ہماری سیاسی الجھنیں اور جناح ثالث

ان دنوں میڈیا میں خبروں کے حوالے سے برسات یا یلغار ہورہی ہے۔ ہفتے میں دو کی بجائے دن میں دو کالم بھی لکھے جائیں تب بھی موضوعات ختم نہ ہونے پائیں۔

ہماری جوڈیشری میں ہی جو دلچسپ مقدمات اور ان کی تفصیلات چل رہی ہیں وہی کچھ کم نہیں ہیں اور پھر انتخابات کی آمد آمد ہے صبح و شام نئی سے نئی کہانیاں بن آرہی ہیں۔ جی چاہتا ہے اس صورتحال کا تفصیلی منظر نامہ لکھا جائے لیکن موقع ہی نہیں مل پا رہا۔ 8 فروری کو انتخابات پتھر پر لکیر قرار دیے جانے کے باوجود کئی احباب ہیں جن کی تسلی نہیں ہورہی۔ ہماری صحافت میں بھی ایسے بہت سے سینئر تجزیہ کار ہیں جو کھوکھلی باتیں تو خوب کرتے ہیں مگر زمینی حقائق کا ادراک نہیں رکھتے۔ پہلے خود ہی ایک نوع کا جعلی پروپیگینڈہ کرتے ہوئے ایک مصنوعی نوعیت کا بیانیہ گھڑا جاتا ہے، پھر جب حقائق اس خود ساختہ کہانی سے مطابقت نہیں کھاتے تو کوسنا شروع کردیتے ہیں۔ یہاں ایسے اندر کی خبر لانے والے بھی ہیں جنہیں ہنوز الیکشن کا ماحول بنتا نہیں دکھتا۔ یہ کہ ن لیگ کی قیادت جلسے کیوں نہیں کررہی؟ پی ٹی آئی کا کیا فیوچر ہے؟ وہ الیکشن لڑے گی یا بائیکاٹ کرے گی؟

کئی صحافیوں کو بلے کے نشان کی فکر دامن گیر ہے۔ ملے گا یا نہیں ملے گا؟ ٹکٹوں کا اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا کیا بنے گا؟ جنرل فیض کے مقدمے کا کیا کلائیمکس ہوگا؟ فیض آباد دھرنے کے اصل کلپرٹ کون قرار پائیں گے؟  ہمارے جناح تھرڈ کھلاڑی کی اپروچ کیا ہے؟ وہ ایسٹیبلیشمنٹ

کے ساتھ کیا رویہ اپنانا چاہتا ہے؟ چھڑی کا یا گاجر کا؟ کیا اسے خود سمجھ نہیں آرہی کہ اس نے مقتدرہ کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کرنا ہے اور سپریم جوڈیشری کے سامنے کس طرح بولنا ہے؟ ایک طرف بیرسٹر گوہر کے ذریعے ٹھنڈی پھونکیں مار رہا ہے، دوسری طرف شیر افضل کے ذریعے ردعمل کی پرواہ کیے بغیر میڈیا کے ذریعے عدالتوں میں دھاڑ رہا ہے۔ یا انہیں انڈر پریشر لانا چاہتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی پہلی توہین کی بخشش کرواتے ہوئے، وہ اس سے بھی بھاری نئی توہین کا مرتکب ہوگیا ہے۔

اس نوع کی رپورٹس پڑھتے اور سنتے ہوئے درویش کو سخت حیرت ہوئی کہ کیا واقعی قیدی نمبر 804 اس قدر فارغ ہوچکا ہے کہ اپنے وقار اور توقیر کا خیال کیے بغیرالیکشن کمیشن کی معزز قیادت کو سنگین دھمکیاں دیتے ہوئے بازو چڑھائے اورحملہ آور ہوجائے۔ بلکہ جب اپنے ذرائع سے تحقیق کروائی تو مزید یہ معلوم ہوا وہ تو گالم گلوچ تک چلے گئے تھے اور فزیکل ہونا چاہتے تھے لیکن وکلا اور بہنوں نے بڑی مشکل سے قابو کیا۔ ہمارے نوجوانوں کے مقبول رہنما جسے یہ درویش جناح ثالث قرار دیتے نہیں تھکتا۔ ایک ملزم کی حیثیت سے اڈیالہ جیل میں ان کیمرہ کاروائی کے دوران جب فرد جرم پڑھی جارہی تھی تو وہ غصے میں آکر آپے سے باہر ہوگئے اور چلاتے ہوئے کہا کہ آپ کون ہوتے ہو مجھ پر فرد جرم عائد کرنے والے؟ میں تم سب کے نام بھی جانتا ہوں اور شکلیں بھی پہچانتا ہوں۔ دوبارہ اقتدار میں آکر تم پر آرٹیکل 6 کے تحت بغاوت کے مقدمات بناؤں گا۔ تم لوگ جس کے کہنے پر یہ سب کچھ کر رہے ہو، وہ تمہیں بچا بھی نہیں پائے گا۔ میں جانتا ہوں تم لوگوں نے نوے دن میں انتخابات کیوں نہیں کروائے۔ اس سب کے باوجود اراکین الیکشن کمیشن نے کوئی جواب نہ دیا۔ البتہ ایک رکن نے اتنا کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین توہین کے ایک اور کیس کا مواد فراہم کررہے ہیں۔

