تحریک انصاف کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے بند کیے جائیں!

انٹر نیٹ مانیٹرنگ کرنے والے  اداروں نے بتایا ہے کہ ایک  ماہ  کے اندر دوسری بار  پاکستان میں تحریک انصاف کے آن لائن ایونٹ سے پہلے  ہر قسم  کی سوشل میڈیا سروسز  متاثر رہیں۔   اس دوران  میں انٹر نیٹ بھی سست روی کا شکار رہا۔  ملک میں  انتخابات سے پہلے ایسے   ہتھکنڈے بداعتمادی  میں اضافہ کررہے ہیں۔ ان طریقوں سے  اس تاثر  کو بھی تقویت ملے گی کہ  حکام کسی بھی قیمت پر تحریک انصاف  کی نمائیندگی محدود کرنا چاہتے ہیں۔    یہ اوچھے ہتھکنڈے بند ہونے چاہئیں۔

پاکستان کی آبادی پچیس کروڑ کے لگ بھگ ہے ۔  اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد  12 کروڑ70 لاکھ ہے۔  ملک میں گزشتہ چار سال کے دوران  دو کروڑ سے  زائد لوگ ووٹ دینے کی عمر تک پہنچے ہیں۔ یعنی پہلی بار ووٹ دینے والوں کی  عمریں 18 سے 21 سال کے درمیان ہوں گی۔ ان حالات میں کسی بھی پارٹی،  ادارے یا ایجنسی کے لیے یہ  اندازہ  کرنا ممکن نہیں ہے کہ 8 فروری 2024  کومنعقد ہونے والے انتخابات میں لوگوں  کی اکثریت کس کو ووٹ دے گی۔    نوجوان  ووٹروں کی تعداد  میں اضافہ سے اس بے یقینی  میں اضافہ ہؤا ہے۔  ایک تو یہ نسل ووٹ دینے کے روائیتی طریقوں  پر  پوری وفاداری سے  عمل نہیں کرے گی ۔ دوسرے نوجوان  عام طور سے سوشل میڈیا سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر بننے والی رائے کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ اس صورت حال کو تحریک انصاف کے خلاف  محاذ آرا قوتیں  اپنے لیے بڑا چیلنج سمجھتی ہیں۔ پارٹی کے آن لائن ایونٹ سے پہلے سوشل میڈیا سروسز تک رسائی کا مشکل بنا کر اسی بدحواسی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

تحریک انصاف نے رات 9 بجے انتخابات کے لیے  آن لائن  فنڈ ریزنگ کا اعلان کیا تھا تاہم شام 6 بجے سے ہی بڑے شہروں  میں تمام سوشل میڈیا آؤٹ لیٹ  تک رسائی مشکل ہوگئی تھی  اور انٹرنیٹ سست روی کا شکار ہوگیا تھا۔ البتہ بعد میں  پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا  کی اب سروسز بحال ہوگئی ہیں۔ لیکن  سرکاری  طور  سے یہ معلومات فراہم نہیں ہوسکی تھیں کہ یہ سروسز کس وقت سے کتنی مدت تک غیر فعال رہیں۔  البتہ انٹر نیٹ سروسز  کی   نگرانی  کرنے والے اداروں نے  شام 6 بجے سے ہی   تعطل کی اطلاع دینا شروع کردی تھی اور تمام بڑے شہروں میں لوگوں نے بھی ان مشکلات کو نوٹ کرنا شروع کردیا تھا۔  اس سے پہلے 17 دسمبر کو بھی   تحریک انصاف کی  ورچوئیل  ریلی کے موقع پر ایسی ہی معلومات سامنے آئی تھیں۔  اس وقت  پی ٹی اے نے وعدہ کیا تھا کہ اس تعطل کے بارے میں تحقیقات کی جائیں گی اور عوام کو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔ تاہم رات گئی بات گئی کے مصداق اس بارے میں پھر کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔

ایک بار پھر تحریک انصاف کے ایونٹ سے عین پہلے سوشل میڈیا سروسز تک رسائی میں رکاوٹ  پیدا ہونے کے بعد تحریک انصاف نے اسے سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے جس کا مقصد تحریک انصاف کی عوامی رابطہ مہم کو  متاثر کرنا ہے۔ پارٹی اس سے پہلے بھی    انتخابات  میں  لیول پلئینگ فیلڈ نہ ملنے کی شکایات کرتی رہی ہے بلکہ سپریم کورٹ نے اس بارے میں ایک پٹیشن پر الیکشن کمیشن کو  تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا تدارک کرنے کا حکم دیا تھا ۔   اس حکم کے باوجود ایک  طرف الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو بنیاد بنا کر تحریک انصاف کا انتخابی نشان  ’بلا‘ واپس لینے کا حکم دیا جسے پشاور ہائی کورٹ  نے پہلے معطل کیا لیکن بعد میں اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ اس معاملہ پر ابھی تک حتمی فیصلہ سامنے نہیں آسکا۔، تحریک انصاف اس معاملہ کو اب سپریم کورٹ میں لے کر گئی ہے۔

