لاپتہ افراد کے حقوق اور سینیٹ کی قرارداد

سپریم کورٹ   نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حال ہونا چاہئے۔ مختلف درخواستوں پر غور کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا  ہے کہ  اس مسئلہ کو  نہ تو سیاسی بنانا چاہئے اور نہ ہی اسے نظر انداز کرنا چاہئے بلکہ ہم سب کو مل کر اس کا حل تلاش کرنا ہے۔ اس کیس پر سماعت بدھ کو بھی جاری رہے گی۔ چیف جسٹس نے وعدہ کیا ہے کہ اب  عدالتی کارروائی میں رکاوٹ قبول نہیں کی جائے گی۔

دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ’ یہ کیس اب خارج نہیں کرنے دیں گے۔ اس مسئلے کا حل ڈھونڈیں گے۔ پاکستان ہم سب کا ہے، مل کر ہی چیزیں ٹھیک کرنا ہوں گی۔ ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے سے نفرتیں کم نہیں ہوتیں، یہ کام بہت کر لیا ہے۔ لاپتا افراد کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنا چاہتے ہیں۔ لاپتا افراد میں کئی وہ لوگ بھی ہیں جو جہادی تنظیموں کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس طرح بھی دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ تنظیمیں جوائن کر لو‘۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں زیر غور آرہا ہے جب ایک روز پہلے ہی نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے ایک پریس کانفرنس میں لاپتہ افراد سے متعلق معاملات کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں  اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے خاندانوں سے کوئی مسئلہ نہیں  ہے لیکن جو لوگ دہشت گردی میں  ملوث  ہوتے ہیں، ان کی  بلاسوچے سمجھے حمایت کرنے والوں سے ہمیں شکوہ ہے۔  انہوں نے ایسے لوگوں کو علیحدگی پسند گروہوں کے کیمپ  میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا  تھا کہ اس طرح ہمیں پتہ چل جائے گا کہ کون کون عناصر ریاست سے برسر پیکار ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے  بلوچ علیحدگی پسند گروہوں  پر  بھارتی ایجنسی  ’را‘ سے پیسے لے کر لوگوں کو قتل کرنے کا الزام بھی لگایا تھا۔

وزیراعظم  کے  الزامات کے جواب میں  بلوچ یک جہتی کمیٹی نے بلوچ عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے بدھ  کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ کمیٹی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست نے  ہمارے مطالبات کو نیم دلی سے سنا ہے اور انہیں حل کرنے کا وعدہ کرنے سے گریز کیا ہے۔  اسلام آباد میں بلوچ احتجاجی کیمپ کی ایک نمائیندہ  ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنے  پیغام میں کہا ہے کہ ’ہمارا احتجاج ایک دہائی سے جاری جبری گم شدگیوں کے خلاف ہے۔ بلوچستان کے تمام شہری اس احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔  ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں  پر  آواز اٹھا رہے ہیں۔ اب وزیر اعظم جبراً پتہ کئے گئے افراد کو دہشت گرد قرار دے کر  ان کے اہل خاندان کی توہین کررہے ہیں۔ لیکن ہم دنیا کو حقائق  سے آگاہ کرتے رہیں گے‘۔

