بنگلہ دیش کے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں تھے: امریکہ

  • منگل 09 / جنوری / 2024

امریکہ اور برطانیہ نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں اتوار کو ہونے والے انتخابات قابلِ اعتماد، آزاد اور منصفانہ نہیں تھے۔ امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ واشنگٹن کو انتخابات میں بے ضابطگیوں پر تشویش ہے۔

بنگلہ دیش میں اتوار کو ہونے والے عام انتخابات میں وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ نے تقریباً 75 فی صد نشستیں حاصل کی ہیں جب کہ شیخ حسینہ مسلسل چوتھی مرتبہ اور مجموعی طور پر پانچویں مرتبہ اقتدار سنبھالیں گی ۔

انتخابات  میں حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور دیگر گروپس نے بائیکاٹ کیا تھا اور ووٹنگ ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا تھا۔ 17 کروڑ آبادی والے ملک بنگلہ دیش میں 1971 کے بعد 12ویں عام انتخابات تھے۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی شیخ حسینہ 2009 سے مسلسل اقتدار میں ہیں۔ وہ 1996 سے 2001 کے درمیان پہلی بار وزیرِ اعظم بنی تھیں۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو کہا کہ امریکہ کو ہزاروں سیاسی اپوزیشن ارکان کی گرفتاری اور انتخابات کے دن بے ضابطگیوں کی رپورٹس پر تشویش ہے۔ امریکہ دیگر مبصرین کے ساتھ یہ سمجھتا ہے کہ یہ انتخابات آزادانہ یا منصفانہ نہیں تھے اور ہمیں افسوس ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اس میں حصہ نہیں لیا۔

حالیہ عام انتخابات سے قبل ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کے متعدد واقعات ہوئے تھے۔ بنگلہ دیش کی حزبِ اختلاف کی بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں نے ملک بھر میں دو دن کی ہڑتال کی کال دی تھی اور عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ووٹ نہ دیں۔

بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق 298 نشستوں میں سے عوامی لیگ 222 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔

دوسری جانب برطانیہ نے کہا ہے کہ انتخابات سے قبل جمہوری معیار کو پورا نہیں کیا گیا۔ برطانیہ کے خارجہ، کامن ویلتھ اور ڈیولپمنٹ آفس نے ایک بیان میں کہا کہ جمہوری انتخابات کا انحصار، معتبر، کھلے اور منصفانہ مقابلے پر ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کا احترام، قانون کی حکمرانی اور مناسب طریقۂ کار جمہوری عمل کے بنیادی عناصر ہیں۔ لیکن انتخابی عمل میں یہ معیارات پورے نہیں کیے گئے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے پیر کو ایک بیان میں بنگلہ دیش میں متنازع انتخابات کے دوران تشدد اور جبر کی مذمت کرتے ہوئے ملک میں جمہوریت کی مضبوطی پر زور دیا۔