غزہ روئے زمین پر جنہم بن چکا ہے

ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ آئیدے نے کہا کہ کہ  غزہ   دنیا میں  جہنم بن چکاہے۔ ایک مقامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ  اقوام متحدہ کے نظام  میں سامنے آنے والی تمام معلومات سے یہی  پتہ چلتا ہے کہ اس وقت دنیا میں غزہ سے بدتر کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔  انسانی بحران اپنے عروج پر ہے۔ اس دوران میں  اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ غزہ میں بیس لاکھ لوگ بے گھر ہیں اور انہیں امداد پہنچانا ممکن نہیں ہے۔

آج غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو تین ماہ مکمل ہوچکے ہیں۔ لیکن ناروے سمیت کوئی مغربی  ملک اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کرنے اور انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کو  پوری شدت سے مسترد کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔   ایسپن بارتھ  آئیدے نے بھی اپنے انٹرویو میں یہی رویہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اسرائیل حماس سے انتقام لینے کے لئے  تنازعہ کی تمام حدود عبور کرچکا ہے  لیکن  امریکہ و دوسرے مغربی ممالک کی طرح ناروے کے وزیر خارجہ کو بھی  انسانوں کے بے دریغ قتل، املاک کی تباہ کاری اور  شہریوں  کو تحفظ فراہم کرنے سے  اسرائیل کے مسلسل انکار کے باوجود یہ  تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا کہ اسرائیل اس وقت نسل کشی جیسے انسان دشمن جرم کا مرتکب ہورہا ہے۔ اس کے برعکس آئیدے نے انٹرویو کے شروع میں ہی تفصیل سے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اس جنگ کا آغاز حماس نے کیا تھا اور 7 اکتوبر2023 کو اسرائیل پر حملہ میں 1200 افراد ہلاک اور کئی سو  یرغمال بنا لیے گئے تھے۔  انہوں نے اسے ہولوکوسٹ کے بعد  یہودیوں کے قتل عام کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا۔

اب ان ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل آپے سے باہر ہورہا ہے لیکن  365 مربع کلو میٹر پر مشتمل غزہ کے چھوٹے سے علاقے پر مسلسل بمباری کے باوجود اسرائیل باقی ماندہ ڈیڑھ سو کے لگ بھگ یرغمالی اسرائیلیوں کو رہا  نہیں کروا  سکا۔ اگرچہ اس  کا دعویٰ ہے کہ  وہ حماس کو مکمل طر سے تباہ کرکے ہی دم لے گا۔ لیکن  اسرائیلی فوجی کارروائی صرف ان معنوں میں ’کامیاب‘ ہے کہ وہ اپنی بے پناہ عسکری طاقت اور امریکہ سے مسلسل ملنے والی فوجی امداد کے برتے پر فضائی اور زمینی حملوں میں غزہ میں عمارتوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور شہریوں کو ہلاک کررہا ہے۔ اس علاقے میں اسرائیلی جارحیت میں مرنے والوں کی تعداد 23 ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ 80 ہزار افراد زخمی ہیں جنہیں  طبی امداد کی فراہمی میں شدید مشکلات کا  سامنا ہے۔

زخمیوں اور معصوم بچوں کی نگہداشت سے قطع نظر غزہ  کے 25 لاکھ شہریوں کو خوراک اور پانی کی فراہمی بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی تنظیمیں مسلسل غزہ میں ابتر ہوتی انسانی صورت حال کی طرف توجہ مبذول کروا رہی ہیں لیکن اسرائیل   اس وقت صرف شہریوں کو ہلاک کرنے میں  دلچسپی رکھتا ہے اور عالمی ضمیر کے نام پر  غریب ممالک یا  روس و چین  جیسے   ’دشمن ممالک‘  کو تند و تیز تنقید کا نشانہ بنانے والے امریکہ اور اس کے حواری ممالک مسلسل آنکھیں بند کیے ہوئے  ہیں۔  بلکہ انہیں  ظالم کو ظالم کہنے، قتل کو قتل قرار دینے اور جرم کو جرم بتانے کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔ اس کی ایک مثال ناروے کے وزیر خارجہ کا انٹرویو ہے ۔ وہ اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا اعتراف کرتے ہیں، غزہ کے شہریوں  کی زندگی جہنم بنادینے کا  اقرار بھی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود  وہ فلسطینی  ہلاکتوں کو ایک ریاست کی  نسل کشی  قرار دینے کا حوصلہ نہیں کرتے۔  بلکہ اسرائیل پر کسی قسم کی پابندی لگانے  کے امکان کو بھی مسترد کررہے ہیں۔ نارویجئن وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ناروے غزہ میں مدد  فراہم کرنےاور جنگ بند کروانے کی کوشش کررہا ہے ۔  اس کی طرف سے  اسرائیل پر پابندی لگانے سے ان  انسانی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔

