ہم نے اپنا پیپر میں پل دو پل کا شاعر ہوں پر مقالہ پڑھا اور دیر شام غزل کی شام کے ساتھ ساحر کی ساحری کا سحر انگیز اختتام ہوا۔ اس شاندار، یادگار اور قابل رشک جشن کے لئے میں مغربی بنگال اردو اکادمی کے وائس چئیر مین جناب ندیم الحق کا تہہ دل سے مبارک باد دیتا ہوں۔ جنہوں نے اس جشن سے صرف ساحر لدھیانوی کو خراجِ عقیدت پیش نہیں کیا بلکہ کلکتہ کے نام کو بھی آسمانِ ادب میں روشن کر دیا۔