قاضی القضاۃ جوڈیشری کا دھونا دھوئیں‎ ‎

لوگ کہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں تو افراد کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ ترقی یافتہ مہذب اقوام میں تو شاید زیادہ فرق نہ پڑتا ہو، وہاں ڈونلڈ ٹرمپ جیسا غیر ذمہ دار شخص اگرچہ امریکی صدر بن بھی گیا لیکن وہ سسٹم میں کوئی بگاڑ نہ لا سکا۔ اور پھر سسٹم نے ہی اسے نکال باہر کیا۔

لیکن ہمارے جیسے ملک بدنصیب میں افراد کے آنے جانے سے بہت فرق پڑتا ہے۔ ہمارے طاقتور ادارے میں براجماں ایک فرد پورے سسٹم کی چولیں ہلا سکتا ہے، بشمول پارلیمنٹ تمام اداروں کو مفلوج بنا کر رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ہماری جوڈیشری پر نظر ڈالی جائے تو یہ کچھ کم ظرف افراد ہی تھے جنہوں نے اس کی چولیں ہلا کر رکھ دیں اور ایسا کھلواڑ کیا کہ پورا سسٹم تہہ و بالا ہوکر رہ گیا۔

اس ذلت و پسماندگی میں ہماری یہ خوش بختی ہی کہی جائے گی کہ آج ہماری سپریم جوڈیشری کی سر براہی پر وہ شخصیت فائز ہے، قدرت نے جسے انسانیت، اصول پسندی اور اعلیٰ ظرفی سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جس میں نہ صرف یہ کہ جیورس پریوڈینس کی باریکیوں کو پرکھنے کی صلاحیت ہے بلکہ ان کے عملی انطباق کی بھی سوجھ بوجھ ہے۔ کہتے ہیں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا، اس وقت ہم جس پستی میں ڈوبنے جا رہے تھے ہمارے قاضی القضا یوں سمجھیے کہ بچاؤ میں ایک سہار ا بن کر آئے ہیں۔ ورنہ ماقبل چیف ججز کی ایک لائن ہے، سمجھ نہیں آتی کہ بربادی کا بڑا سرٹیفکیٹ کس ”جانثار“ کو پیش کیا جائے۔

طاقتوروں کی خوشنودی یا ذاتی منفعت و کم مائیگی کے باعث آئین و قانون کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ نہیں کیے گئے۔ صرف ایک قومی سیاستدان کو نیچا دکھانے اور عوامی مینڈیٹ کی طاقت کو مٹانے کیلئے قانون کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ سنگین غداری اور قتل جیسے گھناؤنے جرائم پر بھی سزا مکمل ہونے کے پانچ سال بعد کوئی بھی شخص الیکشن لڑسکتا ہے۔ سپریم جوڈیشری نے پاناما کیس کے پہلے مرحلے میں جو فیصلہ دیا تھا، دوسرے مرحلے میں بغیر وجہ بتائے اسے تبدیل کردیا گیا۔ آج فاضل ججز یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ جب آئین میں دیگر بڑے جرائم میں سزاؤں کی مدت کا تعین ہے تو نااہلی کی سزا تاحیات کس اصول کی بنیاد پر ہوسکتی ہے؟

کس قدر کم ظرفی ہے کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت تاحیات مقرر کرنے والے جج کے سامنے جب ٹھیک اسی نوعیت کا دوسرا کیس فیصل واوڈا کیلئے آیا تو انصاف کا ننگا دوہرا معیار قابل ملاحظہ ہے۔ تب کہا کہ محض اتنی سی بات پر تاحیات نااہل کرنا تو صریح ظلم ہے۔ بندہ پوچھے کہ یہی ظلم جب تم لوگوں نے نواز شریف اور جہانگیر ترین پر روا رکھا تھا تب آپ کا ضمیر کیا گھاس چرنے گیا ہوا تھا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب سوال اٹھاتے ہیں کہ 73 کے آئین میں موجود آرٹیکل 62،63 میں یہ ضمنی شقیں کس نے اور کیوں ڈالی تھیں؟ جواب ملا کہ ایک فوجی ڈکٹیٹر ضیا الحق نے صدارتی آرڈینس مجریہ 1985کے تحت یہ ناروا و مبہم شقیں آئین میں ڈالیں اور مارشل لائی ڈنڈے سے انہیں منوایا تھا۔ اس پر قاضی صاحب نے سوال اٹھایا کہ ا س فوجی ڈکٹیٹر ضیا الحق کا اپنا کردار کتنا اچھا تھا؟ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کر آنے والے نے خود آئین توڑا اور پھر یہ ترامیم اس میں داخل کیں۔ یہاں درویش یہ اضافہ کرنا چاہے گا کہ قرآنی آیات پڑھتے ہوئے جس شخص نے 90 دن میں انتخابات کروانے کا پوری قوم سے عہد کیا اور پھر گیارہ برس سے بھی زائد اس قوم پر مسلط رہا، یہاں و ہ بھی صاد ق و امین ہی نہیں مرد مومن مرد حق کہلایا۔