دریں اثنا ملک بھر میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے عمل میں بھی تحریک انصاف کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔  بعد میں ریٹرننگ افسروں نے   تمام اہم لیڈروں سمیت پی ٹی آئی کے   متعدد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے۔ الیکشن ٹریبونلز نے اکثر فیصلوں کو تبدیل کیا ہے ۔ ایک موقع پر  الیکشن ٹریبونل  کے ایک جج  نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ یوں لگتا ہے کہ ریٹرننگ افسروں نے اندھادھند کاغذات نامزدگی مسترد کیے ہیں۔ اس عمل میں متعدد دوسری پارٹیوں کے امیدواروں کو بھی پریشانی کا سامنا ہؤا    لیکن  تحریک انصاف چونکہ اس وقت عتاب کا شکار  سمجھی جارہی ہے یا کم از کم یہ تاثر دیا جارہا ہے  کہ پارٹی کو دیگر جماعتوں کے مقابلے میں انتخابی مہم چلانے اور  انتخاب جیتنے کا موقع نہیں ملے گا، اس لیے  پارٹی کے امیدواروں کے کاغذات بڑی تعداد میں مسترد ہونے  کے وقوعہ نے خاص طور سے توجہ حاصل کی اور صورت حال کے بارے  میں تشویش پیدا ہوئی۔

اس وقت  ملک میں جمہوریت کے احیا اور معاشی و سیاسی  بحران   حل کرنے کے نقطہ نظر سے   ماہرین میں کم از کم یہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ موجودہ حالات میں منصفانہ اورشفاف انتخابات ہی  پاکستان کے مسائل کا واحد قابل عمل حل ثابت ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں انتخابات کی شفافیت کو تسلیم کرنے کی روایت موجود نہیں ہے ۔  ماضی قریب میں منعقد ہونے والے  ہر انتخاب  کے بارے میں تنازعہ  دیکھنے میں آیا ہے۔ 2013 کے انتخابات کے بعد  تحریک انصاف اور طاہر القادری کی  پاکستان عوامی تحریک  نے انتخابی دھاندلی کا شور مچاکر اسلام آباد میں طویل دھرنا دیا تھا۔ اور 2018 کے انتخابات کے بعد  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت متعدد پارٹیاں دھاندلی کا شور مچاتی رہی تھی  اور عمران خان کو نامزد وزیر اعظم کہا جاتا رہا تھا۔ اب  وہی تحریک انصاف ناپسندیدہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔ اب اس کا دعویٰ ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے نواز شریف کو نیا لاڈلا بنا لیا ہے۔

عمران خان نے حال ہی میں برطانوی جریدے ’دی اکنامسٹ‘ میں لکھے گئے مضمون میں بھی دعویٰ کیا  ہے کہ ان کا تاثر ہے کہ نواز شریف نے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے اور وہ اس کی سہولت کاری کرے گی۔  یہی الزام مسلم لیگ (ن) اور دیگر پارٹیاں 2018 کے انتخابات سے پہلے اور بعد میں تحریک انصاف پر عائد کرتی رہی ہیں۔ اس  ہائیبرڈ تجربہ  کی ناکامی کے بعد اب  دیکھنے میں آرہا ہے کہ کسی بھی طرح تحریک انصاف کا راستہ روکنے کی کوشش کی جائے۔ اندیشہ ہے کہ  پارٹی کے کسی ورچوئیل ایونٹ کے موقع پر  ملک میں سوشل میڈیا تک رسائی مشکل بنا کر  یہی ناجائز و ناروا مقصد  حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ ایسے ہتھکنڈوں سے  تحریک انصاف  خود کو مظلوم اور  ‘حقیقی آزادی‘ کا چیمپئن بناکر پیش کرتی ہے اور اس کی عوامی اپیل میں اضافہ ہوتا  ہے۔ ایسے ہی دلائل کی بنیاد پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، نوجوان ووٹروں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس لیے  کسی پارٹی کی راہ میں ایسی رکاوٹیں کھڑی کرنے سے اسے نقصان  نہیں پہنچتا بلکہ فائدہ ہی ہوتا ہے۔

