تاحیات نااہلی کامعاملہ عجلت میں حل نہ کیا جائے
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 04 / جنوری / 2024
سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی کیس میں سپریم کورٹ کے ججوں نے دلچسپ ریمارکس دیے ہیں۔ آج کی سماعت میں ججوں کی رائے کو پیش نظر رکھا جائے تو قیاس کیا جاسکتا ہے کہ عدالت عظمی یہ قدغن ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے مطابق آئینی شق 62 ایف کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال تک محدود رہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کے دوران واضح کیا کہ ’ الیکشن سر پر ہیں، ہمیں یہ مسئلہ حل کرنا ہے‘۔ چیف جسٹس ایک اہم قانونی و آئینی معاملہ میں ایسی جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔
چیف جسٹس کی قیادت میں سات رکنی بنچ سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کررہا ہے۔ سپریم کورٹ نے 2018 کے ایک فیصلہ میں آئینی شق 62 ایف کے تحت نااہلی کو تاحیات قرار دیا تھا۔ البتہ گزشتہ سال پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے اس مدت کو پانچ سال کردیا تھا۔ اب یہ اہم آئینی سوال درپیش ہے کہ کیا پارلیمنٹ کسی آئینی شق کے ہوتے ہوئے کوئی ایسی قانون سازی کرسکتی ہے جو آئینی تقاضے سے متصادم ہو یا اس حوالے سے سپریم کورٹ ہی کو آئینی تشریح کا حق حاصل ہے۔ اسی حوالے سے یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ آئینی شقات میں واضح طور سے تاحیات نااہلی کی بات نہیں کی گئی پھر کوئی عدالت کیسے اور کیوں کر 62 ایف کے تحت نااہلی کو تاحیات قرار دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بنچ یہ تعین کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں پارلیمنٹ کی ترمیم کے بعد کیا ایوان کا فیصلہ نافذالعمل ہوگا یا پانچ سال پہلے دی گئی سپریم کورٹ کی رولنگ کو فوقیت حاصل ہوگی۔
سپریم کورٹ اس حوالے سے جلد کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کررہی ہے ۔ تاہم اسی جلد بازی سے معاملہ کی قانونی و آئینی اہمیت کو اس کے سیاسی عواقب سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منصور علی شاہ نے دوران سماعت دلچسپ نکات اٹھائے ہیں۔ خاص طور سے چیف جسٹس نے اس تاریخی پس منظر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ آئینی شقات 62 اور 63 سابق فوجی آمر جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں آئین کا حصہ بنائی گئی تھیں۔ اس کے بعد ان میں کسی قسم کی ترمیم نہیں کی جاسکی۔ چیف جسٹس کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ غیرآئینی طریقے سے حکومت سنبھالنے والے ایک آمر کو کیسے یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ دوسروں کی دیانت داری کا تعین کرنے کے لیے آئینی ترامیم کا اہتمام کرے۔ ماضی میں سیاسی تقسیم کی وجہ سے اگر پارلیمنٹ ا ن شقوں کے بارے میں کوئی مناسب ترمیم نہیں کرسکی تو سپریم کورٹ کے ججوں نے بھی کبھی اس پہلو سے معاملہ پرکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ یہ شقیں درحقیقت سیاست دانوں کو کنٹرول کرنے اور ان پر نااہلی کی تلوار لٹکائے رکھنے کے لیے آئین کا حصہ بنائی گئی تھیں۔ اس تناظر میں چیف جسٹس کا یہ تبصرہ مناسب اور قابل فہم ہے کہ’ ایک فوجی آمر آتا ہے سب کو اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے۔ آمروں نے صادق و امین والی شرط اپنے لئے کیوں نہ ڈالی۔ آئینی ترامیم بھی گن پوائنٹ پر آئیں، بندوق کا تقدس کیسے مان سکتے ہیں۔ آرٹیکل 62اور 63 کا اطلاق فوجی آمر نے خود پر کیوں نہیں کیا‘۔
