کیا پاکستان پر ایسے ہی دھند رہے گی؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 02 / جنوری / 2024
پچھلے چند روز سے پاکستان کا بیشتر حصہ دن کے بیشتر وقت میں دھند میں غائب رہتا ہے۔ اور عوام کی اکثریت اس دھند سے متاثر ہو رہی ہے۔ شام ڈھلے سے اگلی دوپہر تک موٹر ویز کے متعدد علاقے بند رہتے ہیں۔ جس سے کام پر جانے والوں کے لیے مشکلات کے علاوہ تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات، ہسپتالوں کی طرف سفر کرنے والے بیماروں اور دوسرے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ادھر نگران حکومتیں بالخصوص پنجاب کی نگران حکومت پچھلے کئی ہفتوں سے سر توڑ کوشش کر رہی ہے کہ اس دھند سے جان چھڑائی جا سکے، لیکن حکومت کی تمام کوششیں ابھی تک رائیگاں ہی نظر آتی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ آنے والے وقت کی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے سب وقتی حربے استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں دنیا سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یورپ کی کئی حکومتیں بالخصوص اسیکنڈنیوین ممالک کئی دہائیوں سے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے عوام کو بروقت معلومات فراہم کیں اور عوام سے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف مدد کی اپیل کی جس کے نتیجے میں آج ان ممالک میں یہ مسئلہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے شروع سے ہی حقیقی مسائل کا ادراک کیا نہ ان کے حل کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی ہے۔ سب حکومتوں نے سطحی سیاست کو اپنایا اور وقتی فوائد کے زیر اثر اقدامات اٹھاتے رہے۔
جس طرح پرویز مشرف دور میں جگہ جگہ سی این جی اسٹیشنز بنوا دیے گئے یہ نہ سوچا کہ ہمارے ملک میں گیس کے ذخائر کتنے ہیں یا نئے ذخائر تلاش کرنے کا کام کتنا ہو رہا ہے۔ بعد میں نہ صرف ملک سے سی این جی ناپید ہوئی بلکہ جگہ جگہ لگے سی این جی اسٹیشنز بیکار ہو گئے۔ میرا موضوع دھند ہے تو عرض یہ کرنا ہے کہ دہائیوں کی بے ترتیبی کو ہفتوں میں درست نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اب جو ہو چکا اس کو بھگتنا پڑے گا لیکن ہمیں مستقبل کی فکر کرنی چاہیے اور مستقبل کو سامنے رکھ کر 5،10،15 اور 25 سالہ پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی۔ اس کے لیے چند ایک تجاویز گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔
سب سے پہلے ملک کے طول و عرض پر پھیلے کوڑے کے ڈھیروں کو سنبھالیں اور کوڑے کی ریسایئکلنگ کا فوری انتظام کیا جائے۔ دوسرے نمبر پر پاکستان ریلوے سمیت پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو درست کریں۔ کوڑے کی ریسائکلنگ سے گیس پیدا کرکے اسی گیس سے بسیں چلائی جا سکتی ہیں۔ جن سے آلودگی پر قابو ڈالا جا سکتا ہے۔ نیز اگر عام آدمی کو اچھی پبلک ٹرانسپورٹ مل جائے تو پھر سڑکوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے رش کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ تیسرے نمبر پر گھروں کے اندر پانی کے بے جا استعمال کو روکنا بہت ضروری ہے۔ ہمارے ہاں ہر گھر کے اندر 10 گھروں جتنا پانی کا اخراج ہوتا ہے۔ ہاتھ منہ دھوتے وقت، دانت صاف کرتے یا شیو کرتے ہوئے ٹونٹی کو کھول کر رکھنے سے بیسیوں لیٹر پانی فضول میں بہایا جاتا ہے۔ اگر حکومت مختلف طریقوں سے عوام میں اس چیز کا شعور پیدا کرے کہ گھروں میں پانی کے بے جا استعمال کو روکے تو اس میں بہتری آ سکتی ہے۔
اس کے بعد درخت لگانا اور درختوں کی حفاظت کرنا بھی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بے حد ضروری ہے۔ پاکستان کی آبادی کی اکثریت آج بھی دیہات پر مشتمل ہے جہاں اکثر علاقوں میں چولہے بھی لکڑی سے جلائے جاتے ہیں اور جنگل سے لکڑی کی کٹائی بھی جاری رہتی ہے۔ اگر ان دیہات کو مختلف طریقوں سے گیس پیدا کرنے کی ترغیب دی جائے اور لکڑی کے استعمال کو کم سے کم کیا جائے تو اس سے ماحولیاتی آلودگی کو بچایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد مختلف فیکٹریوں اور بھٹہ خشت سے اٹھنے والے دھوئیں اور آلودگی کو روکنے کے لیے درست اقدامات کی ضرورت ہے۔
مندرجہ بالا تجاویز پر عمل کروانے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے اور اس کے لیے میڈیا مہم کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، مساجد اور لوکل کونسلوں سے بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے میں جو آخری بات کہنا چاہتا ہوں وہ بڑھتی آبادی پر قابو پانا ہے۔ جب تک ہم اپنی تیزی سے بڑھتی آبادی پر قابو نہیں پاتے اس وقت تک بے شمار مسائل سر اٹھاتے رہیں گے اور کسی بھی شعبے کی منصوبہ بندی کرنا مشکل ہوگا۔
یہ تو تھی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے چھائی دھند کی بات لیکن ہماری ملک پر اس وقت جو سیاسی ماحول پر دھند چھائی ہوئی ہے۔ اس کا سدباب ماحولیاتی آلودگی والی دھند سے بھی زیادہ اہم ہے۔ جب تک ملک پر اس طرح بے اعتمادی کے بادل اور نفرت کی دھند چھائی رہے گی، اس وقت تک ملک کا مستقبل مخدوش رہے گا۔ ابھی تک 2024 کے عام انتخابات کی نہ تو وہ گہماگہمی سامنے آئی ہے، نہ کسی کو یہ سمجھ آ رہی ہے کہ آگے کیا کرنا یا کیا ہونا ہے۔ سیاسی ماحول میں نفرت بے اعتمادی اور بے یقینی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں ان انتخابات کو منصفانہ سمجھا جا سکتا ہے نہ آنے والی حکومت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ افراتفری میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
اس دھند سے نجات کے لیے اس خاکسار کی ایک ہی تجویز ہے۔ کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ خود کو سیاست سے مکمل طور پر الگ کرے اور عوام کو اپنی مرضی سے فیصلے کرنے دیے جائیں۔ الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر کئی سوالیہ نشانات ہیں اور نگران حکومتیں بھی اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے میں کلی طور پر ناکام ہیں۔ عوام کا ریاست اور اداروں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے جو ملکی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس لیے اس طرف فوری توجہ دینی چاہیے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آئندہ غلطیوں کے ارتکاب سے گریز کرنا چاہیے۔ اب ہم نے خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس دو طرفہ دھند سے نجات حاصل کرنی ہے یا پاکستان پر یہ دھند اسی طرح چھائی رہے گی۔