حکام کو سمجھنا چاہئے کہ  کوئی بھی سیاسی لیڈر یا  پارٹی  اس وقت بھی اپنی بات لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے تھے جب   شائع ہونے والے اخبارات کے سوا خبر پہنچانے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا تھا ۔اور سنسر شپ کے تحت اخبارات کو حکومت کی مرضی کے بغیر کوئی خبر شائع کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اب تو مواصلات کا نظام بہت ترقی  کرچکا ہے اور لوگوں کے پاس سرکاری رکاوٹوں کو عبور کرنے  کے  کئی طریقے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کا بیرون ملک ایک وسیع نیٹ ورک ہے  جس کے ذریعے پارٹی   قیادت اپنی بات آسانی سے  اپنے حامیوں تک پہنچا سکتی ہے۔  اگر سرکاری ادارے  کسی پارٹی کوسیاسی پیغام عام کرنے  سے روکنے کے لیے بھونڈے اور فرسودہ طریقے اختیار کریں گے تو اس سے پارٹی کے لیے ہمدردی اور مقتدرہ کے لیے ناراضی میں اضافہ ہوگا۔  تحریک انصاف  ایک سیاسی پارٹی ہے۔ ریاست اور اس کے اداروں کو اس کا مقابلہ کرنے کی بجائے دوسری سیاسی پارٹیوں کی صلاحیت پر بھروسہ کرنا چاہئے کہ وہ  سیاسی  طریقوں  سے اس پارٹی کے منفی چہرے  کوسامنے  لانے میں کامیاب رہیں  گی۔ البتہ جمہوریت میں ایک فریق کو پابند کرکے دوسرے کو  کسی  ’مقابلے‘ کے بغیر انتخابات میں حصہ لینے کا موقع دینے سے ملک میں جمہوریت ہی نہیں بلکہ سلامتی و معیشت سے  جڑے  معاملات کو بھی شدید نقصان پہنچنے کااندیشہ ہے۔

ان حالات میں الیکشن کمیشن کو زیادہ چوکنا ہونا چاہئے تاکہ اس کی رہی سہی ساکھ محفوظ رہے ۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی پارٹی کی انتخابی مہم جوئی کے دوران  میں ڈالی جانے والی رکاوٹوں کا نوٹس  لیا جائے اور انہیں دور کرنے کے لیے قابل اعتبار اقدامات کیے جائیں۔  اگرچہ عمران خان   نے ’اکنامسٹ ‘ میں لکھے گئے مضمون میں ایک بار پھر اپنے خلاف عدم اعتماد کو امریکہ کے حکم پر اسٹبلشمنٹ کی سازش قرار دے کر اور سانحہ 9 مئی کے الزامات کو جھوٹا پروپگنڈا کہہ کر    اپنے سیاسی ارادوں کے بارے میں شبہات پیدا کیے ہیں۔  تاہم یہ کہنا ضروری ہے کہ  کسی شخص کی غیر قانونی سرگرمیوں پر اسے ضرور سزا دی جائے لیکن  غیر قانونی طریقوں سے  کسی پارٹی کا سیاسی راستہ روکنے کا کوئی منصوبہ  کارآمد نہیں ہوسکتا۔

نگران وزیر اعظم  انوار الحق کاکڑ نے آج ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’ 9  مئی کے واقعات میں  ملوث  پی ٹی آئی کے روپوش  اراکین  جب تک سرنڈر نہیں کرتے ، انہیں قانونی رکاوٹوں کا سامنا رہے گا‘۔ البتہ انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ نگران حکومت یا اس کے زیر انتظام  سرکاری ادارے کیوں کر ایک روز ہونے والے واقعات میں ملوث افراد کی سزا کسی ایک پارٹی یا اس کے تمام لیڈروں کو  دے سکتے ہیں۔  تحریک انصاف  کو سیاسی طور سے کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے تاکہ ملک میں ہونے والے انتخابات کا اعتبار قائم ہوسکے۔   جیسا کہ انوار الحق کاکڑ نے خود ہی کہا کہ ’اگر  تحریک انصاف  ہی انتخاب جیتتی ہے تو ان کے  پاس  اسے  اقتدار منتقل  کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا‘۔  نگران وزیر اعظم اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ ان کی حکومت   انتخابی نتائج کے بارے میں واقعی ’غیرجانبدار‘ ہے اور وہ کسی پارٹی  کا راستہ روکنے کی کوششوں میں  آلہ کار نہیں بنے گی۔