سلمان تاثیر کی خاموش برسی اور بولتا ہوا جنون
- تحریر ڈاکٹر علی شاذف
- سوموار 08 / جنوری / 2024
4 جنوری کو شہید سلمان تاثیر کی برسی آئی اور خاموشی سے گزر گئی. 2011 میں سلمان تاثیر کو، جو اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے گورنر تھے، ان کے ایک محافظ نے، جو انتہا پسند مذہبی تھا، گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
گورنر سلمان تاثیر ایک لبرل اور روشن خیال سیاستدان تھے۔ ان کے سیاسی نظریات سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے جس طرح بہادری کے ساتھ ایک مزدور مسیحی خاتون کے لیے کلمہ حق بلند کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ اس نے ان کے ترقی پسند مخالفین کے قلوب و اذہان میں بھی ان کا مقام ہمیشہ کے لیے بلند کر دیا۔ سلمان تاثیر ایک امیر صنعت کار تھے۔ وہ اپنی شہادت کے وقت پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی تکفیریت جیسے مکروہ عمل میں حصہ دار ہونے کے باوجود آج بھی ملک کی سب سے زیادہ روشن خیال جماعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی پی پی سلمان تاثیر کے لیے اپنی لبرل سیاست جاری رکھنے کا بہترین پلیٹ فارم تھی۔
یہ کالم لکھنے کا خیال مجھے معروف شاعر اور صحافی رضی الدین رضی کی ایک پوسٹ دیکھ کر آیا جس میں انہوں نے سلمان تاثیر کی تصویر لگائی تھی۔ اس پوسٹ کے جواب میں میں نے لکھا کہ سلمان تاثیر کو شہید لکھنا اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا بھی پاکستان میں ایک مزاحمتی عمل ہے۔ پاکستان میں پینتالیس سال سے حق ضیا الحق سے برسر پیکار ہے۔ سلمان تاثیر بھی اسی حق کے سپاہی تھے۔
یوں تو پاکستان بنا ہی مذہب کے نام پر تھا۔ یہ موجودہ دنیا کی شاید واحد ریاست ہے جو ایک خطہ ارض کے انسانوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کر کے معرض وجود میں آئی۔ بر صغیر میں مسلمان اور ہندو ایک ہزار سال سے ایک ساتھ رہتے آئے تھے۔ پھر اچانک کچھ ذہین سیاستدانوں کو خیال آیا کہ یہ دونوں کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ پاکستان بننے کے بعد دونوں ملکوں میں مذہبی انتہا پسندی کی وہ آگ لگی کہ جو بجھائے نہیں بجھتی۔ ہندوستان میں مسلمان اقلیت اور پاکستان میں بچی کھچی اقلیتیں اور ان کے ہمدرد مذہبی انتہا پسندوں کے ظلم کا نشانہ بنتے ہیں۔
ہندوستان میں آر ایس ایس/بھارتیہ جنتا پارٹی اور پاکستان میں جماعت اسلامی اس انتہاپسندی کے بڑے علمبردار ہیں ،افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان، جو خود کو سیکیولر کہتا ہے، پر پچھلے دس سال سے گجراتی مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی وہاں حکمران ہیں جو دنیا بھر میں گجرات کے قصائی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ پاکستان کو ملا ملٹری ریاست بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں اسٹیبلشمنٹ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے مذہبی جماعتوں کو استعمال کرتی ہے۔ شاید سلمان تاثیر کا قتل بھی اسی گٹھ جوڑ کی بدولت ممکن ہوا کیونکہ بعد میں اس قاتل گروہ کی سیاسی سرپرستی کی گئی، اور آج وہ پاکستان کی ایک بڑی مذہبی سیاسی طاقت اور پریشر گروپ ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کی روشن خیال جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور انڈین نیشنل کانگریس آج کونے میں لگا دی گئی ہیں اور ان کے 2024 کے انتخابات جیتنے کا دور دور تک امکان نہیں ہے۔
پاکستان میں 2010 سے 2020 کا دورانیہ مذہبی انتہا پسندی کے عروج کا زمانہ تھا۔ اس دوران ترقی پسند طالب علم رہنما مشال خان کو مردان میں ایک ہجوم نے بیدردی سے شہید کر دیا تھا۔ سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں ایک ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر ہلاک کر دیا تھا۔ ان کے علاوہ اس دوران بہت سے مسیحی شہری ہجوم کے ہاتھوں بربریت کا نشانہ بنے اور اقلیتی بستیاں اور عبادت گاہیں نذر آتش کر دی گئیں۔ حال ہی میں شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں تحریک طالبان پاکستان نے داڑھی مونڈنے کے جرم میں چھ حجاموں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
تکفیریت کا مطلب انکار ہے۔ مسلمانوں کے کم و بیش تمام فرقے ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں یا ایک دوسرے کے مذہبی اعمال کو کفر سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن لفظ کافر اس قدر بدنام زمانہ ہو گیا ہے کہ پاکستان میں ہر مذہب کے پیروکار اس الزام کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہم لفظ کافر استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ فیس بک بھی برا منا جاتی ہے۔ تکفیری اعمال کے نتیجے میں مسلمانوں کے نکاح ٹوٹ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں تجدید نکاح کی ضرورت پیش آ جاتی ہے اور ایمان باطل ہو سکتے ہیں۔ جس کے لیے شرک کرنے والے کو مولوی سے دوبارہ کلمہ پڑھوانا پڑ سکتا ہے۔ پچھلے دنوں میں نے ایک ڈاکٹر صاحبہ کی تحریر پڑھی جس میں انہوں نے پاکستانی مسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ شادیوں میں ناچ گانا کرنے والے قریبی رشتہ داروں کا سماجی بائیکاٹ کر دیا کریں تاکہ دین کا بول بالا ہو سکے۔
پاکستان اور بھارت سے مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ہمیں اپنے دوہرے معیار ختم کرنا ہوں گے۔ ایک طرف اعتدال پسندی اور روشن خیالی ہے اور دوسری جانب مذہبی انتہا پسندی ہے۔ ہم ان دونوں کشتیوں کے سوار نہیں بن سکتے۔ ہمیں واضح موقف اپنانا ہوگا۔ تکفیریت کو شکست دینے کے لیے ہمیں ترقی پسند اور روشن خیال قبیلے کا ساتھ دینا ہو گا تاکہ ہم سرمایہ دار مافیا کے ہاتھوں استحصال کا شکار نہ ہوں اور عوام کو مذہب کے نام پر منتشر ہونے سے بچا سکیں۔ اللہ تعالیٰ شہید سلمان تاثیر کی مغفرت فرمائے۔
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)