مغربی ممالک کے لیڈروں کی عذر خواہی کو ناروے سمیت یورپی ممالک کے شہری تسلیم کرنے  پر آمادہ نہیں ہیں۔  آئیندہ ہفتہ کے دوران  ناروے میں ایک  بار پھر فلسطین کے حق میں مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ ناروے میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف تحریک چلانے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ناروے کی حکومت کو زیادہ مستعدی سے جنگ بند کروانے اور غزہ کے شہریوں کی زندگی کے لیے کوشش کرنی چاہئے۔ ایسا ہی مطالبہ آج ایک بار پھر لندن میں دیکھنے میں آیا جہاں پارلیمنٹ کے باہر مظاہرین نے دھرنا دیا اور حکومت کی بے حسی کا ماتم کیا۔ اب یہ واضح ہورہا ہے کہ  اسرائیل اگرچہ ایک بڑی فوجی طاقت ہے اور  اس خطے کا کوئی بھی دوسرا ملک اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ ہی اس تنازعہ میں شامل ہونا چاہتا ہے لیکن اسرائیل اپنی تمام تر عسکری قوت کے باوجود امریکہ کی   غیر مشروط حمایت اور اسلحہ اور گولہ و بارود  کی مسلسل ترسیل کے بغیر تین ماہ تک غزہ پر بے دریغ بمباری نہیں کرسکتا تھا ۔ اگر یہ غیر مشروط امداد نہ کیا جاتی  تو اسےکسی نہ کسی طریقے سے مصالحت کا کوئی راستہ تلاش کرنا پڑتا۔

امریکی صدر جو بائیڈن چونکہ اگلے سال صدارتی انتخاب جیتنا چاہتے ہیں، اس لئے تمام  عمر  انسانی حقوق اور جمہوریت کا پرچار کرنے کے باوجود ، وہ اسرائیل کے خلاف ایک لفظ بھی کہنے  پر آمادہ نہیں  ہیں۔ امریکی سیاسی لیڈروں میں ظلم  کے خلاف آواز اٹھانے کا مقابلہ نہیں ہوتا بلکہ  یہ  دیکھنے میں آیا  ہے کہ سیاسی لیڈر ایک دوسرے کے  مقابلے میں یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیسے بڑھ چڑھ کر اسرائیل کی حمایت کریں گے۔ امریکی لیڈروں کی اسی کمزوری کے سامنے پوری دنیا لاچار ہے اور  نیتن یا ہو جیسا سفاک لیڈر بے باکی سے انسانوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے۔

ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ آئیدے نے اسرائیل کے ہاتھوں  فلسطینیوں کی نسل  کشی کے بارے میں  صحافی کے براہ راست سوال کا جواب دینے سے تو گریز کیا اورسفارتی الفاظ میں یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ کسی ریاست کو کیسے اور کس صورت میں نسل کشی کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں چونکہ  حماس کے ہاتھوں چند سو اسرائیلی بھی مارے گئے تھے ، اس لیے اسرائیل  ایک حد تک اپنا حق دفاع استعمال کررہا ہے۔  اگرچہ اس نے حدود کو عبور کیا ہے۔ البتہ ناروے کے وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ہیگ کی عالمی عدالت اگلے ہفتے  جنوبی افریقہ کے اس الزام پر غور کرے گی جس میں اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ ایسپن آئیدے کا خیال ہے کہ اگر یہ عدالت اس حوالے سے تفصیلی جانچ کا حکم دے یا اس دوران میں جنگ بند کرنے کی ہدایت کرے تو اس صورت میں ایسی قانونی بنیاد فراہم ہوسکتی ہے کہ دوسرے ممالک کی طرف سے  اسرائیل کو اسلحہ دینے پر پابندی عائد ہوسکے۔

دوسری طرف حماس کے نائب سیاسی رہنما صالح العاروری کو بیروت میں ایک ڈرون حملے میں  ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس ہلاکت کے بعد غزہ کی جنگ لبنان تک پھیلنے کا اندیشہ پیدا ہوگیاہے۔ لبنان کے ملیشیا گروپ حزب اللہ نے ہفتے کو اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کیا۔ حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا  ہےکہ اس نے اسرائیل کے ایک فوجی اڈے پر 60 راکٹ داغے ہیں جو حماس کے رہنما العاروری کے قتل کا ابتدائی ردِعمل ہے۔ خبروں کے مطابق اسرائیلی فوج نے بھی حزب اللہ کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اس صورت حال پر قابو پانے کے لئے ایک بار پھر مشرق وسطی کے دورے پر ہیں۔ امریکہ اس جنگ کو وسیع  علاقے تک  پھیلنے سے روکنا چاہتا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین کو اندیشہ ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت، ہٹ دھرمی اور تنازعہ حل کرنے کے لیے کسی قابل عمل منصوبہ کی غیر موجودگی میں جنگ کے شعلے  کوئی بھی خطرناک صورت حال اختیار کرسکتے ہیں۔ 

