عمران خان کی خوش فہمیاں اور جھوٹے دعوے
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 09 / جنوری / 2024
عمران خان نے کہا کہ ’ میں نے طاقت ور کو قانون کے تابع کرنے کی کوشش کی، جس کی مجھے سزا دی جارہی ہے‘۔ ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد ہونے کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے خلاف جھوٹے وعدہ معاف گواہ بنا کر اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی سیاسی ایجنڈے کو مقبول نعروں میں بیان کرکے اپنے لیے راستہ بنانا چاہ رہے ہیں۔ لیکن وہ بدستور یہ حقیقت سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سیاسی کامیابی نعروں کی بجائے مناسب اور قابل عمل حکمت عملی سے ممکن ہوپاتی ہے۔
عمران خان خود کو اسٹبلشمنٹ یا فوج کے خلاف مزاحمتی قوت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ سیاست میں فوج کی مسلسل مداخلت کی وجہ سے عوام میں اسٹبلشننٹ کی ساکھ مجروح ہوچکی ہے ۔ اس لیے سیاسی کامیابی کے لیے فوج کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنا بہتر حکمت عملی ہوگی۔ تاہم اس کے ساتھ ہی وہ حال ہی میں برطانوی جریدے ’اکنامسٹ‘ میں لکھے گئے ایک مضمون میں دعویٰ کرچکے ہیں کہ ’ اسٹبلشمنٹ، سیکیورٹی ایجنسیاں اور سول بیوروکریسی لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہے‘ ۔ اور دوسری طرف وہ بظاہر اس کوشش میں ہیں کہ کسی بھی طرح ’مقبول ‘ نعرے عام کرکے وہ پارٹی کی ساکھ، سیاسی طاقت اور اپنی لیڈری کو محفوظ کرسکیں۔ یہ دو متضاد طریقے ہیں جنہیں بیک وقت حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
عمران خان کی کل سیاست کو اگر ایک فقرے میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ’سیاست میں دھکے کھاتے ہوئے جب اسٹبلشمنٹ نے انہیں سہارا دیا تو وہ بام عروج پر پہنچ گئے اور جب انہوں نے فوج ہی میں رخنہ ڈال کر خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تو وہ زوال کی موجودہ سطح تک آن پہنچے‘۔ طویل مدت تک اقتدار پر قابض رہنے کے منصوبے کے تحت عمرا ن خان فیض حمید کو بدستور آئی ایس آئی کا سربراہ رکھنا چاہتے تھے اور اسی خواہش کی تکمیل میں ان کا اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے اختلاف شروع ہؤا۔ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے بارے میں عمران خان نے ایک بار پھر اصرار کیا ہے کہ یہ منصوبہ امریکی ہدایت پر جنرل باجوہ کی سرکردگی میں کامیابی سے ہمکنار ہؤا تھا۔ لیکن وہ یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ انہیں اپنا کاندھا فراہم کرکے اقتدار تک پہنچانے والے باجوہ کو ان کے خلاف کسی ’سازش‘ کا حصہ بننے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔
یہ ساری کہانی دلچسپ ہے جس کی جزئیات گزشتہ ڈیڑھ دو سال کے دوران میں جستہ جستہ عام ہوچکی ہیں۔ عمران خان اس وقت خود کو جس نام نہاد مقبولیت کے گھوڑے پر براجمان سمجھ رہے ہیں، اس کی لگام درحقیقت پی ڈی ایم کی اس بدحواسی کی وجہ سے ان کے ہاتھ لگی تھی کہ اقتدار میں رہنے کی صورت میں عمران خان لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو آرمی چیف بنا دیں گے اور اس طرح گیم اپوزیشن پارٹیوں کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اور ملک پر ایک طویل عرصے تک عمران خان فوج کی مدد سے حکمران رہیں گے۔ اپوزیشن نے اس بدحواسی میں تحریک انصاف کی حکومت کا تختہ تو الٹ دیا لیکن ا س کے ساتھ ہی معاشی بگاڑ اور ملک میں افراتفری کاسارا بوجھ بھی اسے ہی اٹھانا پڑا۔