دوریش تھوڑا اختلاف کرتے ہوئے یہ ضرور عرض گزار ہے کہ ہماری تعلیمات میں کہیں بھی اس نوع کا اندراج نہیں ہے کہ ایک بڑی ہستی کے علاوہ کوئی صادق و امین نہیں ہوسکتا۔ یہ کلی طور پر خلاف واقعہ و حقائق بات ہے۔ کیونکہ ہماری صدیوں کی تاریخ میں بہت سی ہستیاں اس مقام کی حامل ہوگزری ہیں۔ بڑے بڑے صوفیا و مدبرین اس لیول کے ہوئے مگر باعثِ ننگ تو وہ شخص ہے جس نے اخلاقی طور پرایک گئے گزرے یا کمزوراور انسانیت کے مطلوبہ معیار سے نیچے بیٹھے ہوئے شخص کو اندھے کے ریوڑیاں بانٹنے کی طرح یہ خطابات نوازے۔ اور سپریم جوڈیشری کا مذاق بنایا۔

یہی وہ نیگٹیو ذہنیت تھی جس کے زیر اثر تاحیات نااہلی کا شاہی فرمان جاری کردیا گیا۔ جج صاحب کی یہ ابزرویشن قابل فہم ہونی چاہیے کہ کسی بھی شخص کو اسلامی تعلیمات سے نا واقفیت یا کسی بھی نوع کے ایسے غیر اسلامی فعل کی انجام دہی پر کس طرح تاحیات اس نوع کی سزا سنائی جاسکتی ہے؟ کوئی بھی شخص چاہے کتنا بھی گناہ گار ہو، خدا نے اس کیلئے توبہ و مغفرت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند تو نہیں کردیا۔ ہماری ہسٹری میں کیسے کیسے گناہ گار تھے جو مابعد برگزیدہ شخصیات بنے۔ جسٹس منصور صاحب کے الفاظ میں کوئی بھی ان تعلیمات سے ناواقف شخص محنت کرکے پانچ برس بعد عالم بن سکتا ہے تو تاحیات سزا کیسے دی جاسکتی

ہے؟

قاضی صاحب کا یہ استدلال بھی تھا کہ امیدوار کیلئے 2002 میں اہلیت کی شرط گریجوایشن رکھی گئی تھی۔ ایسی حالت میں اگرجناح بھی امیدوار بنتے تو نااہل ہو جاتے۔ سوال یہ ہے کہ اچھے اخلاق کا تعین کیسے ہوگا اور یہ بھی کہ ٹرائل کے بغیر سپریم جوڈیشری ایسا ڈیکلریشن کیسے دے سکتی ہے؟  درویش کی رائے میں تو ایسی مبہم شقیں جو ناقابل عمل بھی ہوں اور جن کا منفی ذہنیت والے غلط استعمال بھی کرسکتے ہوں، انہیں کتاب آئین سے تحلیل کیا جانا عین قرین انصاف ہے اور یہ فریضہ منتخب پارلیمنٹ کو ادا کرنا چاہیے۔

اس وقت جب پارلیمنٹ کی طرف سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ آچکا ہے اور ہمارے الیکشن کمیشن میں باضابطہ الیکشن ایکٹ بن چکا ہے، فاضل قانون دان ثاقب جیلانی صاحب کا یہ استدلال درست ہے کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے مطابق جب تاحیات نااہلی کو ختم کرتے ہوئے پانچ سالہ مدت کا یقین بھی ہوچکا ہے اور جسے کہیں چیلنج بھی نہیں کیا گیا؟ چیف جسٹس کے استفسار پرکہ کیا چاروں صوبائی حکومتوں میں سے کسی نے اسے چیلنج کیا ہے؟ تو انہیں چاروں صوبائی ایڈووکیٹس جنرلز نے مشترکہ طور پر بتایا کہ تمام صوبائی حکومتیں بھی اسے سپورٹ کرتی ہیں اور سپریم کورٹ خود فیصل واوڈا کیس میں اپنے پہلے فیصلے کو کارنر کرتے ہوئے برعکس فیصلہ دے چکی ہے۔ تو اب اس حوالے سے کوئی نقطہ نہیں بچا جو اس ظالمانہ ذہنیت کو سپورٹ کرتا ہو۔ لہذا 4 جنوری کے فیصلے میں کوئی الجھاؤ نہیں دکھتا۔