ادھر  اقوامِ متحدہ کے شعبہ امدادی اُمور کے رابطہ کار مارٹن گرفتھس نے کہا ہے کہ تین ماہ سے جاری جنگ کے باعث غزہ کی محصور پٹی رہنے کے قابل نہیں رہی اور ان کے کارکنوں کو 20 لاکھ سے زائد لوگوں کی مدد کے لیے ایک ناممکن مشن کا سامنا ہے۔ ایک بیان میں گرفتھس نے کہا کہ ’اس جنگ کو کبھی بھی نہیں ہونا چاہیے تھا اور اب اسے ختم ہو جانا چاہیے‘۔یہ نہ صرف غزہ بلکہ اس کے ہمسایوں اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی  بہت ضرروی ہے۔

ان حالات میں اگر نارویجئن وزیر خارجہ  کے اس بیان پر غور کیا جائے کہ غزہ اس وقت دنیا میں جہنم بنا ہؤا ہے تو یہ بھی  ماننا پڑے گا کہ یہ جہنم  دنیا  کے طاقت ور ممالک کی ملی بھگت سے  تیار کی جارہی ہے۔  کسی کو اس غلط فہمی کا شکار نہیں  ہونا چاہئے کہ اس جہنم کے شعلے صرف غزہ کے فلسطینیوں  کو ہی ہلاک کریں گے۔  اگر اب بھی امریکہ اور اس کے حلیف ممالک نے  اپنا  طرز عمل تبدیل نہ کیا تو آگ کے  یہ شعلے  اسرائیل اور دیگر ممالک  کی تباہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اسرائیل  نہتے عوام کو ہلاک کرکے  اپنی حفاظت کا مقصد حاصل نہیں کرسکتا۔  امریکہ کی سربراہی میں نام نہاد مہذب دنیا کا یہ مؤقف منافقت پر مبنی ہے کہ یہ دو طرفہ جنگ ہے۔  حجت کے طور اگر تسلیم کر بھی  لیا جائے کہ حماس ایک دہشت گرد گروہ ہے جس نے پہلے حملہ کیا لیکن اسرائیلی کارروائی کو ’حق دفاع‘  قرار دے کر درحقیقت ایک ایسی دہشت گرد ریاست کی حمایت کی جارہی ہے جو  فلسطینیوں کو ہلاک یا اس علاقے سے باہردھکیلنے کا عزم رکھتی ہے۔ دو ’بدمعاشوں‘ کی لڑائی میں جب دنیا ایک بڑے اور ظالم بدمعاش ملک کو انسانوں کو مارنے  کا لائسنس دے گی تو  اس حکمت عملی سے  امن کی امید نہیں کی جاسکتی۔

یورپی ممالک 7 اکتوبر کے حملے کو ہولوکوسٹ سے ملاکر اسرائیل کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ  سچ ماننے پر  آمادہ نہیں ہوتے کہ ہولوکوسٹ میں فلسطینیوں نے یہودیوں کو نہیں مارا تھا بلکہ ایک یورپی ملک جرمنی نے انہیں گیس چیمبرز کے حوالے کیا تھا۔ یورپی ممالک   کس قانون یا اخلاق کی بنیاد پر فلسطینیوں  کے خون سے اس کی قیمت ادا کروانا چاہتے ہیں؟   غزہ میں یک طرفہ جنگ جوئی اور  زمین کو  جہنم بنانے کے  اسرائیلی طرز عمل  کی روشنی میں یورپ کے دانشور کو سوچنا پڑے گا کہ    ان   کی حکومتوں کی  بے حسی کو کل کا مؤرخ کن الفاظ میں یادکرے گا۔ سیاسی و سفارتی مجبوریوں کے  نام  پر  انسانی اقدار  کو بھلانے کا موجودہ  طرز عمل  تمام مہذب دنیا کے چہرے  پر سیاہی پوت رہا ہے۔  یورپی دانشوروں کو سوچنا چاہئے کہ کیا وہ اپنی نسل  کو انسان دشمنوں کی فہرست میں شامل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