سپریم کورٹ کا فیصلہ سیاست دانوں کی ذمہ داری
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 08 / جنوری / 2024
سپریم کورٹ نے تاحیات ناہلی کا اصول مسترد کرتے ہوئے 2018 میں کیا گیا فیصلہ تبدیل کردیا ہے۔ اس فیصلہ سے نواز شریف اور جہانگیر ترین کو انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا حق حاصل ہوجائے گا تاہم اس کے علاوہ اس فیصلہ کے ملکی سیاست پر کوئی فوری اثرات مرتب ہونے کا امکان نہیں ہے۔
اس بارے میں اب بھی سیاسی منظر نامہ پر اختلافات سننے کو ملتے رہیں گے البتہ یہ اصول بہر طور تسلیم کرلیا جائے گا کہ کسی جرم میں اگر کوئی عدالت کسی سیاست دان کو شق 62ون ایف کے تحت نااہل کرتی ہے تو اس کی مدت پانچ سال ہوگی۔ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ آج کے فیصلہ کے خلاف کسی فریق کی طرف سے نظر ثانی کی درخواست دائر کی جائے گی۔ اس حد تک یہ فیصلہ ملکی سیاست میں آئینی شق 62ون ایف کے مضر اثرات کو محدود کا سبب بنے گا۔ اس معاملہ پر غور کے دوران یہ پہلو خاص طور سے زیر بحث آیاتھا کہ ’صادق و امین ‘ کی شق ایسے فوجی آمر نے آئین میں شامل کروائی تھی جو خود کسی اخلاقی اصول کو نہیں مانتا تھا اور نہ ہی اس نے آئین کے تحت اٹھائے ہوئے حلف کا احترام کیاتھا بلکہ ملک پر غیر آئینی طور سے ایک دہائی سے بھی زیادہ مدت تک فوجی حکومت مسلط رکھی تھی۔
آئینی شق 62ون ایف کسی جمہوری نظام میں، جہاں عوام ووٹوں سے سیاست دانوں کی ’اہلیت و دیانت‘ کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں درحقیقت بالواسطہ طور سے عوام کے حق انتخاب پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ ضیا دور میں ایسی بہت سی آئینی ترامیم کی گئی تھیں اور قانون سازی ہوئی تھی جو بظاہر ملک کو ’اسلامی‘ بنانے کے منصوبے کا حصہ تھا لیکن ان کی وجہ سے انتہاپسندی اور باہمی منافرت عام ہوئی اور سماجی سطح پر شدت پسندی میں اضافہ ہؤا تھا۔ آج سپریم کورٹ نے صرف ایک آئینی شق کے قانونی اسکوپ کے بارے میں رائے دے کر تاحیات نااہلی کا اصول ضرور مسترد کیا ہے لیکن ملک میں جمہوری روایت کو راسخ کرنے کے لیے درحقیقت ایسی تمام شقات کو ختم کرنا ضروری ہوگا جو امیدواروں کے اخلاق کے بارے میں ایک جعلی اور مضحکہ خیز معیار مقرر کرتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات سے آگاہی اور صادق و امین جیسے مطالبوں کا حقیقی مطلب یہی تھا کہ عوامی نمائیندوں کو بالواسطہ طور سے کنٹرول کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ ضیا دور میں کی گئی یہ ترامیم اس حد تک اپنا مقصد حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہی ہیں لیکن اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور اس کے ادارے مشکلات کا شکار ہوئے۔ اسٹبلشمنٹ نے قانون و آئین کی آڑ میں عدالتوں کو آلہ کار بناتے ہوئے عوام کے حق انتخاب کا دائرہ کار محدود کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔
سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت اراکینِ پارلیمنٹ کی تاحیات نااہلی تو ختم کر دی ہے اور 2018 میں سنایا گیا اپنا ہی فیصلہ بھی واپس لے لیا ہے۔ لیکن متعلقہ شقات اب بھی آئین کا حصہ ہیں اور یہ مستقبل میں بھی سیاست دانوں کے خلاف یا جمہوری روایات کا گلا گھونٹنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں۔ البتہ سپریم کورٹ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ آئینی شقات کو ختم کرنے کا کوئی فیصلہ جاری کرے۔ اس کے لیے منتخب پارلیمنٹ کو ہی آئینی ترمیم لانا پڑے گی تاکہ 1973 کے آئین کی حقیقی جمہوری روح بحال ہوسکے۔ اگرچہ ملک میں اس وقت اس مقصد کے لیے سیاسی اتفاق رائے موجود نہیں ہے لیکن امید کرنی چاہئے کہ انتخابات کے بعد ماضی قریب میں پایا جانے والا سیاسی انتشار دوبارہ سر نہیں اٹھائے گا اور تمام سیاسی جماعتیں وقتی اور فوری مفادات سے بالا ہوکر اصولوں کی بنیاد پر ملک کی درست سمت میں رہنمائی کرسکیں گی۔ سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کو مان لینا چاہئے کہ اگروہ آپس میں ہی گتھم گتھا رہیں گے تو ان کی قسمت کی ڈور ہمیشہ ہی اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ میں رہے گی۔
زیر بحث کیس میں فیصلہ 5 جنوری کو محفوظ کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا تھا کہ وہ جلد ازجلد فیصلہ تک پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ 8 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات میں شرکت کے بارے میں بے یقینی ختم ہو اور الیکشن ٹریبونلز کو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے بارے میں فیصلے کرنے میں آسانی ہو۔ اس فیصلہ سے دیگر لوگوں کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع مل جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اسے بڑی کامیابی تصور کیا جارہا ہے اور عدالتی فیصلہ کو ایک ’ناانصافی کے خاتمہ‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ تاہم دوسری طرف تحریک انصاف نے اس فیصلہ پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ایک طرف ان لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جارہا ہے جن پر صرف الزام ہے اور کوئی فیصلہ نہیں سنایا گیا تو دوسری طرف ایک سابق سزا یافتہ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جارہی ہے۔
