قاضی فائز عیسی: دوسروں کو نصیحت
- تحریر علی اصغر عباس
- جمعہ 05 / جنوری / 2024
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قاضی فائز عیسی اپنے خاندانی پس منظر کے حوالے سے جتنی اچھی شہرت رکھتے تھے، پیشہ ورانہ زندگی میں آکر اپنے کردار و عمل سے انہوں نے اس میں اضافہ ہی کیا۔ اور اپنی ذاتی ساکھ بناتے ہوئے ممکنہ حد تک ’پدرم سلطان بود ‘ کے محاوراتی سائے سے بچنے کی کوشش کرتے رہے۔
یہ الگ بات کہ بڑے باپ کا بیٹا جتنی بھی کوشش کرلے باپ کی پرچھائیں بادل کی طرح اس کے ساتھ لگی رہتی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو پنجابی کی مشہور کہاوت ’بوڑھ دے تھلے بوڑھ نہیں اُگدے‘ ( بڑ کے درخت تلے بڑ کا پیڑ نہیں اُگتا) کو غلط ثابت کرنے کے لیے محنتِ شاقہ میں اپنی جان لگا دیں اور قدرت ان کی محنت کا پھل ان کی جھولی میں ڈال بھی دے۔ تب بھی ان کے حاسدین ان پر پھبتیاں کسنے سے باز نہیں آتے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ افتخار چوہدری پنجاب سے تعلق رکھنے والے سادہ بی اے ایل ایل بی وکیل تھے۔ پریکٹس میں اوسط درجے سے کم تر اہلیت کے حامل، اسی لئے پنجاب کا سکونتی سرٹیفکیٹ (ڈومیسائل) ترک کرکے بلوچستان کا مبینہ طور پر جعلی ڈومیسائل بنوایا ( خیال رہے کہ سکونتی سرٹیفکیٹ پیدائشی ضلع کا ہی بن سکتا ہے اس کے علاوہ بننے والے سارے ڈومیسائل جعلی ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈومیسائل لینے کی درخواست میں یہی جھوٹ دیدہ دلیری سے لکھا جاتا ہے کہ عارض وہیں کا پیدائشی رہنے والا ہے جہاں سے درخواست دائر کر رہا ہے )
بلوچستان کے عوام کے ساتھ روا رکھی جانے والی ایک زیادتی جسے ظلم کہنا عین درست ہوگا کہ سرکاری ملازمتوں میں اسی طرح کی جعلسازی سے دیگر صوبوں خاص طور پر پنجاب سے ہزاروں جعلساز، بلوچ نوجوانوں کا حق غصب کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں میں سے تھے ہمارے پنجاب کے مسلم لیگی لیڈر رانا ثنااللہ کے مبینہ رشتے دار افتخار محمد چوہدری۔ 1976 میں لاہور ہائی کورٹ کے وکیل کے طور پر رجسٹر ہوئے تھے۔ قدرت ان پر مہربان تھی کہ ان کی قسمت کا ستارہ بلوچستان میں جاکر چمکا اور ایسا چمکا کہ ان کی تمام تر شنیدہ بے اعتدالیوں کے باوجود وہ ملک کے سب سے بڑے آئینی منصب پر فروکش ہوئے۔
مشرف دور میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ وہ انہی کی شامت اعمال کا نتیجہ تھا۔ واقفانِ درونِ خانہ تو اسے بہت کم سمجھتے ہیں کہ ان کے خیال میں وہ تو اس سے کہیں زیادہ کے سزاوار تھے۔ واللہ اعلم بہرحال بات ہو رہی تھی قاضی فائز عیسی کی جو حسب نسب کے اعتبار سے ہی اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے دادا قاضی جلال الدین ریاست قلات کے وزیراعظم تھے اور والد قاضی عیسیٰ قائد اعظم کے قریبی ساتھی تھے۔ فائز عیسی 26 اکتوبر 1959 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی، کوئٹہ سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کراچی گرائمر سکول سے اے اور او لیول مکمل کیا اور پھر قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے لندن چلے گئے۔ جہاں انہوں نے انز آف کورٹ سکول آف لا سے بار پروفیشنل اگزامینیشن مکمل کیا۔
وہ بھی قسمت کے دھنی ہیں کہ جو عدلیہ میں سیدھے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کے منصب پر فائز ہوئے کہ ان کے پیش رو تمام ججز مشرف کی 2007 کی ایمرجنسی کے تحت حلف اٹھانے کی پاداش میں 31 جولائی 2009 کے عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے فارغ خطی لے کر گھروں کو چلے گئے تو ایسے میں عدالت عالیہ بلوچستان کے امور چلانے کے لئے فائز عیسی کو گھر سے بلا کر براہِ راست چیف جسٹس کا منصب سونپ دیا گیا۔ یعنی فائز عیسی عدلیہ کی کرسی کے خود سے تمنائی نہیں تھے بلکہ عدلیہ کا نظام چلانے کے لئے انہیں یہ ذمہ داری زبردستی سونپی گئی جسے انہوں نے قومی خدمت کے جذبے کے تحت قبول کیا۔
