منیر مانک کو رضی الدین رضی کا سرخ سلام

منیر مانک کانفرنس ایک ایسے ماحول میں منعقد ہو رہی ہے جب ہم سب ان کی فکر اور ترقی پسند سوچ کو پروان چڑھاتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قیادت تسلیم کر چکے ہیں۔

حاضرین محترم ترقی پسندوں کی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے میں سندھ کے دارالحکومت، آنس معین اور احسن فارقلیط کے شہر ملتان سے نواب شاہ کے منیر مانک کو سرخ سلام پیش کرنے آیا ہوں۔ ملتان کے دونام میں نے اپنے لڑکپن سے سنے۔ ایک نام احسن فارقلیط کا تھا جو اسی اخبار( روزنامہ سنگِ میل ) میں کام کرتے تھے جہاں سے میں نے اپنے صحافتی کیریئر کاآغاز کیا۔ 1980-81کی بات ہوگی جب میں ابھی صحافت سے وابستہ نہیں ہوا تھا لیکن میں نے ملتان کے اخبارات میں احسن فارقلیط کی خودکشی کی خبریں نمایاں انداز میں دیکھی تھیں۔ بھوک اور افلاس سے تنگ آئے ہوئے احسن فارقلیط نے مسافر ٹرین کے سامنے کود کر اپنی زندگی کا سفر ختم کیاتھا۔

پھر اس کے کئی برس بعد ہم نے ایسی ہی ایک کہانی نوجوان شاعر آنس معین کے حوالے سے سنی۔ آنس معین کوبھی زندگی کے خاتمے کے لیے ٹرین نے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔اس فہرست پر نظرڈالیں تو ہمیں شکیب جلالی، ثروت حسین اور سارہ شگفتہ کے نام بھی دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ میرا آج کاموضوع نہیں۔ میں آج منیر مانک کے ناولٹ ”سراب اور بازگشت“ پر بات کرنے اور یہ بتانے آیاہوں کہ ہمارے درمیان رابطوں کافقدان کیسی تنہائیوں کوجنم دے رہاہے۔ ہم ایک ہجوم میں رہتے ہوئے بھی تنہا ہیں۔

منیرمانک کے ناولٹ کے مطالعے کے بعد مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ میں جوکہ صحافی بھی ہوں اور شعروادب سے بھی میری وابستگی ہے۔ میں پنجاب میں رہتے ہوئے سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے ایسے بہت سے قلمکاروں سے آشنا نہیں جو ان علاقوں کی پہچان ہیں اور انہی میں منیر مانک بھی شامل ہیں۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ قلمکاروں کواپنی تخلیقات عوام تک پہنچانے میں ہمیشہ بہت سی رکاوٹوں کاسامناکرنا پڑا۔ ہماری اشرافیہ نے پہلے روز سے ہی ترقی پسندوں کو ملک دشمن قراردے دیا اور فیض احمد فیض سمیت ایسے بہت سے دانشوروں کو پابند سلاسل کیاگیا جو انسانی حقوق، جمہوریت اور انسان دوستی کی بات کرتے تھے۔ جوپسے ہوئے محکوم لوگوں کی آواز تھے۔

پھریوں ہوا کہ سٹیٹ کنٹرولڈ میڈیا بھی ایسے روشن خیال لکھاریوں کے لیے شجرِ ممنوعہ قراردے دیاگیا۔ لیکن اظہار رائے پر پابندیاں لگانے والوں کو کیا معلوم کہ خوشبو کاراستہ کبھی بھی روکا نہیں جاسکتا۔ اب ہم ایک ایسے عہدمیں سانس لے رہے ہیں جہاں ہمیں خود سے بھی خوف آنے لگا ہے۔ پہلے ہم ایک دوسرے کے مخبر ہوا کرتے تھے۔ اب زمانہ ترقی کرگیا۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم اپنے مخبر بھی آپ بن چکے ہیں۔
منیر مانک کے ناولٹ ”سراب اور بازگشت“ کے مطالعے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے ایسی خوبصورت تحریر اس سے پہلے کبھی نہیں پڑھی۔ موضوعات تو یقیناً ہماری نظر سے گزرے لیکن منیر مانک کا اسلوب یکسر مختلف ہے۔ ہم سرابوں کی دنیا میں رہنے والے ہیں اور سرابوں کے تعاقب میں ہی اپنی زندگیاں غارت کردیتے ہیں۔ ہمیں منیر مانک کے ناولٹ میں وہ لوگ دکھائی دیتے ہیں جن کی حیثیت اس سماج میں کیڑوں مکوڑوں سے بھی زیادہ نہیں۔ کہانی کار کا مشاہدہ حیران کن اس لیے ہے کہ وہ خود انہی کرداروں کا حصہ رہا۔ منیرمانک نے ہمارے روایتی ناول نگاروں کی طرح کسی ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر کسی جھونپڑی کاقصہ نہیں لکھا۔ وہ خودان حالات سے گزرے، ایسے ہی ماحول میں سانس لیا اور اسی لیے ان کی تحریر میں ہمیں ان کالہجہ جابجا تلخ دکھائی دیتا ہے۔