البتہ تحریک انصاف کے اس مؤقف کو سیاسی نعرے بازی سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی کیوں کہ نواز شریف کو تمام مقدمات میں بری کیا جاچکا ہے۔ اور اب ان پر کوئی الزام عائد نہیں ہے ۔ البتہ انہیں سپریم کورٹ نے چونکہ سو موٹو اختیار کے تحت مقدمے میں آئینی شق62ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا تھا ۔ وہ فیصلہ اور سزا بہر حال موجود رہے گی۔ اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کا امکان نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے پندرہ رکنی فل بنچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے معاملے پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے اگرچہ آئینی شق 184(3) کے تحت فیصلوں میں اپیل کا حق دینے کا اصول مان لیا تھا لیکن اکثریتی ججوں نے اسے مؤثر بہ ماضی کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس طرح نواز شریف اگرچہ اب انتخابی سیاست میں حصہ لے سکیں گے اور انہیں عوامی عہدہ لینے کی بھی آزادی ہوگی لیکن قانونی طور سے وہ سابقہ سزا یافتہ ہی کہلائیں گے جنہیں سپریم کورٹ نے نااہل کیا تھا۔ البتہ اب نئےفیصلہ کے تحت یہ نااہلی تاحیات کی بجائے پانچ سال تسلیم کی گئی ہے۔
جیسا کہ عرض کیا کہ انتخابی گہما گہمی میں جاری محاذ آرائی کے دوران میں ایسی باریکیوں کو ایک دوسرے کی کردار کشی کے لیے ضرور استعمال کیا جائے گا۔ کوئی نئے فیصلے کی بنیاد پر خود کو پارسا کہے گا تو دوسرے ماضی کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں مسلسل ’قابل نفرین‘ قرار دینے کی کوشش کریں گے۔ تاہم امید کرنی چاہئے کہ الزام تراشی کی یہ شدت انتخابات کے ساتھ ہی ختم ہوجائے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) سمیت سب سیاسی پارٹیاں سیاست اور اہم قومی امور کو گلیوں بازاروں اور سوشل میڈیا یا ٹی ٹاک شوز میں حل کرنےکی بجائے پارلیمنٹ میں لے کر جائیں اور اہم معاملات میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ آئینی ترامیم اور مناسب قانون سازی کے ذریعے جمہوریت اور سیاست دانوں کی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے۔
پاکستان میں اب اس شرمناک طریقہ کا خاتمہ ہونا چاہئے کہ ایک شخص پہلے وزیر اعظم بنتا ہے، اور اقتدار سے محرومی کے بعد اس پر بدعنوانی سے لے کر غداری تک کے الزامات عائد ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اب بھی سیاست دان اگر اس معاملہ کی اہمیت و نزاکت کو سمجھنے سے انکار کریں گے اور اب بھی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ دوستی کے ذریعے اقتدار تک پہنچنے کا دہائیوں پرانا طریقہ استعمال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جائے گی تو اس ملک میں کبھی بھی حقیقی جمہوریت بحال نہیں ہوپائے گی۔
سیاست دانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ملک میں مکمل آئینی جمہوریت نہ تو اسٹبلشمنٹ سے دوستی و سانجھے داری سے قائم کی جاسکتی ہے اور نہ ہی عتاب کا شکار ہونے کے بعد اسٹبلشمنٹ کو للکارنے اور یہ دعوے کرنے سے جمہوری روایت مستحکم ہوسکے گی کہ اقتدار مل گیا تو ایک نیا نظام نافذ کیا جائے گا۔ پرانے طریقے مسدود ہوجائیں گے۔ واضح رہے کل تک نواز شریف ایسے ہی نعروں سے عوام میں وقتی جوش پیدا کرنے کا سبب بنے تھے اور اب عمران خان یہی کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف مہم جوئی اور سانحہ 9 کو ’جعلی فلیگ آپریشن‘ قرار دے کر سیاست کا پانسہ بدل دیں گے اور ایک بار اقتدار میں آکر سب کچھ ٹھیک کردیں گے۔
لیکن اب عمران خان کو ساڑھے تین سال حکومت کاتجربہ ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ نعروں کی بنیاد پر استوار کیے گئے ’سیاسی منشور‘ کامیاب نہیں ہوتے اور نہ ہی چند فوجی افسروں کی اعانت و حمایت کے بھروسے نظام کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے بہت سمجھ داری اور وسیع تر سیاسی اتفاق رائے ضروری ہوگا۔ کیوں کہ نظام حکومت اور امور معیشت میں عسکری اداروں کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ انہیں کمزور کرنے اور سول نظام کو منتخب نمائیندوں کی مکمل دسترس میں دینے کے لیے سیاسی قیادت کا ایک دوسرے کے لیے اعتماد اور احترام کا رشتہ استوار کرنا بہت ضرور ہوگا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ بلا شبہ درست سمت میں ایک قدم ہے لیکن ملکی نظام کی بنیاد ٹھیک کرنے کے لیے سپریم کورٹ محض معاون کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ اصل کام سیاست دانوں اور پارلیمنٹ ہی کو کرنا ہوگا۔ یہ مشکل اور جاں گسل مراحل ہیں۔ انہیں نعروں، ضد، انا پرستی اور سیاسی اقتدار کے لیے کی جانے والی مفاہمتوں کے ذریعے عبور کرنا ممکن نہیں ہے۔