اسی حوالے سے عدالتی معاون عزیر بھنڈاری نے نکتہ اٹھایا تھا کہ پارلیمنٹ نے کبھی آرٹیکل 62 اور 63 کی زبان تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ایک مرتبہ حلف (ارکان پارلیمنٹ) کی زبان تبدیل ہوئی تو پورا ملک بند کر دیا گیا۔ آئین میں بہت سی چیزیں تھوپی گئی ہیں، بدنیتی والی بات نہیں لیکن ہم نے ایک لکیر کھینچنی ہے۔ ملک سے غداری کرنے پر نااہلی کی سزا پانچ سال اور جھوٹ بولنے کی سزا تاحیات ہے۔ فیصل واوڈا میں موڈ بنا تو اسے چھوڑ دیا ، پھر موڈ تبدیل ہوا نااہلی تاحیات کر دی گئی۔ جنہوں نے پورے ملک کو یرغمال بنائے رکھا انہیں کچھ نہیں کہا گیا‘۔ اس دوران میں فاضل ججوں کی طرف سے یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ آئینی ترمیم کرنے والوں نے خلا اسی لیے چھوڑا ہو کہ اسے قانون سازی کے ذریعے پورا کرلیا جائے۔
ان ریمارکس سے سپریم کورٹ کے اس مزاج کو نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اختیار کو حتمی سمجھتی ہے اور عوام کے منتخب ارکان کی مشترکہ دانش کو سپریم کورٹ کی رائے پر فائق مانتی ہے۔ فل کورٹ نے پارلیمنٹ کے منظور شدہ پریکٹس ایند پروسیجر ایکٹ کو تسلیم کرکے درحقیقت اسی ارادے اور عزم کا اظہار کیا تھا جو اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے منتخب ارکان پر اعتماد کا ایک قابل تحسین اظہار تھا ۔حالانکہ اس قانون کے تحت چیف جسٹس کے اختیارات محدود کیے گئے ہیں اور آئینی شق 184(3) کے فیصلوں میں اپیل کا حق دیا گیا ہے۔ سابق چیف جسٹس عمر عطابندیال اس قانون کو سپریم کورٹ کی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے تھے اور انہوں نے اپنے دور میں اس کا راستہ روکے رکھا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پارلیمنٹ اور عوامی نمائیندوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے مثبت طرز عمل کے باوجود دیکھا جاسکتا ہے کہ ماضی میں کی گئی متعدد غلطیوں کی اصلاح کسی ایک پارلیمنٹ ایکٹ یا عدالتی فیصلے سے نہیں ہوسکتی۔ کسی آئینی کوتاہی کو درست کرنے کے لیے کسی ایک سیاسی پارٹی کو پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت حاصل ہونا ضروری ہے یا اسمبلی میں نمائیندگی کرنے والی سیاسی جماعتیں مشترکہ مفادات کے برعکس شقات میں تبدیلی کے لیے وسیع تر سیاسی تعاون پر آمادہ ہوجائیں۔ جیسا کہ 2010 میں اٹھارویں ترمیم کے وقت مسلم لیگ (ن) نے اپوزیشن میں ہونے کے باوجود حکمران پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کیا تھا اور ایک ایسی ترمیم متعارف ہوسکی تھی جس میں صدر سے تن تنہا قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار واپس لیا گیا تھا اور صوبوں کو وسیع تر خود مختاری اور مالی و انتظامی حقوق تفویض کیے گئے تھے۔ تاہم اس کے علاوہ حالیہ سیاسی تاریخ میں ایسا کوئی تعاون دیکھنے میں نہیں آیا۔
ملک میں موجودہ سیاسی تقسیم اور باہمی عناد کی صورت حال میں ہر پارٹی قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت تو حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ جو کام کوئی بھی پارٹی دوتہائی اکثریت کے ساتھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،اسے سیاسی منشور کے طور پر عام نہیں کیا جاتا۔ تاکہ واضح ہوجائے کہ اگر پارٹی کو دوتہائی اکثریت نہ بھی حاصل ہوئی تو بھی وہ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ ایسا پارلیمانی تعاون دنیا بھر میں دیکھنے میں آتا ہے لیکن پاکستانی سیاست میں نفرت کے چلن نے تعاون اور مل جل کر قومی مسائل حل کرنے کے مزاج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دریں حالات یہ امکان نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی پارلیمنٹ 62 و63 جیسی آئینی شقوں میں کوئی ترمیم کرسکے یا اسے آئین سے باہر نکال سکے کیوں کہ ہر جیتنے والی پارٹی مخالفوں کو ان شقوں کے تحت نااہل کروانے کا خواب دیکھتی ہوگی۔