سپریم کورٹ  میں لاپتہ افراد کے معاملہ پر غور کرتے  ہوئے ایک طرف چیف جسٹس نے اس معاملہ کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تو دوسری طرف شکایت کنندگان اور متعلقہ درخواست دہندگان سے کہا ہے کہ  مسئلہ کے حل کے لیے واضح نکات سامنے لائیں اور عدالت کو بتائیں کہ کس قسم کا عدالتی حکم مسئلہ حل کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔  تاہم  سماعت کے دوران  اعتزاز احسن کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت کو آگاہ کیا کہ  سابق وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے لاپتہ افراد کے بارے میں ایک بل پیش کیا تھا لیکن وہ بل سینیٹ سے غائب ہوگیا۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا متعلقہ وزیر نے اس کوتاہی پر اپنے عہدے سے استعفی  دیا تھا؟ انہوں  نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں کوئی بھی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور اب ایک سابق وزیر کی طرف سے عدالت کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ بل غائب ہوگیا۔ اس دوران میں جسٹس مظہر نے ریماکس دیے کہ اس صورت میں شیریں مزاری  بل دوبارہ پیش کرسکتی تھیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ واقعہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہؤا تھا۔ حیرت ہے کہ وفاقی وزیر کہہ رہی ہیں کہ بل غائب  ہوگیا۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کی اپنی صفوں میں کچھ غلط ہے،  اسے مان لینا چاہئے۔  لیکن اب  مسنگ پرسنز کیس کو مسنگ بل کا معاملہ بنا دیا گیا ہے‘۔

آج  سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے حوالے سے سینیٹ میں پیش کیے گئے   ایک بل کی گمشدگی کے پس منظر میں یہ بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ روز سینیٹ نے متفقہ طور سے پیپلز پارٹی کے  سینیٹر کی ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف منفی اور  بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے والوں کو سخت سزا دینے مطالبہ کیا گیا ہے۔ پہلے  پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرمند خان تنگی نے اس قرار داد  کے متن میں  اس قسم کے پروپیگنڈے میں ملوث لوگوں  پر دس سال کے لیے   کوئی سرکاری عہدہ  لینے  کی پابندی لگانے کا مطالبہ  بھی کیا  تھا تاہم بعد میں اس مطالبے کو متن سے  خارج  کردیا گیا ۔ اب  حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے  کہ فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلانے والے افراد کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں۔

سوشل میڈیا پر فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کو سخت سزا دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے۔ ایوان میں پاکستان تحریکِ انصاف کے اراکین  بھی موجود تھے لیکن کسی رکن نے  اس قرارداد کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز  سے  پاکستان کے دفاعی اداروں پر  شدید تنقید کی جاتی رہی ہے اور اس کا الزام پی ٹی آئی پر عائد کیا جاتا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی بطور جماعت ان تمام الزامات سے انکار کرتی  ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف رہا ہے کہ ان کا اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی ادارے سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ سینیٹ میں یہ قرارداد ایسے وقت میں  منظور ہوئی ہے جب دو روز قبل اسلام آباد میں کسانوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل  عاصم منیر نے کہا تھا کہ ’سوشل میڈیا  پر افواہوں اور منفی باتوں کے ذریعے ہیجان اور مایوسی کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سے متعلق افواہیں اور سوشل میڈیا پر مایوسی پھیلا کر تاثر دیا جاتا ہے کہ ریاست وجود کھو چکی ہے لیکن ہم قوم کے ساتھ مل کر ہر مافیا کی سرکوبی کریں گے‘۔

سینیٹ میں منظورکی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیا  ہے کہ  ’دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملکی سرحدوں کے تحفظ و دفاع میں مسلح افواج اور دفاعی ایجنسیوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ دشمن ہمسایوں کے ہوتے ہوئے مضبوط فوج اور سکیورٹی ایجنسی ناگزیر ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاک فوج کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ سینیٹ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے‘۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج سپریم کورٹ کی کارروائی کے دوران میں  انسانی حقوق کی سابق وزیر شیریں مزاری کے حوالے سے سینیٹ  ہی پر لاپتہ افراد کے حقوق سے متعلق پیش کیے گئے بل کو غائب کرنے کا  الزام عائد کیا گیا تھا۔

