پی ٹی آئی ’بلے‘ کا انتخابی نشان سے پھر واپس لے لیا گیا

  • بدھ 03 / جنوری / 2024

پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل پر تحریک انصاف سئ بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف اپنا حکم امتناع واپس لے لیا ہے۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف اپنے انتخابی نشان بلے سے اور بیرسٹر گوہر خان پارٹی چیئرمین شپ سے محروم ہوگئے۔

پشاور ہائیکورٹ نے انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق الیکشن کمیشن کی درخواست منظور کرلی۔ پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کی بحالی کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست پر آج پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعجاز خان نے سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

یاد رہے کہ 22 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دے کر انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔ چھبیس دسمبرکو پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی سے ’بلے‘ کا نشان واپس لینے کا فیصلہ معطل کردیا تھا۔ بعدازاں 30 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انتخابی نشان سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مؤقف سنے بغیر پشاور ہائی کورٹ کے حکم امتناع جاری کرنے پر اعتراض کیا تھا۔ دو جنوری کو پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے انتخابی نشان کی بحالی کے خلاف الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی تھی۔

آج سماعت کے موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند اور پی ٹی آئی کے وکیل قاضی انور اور شاہ فیصل اتمان خیل عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس اعجاز نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے دلائل ہم نے سن لیے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں سماعت سننے کے لیے آیا ہوں۔

وکیل قاضی انور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے استدعا کی ہے کہ 26 دسمبر کا آرڈر واپس لیا جائے۔ الیکشن کمیشن کو 26 دسمبر کے آرڈر سے کیا مشکل ہے۔ یہ کیس 9 تاریخ کو ڈویژن بینچ سنے گا۔  جب انہوں نے ویب سائٹ پر سرٹیفکیٹ پبلش نہیں کیا تو ان کو مسئلہ کیا ہے۔ قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک پارٹی کو ایک طرف کرنا الیکشن کمیشن اور جمہوریت کے لیے ٹھیک نہیں۔ الیکشن کمیشن کو ایک سیاسی جماعت کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا، ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کروائے۔ خواتین کی مخصوص نشستوں اور اقلیتی نشستوں پر پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ریلف ملا۔

قاضی انور نے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ انتخابات کو صاف و شفاف اور دیانتداری کے ساتھ منعقد کیا جائے۔ جاوید ہاشمی کیس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ ہی الیکشن کا عمل شروع ہو جاتا ہے، رزلٹ کا نوٹیفکیشن آنے تک یہ الیکشن ہوتا ہے۔

جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ آپ کے دو نکتے ہیں۔  کیا الیکشن کمیشن عدالت کے حکم امتناع کے خلاف نہیں آسکتا؟  جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس آرڈر سے کیا مشکل ہے۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حنیف عباسی کیس میں سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن خودمختار ادارہ ہے اور اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی درخواست میں الیکشن کمیشن فریق نمبر ون ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ یہ لسسٹڈ پارٹی ہے اور پارٹی آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرائے۔ الیکشن کمیشن نے پارٹی کو لسٹ سے نہیں نکالا، پارٹی انتخابات کو آئین کے مطابق نہ کرنے پر اس کو کالعدم قرار دیا۔ پارٹی کو لسٹ سے نکالنے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاتی ہے۔

جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ درخواست تو ابھی زیر سماعت ہے، معاملہ 2 رکنی بنچ دیکھے گا۔ پشاور ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر مہمند نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن صحیح طریقے سے نہیں کرائے۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات پر سوال اٹھائے گئے، سنگل بینچ نے الیکشن کمیشن کو سنے بغیر انتخابی نشان سے متعلق اس کا فیصلہ معطل کیا۔