اس پوری صورتحال کو ملاحظہ کرتے ہوئے جو ہمارے قومی میڈیا میں بالتفصیل رپورٹ ہوچکی ہے، سوائے اس کے کیا کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک اول وآخر نفسیاتی کیس ہے۔ کوئی بھی شخص جو اپنے آپ کو بہت بڑی ہستی یا تیس مار خاں سمجھتا ہو، جب اپنے کرتوتوں یا حماقتوں کے کارن قانون کے شکنجے میں آتا ہے تو پھر اس کی انا خود اس سے بھی سنبھالی نہیں جاتی۔ وہ پھٹ پڑتا ہے کہ یہ کمتر لوگ جنہیں میں کیڑے مکوڑے سمجھتا ہوں مجھ جیسے اتنے بڑے دیوتا کو قابو کیے ہوئے ہیں۔ مجھ پر یہ اپنی توہین کا الزام عائد کررہے ہیں مجھ پر جو پوری دنیا یا پوری امت ِ مسلمہ کا ہیرو اور نجات دھندہ بن کر ابھرا ہے، یہ جاہل لوگ جانتے نہیں ہیں کہ ’میں‘ کون ہوں اور کیا ہوں؟

اس لیے سیانے لوگ کہتے ہیں کہ قدرت اگر تمہیں عروج دے تو پھر بھی عاجزی کے ساتھ انسان بن کر رہو۔ کیا پتہ کس گھڑی وقت کا بدلے مزاج اور غرور و تکبر میں لتھڑا ہوا شخص تخت سے تختے پر آجائے۔ اس موقع پر درویش کو محترمہ بے نظیر صاحبہ کا ’ڈاٹر آف دا ایسٹ‘ میں

 تحریر کردہ وہ واقعہ یاد آرہا ہے کہ جب ان کے والد وقت کے تیور بدلنے اور ٹھوکر کھانے سے قدرت کے شکنجے میں آئے تو چلائے کہ اس شخص کی یہ اوقات کے مجھے ہاتھ ڈالے، میں دوبارہ برسرِ اقتدار آکر یہ اور یہ کردوں گا۔ صدام حسین کی آمرانہ ذہنیت اور غرور تکبر کا کسے علم نہیں۔ لیکن مکافات ِ عمل کے تحت جب وہ شکنجے میں آیا، پکڑ ہوئی تو امریکی فوجی اسے کہہ رہے تھے کہ صدر بش نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور پھر جب عدالت میں جج صاحب اس کے خلاف فیصلہ سنارہے تھے تو یہ چیخ رہا تھا گالم گلوچ اور دھمکیوں پر اترا ہوا تھا۔

 ابھی حال ہی میں کسی مغربی ملک کی عدالت کا وہ منظر نامہ سب کی نظروں سے گزرا ہوگا کہ ایک ملزم کے خلاف جب خاتون جج فیصلہ سنانے جا رہی تھی تو وہ ملزم چھلانگ لگاتے ہوئے اس کے اوپر چڑھ دوڑا۔ عدالتی عملے نے بڑ ی مشکل سے اسے بچایا۔ اسی لیے ہمارے صوفیا و سادھو بولتے ہیں کہ سب سے پہلے اپنی ’میں‘ یعنی غرور تکبر یا اکڑ کو مارو، آپ سے اونچی بھی کوئی ہستی ہوگی لہذا عاجزی و انکساری کا رویہ اختیار کرو۔ ذرا اقتدار کے وہ دن یاد کرو جب ایک ایک کا نام لے کر کہا کرتے تھے کہ میں تجھے چھوڑوں گا نہیں۔ میں  این آر او نہیں دوں گا۔ جب آپ کے ایما پرشرفا کے ساتھ ذلت آمیز سلوک روا رکھا جاتا تھا، آتے جاتے سب پر آوازے کسے جاتے تھے، آج اس پستی میں بھی آپ کا  ’شیر‘  کس بدزبانی کے ساتھ اور تو اور خود چیف جسٹس کے خلاف  ’دھاڑ‘ رہا تھا اور ساتھ یہ کہہ رہا تھا کہ میں یہ سب اپنے بانی کی ہدایت پر کر رہا ہوں۔

ہمارے کچھ صحافی صاحبان نے اپنی لفظی شعبدہ بازی سے اس مصنوعی غبارے میں جو ہوا بھر رکھی ہے، وہ ایک سوئی کی مار ہے۔ درویش پوری ذمہ داری سے یہاں یہ تحریر کیے دے رہا ہے کہ سوائے جعلی پروپیگینڈے کے مقبولیت کی اصلیت کچھ نہیں۔ ذرا تحمل سے غور کیجئے 9مئی کی اتنی بڑی پلاننگ پر ساتھ دینے کیلئے کتنی ’قوم‘ باہر نکلی تھی؟ دو تین ہزار کے مسلح جتھے ہرگز عوام نہیں کہلاتے، نہ ہی انہیں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر کہا جاسکتا ہے۔ اس سے زیادہ بڑے جتھے تو مولانا رضوی کے لبیک والے لا سکتے ہیں۔ اور پھر پارٹی کیا ہے؟ چوں چوں کا مربہ یا پریشر گروپ؟ جو محض اقتدار کی ہوس و حرص میں جمع ہوا تھا اور ہٹائے جانے پر خزاں کے پتوں کی طرح جھڑ گئے۔

افتاد ن اور پی پی پر بھی ٹوٹی مگر ان کے لوگ تو اس شتابی سے نہیں ٹوٹے۔ اب بلا ملے نہ ملے، وکٹ ملے گی نہ رن۔ اسی کارن ن لیگ کو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی چنداں محتاجی محسوس نہیں ہورہی۔ سوائے طاقتوروں کی مجبوری کے۔