5مارچ1943 کو نوشہرو فیروزمیں پیداہونے والے منیر احمد مانک کی زندگی پر نظرڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جسم وجان کارابطہ بحال رکھنے کے لیے بہت نامساعد حالات کاسامناکیا۔ وہ شعبہ قانون سے بھی وابستہ رہے، سکول ٹیچر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ محکمہ سوشل ویلفیئر سے بھی منسلک رہے۔میڈیکل سٹور کیپر کے طورپر بھی کام کیا اور روسی سفارت خانے میں بھی ملازمت کی۔ اس ساری تگ ودو میں زندگی کی بدصورتیاں منیر مانک پر کچھ اس انداز میں واضح ہوئیں کہ انہیں یہ سب کچھ بے معنی دکھائی دینے لگا۔

منیرمانک ایک جرات مند اور حساس قلم کار تھے۔ ایک ایسے روشن خیال قلم کار جنہوں نے سیاسی، سماجی،مذہبی اور اقتصادی موضوعات کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ انہوں نے وڈیرے کے مظالم کو اپنی کہانیوں میں اجاگرکیا۔ زیرنظر ناولٹ کا آغاز ہی ایک سناٹے سے ہوتا ہے۔ ایک خالی گھر جہاں موت جیسی ویرانی ہے اور کچلی ہوئی روح پر خراشیں ڈالتا سناٹا۔ یہ ایک ایسے کردار کی کہانی ہے جو اپنے خستہ بدن کو گھسیٹتا ہوا زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کرتا ہے اور پھر خودکوخود پر ہی نہیں اس معاشرے پربھی ایک بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔

مجھے منیر مانک کے اسلوب نے غیرمعمولی طورپر متاثرکیا۔ جملوں کی بنت کچھ ایسی ہے کہ جیسے دیئے جگمگا رہے ہوں۔ ہمیں یہ جھلملاہٹ ان کی تحریر میں کچھ اس انداز میں دکھائی دیتی ہے کہ جیسے روشنی کا ایک ہیولا ہمیں کچھ دیر کے لیے منظر دکھاتا ہے اورپھر منظر غائب ہوجاتا ہے۔ یہی جھلملاہٹ اس ناولٹ کے آغاز سے انجام تک ہمیں اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ آدھی بات کہہ کر پورا مفہوم واضح کرنا ایک ایسا ہنر ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں اور اس ہنر کو منیر مانک نے بہت خوبصورتی کے ساتھ اس ناولٹ میں اجاگر کیا۔

”سراب اوربازگشت“ میں سرابوں کی کہانی بھی ہے، ایک پیاسے شخص کی کہانی جو دریا تک پہنچنے کی کوشش میں ہر چمکتی ہوئی چیز کو پانی سمجھتا رہا اور بازگشت اس سماج کی ہے اور ان دکھوں کی ہے جو منیر مانک ہی نہیں کھلے دماغ کے ساتھ سوچنے سمجھنے والے ہرقلم کار اور دانشور کے دامن میں ہیں۔ یہی دکھ کبھی ہمیں قسطوں میں موت کی جانب دھکیلتے ہیں اور کبھی کوئی ایک ہی لمحے میں جیون کے بوجھ سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔کہ جیون کی بے معنویت اس پر واضح ہو چکی ہوتی ہے ۔

(چوبیس دسمبر دو ہزار تیئیس کو منیر مانک کانفرنس میں پڑھا گیا )

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)