خاموش رہو !
ابن انشاء نے تقریباً پانچ دہائی پہلے اہلِ وطن کو وصیت کی تھی کہ :
کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہو، اے لوگو خاموش رہو۔ ہاں اے لوگو خاموش رہو۔
اور کیا خوب وصیت و نصیحت ہے کہ جو ہمیں ہمیشہ کے لئے کام دینے والی ہے۔ ابن انشاء کے دور میں صرف پرنٹ میڈیا ہی ہوتا تھا تب بھی حالات ایسے پیدا ہوگئے تھے کہ شام سمے اک اونچی سیڑھیوں والے گھر کے آنگن میں چاند کو اترے ہم نے دیکھا، چاند بھی کیسا، پورا چاند جیسے شعر کہنے اور ’دروازہ کھلا رکھنا‘ جیسی نظمیں لکھنے والے شاعرِ کیف و جمال کو خاموش رہوجیسے اشعار کہنا پڑے۔
آج تو میڈیا کی ترقی تباہ کن حد تک بلندیوں کو چھو رہی ہے اور اس شوریدہ سر نے پرواز کرتے ہوئے فضا سے نکل کر خلا کو جا لیا اور اب تو بلیک ہول میں بھٹکتے پھرتے رہنا اس کا اوجِ کمال ٹھہرا، جہاں سے واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ کہ اب تک جتنے بھی لوگ اس کُرے سے نکل کر فضا کو چیرتے خلا نوردی پہ نکلے ان کو بلیک ہول کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ ان کی آزاد روی کو کس انجام سے دوچار کرسکتا ہے۔
کہتے ہیں کہ جب روشنی حد سے زیادہ بڑھ جائے تو بینائی کو متاثر کرتی ہے۔ بعض اوقات تو روشن آنکھیں اندھی بھی ہو جاتی ہیں، پھر آدمی جتنا مرضی روشن خیال ہو، وہ راستہ نہیں کھوج سکتا۔ وہ راستہ تو بالکل نہیں جس کے بارے میں اس نے کھلی آنکھوں سے بھی کبھی کچھ جاننے کی کوشش نہ کی ہو۔ اندھے کو کوئی اشاروں سے لاکھ سمجھانے کی سعی کرے کہ وہ اس وقت جہاں کھڑا ہے وہاں سے نکلنے کے لئے اسے ادھر سے ادھر اور وہاں سے تہاں پہنچ کر پیچھے پلٹ کر اوپر کی گھاٹی کی اور چلتے ہوئے غار کے دہانے سے بچ کر اس کے سامنے والے ٹیلے پر کھڑے گھنی داڑھی والے شخص سے منزل کا پتہ پوچھنا ہے۔ تو اسے کیا خاک سمجھ آئے گی بلکہ وہ تو اس رہنمائی کرنے والے کی بجھارتوں سے اپنے دماغ میں محفوظ اس نقشے سے بھی جائے گا جو اس نے کھلی آنکھوں سے دیکھ کر لاشعور میں بٹھا رکھا تھا۔
جب لاشعور کی گیلری آرٹ گیلری سے بے شعوری کے کباڑ خانے میں تبدیل ہو جائے تو پھر صادقین کی خطاطی اور عبد الرحمن چغتائی کی مصوری اور عکاسی کے شہکار بھی کوڑیوں کے مول بکتے ہیں۔ دل زدگاں تو اس وقت موت کی آرزو کرنے لگتے ہیں جب نادر و نایاب شاہکار کباڑ میں لینے والا چند ٹکے دیتے ہوئے بھی احسان جتاتا ہے کہ یہ تو میں ہی ہوں جو پیسے دے کر تمہارے گھر کا کچرا اٹھا رہا ہوں، کسی اور کو پیسے دے کر بھی تم یہ کاٹھ کباڑ نہیں اٹھوا سکتے تھے۔
آج شہرِ قائد میں مزارِ قائد کے اڑوس پڑوس میں کچرے کے ڈھیر ہوں کہ داتا گنج بخش کی نگری میں دربار کے گردا گرد زائرین کے بول و براز کا تعفن یا مینارِ پاکستان کے سبزہ زاروں میں غلاظت کے انبار، ہر جگہ کی صفائی کرنے والے اداروں کی کارروائیاں سارا سال جاری رہتی ہیں۔ مگر پھر بھی خاص مواقع پر ہنگامی نوعیت کے پروگرام بنا کر بڑے بڑے بجٹ سے خصوصی آپریشن کئے جاتے ہیں جو چند روز کی آب و تاب دکھا کر اپنے اثرات کھو بیٹھتے ہیں۔
تجاوزات کے خلاف آپریشن ہو کہ شدت پسندوں کی دہشتگردی کے خلاف، ہر بار پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے جبکہ اسے بدلنے کی کوشش کرنے والے بربادیوں کے آسمانی مشوروں میں اپنی تجاویز دے کر پتلی گلی سے نکل لیتے ہیں۔ اور کوئی ان کچرے کے ڈھیروں میں اپنا رزق تلاش کرتا یہیں پر ڈھیر ہو کر آوارہ کتوں کی شکم سیری کا سامان بن جاتا ہے، جسے دیکھ کر کوئی گنگناتے ہوئے پاس سے گذر جاتا ہے:
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا
چلیں ایک غزل کے اشعار دیکھ لیں :
سہما ہوں کسی خواب کی وحشت سے نکل کر
حیران ہوا جاتا ہوں حیرت سے نکل کر
دانستہ بھلاتا ہی نہیں میں غمِ فرقت
تکلیف میں رہتا ہوں اذیت سے نکل کر
ہے درد! ترے ساتھ رہ و رسم پرانی
بے کل سا ہوا دل تری شدت سے نکل کر
میں سرحد ادراک پہ دیوار اٹھاتا
اس عالمِ امکان کی وسعت سے نکل کر
اک چیخ کی لرزش تھی کہیں آبِ رواں میں
ڈوبا ہے یہاں کون عقوبت سے نکل کر
خوابیدہ ستاروں نے شبِ تار سجائی
اک گریہ کناں چشمِ بصیرت سے نکل کر
میں عالمِ موجود کو نابود نہ کردوں
اس حشر بپا شورِ قیامت سے نکل کر
کیا کچھ ہے بھلا حسن کی دیوار کے اس پار
دیکھا ہی نہیں شہرِ محبت سے نکل کر
ہے کون ترے دستِ دعا میں یہ دعا سا
لپکا جو ہے اس خانہء الفت سے نکل کر