اسی لئے وہ اس عہدے پر متمکن ہونے کے بعد کسی بھی طرح کے داغِ ندامت سے محفوظ رہے اور جن لوگوں کو ان کے بطور چیف جسٹس آف پاکستان تقرر سے خوف آتا تھا، انہوں نے عمران خان دور میں قاضی فائز عیسی کے خلاف نہایت بیہودہ پراپیگنڈے کی مذموم مہم چلائی۔ یہاں تک کہ قاضی فائز عیسی کو اپنا اور اپنی اہلیہ کے خلاف لگے الزامات کی صفائی کے لئے اپنے ہی برادر ججوں کے سامنے پیش ہونا پڑا، جو نہ چاہتے ہوئے بھی قاضی فائز عیسی کو کلین چٹ دینے پر مجبور ہوئے۔ یا حیرت کہ ان میں سے کئی آج انہی کی ماتحتی میں عدالت عظمیٰ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایں چہ بوالعجبی است۔
قاضی فائز عیسی نے حسبِ توقع کرسی سنبھالتے ہی کچھ ایسے کام کئے جو صرف وہی کرسکتے تھے۔ جن میں سے ایک چیف جسٹس کے لئے منگوائی گئی قیمتی گاڑیاں واپس کرکے انہیں فروخت کرکے قیمت قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ دیگر بہت سی مراعات سے دست کش ہوئے۔ عدالتی عملے کو سائلین کے ساتھ اخلاق سے پیش آنے کی تلقین کی۔ علاوہ ازیں اور بھی بہت زبردست کام کئے جن میں عدالتی حوالے سے پارلیمنٹ ترامیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی براہِ راست ٹی وی کوریج سے عوام کو عدالت عظمیٰ کے نظام سماعت سے آگاہ ہونے کا موقع فراہم کیا۔ اس دوران میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سرکاری اہلکاروں کو افسران بالا کے لئے لفظ ’صاحب‘ کے استعمال سے منع کیا تو گذشتہ روز کی سماعت میں معروف قانون دان سردار لطیف کھوسہ کے اپنی درخواست میں اپنے نام کے ساتھ سردار لکھنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس طرح اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں، جبکہ ایسا کرکے آپ دستور کی خلاف ورزی کے مرتکب بھی ہورہے ہیں۔ کیونکہ سرداری نظام تو بھٹو دور سے قانوناً ختم ہو چکا ہے۔ سردار لطیف کھوسہ سے یہ مکالمہ کرتے ہوئے شاید فاضل چیف جسٹس بھول گئے کہ ایک سردار تو ان کے ساتھ عدالتی بنچ میں بیٹھتا ہے۔
ایک اور اہم بات کہ دوسروں کو انگریزوں کی روایات ترک کرنے کا مشورہ دینے والے فاضل چیف جسٹس اپنے سامنے پیش ہونے والے وکلا سے ججوں کے لئے می لارڈ، می لارڈ کی گردان سن کر انہیں کیوں نہیں ٹوکتے کہ ہم جج ہیں تمہارے آقا نہیں۔ اس لئے بنچ کے اراکین کو می لارڈ کہہ کر مخاطب نہ کیا جائے۔ انگریز دور کی ایک دوسری غلامانہ روایت کہ عدالت کے کمرے میں داخل ہونے والا ہر وکیل جج کی خالی کرسی کو بھی جھک کر آداب بجا لاتا ہے۔ اسے ختم کرنے کا حکم قاضی صاحب کب دیں گے ؟ ایک اور ضروری بات کہ جب سرکاری ملازمین کو کوئی خصوصی رعایت ضابطہ کے تحت ملتی ہے مثلاً نچلے درجے کے ملازمین کے بچوں کو ملازمت کا کوٹہ، اس پر تو موصوف کی طرف سے ریمارکس آتے ہیں کہ یہ تو سراسر زیادتی ہے کیا دوسرے بچے پاکستانی شہری نہیں۔ تو حضورِ والا ججوں، جرنیلوں، اعلیٰ سرکاری افسران کو ملنے والے پلاٹ، ہوائی جہاز کے ٹکٹس۔ بیرونی دورے، ریٹائر منٹ کے بعد بھی لاکھوں روپے کی پنشن کے ساتھ لاکھوں روپے کی ہی دیگر مراعات، نوکر چاکر کس کھاتے میں ڈالیں گے ؟
کیا یہ سب دیگر عام پاکستانیوں کو ملتا ہے؟ اس پر بھی ازخود نوٹس لے کر قومی خزانے کی کھلی لوٹ مار کی روک تھام کیجئے ناں۔ اور آخری بات کہ جب ہر سرکاری ملازم ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر کیا جاتا ہے تو ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر زیادہ کیوں ہے؟