سپریم کورٹ کے پاس بھی کسی آئینی شق پر نظر ثانی کا محدود اختیار ہی ہےجسے وہ بےدریغ استعمال نہیں کرسکتی۔ ایک تو کوئی درخواست دہندہ کسی ٹھوس بنیاد پر ایسا معاملہ عدالت کے سامنے لے کر آئے۔ دوسرے سپریم کورٹ میں ججوں کی اکثریت ماضی کے نامنصفانہ اقدامات کو تبدیل کرنے پر اتفاق کرتے ہوں۔ لیکن سپریم کورٹ بہر حال کسی آئینی شق کو تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ وہ زیادہ سے زیادہ ایک خاص صورت میں مفاد عامہ میں اس کی تشریح کرسکتی ہے۔ ایسی تشریح بعض اوقات آئین کی روح کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ ایسے میں جب تک ملکی سیاست پارٹیاں بلوغت کا مظاہرہ نہیں کرتیں اور ملکی آئین سے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے والی شقیں نکالنے پر متفق نہیں ہوتیں پاکستان کو مسلسل قانونی بے یقینی کا سامنا رہے گا۔
ایسی ہی ایک بے یقینی کی طرف چیف جسٹس نے اشارہ بھی کیا ہے کہ کیسے 2017 میں قومی اسمبلی کے حلف کے متن میں بے ضرر تبدیلی کو عذر بناکر فیض آباد دھرنا دیا گیا تھا اور اسے ختم نبوت کا معاملہ بنا کر عوام کے جذبات ابھارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ چیف جسٹس سے یہی اشارہ کررہے تھے کہ پارلیمنٹ کے ارکان بھی عوامی جذبات کی موجودہ صورت حال میں بعض اقدامات کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ ایسے ہی معاملات میں سے ایک معاملہ ملک کے توہین مذہب کا قانون بھی ہے۔ اس میں بھی جنرل ضیا کے دور ہی میں بعض ایسی شقیں شامل کی گئی تھیں جس کے بعد سے ملک میں مذہبی انتہاپسندی کو فروغ ہؤا اور مذہبی گروہوں نے توہین مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کا افسوسناک طرز عمل اختیار کیا ۔ تشدد اور بربریت کے متعدد واقعات کے باوجود ملک کا کوئی سیاسی لیڈر اس قانون میں تبدیلی تو کیا اس کے بارے میں کھل کر بات کرنے کا حوصلہ بھی نہیں کرسکتا۔
نااہلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کی کارروائی اس پس منظر میں اہمیت کی حامل ضرور ہے لیکن عدالت عظمی انتخابات کا حوالہ دے کر جس سرعت سے اس معاملہ کو کسی نمٹانا چاہتی ہے، اس سے اسے جانبداری اور ایک خاص پارٹی کی حمایت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خاص طور سے تاحیات نااہلی کا فیصلہ تبدیل ہونے سے نواز شریف اور جہانگیر ترین کو فائدہ پہنچے گا۔ تحریک انصاف لازمی اسے سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے بالواسطہ طور سے ہی سہی سپریم کورٹ پرتنقید کرے گی۔ بلاشبہ سپریم کورٹ کو کسی سیاسی پارٹی کے طرز عمل کا اثر قبول نہیں کرنا چاہئے لیکن کسی اہم آئینی معاملہ پر غور کرتے ہوئے اسے انتخابات کا حوالہ دے کر جلدی کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہئے۔
اس معاملہ کو عجلت میں طے کرکے تنازعہ کھڑا کرنے کی بجائے سپریم کورٹ کو تمام قانونی و آئینی پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لے کر کوئی ایسا فیصلہ صادر کرنا چاہئے جسے مستقبل کے جج تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہ کریں۔ چند سیاسی لیڈروں کا مستقبل سپریم کورٹ کے پیش نظر نہیں ہونا چاہئے بلکہ مشکل آئینی معاملات پر غور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ججوں کا رویہ ذاتیات سے ماورا اور بنیادی انسانی اصولوں پر استوار ہو تاکہ نہ تو تنازعہ پیدا ہو اور نہ ہی سپریم کورٹ پر کیچڑ اچھالنے کی ناروا کوشش دیکھنے میں آئے۔