یعنی  سینیٹ کا ایوان  ایک وفاقی وزیر کی طرف سے ایک اہم انسانی مسئلہ پر قانون سازی کی تجویز پر تو کسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے سے معذور رہتا ہے لیکن ایک ایسے ادارے کے عزت و وقار کے  نام پر شہریوں کو سزائیں دینے کا مطالبہ کررہا ہے جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ خود اپنی حفاظت کرنے کے قابل ہے اور کوئی  فرد یا جماعت فوج کے بارے میں کسی قسم کی کوئی سخت پوزیشن لینے کا حوصلہ نہیں کرسکتی۔ اس قرار داد کے ذریعے ملکی پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے  پاکستانی عوام کے خلاف پوزیشن لی ہے اور  انتظامیہ  سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی طرح سکیورٹی فورسز کے بارے میں رائے کا اظہار کرنے والے کسی بھی فرد کو سخت سزا دلوائی جائے۔ سینیٹ کی قرار داد  یہ تخصیص کرنے میں بھی ناکام رہی ہے کہ کس قسم کی تنقید تضحیک یا بددیانتی پر مبنی پروپگنڈا سمجھی جائے گی اور کون سی نکتہ چینی قابل قبول ہوسکتی ہے۔  یہ قرار داد درحقیقت فوج کو ہر قسم کی نکتہ چینی سے ماورا قرار دینے کا اعلان ہے۔  اگر سینیٹ فوج   کو تحفظ فراہم کرنے میں اتنی ہی دلچسپی رکھتی ہے تو بہتر ہوتا کہ وہ یہ بھی واضح کردیتی کہ فوج بھی  ایسے معاملات میں دخل اندازی کا سلسلہ بند کرے جس کی وجہ سے اسے تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ البتہ دیکھا جاسکتا ہے کہ سینیٹ کی قرار دادا میں ایسا کوئی ذکر مناسب نہیں سمجھا گیا۔  اس کی بجائے ان شہریوں  کو  بلا تخصیص نشانہ بنایا گیا ہے جو سول معاملات اور سیاسی امور میں فوج کی غیر ضروری و غیر آئینی مداخلت کو  ملکی مسائل کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ اور فوج کے اپنے وقار کے لئے مشورہ دیتے ہیں کہ وہ خود کو عسکری معاملات اور   ملکی دفاع تک محدود رکھے۔

ملک میں لاپتہ افراد کا معاملہ بھی درحقیقت عسکری اداروں کی طرف سے    بعض عناصر کے خلاف ماورائے قانون کارروائیوں  کا  ہی نتیجہ ہے۔ اس بارے میں قائم کیا گیا کمیشن یا ملکی عدالتیں  سال ہا سال کی کوششوں کی باوجود اس مسئلہ کا کوئی مناسب اور پائیدار حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔  بلوچ عوام  انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف سراپا احتجاج رہے ہیں لیکن کوئی بھی حکومت  بلوچستان میں فوجی  ہتھکنڈوں کو قانون کے دائرہ میں لانے کے لیے قانون سازی کرنے   یا فوج کو پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرسکی۔ اب سینیٹ میں  فوج کی حمایت میں  قرار داد منظور کی ہے  حالانکہ اسے   ملک کے شہریوں ہی کی طرف  سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا ہے۔

پاکستانی سینیٹ کے ارکان یہ ادراک کرنے سے قاصر رہے  ہیں کہ اس کا کام ملک کے شہریوں  کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔  اگر ایک عسکری ادارہ ان حقوق کو پامال کرنے کا سبب بن رہا ہے تو اس  کے وقار کی بات کرنے سے پہلے ضروری ہوتا کہ پہلے  شہریوں   کی حفاظت کی ضمانت طلب کی جاتی۔ موجودہ صورت میں یوں لگتا ہے کہ سینیٹرز کو منتخب تو عوام کے منتخب نمائیندے کرتے ہیں لیکن  یہ ادارہ  عوامی حقوق کی بات زبان پر لانے سے خوف  محسوس کرتا ہے۔  نوٹ کرنا چاہئے کہ یہ قرار داد ایک ایسے وقت منظور کی گئی ہے جب بلوچ خواتین و بچے اسلام آباد میں احتجاجی کیمپ لگائے  بیٹھے ہیں اور ملک میں انتخابات منعقد ہونے والے ہیں جن کے دوران میں فوج کے  کردار پرابھی  سے انگشت نمائی ہورہی ہے۔