حیرت ہوتی ہے کہ ملکی سیاست میں کئی کئی دہائیوں تک متحرک رہنے والے جہاں دیدہ سیاست دان کیسے اس حقیقت کو فراموش کربیٹھے کہ کوئی سیاست دان پسند کے کسی جنرل کو آرمی چیف بنا کر اقتدار پر قابض نہیں رہ سکتا۔ اگر یہی حقیقت ہوتی تو نواز شریف کو کبھی بھی سیاسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا کیوں کہ انہوں نے مختلف ادوار میں وزیر اعظم کے طور پر پاک فوج کے پانچ سربراہ مقرر کیے تھے۔ جاننا چاہئے کہ طاقت کی حرکیات محض ایک تقرری یا کسی جنرل کو استحقاق کے بغیر ترقی دینے کی وجہ سے تبدیل نہیں ہوجاتیں۔ اس سچائی کا تعلق کسی ایک وزیر اعظم سے نہیں ہے بلکہ کسی بھی وزیر اعظم کو یہ گمان نہیں ہونا چاہئے کہ اگر وہ ’پسند‘ کا آرمی چیف لے آئے گا تو اس کا اقتدار مستحکم رہے گا۔ ذوالفقار بھٹو اور نواز شریف کو اپنے مقرر کردہ ’پسندیدہ ‘ آرمی چیفس کے ہاتھوں ہی اقتدار سے محروم ہوئے تھے۔
عمران خان کو بھی اگر اپنی مرضی کا آرمی چیف بنانے کا موقع مل جاتا تو وہ بھی اپنی اور فوج کی ترجیحات کے مطابق فیصلے کرتا ۔ اس سے کسی ایک پارٹی یا وزیر اعظم سے وفاداری کی توقع کرنا کم فہمی کی دلیل ہے۔ تاہم اس پس منظر میں عمران خان کا یہ بیان دلچسپ ہے کہ وہ ’طاقت وروں کو قانون کے تابع کرنے کی جد وجہد کررہے ہیں جس کی انہیں سزا مل رہی ہے‘۔ حالانکہ ان کا سیاسی ماضی اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ پہلے تو وہ ’طاقت وروں‘ کی ساز باز میں ایک منتخب حکمت کے خلاف ہنگامہ آرائی کی سازش کا حصہ بنے، پھر اسی خدمت گزاری کے عوض وقت کے ’امپائر‘ نے 2018 میں انہیں وزیر اعظم بنوایا ۔ اور اب وہ جس جنرل باجوہ پر اپریل 2022 میں خود کو اقتدار سے محروم کرنے کی سازش کا الزام عائد کرتے ہیں، انہی سے ایوان صدر میں ملاقاتوں کے ذریعے معاملات طے کرنے اور ’غلط فہمیاں‘ دور کرنے کی کوششیں بھی کرتے رہے تھے۔ اگر عمران خان اور تحریک انصاف عاقبت نااندیشی کی وجہ سے 9 مئی 2023 کو فوج سے براہ راست ’ٹکر‘ لینے کی غلطی نہ کرتے تو ان کے لئے ’لیول پلئینگ فیلڈ‘ بھی تیار تھا اور عدالتوں کے علاوہ ان کے ممدوح ’طاقت ور ‘ کی جانب سے سہولت کاری بھی کی جارہی تھی۔
سانحہ 9 مئی سے پہلےعمران خان مسلسل یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ کسی طرح اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مواصلت و تعلق بحال ہوجائے ۔ اور میڈیا سے بات چیت میں اعتراف بھی کرتے رہے تھے کہ وہ تو فوج سے تعلق استوار کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں موقع نہیں مل رہا۔ 9 مئی اور عمران خان کی گرفتاری کے بعد حال ہی میں ان کے نامزد کردہ تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی صاف کہتے رہے تھے کہ پارٹی کی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تحریک انصاف کا فوج و اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کوئی جھگڑا ہی نہیں ہے تو ایک تو سوشل میڈیا پر پارٹی کے سارے ہمدرد کیوں مسلسل فوج اور آرمی چیف کو نشانہ بناتے ہیں ۔ اور گزشتہ ہفتہ کے دوران میں اکنامسٹ کے مضمون میں خود عمران خان نے کیوں اسٹبلشمنٹ کو اپنے مسائل کی بنیاد قرار دیا تھا؟
اس میں تو کوئی شبہ نہیں ہے کہ ملک میں فعال جمہوری نظام قائم کرنے کے لیے سیاست میں فوجی مداخلت کا راستہ روکنا ضروری ہے۔ لیکن یہ اس پیچیدہ اور گنجلک مسئلہ کا صرف ایک پہلو ہے۔ یہ لڑائی مرضی کا آرمی چیف لاکر اور براہ ارست رابطہ سے گریز کرنے والے آرمی چیف کے خلاف مہم جوئی کے ذریعے نہیں جیتی جاسکتی۔ نہ ہی سیاست کو فوجی اثر و رسوخ سے پاک کرنے کے لیے کسی لیڈر کا ایک بیان، دعویٰ یا تقریر کافی ہے۔ بلکہ اگر کوئی لیڈر سول بالادستی کا مقصد حاصل کرنے میں مخلص ہے تو اسی اصول کا دوسرا نکتہ سیاسی ماحول میں باہمی احترام کا حصول بھی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی پارٹی’طاقت ور‘ کوقانون کے تابع لانے کا نعرہ بھی لگائے اور انہیں طاقتوروں کے ساتھ درپردہ مواصلت کی خواہش بھی پالتا رہے۔
اگر آپ واقعی ملک میں قانون و آئین کی بالادستی چاہتے ہیں تو یہ مقصد پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے اور ملک بھر میں سیاسی ہم آہنگی پیدا کرکے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ دوسرے سیاست دانوں و لیڈروں کی کردار کشی کرکے اپنا قد اونچا کرنے والا کوئی لیڈر کیوں کر منتخب اداروں کو غیر منتخب اداروں کے مقابلے میں مضبوط ومستحکم کرنے کا مقصد حاصل کرسکتا ہے۔ یہ مقصد سیاسی جماعتوں میں ایک نکاتی ایجنڈے پر اتفاق رائے کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ ابھی تک تو کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسے کسی اصول کا احترام دیکھنے میں نہیں آیا۔
یہ درست ہے کہ اس وقت عمران خان اور تحریک انصاف کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک کی دوسری بڑی جماعتوں کو سول بالادستی اور جمہوریت کے ارفع اصولوں کی خاطر پی ٹی آئی کو سیاسی سپیس دینے کے لیے کام کرنا چاہئے تھا۔ یہی موقع تھا کہ نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان جیسے لیڈر ماضی قریب کی تلخیوں کو بھلا کر تحریک انصاف کی سیاسی حمایت کرتے۔ لیکن ایک تو یہ کام یک طرفہ طور سے ممکن نہیں ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی نے کوئی پیشقدمی نہیں کی تو تحریک انصاف نے بھی سیاسی مفاہمت کے لیے کوئی وسیع پلیٹ فارم بنانے کی کوشش نہیں کی ۔ بلکہ اس نے تو مسلسل یہ تاثر دیا ہے کہ یہ مشکلات اور ہنگامہ آرائی صرف 8 فروری تک ہیں۔ اس کے بعد تحریک انصاف دو تہائی اکثریت سے انتخاب جیت کر ملکی سیاست کا رخ پلٹ دے گی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کا یہ طرز عمل صرف سیاسی نعرے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا ہر کارکن اور سپورٹر یہی یقین رکھتا ہے۔ اب تو لگتا ہے کہ عمران خان تک پارٹی کی قیادت بھی اسی ’ خوش فہمی‘ کا شکار ہے۔ اس گمان میں مبتلا لیڈر کیوں کر سیاسی مفاہمت کے لیے کام کریں گے؟
عمران خان اور تحریک انصاف ’اکنامسٹ‘ کے مضمون کو اپنی سیاسی کامیابی کی دلیل سمجھ رہے ہیں۔ کسی کے نزدیک اکنامسٹ میں مضمون چھپ جانا عمران خان کی عالمی سطح پر قبولیت اور ان کی حتمی مقبولیت کی واضح دلیل ہے کیوں کہ اس جریدے یا کسی دوسرے مغربی اخبار نے کسی دوسرے لیڈر کا مضمون شائع نہیں کیا۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس مضمون کو چونکہ اڑھائی کروڑ کے لگ بھگ لوگوں نے آن لائن دیکھا ہے جو عمران خان کی عوام میں پزیرائی کی دلیل ہے ۔ اسٹبلشمنٹ میں ان کے ’دشمن‘ اب دفاعی پوزیشن پر آجائیں گے۔ لیکن اس مضمون میں جن دو نکات پر اصرار کیا گیا ہے ، وہ عمران خان کی سیاست کو بیڑیاں ڈالنےکی طاقت رکھتے ہیں۔ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو سازش اور سانحہ 9 کو تحریک انصاف کو پھنسانے کے لیے ’سوچا سمجھا منصوبہ‘ قرار دے کر عمران خان نے اپنی سیاسی کم فہمی اور مقبولیت کے بارے میں شدید غلط فہمی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔
ان دعوؤں کے بعد نہ تو کوئی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہوگی اور نہ ہی عدالتوں میں انہیں ایسے بے بنیاد دعوؤں کی بنیاد پر کوئی سہولت مل سکے گی۔ مضمون کے مندرجات عمران خان کو ناقابل اعتبار لیڈر کے طور پر سامنے لائے ہیں۔ عالمی شہرت کے حامل ایک جریدے کو عمران خان نے اپنا سیاسی پیغام عام کرنے کے لیے استعمال تو کیا ہے لیکن یہ پیغام اسی طرح ناقص، بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے جیسے ان کا یہ دعویٰ کہ وہ ’طاقتور کو قانون کے تابع کرنا چاہتے ہیں‘۔